تزكيہ نفس

 

تزكيہ نفس

قسط نمبر 10

آيت اللہ ابراہيم اميني

ترجمہ: علامہ شيخ اختر عباس

 

نفس كے ساتھ جہاد

انسان كا سب سے بڑا دشمن اس كا نفس ہے اور وہ برابر عقل كے ساتھ جنگ اور تجاوز كى حالت ميں رہتا ہے_ شيطان كے وسوسوں سے الہام ليتا ہے اور لاو لشكر كے ساتھ عقل پر حملہ آور ہوتا ہے تا كہ اسے جدا اور خاموش كردے اور وہ تن تنہا ميدان پر قابو پائے ركھے اس كى غرض يہ ہے كہ فرشتوں كو نفس كى دنيا سے باہر نكال دے اور اسے پورى طرح شيطان كے قبضے ميں دے دے ايسے غدار دشمن كو سرنگوں كرنا كوئي آسان كام نہيں ہے_ ارادہ حتمى اور مقابلہ بلكہ جہاد كرنا اس كے لئے ضرورى ہو جاتا ہے اور وہ بھى ايك دفعہ اور دو  دفعہ يا ايك دن يا دو دن ايك سال يا دو سال نہيں بلكہ تمام عمر پے در پے جہاد كرنا ضرورى ہے _ اس سے سخت مقابلہ اور متصل جہاد چاہئے اور نفس اور روح كو رام كرنے اور اس كى خواہشات پر قابو پانے كے لئے بہت سخت جنگ كرنى پڑتى ہے_

پيغمبر اکرم (ص) اور ائمہ طاہرين (ع) سے الہام لے كر عقل كى مدد سے اس كے لائو لشكر سے جنگ كريں اور نفس كے تجاوزات اور زيادتيوں كو روكے ركھيں اور اس كى فوج كو گھيرا ڈال كر ختم كرديں تا كہ عقل جسم كى مملكت پر حكومت كر سكے اور شرعيت سے الہام لے كر كمال انسانى اور سير و سلوك تك پہنچ سكے _ نفس كے ساتھ صلح اور آشتى نہيں كى جا سكتى بلكہ اس سے جنگ كرنى چاہئے تا كہ اسے زير كيا جائے اور وہ اپني حد تك رہے اور شازش كرنے سے باز رہے سعادت تك پہنچنے كے لئے اس كے سوا اور كوئي راستہ موجود نہيں ہے _ اسى وجہ سے نفس كے ساتھ جنگ كرںے كو احادیث ميں جہاد كہا گيا ہے_ حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ '' اپنے نفس پر پے در پے جہاد كرنے سے تسلط پيدا كرو_(146)

آپ نے فرمايا '' نفس کے خواہشات اور ھوى اور ہوس پر غلبہ حاصل كرو اور ان سے جنگ كرو اگر يہ تمہيں جكڑ ليں اور اپنى قيد و بند ميں قرار دے ديں تو تمہيں بدترين درجہ ميں جاڈاليں گے_(147)

 

آپ نے فرمايا كہ '' نفس كے ساتھ جہاد ايك ايسا سرمايہ ہے كہ جس كے ذريعے بہشت خريدى جا سكتى ہے_ پس جو آدمى اپنے نفس كے ساتھ جہاد كرے وہ اس پر مسلط ہوجائيگا_ اور بہشت اس كے لئے جو اس كى قدر پہچان لے بہترين جزا ہوگي_(148)

آپ نے فرمايا '' جہاد كر كے نفس كو اللہ كى اطاعت پر آمادہ كرو_ اس كے ساتھ يہ جہاد ويسا ہو جيسے دشمن كے ساتھ كيا جاتا ہے اور اس پر ايسا غلبہ كرو جو ايك ضد دوسرى ضد پر غلبہ كرتى ہے لوگوں سے قوى ترين آدمى وہ ہے جو اپنے نفس پر فتح حاصل كرے_(149)

آپ نے فرمايا كہ '' عقلمند انسان وہ ہے جو اپنے آپ كو نفس كے ساتھ جہاد ميں مشغول ركھے اور اس كى اصلاح كرے اور اسے ھوى اور ہوس اور خواہشات سے روكے ركھے اور اس طرح سے اس كو لگام دے اور اپنے كنتڑل ميں لے آئے_ عقلمند انسان اس طرح اپنے نفس كى اصلاح ميں مشغول رہتا ہے كہ وہ دنيا اور جو كچھ دنيا اور اہل دنيا ميں ہے اس ميں اتنا مشغول نہيں رہتا_(150)

 

نفس كے ساتھ جہاد ايك بہت بڑى اہم جنگ اور نتيجہ خيز ہے ايسى جنگ كہ ہميں كس طرح دنيا اور آخرت كے لئے زندگى بسر كرنى اور ہميں كس طرح ہونا اور كيا كرنا ہے سے مربوط ہے اگر ہم جہاد كے ذريعے اپنے نفس كو كنتڑل كر كے نہ ركھيں اور اس كى لگام اپنے ہاتھ ميں نہ ركھيں وہ ہم پر غلبہ كر لے گا اور جس طرف چاہئے گا لے جائيگا اگر ہم اسے قيد ميں نہ ركھيں وہ ہميں اسير اور اپنا غلام قرار دے ديگا اگر ہم اسے كردار اور اچھے اخلاق اپنا نے پر مجبور نہ كريں تو وہ ہميں برے اخلاق اور برے كردار كى طرف لے جائيگا_ لہذا كہا جا سكتا ہے كہ نفس كے ساتھ جہاد بہت اہم كام اور سخت ترين راستہ ہے جو اللہ كى طرف سير و سلوك كرنے والے كے ذمہ قرار ديا جا سكتا ہے _ جتنى اس راستے ميں طاقت خرچ كى جائے وہ قيمتى ہوگي_

 

جہاد اكبر

نفس كے ساتھ جہاد اس قدر مہم ہے كہ اسے پيغمبر اکرم  (ص) نے جہاد اكبر سے تعبير فرمايا ہے اتنا اہم جہاد ہے كہ جنگ والے جہاد سے بھى اسے بڑا قرار ديا ہے_حضرت على عليہ السلام نے نقل فرمايا ہے كہ'' رسول خدا(ص)  نے ايك لشكر دشمن سے لڑنے كے لئے روانہ كيا اور جب وہ جنگ سے واپس آيا آپ نے ان سے فرمايا مبارك ہو ان لوگوں كو كہ جو چھوٹے جہاد كو انجام دے آئے ہيں ليكن ابھى ايك بڑا جہاد ان پر واجب ہے آپ سے عرض كى گئي يا رسول اللہ(ص) بڑا جہاد كونسا ہے؟ آپ(ص)  نے فرمايا اپنے نفس سے جہاد كرنا_(151)

