تزكيہ نفس
تزكيہ نفس
قسط نمبر 10
آيت اللہ ابراہيم اميني
ترجمہ: علامہ شيخ اختر عباس
نفس كے ساتھ جہاد
انسان كا سب سے بڑا دشمن اس كا نفس ہے اور وہ برابر عقل كے ساتھ جنگ اور تجاوز كى حالت ميں رہتا ہے_ شيطان كے وسوسوں سے الہام ليتا ہے اور لاو لشكر كے ساتھ عقل پر حملہ آور ہوتا ہے تا كہ اسے جدا اور خاموش كردے اور وہ تن تنہا ميدان پر قابو پائے ركھے اس كى غرض يہ ہے كہ فرشتوں كو نفس كى دنيا سے باہر نكال دے اور اسے پورى طرح شيطان كے قبضے ميں دے دے ايسے غدار دشمن كو سرنگوں كرنا كوئي آسان كام نہيں ہے_ ارادہ حتمى اور مقابلہ بلكہ جہاد كرنا اس كے لئے ضرورى ہو جاتا ہے اور وہ بھى ايك دفعہ اور دو دفعہ يا ايك دن يا دو دن ايك سال يا دو سال نہيں بلكہ تمام عمر پے در پے جہاد كرنا ضرورى ہے _ اس سے سخت مقابلہ اور متصل جہاد چاہئے اور نفس اور روح كو رام كرنے اور اس كى خواہشات پر قابو پانے كے لئے بہت سخت جنگ كرنى پڑتى ہے_
پيغمبر اکرم (ص) اور ائمہ طاہرين (ع) سے الہام لے كر عقل كى مدد سے اس كے لائو لشكر سے جنگ كريں اور نفس كے تجاوزات اور زيادتيوں كو روكے ركھيں اور اس كى فوج كو گھيرا ڈال كر ختم كرديں تا كہ عقل جسم كى مملكت پر حكومت كر سكے اور شرعيت سے الہام لے كر كمال انسانى اور سير و سلوك تك پہنچ سكے _ نفس كے ساتھ صلح اور آشتى نہيں كى جا سكتى بلكہ اس سے جنگ كرنى چاہئے تا كہ اسے زير كيا جائے اور وہ اپني حد تك رہے اور شازش كرنے سے باز رہے سعادت تك پہنچنے كے لئے اس كے سوا اور كوئي راستہ موجود نہيں ہے _ اسى وجہ سے نفس كے ساتھ جنگ كرںے كو احادیث ميں جہاد كہا گيا ہے_ حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ '' اپنے نفس پر پے در پے جہاد كرنے سے تسلط پيدا كرو_(146)
آپ نے فرمايا '' نفس کے خواہشات اور ھوى اور ہوس پر غلبہ حاصل كرو اور ان سے جنگ كرو اگر يہ تمہيں جكڑ ليں اور اپنى قيد و بند ميں قرار دے ديں تو تمہيں بدترين درجہ ميں جاڈاليں گے_(147)
آپ نے فرمايا كہ '' نفس كے ساتھ جہاد ايك ايسا سرمايہ ہے كہ جس كے ذريعے بہشت خريدى جا سكتى ہے_ پس جو آدمى اپنے نفس كے ساتھ جہاد كرے وہ اس پر مسلط ہوجائيگا_ اور بہشت اس كے لئے جو اس كى قدر پہچان لے بہترين جزا ہوگي_(148)
آپ نے فرمايا '' جہاد كر كے نفس كو اللہ كى اطاعت پر آمادہ كرو_ اس كے ساتھ يہ جہاد ويسا ہو جيسے دشمن كے ساتھ كيا جاتا ہے اور اس پر ايسا غلبہ كرو جو ايك ضد دوسرى ضد پر غلبہ كرتى ہے لوگوں سے قوى ترين آدمى وہ ہے جو اپنے نفس پر فتح حاصل كرے_(149)