 

حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ '' بہترين جہاد اس شخص كا جہاد ہے كہ جو اپنے نفس سے جو اس كے دو پہلو ميں موجود ہے جہاد كرے_(152) پيغمبر اكرم(ص)  نے اس وصيت ميں جو حضرت علي(ع) سے كى تھى فرمايا كہ '' جہاد ميں سے بہترين جہاد اس شخص كا ہے جب وہ صبح كرے تو اس كا مقصد يہ ہو كہ ميں كسى پر ظلم نہيں كرونگا_(153) ان احاديث ميں نفس كے ساتھ جہاد كرنے كو جہاد اكبر اور افضل جہاد كے نام سے پہنچوانا گيا ہے يہ ايسا جہاد ہے كہ جو اللہ تعالى كے راستے ميں جہاد كرنے سے فضيلت اور برترى ركھتا ہے حالانكہ اللہ تعالى كے راستے ميں جہاد بہت ہى پر ارزش اور بہترين عبادت شمار ہوتا ہے اس سے جہاد نفس كا پر ارزش اور بااہميت ہونا واضح ہوجاتا ہے نفس كے جہاد كا برتر ہونا تين طريقوں سے درست كيا جا سكتا ہے_

1  - ہر ايك عبادت يہاں تك كہ اللہ تعالى كے راستے ميں جہاد كرنا بھى نفس كے جہاد كرنے كا محتاج ہے_ ايك عبادت كو كامل اور تمام شرائط كے ساتھ بجالانا نفس كے ساتھ جہاد كرنے پر موقوف ہے كيا نماز كا حضور قلب كے ساٹھ بجا لانا اور پھر اسكے تمام شرائط كى رعايت كرنا جو معراج مومن قرار پاتى ہے اور فحشا اور منكر سے روكتى ہے بغير جہاد اور كوشش كرنے كے انجام پذير ہو سكتا ہے؟ آيا روزہ كا  ركھنا جو جہنم كى آگ كے لئے ڈھال ہے بغير جہاد كے ميسر ہو سكتا ہے_ كيا نفس كے جہاد كے بغير كوئي جہاد كرنے والا انسان اپنى جان كو ہتھيلى پر ركھ كر جنگ كے ميدان ميں حاضر ہو سكتا ہے اور اسلام كے دشمنوں سے اچھى طرح جنگ كر سكتا ہے؟ اسى طرح باقى تمام عبادات بغير نفس كے ساتھ جہاد كرنے كے بجالائي جا سكتى ہيں؟

2  - ہر ايك عبادت اس صورت ميں قبول كى جاتى ہے اور موجب قرب الہى واقع ہوتى ہے جب وہ صرف اللہ تعالى كى رضا كے لئے انجام دى جائے اور ہر قسم كے شرك اور رياء خودپسندى اور نفسانى اغراض سے پاك اور خالص ہو اس طرح كے كام بغير نفس كے ساتھ جہاد كئے واقع ہونا ممكن نہيں ہوسكتے يہاں تك كہ جنگ كرنے والا جہاد اور شہادت بھى اس صورت ميں قيمت ركھتى ہے اور تقرب اور تكامل كا سبب بنتى ہے جب خالص اور صرف اللہ كى رضاء اور كلمہ توحيد كى سربلندى كے لئے واقع ہو اگر يہ اتنى بڑى عبادت اور جہاد صرف نفس كى شہرت يا دشمن سے انتقام لينے يا نام كے باقى رہ جانے يا خودنمائي اور رياكارى يا مقام اور منصب كے حصول يا زندگى كى مصيبتوں سے فرار يا دوسرى نفسانى خواہشات كے لئے واقع ہو تو يہ كوئي معنوى ارزش اور قيمت نہيں ركھتى اور اللہ تعالى كے پاس تقرب كا موجب نہيں بن سكتى اسى وجہ سے نفس كے ساتھ جہاد تمام عبادات اور امور خيريہ يہاں تك كہ اللہ تعالى كے راستے والے جہاد پر فضيلت اور برترى اور تقدم ركھتا ہے س واسطے كہ ان تمام كا صحيح ہونا اور باكمال ہونا نفس كے جہاد پر موقوف ہے يہى وجہ ہے كہ نفس كے جہاد كو جہاد اكبر كہا گيا ہے_

3  - جنگ والا جہاد ايك خاص زمانے اور خاص شرائط سے واجب ہوتا ہے اور پھر وہ واجب عينى بھى نہيں ہے بلكہ واجب كفائي ہے اور بعض افراد سے ساقط ہے اور بعض زمانوں ميں تو وہ بالكل واجب ہى نہيں ہوتا اور پھر واجب ہونے كى صورت ميں بھى واجب كفائي ہوتا ہے يعنى بقدر ضرورت لوگ شريك ہوگئے تو دوسروں سے ساقط ہو جاتا ہے اور پھر بھى عورتوں اور بوڑھوں اور عاجز انسانوں اور بيمار لوگوں پر واجب نہيں ہوتا ليكن اس كى برعكس نفس كا جہاد كہ جو تم پر تمام زمانوں اور تمام حالات ميں اور شرائط ميں واجب عينى ہوا كرتا ہے اور زندگى كے آخر لمحہ تك واجب ہوتاہے اور سوائے معصومين عليہم السلام كے كوئي بھى شخص اس سے بے نياز نہيں ہوتا_

 

4  -نفس سے جہاد كرنا تمام عبادات سے يہاں تك كہ جنگ والے جہاد سے كہ جس ميں انسان اپنى جان سے صرفنظر كرتى ہوئے اپنے آپ كو شہادت كے لئے حاضر كرديتا ہے_ مشكل تر ہے اور دشوار اور سخت تر ہے اس واسطے كہ محض اللہ كے لئے تسليم ہو جانا اور تمام عمر نفسانى خواہشات سے مقابلہ كرنا اور تكامل كے راستے طے كرنا اس سے زيادہ دشوار اور مشكل ہے كہ انسان جنگ ميں جہاد كرنے والا تھوڑے دن دشمن سے جنگ كے ميدان ميں جنگ كرے اور مقام شہادت پر فيض ياب ہوجائے_ نفس كے ساتھ مقابلہ كرنا اتنا سخت ہے كہ سواے پے در پے نفس كے ساتھ جہاد كرنے اور بہت زيادہ تكاليف كو برداشت كرنے كے حاصل نہيں ہو سكتا اور سوائے اللہ تعالى كى تائيد كے ايسا كرنا ممكن نہيں ہے_ اسى لئے نماز ميں ہميشہ اھدنا الصراط المستقيم پڑھنے ہيں_ صراط مستقيم پر چلنا اتنا دشوار اور سخت ہے كہ رسول گرامى اللہ تعالى سے كہتا ہے _الہى لا تكلنى الى نفسى طرفة عين ابدا_   ------ جاری ہے--------- باقی آسئندہ--------

حواشی

 

 

146 - قال على عليہ السلام: املكوا انفسكم بدوام جاہدہا_ غرر ا لحكم/ ج1 ص 131_

 

147 - قال على عليہ السلام: اغلبوا اہوائكم و حاربوہا فانہا ان تقيّدكم توردكم من الہلكة ابعد غاية غرر ا لحكم/ ج1 ص 138_

 

148 - قال على عليہ السلام: الا و ان الجہاد ث4من الجنة فمن جاہد نفسہ ملكہا و ہى اكرم ثواب اللہ لمن عرفہا_ غرر ا لحكم/ ج1 ص

 

149 - قال على عليہ السلام: جاہد نفسك على طاعة اللہ مجاہدة العدوّ عدوّہ، و غالبہا مغالبة الضد صدہ فان اقوى الناس من قوى على نفسہ_ غرر ا لحكم/ ج1 ص 371_

 

150- قال على عليہ السلام: ان الحازم من شغل نفسہ بجہاد نفسہ فاصلحہا و حبسہا عن اہويتہا و لذاتہا فملكہا و ان للعاقل بنفسہ عن الدنيا و ما فيہا و اہلہا شغلاً_ غرر ا لحكم/ ج1 ص 237_

 

151- عن اميرالمؤمنين عليہ السلام:ان رسول اللہ صلى عليہ و آلہ بعث سرية فلمّا رجعوا قال: مرحباً بقوم قضوا الجہاد الاصغر و بقى عليہم الجہاد الاكبر: قيل: يا رسول اللہ و ما الجہاد الاكبر؟ فقال: جہاد النفس_ وسائل الشيعہ/ ج 11 ص 124_

 

152- قال على عليہ السلام: ان افضل الجہاد من جاہد نفسہ التى بين جنبيہ_ وسائل الشيعہ/ ج 11 ص 124_

 

153- فى وصية النبى لعلى عليہم السلام قال: يا علي افضل الجہاد من اصبح لا يہمّ بظلم احد_ وسائل/ ج 11 ص

کیا اسلام کی نگاہ میں دین سیاست سے جدا ہے؟

 

کیا اسلام کی نگاہ میں دین سیاست سے جدا ہے؟

 

  جواب: اس سوال کے جواب سے قبل بہتر یہ ہے کہ پہلے سیاست کے معنی کو واضح کردیا جائے تاکہ دین اور سیاست کا رابطہ سمجھ میں آسکے یہاں سیاست کے دو معنی بیان کئے جاتے ہیں .

۱۔سیاست کے یہ معنی مراد لئے جائیں کہ اپنے ہدف تک پہنچنے کے لئے ہر قسم کے وسیلے کو اختیار کیا جائے چاہے وہ وسیلہ دھوکہ اور فریب کاری ہی کیوں نہ ہو (یعنی مقصد کے حصول کے لئے کسی بھی چیز کو وسیلہ بنایا جاسکتا ہے) واضح ہے کہ اس قسم کی سیاست دھوکے اور فریب سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے اور ایسی سیاست کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے.

۲۔سیاست کے یہ معنی مراد لئے جائیں کہ اسلامی اصولوں کے مطابق انسانی معاشرے کے نظام کو چلایا جائے اس قسم کی سیاست کے معنی یہ ہیں کہ مسلمانوں کے نظام کو قرآن اور سنت کی روشنی میں چلایا جائے ایسی سیاست دین کا حصہ ہے اور ہرگز اس سے جدا نہیں ہے.

اب ہم یہاں پر سیاست اور دین کے درمیان رابطے اور حکومت کو تشکیل دینے سے متعلق چند دلیلیں پیش کریں گے : اس سلسلے میں واضح ترین گواہ پیغمبر خداؐ کا عمل ہے پیغمبرخداؐ کے اقوال اور کردار کے مطالعے سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ آنحضرتؐ نے اپنی دعوت اسلام کے آغاز ہی سے ایک ایسی مضبوط حکومت قائم کرنے کا ارادہ کرلیا تھا جس کی بنیاد خدا پر ایمان کے محکم عقیدہ پر استوار تھی اور جو اسلام کے مقاصد کو پورا کرسکتی تھی یہاں پر بہتر ہے کہ ہم رسول خداؐ کے اس عزم و ارادہ کے سلسلے میں چند شواہد پیش کریں:

 

پیغمبرخداؐ اسلامی حکومت کے بانی ہیں

۱۔جس وقت رسول خدا [ص] کو حکم ملا کہ لوگوں کو کھلم کھلا طریقے سے اسلام کی دعوت دیں تو اس وقت آنحضرتؐ نے مختلف طریقوں سے جہاد و ہدایت کے زمینے کو ہموار کیا اور اسلامی سپاہیوں کی تربیت اور ان کی آمادگی کا بیڑا اٹھایا اس سلسلے میں آپ نزدیک اور دور سے زیارت کعبہ کے لئے آنے والے افراد سے ملاقات کرتے تھے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دیتے تھے اسی دوران آپؐ نے مدینے کے دو گروہوں سے عقبہ کے مقام پر ملاقات کی اور ان سے یہ معاہدہ کیا کہ وہ لوگ آنحضرتؐ کو اپنے شہر میں بلائیں گے اور آپ ؐ کی حمایت کریں(سیرہ ہشام جلد۱ ص۴۳۱ مبحث عقبہ اولی طبع دوم مصر  )اور اس طرح اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے آنحضرتؐ کی سیاست کا آغاز ہوا .

۲۔رسول خداؐ نے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد ایک ایسی مضبوط فوج تیار کی جس نے بیاسی جنگیں لڑیں اور ان جنگوں میں کامیابی حاصل کر کے اسلامی حکومت کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو ہٹا دیا.