آپ نے فرمايا كہ '' عقلمند انسان وہ ہے جو اپنے آپ كو نفس كے ساتھ جہاد ميں مشغول ركھے اور اس كى اصلاح كرے اور اسے ھوى اور ہوس اور خواہشات سے روكے ركھے اور اس طرح سے اس كو لگام دے اور اپنے كنتڑل ميں لے آئے_ عقلمند انسان اس طرح اپنے نفس كى اصلاح ميں مشغول رہتا ہے كہ وہ دنيا اور جو كچھ دنيا اور اہل دنيا ميں ہے اس ميں اتنا مشغول نہيں رہتا_(150)
نفس كے ساتھ جہاد ايك بہت بڑى اہم جنگ اور نتيجہ خيز ہے ايسى جنگ كہ ہميں كس طرح دنيا اور آخرت كے لئے زندگى بسر كرنى اور ہميں كس طرح ہونا اور كيا كرنا ہے سے مربوط ہے اگر ہم جہاد كے ذريعے اپنے نفس كو كنتڑل كر كے نہ ركھيں اور اس كى لگام اپنے ہاتھ ميں نہ ركھيں وہ ہم پر غلبہ كر لے گا اور جس طرف چاہئے گا لے جائيگا اگر ہم اسے قيد ميں نہ ركھيں وہ ہميں اسير اور اپنا غلام قرار دے ديگا اگر ہم اسے كردار اور اچھے اخلاق اپنا نے پر مجبور نہ كريں تو وہ ہميں برے اخلاق اور برے كردار كى طرف لے جائيگا_ لہذا كہا جا سكتا ہے كہ نفس كے ساتھ جہاد بہت اہم كام اور سخت ترين راستہ ہے جو اللہ كى طرف سير و سلوك كرنے والے كے ذمہ قرار ديا جا سكتا ہے _ جتنى اس راستے ميں طاقت خرچ كى جائے وہ قيمتى ہوگي_
جہاد اكبر
نفس كے ساتھ جہاد اس قدر مہم ہے كہ اسے پيغمبر اکرم (ص) نے جہاد اكبر سے تعبير فرمايا ہے اتنا اہم جہاد ہے كہ جنگ والے جہاد سے بھى اسے بڑا قرار ديا ہے_حضرت على عليہ السلام نے نقل فرمايا ہے كہ'' رسول خدا(ص) نے ايك لشكر دشمن سے لڑنے كے لئے روانہ كيا اور جب وہ جنگ سے واپس آيا آپ نے ان سے فرمايا مبارك ہو ان لوگوں كو كہ جو چھوٹے جہاد كو انجام دے آئے ہيں ليكن ابھى ايك بڑا جہاد ان پر واجب ہے آپ سے عرض كى گئي يا رسول اللہ(ص) بڑا جہاد كونسا ہے؟ آپ(ص) نے فرمايا اپنے نفس سے جہاد كرنا_(151)
حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ '' بہترين جہاد اس شخص كا جہاد ہے كہ جو اپنے نفس سے جو اس كے دو پہلو ميں موجود ہے جہاد كرے_(152) پيغمبر اكرم(ص) نے اس وصيت ميں جو حضرت علي(ع) سے كى تھى فرمايا كہ '' جہاد ميں سے بہترين جہاد اس شخص كا ہے جب وہ صبح كرے تو اس كا مقصد يہ ہو كہ ميں كسى پر ظلم نہيں كرونگا_(153) ان احاديث ميں نفس كے ساتھ جہاد كرنے كو جہاد اكبر اور افضل جہاد كے نام سے پہنچوانا گيا ہے يہ ايسا جہاد ہے كہ جو اللہ تعالى كے راستے ميں جہاد كرنے سے فضيلت اور برترى ركھتا ہے حالانكہ اللہ تعالى كے راستے ميں جہاد بہت ہى پر ارزش اور بہترين عبادت شمار ہوتا ہے اس سے جہاد نفس كا پر ارزش اور بااہميت ہونا واضح ہوجاتا ہے نفس كے جہاد كا برتر ہونا تين طريقوں سے درست كيا جا سكتا ہے_