۳۔مدینے میں اسلامی حکومت قائم ہونے کے بعد آنحضرتؐ نے اس زمانے کی سیاسی اور اجتماعی بڑی طاقتوں کے پاس اپنے سفیراور خطوط بھیج کر ان سے رابطہ قائم کیا اور بہت سے قبیلوں کے سربراہوں سے اقتصادی ،سیاسی اور فوجی معاہدے کئے تاریخ نے پیغمبرخداؐ کے ان خطوط کی خصوصیات و تفصیلات کو بیان کیا ہے جو آپؐ نے ایران کے شہنشاہ ’’کسریٰ‘‘ ، روم کے بادشاہ ’’قیصر‘‘ ، مصر کے بادشاہ ’’مقوقس‘‘، حبشہ کے بادشاہ ’’نجاشی‘‘ اور دوسرے بادشاہوں کو بھیجے تھے . بعض محققین نے آنحضرتؐ کے ان خطوط کو اپنی مستقل کتابوں میں جمع کیا ہے(جیسے کہ’’الوثائق السیاسیہ‘‘ (مؤلفہ محمد حمید اللہ) ’’مکاتیب الرسول‘‘(مؤلفہ علی احمدی) ہیں)

۴۔رسول خداؐ نے اسلام کے مقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے اور اسلامی حکومت کے استحکام کے لئے بہت سے قبیلوں اور شہروں کے لئے حکام معین فرمائے تھے ہم یہاں اس سلسلے میں بطور مثال ایک نمونے کا ذکر کرتے ہیں پیغمبر اسلام ؐ نے رفاعہ بن زید کو اپنا نمائندہ بنا کرانھیں ان کے اپنے قبیلے کی طرف روانہ کیا اور خط میں یوں تحریر فرمایا :

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم ، (ھذا کتاب) من محمد رسول اللّہ [ص] لرفاعۃ بن زید بعثتہ اِلیٰ قومہ عامۃ و من دخل فیھم یدعوھم اِلیٰ اللّہ والیٰ رسولہ فمن اقبل منھم ففي حزب اللّہ و حزب رسولہ و من أدبر فلہ أمان شہرین‘‘(مکاتیب الرسول جلد ۱ ص ۱۴۴.)

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بہت مہربان اور نہایت ہی رحم کرنے والا ہے محمد رسول خداؐ کی طرف سے یہ نوشتہ رفاعہ بن زید کے نام، بے شک میں انہیں ان کی قوم کے عام لوگوں اور قوم میں شامل ہوجانے والوں کی طرف بھیج رہا ہوں تاکہ وہ انہیں خدا اور اس کے رسول کی طرف دعوت دیں پس جس نے ان کی دعوت کو قبول کیا وہ خدا اور اس کے رسول کے گروہ میں شامل ہو گیا.اور جو ان کی دعوت سے روگردانی کرے گا اس کے لئے صرف دو ماہ کی امان ہے.

پیغمبر اسلامؐ کے ان اقدامات سے بخوبی یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ بعثت کے آغاز ہی سے ایک ایسی مضبوط حکومت بنانا چاہتے تھے کہ جس کے سائے میں انسانی معاشرے کی زندگی کے تمام پہلوؤں سے متعلق، اسلام کے احکام کونافذ کیا جاسکے، اب سوال یہ ہے کہ رسول خداؐ کا مختلف گروہوں اور قدرتمند قبیلوں سے معاہدہ کرنا ،ایک

مضبوط فوج تیار کرنا، مختلف ممالک میں سفیر بھیجنا اور اس زمانے کے بادشاہوں کو خبردار کرنا، نیز ان سے خط و کتابت کرنا ساتھ ہی ساتھ شہروں کے گورنر اور حکام معین کرنا اور ایسے ہی دوسرے امور کا انجام دینا اگر سیاست نہیں تھا تو اور کیا تھا؟ پیغمبر اسلام ؐ کی سیرت کے علاوہ خلفائے راشدین کا کردار اور خاص طور پرحضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب ۔ کا طرز عمل بھی شیعوں اور اہل سنت دونوں فرقوں کیلئے اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ سیاست دین سے جدانہیں ہے.دونوں اسلامی فرقوں کے علماء نے حکومت قائم کرنے کے سلسلے میں قرآن مجید اور سنت پیغمبرؐ سے مفصل دلیلیں بیان کی ہیں نمونے کے طور پر ہم ان میں سے بعض کا ذکر کرتے ہیں:

ابوالحسن ماوردی نے اپنی کتاب ’’احکام سلطانیہ‘‘ میں یوں لکھا ہے:

’’الإمامۃ موضوعۃ لخلافۃ النبّوۃ في حراسۃ الدین و سیاسۃ الدنیا و عقدھا لمن یقوم بھا في الأمۃ واجب بالإجماع‘‘(الاحکام السلطانیۃ (ماوردی) باب اول ص۵ طبع مصر)

امامت کو نبوت کی جانشینی کے لئے قرار دیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ دین کی حفاظت کی جاسکے اور دنیا کی سیاست و حکومت کا کام بھی چل سکے امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایسی حکومت قائم کرنااس شخص پر واجب ہوجاتا ہے جو اس کام کو انجام دے سکتا ہو۔

اہل سنت کے مشہور عالم ماوردی نے اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے دو طرح کی دلیلیں پیش کی ہیں:

۱۔ عقلی دلیل

۲۔ شرعی دلیل

عقلی دلیل کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’لما في طباع العقلاء من التسلیم لزعیم یمنعھم من التظالم و یفعل بینھم في التنازع والتخاصم ولولا الولاۃ لکانوا فوضیٰ مھملین ھمجاً مضاعین‘‘(الاحکام السلطانیۃ (ماوردی) باب اول ص۵ طبع مصر)

کیونکہ یہ بات عقلاء کی فطرت میں ہے کہ وہ کسی رہبر کی پیروی کرتے ہیں تاکہ وہ انہیں ایک دوسرے پر ظلم و ستم کرنے سے روکے اور اختلاف اور جھگڑوں کی صورت میں ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرے اور اگر ایسے حکام نہ ہوتے تولوگ پراگندہ اور پریشان ہوجاتے اور پھر کسی کام کے نہ رہ جاتے.اور شرعی دلیل کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’ولکن جاء الشرع بتفویض الأمور اِلی ولیہ في الدین قال اللّہ عزّوجلّ ( یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا

أَطِیعُوا اﷲَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنْکُم)ففرض علینا طاعۃ أولي الأمر فینا وھم الأئمۃ المأتمرون علینا‘‘(الاحکام السلطانیۃ (ماوردی) باب اول ص۵ طبع مصر)

لیکن شرعی دلیل میں یہ ہے کہ دین کے امور کو ولی کے سپرد کردیا گیا ہے خداوندکریم فرماتا ہے:ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تمہیں میں سے ہیں.پس خداوند نے ہم پرصاحبان امر کی اطاعت کو واجب کردیا ہے اور وہ معصوم امام ہیں جو ہم پر حکومت کرتے ہیں .

شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے فضل بن شاذان سے ایک روایت نقل کی ہے جو امام علی بن موسیٰ الرضا ۔ کی طرف منسوب ہے اس طولانی روایت میں امام ۔ نے حکومت قائم کرنے کو ایک لازمی امر قرار دیا ہے . ہم اس روایت کے چند جملے ذکر کرتے ہیں :

’’إنّا لا نجد فرقۃ من الفرق ولا ملۃ من الملل   بقوا و عاشوا إِلاّ بقیّم و رئیس، لما لابدّ لھم  منہ من أمر الدین والدنیا، فلم یجزفيحکمۃ  الحکیمأن یترک الخلق لما یعلم انہ لابدّ لھم منہ  والإقوام لھم إلاّ بہ فیقاتلون بہ عدوھم و یقسمون بہ فیءھم و یقیمون بہ جمعتھم و جماعتھم و یمنع ظالمھم من مظلومھم ‘‘(علل الشرائع باب ۱۸۲ حدیث نمبر۹ ص ۲۵۳)

ہمیں کوئی ایسی قوم یا ملت نہیں ملے گی جو اس دنیا میں باقی رہی ہواور اس نے زندگی گزاری ہو سوائے یہ کہ اس کے پاس ایک ایسا رہبر اور رئیس رہا ہو جس کے وہ لوگ دین اور دنیا کے امور میں محتاج رہے ہوں پس خداوند حکیم کی حکمت سے یہ بات دور ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ایک ایسی چیز عطا نہ فرمائے جسکے وہ لوگ محتاج ہیں اور اسکے بغیر باقی نہیں رہ سکتے ہیں کیونکہ لوگ اپنے رہبر ہی کی ہمراہی میں اپنے دشمنوں کے ساتھ جنگ کرتے ہیں اور اسی کے حکم سے مال غنیمت کو تقسیم کرتے ہیں اور اس کی اقتداء میں نماز جمعہ اور بقیہ نمازیں باجماعت ادا کرتے ہیں اور رہبر ہی ظالموں سے مظلوموں کو بچاتا ہے.

اس سلسلے میں وارد ہونے والی ساری روایتوں کی تشریح کرنا اور تمام مسلمان فقہاء کے اقوال کا جائزہ لینا اس مختصر مضمون کی گنجائش سے باہر ہے اس کام کے لئے ایک مستقل کتاب درکار ہے۔اسلامی فقہ کا دقت کے ساتھ مطالعہ کرنے سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ شریعت کے بہت سے قوانین ایسے ہیں جو ایکمضبوط حکومت کے بغیر نافذ نہیں کئے جاسکتے ہیں.

اسلام ہمیں جہاد اور دفاع کرنے ، ظالم سے انتقام لینے اور مظلوم کی حمایت کرنے، شرعی حدود اور تعزیرات جاری کرنے، امر بالمعروف و نھی عن المنکر انجام دینے، ایک مالی نظام برقرار کرنے اور اسلامی معاشرے میں وحدت قائم کرنے کا حکم دیتا ہے اب یہ بات واضح ہے کہ مذکورہ اہداف ایک مضبوط نظام اور حکومت کے بغیر پورے نہیں ہوسکتے کیونکہ شریعت کی حمایت اور اسلام سے دفاع کرنے کے لئے ایک تربیت یافتہ فوج کی ضرورت ہوتی ہے اور اس قسم کی طاقتور فوج تیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی اصولوں کے مطابق ایک مضبوط حکومت قائم کی جائے اور اسی طرح فرائض کی پابندی اور گناہوں سے دوری کے لئے حدود اور تعزیرات کو جاری کرنا اور ظالموں سے مظلوموں کا حق لینا ایک حکومت اور نظام کے بغیر ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر قوی حکومت نہ پائی جاتی ہو تو معاشرہ فتنہ اور آشوب کی آماجگاہ بن جائے گا اگرچہ حکومت قائم کرنے کے لازمی ہونے کے سلسلے میں ہماری ان دلیلوں کے علاوہ بھی بہت سی دلیلیں ہیں لیکن ان دلیلوں ہی سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نہ صرف دین سیاست سے جدا نہیں ہے بلکہ شریعت کے قوانین کے مطابق اسلامی حکومت قائم کرنا ایک لازمی امر ہے جو کہ اس دنیا میں پائے جانے والے ہر اسلامی معاشرہ کے لئے ایک فریضہ قرار دیا گیا ہے۔

جلال بادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی                                  

(علامہ اقبال)

  

جہالت و  پستي،

 

جہالت و  پستي، انسان کے دو بڑے دشمن

آج انسان نے دنيا ميں جہاں کہيں بھي چوٹ کھائي ہے خواہ وہ سياسي لحاظ سے ہو يا فوجي و اقتصادي لحاظ سے،  اگر آپ اُس کي جڑوں تک پہنچيں تو آپ کو يا جہالت نظر آئے گي يا پستي -يعني اِس انساني معاشرے کے افراد يا آگاہ وواقف نہيں ہيں اوراُنہيں جس چيز کي لازمي معرفت رکھني چاہيے وہ لازمي معرفت و شناخت نہيں رکھتے ہيں يا يہ کہ معرفت کے حامل ہيں ليکن اُس کي اہميت اور قدر وقيمت کے قائل نہيں ہيں، انہوں نے اُسے کوڑيوں کے دام بيچ ديا ہے اور اُس کے بجائے ذلت وپستي کو خريد ليا ہے!