1 - ہر ايك عبادت يہاں تك كہ اللہ تعالى كے راستے ميں جہاد كرنا بھى نفس كے جہاد كرنے كا محتاج ہے_ ايك عبادت كو كامل اور تمام شرائط كے ساتھ بجالانا نفس كے ساتھ جہاد كرنے پر موقوف ہے كيا نماز كا حضور قلب كے ساٹھ بجا لانا اور پھر اسكے تمام شرائط كى رعايت كرنا جو معراج مومن قرار پاتى ہے اور فحشا اور منكر سے روكتى ہے بغير جہاد اور كوشش كرنے كے انجام پذير ہو سكتا ہے؟ آيا روزہ كا ركھنا جو جہنم كى آگ كے لئے ڈھال ہے بغير جہاد كے ميسر ہو سكتا ہے_ كيا نفس كے جہاد كے بغير كوئي جہاد كرنے والا انسان اپنى جان كو ہتھيلى پر ركھ كر جنگ كے ميدان ميں حاضر ہو سكتا ہے اور اسلام كے دشمنوں سے اچھى طرح جنگ كر سكتا ہے؟ اسى طرح باقى تمام عبادات بغير نفس كے ساتھ جہاد كرنے كے بجالائي جا سكتى ہيں؟
2 - ہر ايك عبادت اس صورت ميں قبول كى جاتى ہے اور موجب قرب الہى واقع ہوتى ہے جب وہ صرف اللہ تعالى كى رضا كے لئے انجام دى جائے اور ہر قسم كے شرك اور رياء خودپسندى اور نفسانى اغراض سے پاك اور خالص ہو اس طرح كے كام بغير نفس كے ساتھ جہاد كئے واقع ہونا ممكن نہيں ہوسكتے يہاں تك كہ جنگ كرنے والا جہاد اور شہادت بھى اس صورت ميں قيمت ركھتى ہے اور تقرب اور تكامل كا سبب بنتى ہے جب خالص اور صرف اللہ كى رضاء اور كلمہ توحيد كى سربلندى كے لئے واقع ہو اگر يہ اتنى بڑى عبادت اور جہاد صرف نفس كى شہرت يا دشمن سے انتقام لينے يا نام كے باقى رہ جانے يا خودنمائي اور رياكارى يا مقام اور منصب كے حصول يا زندگى كى مصيبتوں سے فرار يا دوسرى نفسانى خواہشات كے لئے واقع ہو تو يہ كوئي معنوى ارزش اور قيمت نہيں ركھتى اور اللہ تعالى كے پاس تقرب كا موجب نہيں بن سكتى اسى وجہ سے نفس كے ساتھ جہاد تمام عبادات اور امور خيريہ يہاں تك كہ اللہ تعالى كے راستے والے جہاد پر فضيلت اور برترى اور تقدم ركھتا ہے س واسطے كہ ان تمام كا صحيح ہونا اور باكمال ہونا نفس كے جہاد پر موقوف ہے يہى وجہ ہے كہ نفس كے جہاد كو جہاد اكبر كہا گيا ہے_
3 - جنگ والا جہاد ايك خاص زمانے اور خاص شرائط سے واجب ہوتا ہے اور پھر وہ واجب عينى بھى نہيں ہے بلكہ واجب كفائي ہے اور بعض افراد سے ساقط ہے اور بعض زمانوں ميں تو وہ بالكل واجب ہى نہيں ہوتا اور پھر واجب ہونے كى صورت ميں بھى واجب كفائي ہوتا ہے يعنى بقدر ضرورت لوگ شريك ہوگئے تو دوسروں سے ساقط ہو جاتا ہے اور پھر بھى عورتوں اور بوڑھوں اور عاجز انسانوں اور بيمار لوگوں پر واجب نہيں ہوتا ليكن اس كى برعكس نفس كا جہاد كہ جو تم پر تمام زمانوں اور تمام حالات ميں اور شرائط ميں واجب عينى ہوا كرتا ہے اور زندگى كے آخر لمحہ تك واجب ہوتاہے اور سوائے معصومين عليہم السلام كے كوئي بھى شخص اس سے بے نياز نہيں ہوتا_