حضرت امير المومنين اور حضرت امام سجاد علیہم السلام سے نقل کيا گيا ہے کہ آپ نے فرمايا کہ ’’لَيسَ لِاَنفُسِکُم ثَمَن اِلَّا الجَنَّۃَ فَلَا تَبِيعُوھَا بِغَيرِھَا‘‘؛’’تمہاري جانوں کي جنت کے علاوہ کوئي اور قيمت نہيں ہے لہٰذا اپني جانوں کو جنت کے علاوہ کسي اور چيز کے عوض نہ بيچو‘‘- يعني اے انسان! اگر يہ طے ہو کہ تمہاري ہستي و ذات اور تشخص و وجود کو فروخت کيا جائے تو اِن کي صرف ايک ہي قيمت ہے اور وہ ہے خدا کي جنت،  اگر تم نے اپنے نفس کو جنت سے کم کسي اور چيز کے عوض بيچا تو جان لو کہ تم کو اِس معاملے ميں غبن ہوا ہے! اگر پوري دنيا کوبھي اِس شرط کے ساتھ تمہيں ديں کہ ذلت وپستي کو قبول کر لو توبھي يہ سودا جائز نہيں ہے-

وہ تمام افراد جو دنيا کے گوشے کناروں ميں زر و  زمين اور صاحبانِ ظلم و ستم کے ظلم کے سامنے تسليم ہوگئے ہيں اوراُنہوں نے اِس ذلت و پستي کو قبول کر ليا ہے،  خواہ عالم ہوں يا سياست دان،  سياسي کارکن ہوں يا اجتماعي امور سے وابستہ افراد يا روشن فکر اشخاص،  تو يہ سب اِس وجہ سے ہے کہ اُنہوں نے اپني قدر و قيمت کو نہيں پہچانا اور خود کو کوڑيوں کے دام فروخت کرديا ہے ؛ ہاں سچ تو يہي ہے کہ دنيا کے بہت سے سياستدانوں نے خود کو بيچ ڈالا ہے- عزت صرف يہ نہيں ہے کہ انسان صرف سلطنت کيلئے بادشاہت يا رياست کي کرسي پر بيٹھے؛ کبھي ايسا بھي ہوتا ہے کہ ايک انسان تخت حکومت پر بيٹھ کر ہزاروں افرادسے غروروتکبر سے پيش آتا ہے اوراُن پر ظلم کرتاہے ليکن اُسي حالت ميں ايک بڑي طاقت اور سياسي مرکز کا اسير و ذليل بھي ہوتا ہے اور خود اُس کي نفساني خواہشات اُسے اپنا قيدي بنائے ہوئے ہوتي ہيں! آج کي دنيا کے سياسي اسير و قيدي کسي نہ کسي بڑي طاقت و قدرت اور دنيا کے بڑے سياسي مراکز کے اسير و قيدي ہيں!

 

تعلیم کی اہمیت

 

تعلیم کی اہمیت

 

تحریر : خورشید عالم سیف

 

 

رامو ایک دیہاتی شخص تھا۔ شہر کے ایک رئیس کے پاس گھریلو ملازم تھا وہ پڑھا لکھا بالکل بھی نہیں تھا۔ اپنے گاﺅں اور اپنی بیوی بچے سے دور شہر میں رہتے ہوئے اسے عرصہ بیت گیا تھا۔ اس کا ا یک ہی بیٹا تھا بھولا، جب وہ گاﺅں سے رخصت ہوا تھا تو اس وقت اپنی ماں کی گود میں تھا جب بیٹے کی یاد رامو کو ستانے لگی تو اس نے سوچا کیوں نا بھولا کی ماں کو ایک خط لکھ  دے۔

لیکن وہ قلم اور کاغذ لے کر اس پر لکھتا بھی کیا کہ اس نے کبھی اسکول کا منہ تک نہیں دیکھا تھا۔ مجبوراً وہ بڑے مالک کے پاس گیا اور ان سے ایک خط لکھنے کی درخواست کی۔ بڑے مالک خط لکھنے کو تیار ہوگئے۔ اتنے میں ٹیلی فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ فون ان کے دفتر سے تھا، وہ فوراً دفتر چلے گئے اور رامو کا خط ادھورا ہی رہ گیا۔

اس کے بعد رامو چھوٹے مالک کے پاس گیا۔ چھوٹے مالک ورزش کرنے میں مصروف تھے۔ رامو نے اس سے خط لکھنے کی درخواست کی۔ چھوٹے مالک کے پاس اتنی فرصت کہا ں کہ وہ ایک نوکر کا کام کرنے کو تیار ہو جاتے۔ انہوں نے فوراً بہانہ تراشتے ہوئے کہا”تم تو جانتے ہو رامو کاکا کہ مجھے ہندی نہیں آتی، تم کہو تو انگریزی میں لکھ دوں تمہارا خط! رامو مایوس ہو کر چھوٹی مالکن کے پاس گیا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتا، چھوٹی مالکن بول پڑیں” رامو کاکا تم مجھے کوئی کام بتا کر پریشان نہ کرو، ویسے ہی مجھے کالج جانے میں دیر ہوگئی ہے“ بیچارہ رامو خط لکھنے کا ارمان دل میں لیے الٹے پاﺅں لوٹ گیا۔

کچھ دنوں بعد رامو کو ڈاک موصول ہوا۔ اس لفافہ کو لے کر سیدھا بڑی مالکن کے پاس جا پہنچا اور اسے پڑھ کر سنانے کی گزارش کی۔ بڑی مالکن نے لفافہ کھولا اور پڑھ کر سنایا۔رامو دوسرے دن ہی جب اپنے گاﺅں پہنچا تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ گاﺅں والے مایا کے مردہ جسم کو دفن کرچکے تھے۔ اس کا ننھا بیٹا بھولا اس کے قریب آ کر اپنی توتلی زبان میں بڑبڑانے لگتا ہے”باپو....باپو....باپو تم آ گئے؟ مائی تو تب (کب) تی چلی گئی۔ اسے تو داﺅں (گاﺅں) والے تندھا پر اٹھا تر لے دیے ‘’؟ رامو نے، بھولا کو بہلاتے ہوئے کہا۔” تمہاری اماں خدا کے پاس چلی گئی ہے“تون (کون) اللہ میاں “؟ وہ میں سمجھا کہ مائی نانا جی کے گھر چلی گئی ہے ایسا کرونا باپو کہ تم مائی تو(کو) ایت(ایک) چھٹی لکھ  دو تو وہ جلد دھر (گھر) چلی آئے گی“ رامو نے لاچاری ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ”بھولے تو تو جانتا ہے کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔ ایک کام کر تو ہی اپنا اماں کو خط لکھ دے‘’ مگر اماں نے تو ہم کو تبھی (کبھی) اسکول بھیجا ہی نہیں تو ہم........ بھولا کی زبان سے یہ جملہ سنتے ہی رامو کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔ رامو نے اسی وقت تہیہ کرلیا کہ اپنے بیٹے کو اپنے جیسا جاہل نہیں بنانا۔ حالات جو بھی ہوں وہ ہر حال میں اپنے بچے کو پڑھنے کے لیے اسکول ضرور بھیجے گا۔

 

مذہب کے نام پر  دہشتگردی

 

مذہب کے نام پر  دہشتگردی

 

 

امیر نواز خان

 

اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے اس پر سب متفق ہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔قرآنی آیات، احادیث نبوی اور آئمہ کرام کے استدلال کی روشنی میں یہ بات واضح کی کہ بے گناہ و معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اور ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدون پر حملے کرنا اور نمازیون کو شہید کرنا ، سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، کسی بھی عذر، بہانے یا وجہ سے ایسے عمل کی اسلام ہر گز اجازت نہیں دیتا۔مزیدبرآں مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے۔ اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ طالبان کے اعمال اسلامی تعلیمات کے خلاف ہین اور یہ وہ گروہ ہین جو دائرہ اسلام سے اپنی غیر اسلامی حرکات کی وجہ سے خارج متصور ہونگے۔ طالبان کا یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گیا ہے اور طالبان دائین بائین صرف مسلمانوں کو ہی مار رہے ہین۔اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔

ایک مُسلم معاشرے اور مُلک میں ایک مُسلمان دوسرے مُسلمان کی جان کا دُشمن ۔مُسلمانیت تو درکنار انسا نیت بھی اسکی متحمل نہیں ہو سکتی کہ کسی بھی بے گناہ کا خون کیا جائے۔

اللہ تعالہ فرماتے ہین:

’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘) المائدة، 5 : 32(

کہو، وہ (اللہ) اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔(سورۃ الانعام ۶۵)

وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور الللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء۔۹۳)۔

 

طالبان اسلامی نظام نافذ کرنے کے داعی ہیں مگر اس مقصد کے حصول کے لئے وہ تمام کام برملا کر رہے ہیں جو قران و حدیث ،سنت نبوی اور اسلامی شرعیہ کے خلاف ہیں، لہذا ان کا اسلامی نظام نافذ کرنے کا دعوی انتہائی مشکوک اور ناقابل اعتبار ہے۔

جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہین۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ “دہشت گردی ہے جہاد نہیں”۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں‌دیا جاسکتا وطن عزیز میں کئی برسوں سے جاری واقعات کے تناظر میں یہ بات بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ اس نوع کی وارداتیں پاکستان اسلام کے خلاف گھناؤنی سازشوں کا حصہ ہیں اور ان کے منصوبہ ساز اسلام کا قلعہ کہلانے والے ملک پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے ہر طرح کے حربے استعمال کرنے پر تلے نظر آتے ہیں۔ اسی لئے ان کے ایجنڈے میں اہم مقامات اور تنصیبات کو نقصان پہنچانے، وطن عزیز کی دفاعی قوت پر ضرب لگانے، معیشت کو نقصان پہنچانے، معمولات زندگی کو خوف و دہشت کی نذر کرنے، عوام کو فرقہ وارانہ بنیاد پر لڑانے اور لسانی تعصبات کو ہوا دینے سمیت ہر وہ طریقہ شامل ہے جس سے وطن عزیز کو کمزور کیا جا سکے۔

(بشکریہ روزنامہ آج)

اسلامی جمہوریت

 

اسلامی جمہوریت

 

(اداریہ)

 

اسلامی جمہوریہ ایران کی سپریم کونسل کے اجلاس میں قائد انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کا خطاب اور خطے میں اسلامی و عربی تحریکوں کیلئے اسلامی جمہوریت کا نسخہ پیش کرنا باعث بنا کہ یہ نظریہ فراموشی کا شکار نہ ہو۔ آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اس خطاب میں فرمایا: "وہ چیز جو ان ممالک کیلئے مددگار ثابت ہو سکتی ہے اسلامی جمہوریت کا نظریہ ہے۔ اسلامی جمہوریت کا نظریہ جو امام خمینی (رح) کا عظیم کارنامہ ہے ان سب ممالک کیلئے بہترین نسخہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میں جمہوریت بھی ہے اور اسکی بنیادیں بھی دین پر استوار ہیں"۔

حقیقت یہ ہے کہ خطے میں اسلامی بیداری کی تحریکوں کا منشاء عرب عوام کے حریت پسندی، عزت خواہی، خودمختاری اور عدالت خواہی پر مبنی افکار ہیں اور انقلاب اسلامی ایران کے بانی حضرت امام خمینی (رح)  کی پیروی کرتے ہوئے ان میں یہ ایمان اور یقین پیدا ہوا اور روز بروز بڑھتا چلا گیا کہ یہ اھداف صرف اور صرف اسلامی خواہی کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتے ہیں۔ لیکن گذشتہ تجربات نے ثابت کیا ہے کہ انقلاب کے ثمرات کی حفاظت اور پاسداری خود انقلاب برپا کرنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ آج تیونس، مصر، لیبیا اور یمن میں عوامی انقلاب کامیابی سے ہمکنار ہو چکے ہیں لیکن ان انقلابات کی حفاظت کیسے ممکن ہے؟۔ بھیڑیا صفت طاقتوں نے خطے میں جنم لینے والے بے سرپرست انقلابات کو چیر پھاڑنے اور اپنے حقیقی اھداف سے منحرف کرنے کیلئے دانت تیز کر رکھے ہیں۔

دشمن ہر وہ اقدام انجام دینے کیلئے تیار ہے جسکے ذریعے عوام کو انکے حقیقی اھداف تک پہنچنے سے روکا جا سکے۔ خطے کی دشمن قوتوں نے اسلامی اور عوامی انقلابی تحریکوں کا مقابلہ کرنے کیلئے جو سازشیں تیار کر رکھی ہیں ان میں سے ایک جوانوں میں انقلابی اھداف کے حصول کی نسبت ناامیدی اور مایوسی پیدا کرنا ہے۔ یہ اسلامی تحریکیں جن خطرات سے دوچار ہیں ان میں سے ایک مغربی قوتوں کے ساتھ وابستگی کا جاری رہنا ہے۔ مغربی قوتیں خطے پر اپنا تسلط قائم رکھنے کی خاطر اپنے مہروں کی تبدیلی اور نئے چہرے سامنے لانے کا حربہ استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اس طرح سے چاہتی ہیں کہ حسنی مبارک، بن علی، معمر قذافی، علی عبداللہ صالح وغیرہ کی کارکردگی کو محفوظ بنائے۔