4 -نفس سے جہاد كرنا تمام عبادات سے يہاں تك كہ جنگ والے جہاد سے كہ جس ميں انسان اپنى جان سے صرفنظر كرتى ہوئے اپنے آپ كو شہادت كے لئے حاضر كرديتا ہے_ مشكل تر ہے اور دشوار اور سخت تر ہے اس واسطے كہ محض اللہ كے لئے تسليم ہو جانا اور تمام عمر نفسانى خواہشات سے مقابلہ كرنا اور تكامل كے راستے طے كرنا اس سے زيادہ دشوار اور مشكل ہے كہ انسان جنگ ميں جہاد كرنے والا تھوڑے دن دشمن سے جنگ كے ميدان ميں جنگ كرے اور مقام شہادت پر فيض ياب ہوجائے_ نفس كے ساتھ مقابلہ كرنا اتنا سخت ہے كہ سواے پے در پے نفس كے ساتھ جہاد كرنے اور بہت زيادہ تكاليف كو برداشت كرنے كے حاصل نہيں ہو سكتا اور سوائے اللہ تعالى كى تائيد كے ايسا كرنا ممكن نہيں ہے_ اسى لئے نماز ميں ہميشہ اھدنا الصراط المستقيم پڑھنے ہيں_ صراط مستقيم پر چلنا اتنا دشوار اور سخت ہے كہ رسول گرامى اللہ تعالى سے كہتا ہے _الہى لا تكلنى الى نفسى طرفة عين ابدا_ ------ جاری ہے--------- باقی آسئندہ--------
حواشی
146 - قال على عليہ السلام: املكوا انفسكم بدوام جاہدہا_ غرر ا لحكم/ ج1 ص 131_
147 - قال على عليہ السلام: اغلبوا اہوائكم و حاربوہا فانہا ان تقيّدكم توردكم من الہلكة ابعد غاية غرر ا لحكم/ ج1 ص 138_
148 - قال على عليہ السلام: الا و ان الجہاد ث4من الجنة فمن جاہد نفسہ ملكہا و ہى اكرم ثواب اللہ لمن عرفہا_ غرر ا لحكم/ ج1 ص
149 - قال على عليہ السلام: جاہد نفسك على طاعة اللہ مجاہدة العدوّ عدوّہ، و غالبہا مغالبة الضد صدہ فان اقوى الناس من قوى على نفسہ_ غرر ا لحكم/ ج1 ص 371_
150- قال على عليہ السلام: ان الحازم من شغل نفسہ بجہاد نفسہ فاصلحہا و حبسہا عن اہويتہا و لذاتہا فملكہا و ان للعاقل بنفسہ عن الدنيا و ما فيہا و اہلہا شغلاً_ غرر ا لحكم/ ج1 ص 237_
151- عن اميرالمؤمنين عليہ السلام:ان رسول اللہ صلى عليہ و آلہ بعث سرية فلمّا رجعوا قال: مرحباً بقوم قضوا الجہاد الاصغر و بقى عليہم الجہاد الاكبر: قيل: يا رسول اللہ و ما الجہاد الاكبر؟ فقال: جہاد النفس_ وسائل الشيعہ/ ج 11 ص 124_
152- قال على عليہ السلام: ان افضل الجہاد من جاہد نفسہ التى بين جنبيہ_ وسائل الشيعہ/ ج 11 ص 124_
153- فى وصية النبى لعلى عليہم السلام قال: يا علي افضل الجہاد من اصبح لا يہمّ بظلم احد_ وسائل/ ج 11 ص