اس جھولتے پنگوڑے اور ان خطرناک حالات میں وہ چیز جو عربی و اسلامی تحریکوں کے اس نئے جنم لینے والے شیرخوار بچے کو مختلف بلاوں اور خطرات سے محفوظ رکھ سکتی ہے ایسے ماڈل کو اپنانا ہے جو گذشتہ دور میں اپنی کامیابی کو ثابت کر چکا ہے۔ خطے میں رونما ہونے والے انقلابات کی بقاء کی ضمانت وہ چیز مہیا کر سکتی ہے جو ان انقلابی تحریکوں کے منشاء کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہو۔ اسلامی جمہوریت وہ کامیاب ماڈل ہے جس نے گذشتہ 32 سال کے دوران ملت ایران کے اسلامی انقلاب کے اھداف کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آج عرب ممالک کے انقلابی جوان یہ جاننے کے مشتاق ہیں کہ ملت ایران نے کس طرح گذشتہ تین عشرون کے دوران امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کی جانب سے انتہائی خطرناک اور مہلک سازشوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا ہے اور روز بروز اپنے انقلابی اھداف و مقاصد سے زیادہ سے زیادہ وفادار ہوتی چلی گئی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کا آئین کن قواعد اور بنیادوں پر استوار ہے جنہوں نے کامیابی کے ساتھ گذشتہ 32 سال کے دوران ایرانی معاشرے کی ضروریات کو پورا کیا ہے۔ ملت ایران کی جوہری ٹیکنالوجی، سپر کمپیوٹرز، نینو ٹیکنالوجی، ایرو اسپیس ٹیکنالوجی اور اسٹم سیلز (Stem cells) جیسے اہم میدانوں میں علمی ترقی کا راز کیا ہے؟۔

خطے کی انقلابی اقوام کو ان تمام سوالات کا جواب اسلامی جمہوری نظام میں مل سکتا ہے۔ ایسا نظام جو مکمل طور پر جمہوری اور دین مبین اسلام پر استوار ہے۔ خطے میں انقلابی تحریکیں سکولاریزم پر دین کے غلبے کا نتیجہ ہیں نہ برعکس۔ ان انقلابات میں جو آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے بقول ارادوں کی جنگ کا مظہر ہیں کامیابی کا راز صرف اور صرف خطے کی مسلمان اقوام کی جانب سے اسلام خواھی جیسی مضبوط بنیاد پر تکیہ کرنا ہے۔
آج عرب انقلابی تحریکوں کا اندرونی آمریت اور بیرونی استعمار پر غلبہ کرنے کیلئے روڈ میپ صرف اور صرف اسلامی سیاسی نظام جیسے اسلامی جمہوریت ہے۔ اسلامی جمہوریت درحقیقت  ان انقلابات کی بقاء کی ضمانت فراہم کر سکتی ہے اور خطے کے مسلمان انقلابی جوانوں کی محنت اور قربانیوں کے ثمرات کی حفاظت کیلئے مضبوط ڈھال ثابت ہو سکتی ہے۔

اگرچہ یہ دعوا نہیں کیا جا سکتا ہے اسلامی جمہوری نظام ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی جانب سے بعض امراض کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پیش کئے گئے نسخوں کی مانند وسیع ہے لیکن کسی کو بھی اس تجربے سے سبق سیکھنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ عالمی اسلامی جمہوری نطام کے بارے میں بھی سوچا جا سکتا ہے۔ ایسا نطام جو انسانی فطرت پر استوار ہے اور لبرل ڈموکریسی جیسے کافرانہ ماڈل کی نسبت جو آج بھی اپنے گھر میں مزاحمت سے روبرو ہیں کہیں زیادہ گلوبلائزیشن کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ البتہ یہ گلوبلائزیشن خود بخود انجام پانے والا عمل نہیں جیسا کہ لبرل ڈموکریسی پر مبنی گلوبلائزیشن بھی خود بخود محقق ہونے والا عمل نہیں۔

آج ہم اسلامی گلوبلائزیشن کیلئے محققین اور دانشوروں کی جانب سے زیادہ تگ و دو اور سیاستدانوں کی جانب سے زیادہ دلسوزی کے محتاج ہیں۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی جب سنہ 6 ہجری میں یہ فیصلہ کیا کہ دین مبین اسلام کو عالمی سطح پر پھیلا دیں تو اس دوران کے بادشاہوں کو خط لکھے۔ تاریخی ذرائع کے مطابق ان خطوط کی تعداد 6 تھی اور تمام خطوط کو ایک دن روانہ کیا گیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے بعض افراد کو پیغمبر اکرم ص کا یہ اقدام پسند نہیں آیا تھا اور اسکے سرانجام سے خوفزدہ تھے لیکن آنحضور ص نے انہیں تاکید کی کہ وہ حضرت عیسی ع کے قاصدوں کی مانند عمل نہ کریں بلکہ ایمان کامل اور مکمل طور پر اطاعت کا مظاہرہ کریں۔ 

(بشکریہ اسلام ٹائمز)

مادری زبان

 

مادری زبان

 

حمزہ بابا (رح)  نے فرمایا:

 

((یہ غالبا‏ 1915 کا زمانہ تھا اور مجھے پرائمری سکول لنڈی کوتل میں داخل کرادیا گیا اور میں اول جماعت میں پڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔ اب میں تختی پر الف، بے۔۔دال لکھنے لگا تھا اور پڑھائی کیلئے شوق بھی محسوس کر رہا تھا لیکن  شو مئ قسمت سے ایک دن میرے دل میں کیا امنگ اٹھی کہ پٹی کی بجائے تختی پر انسانوں کے خاکے کھینچ دیئے اور جی ہی جی میں بڑا خوش ہوا کہ ماسٹر صاحب اسے ملاحظہ فرماکر خوب داد دینگے۔ مگر جب میں نے تختی ماسٹر صاحب کو دکھائی تو اس نے غصہ ہوکر کہا نا معقول یہ تم نے کیا حرکت کی ہے؟ اور ساتھ ہی اپنا بید اٹھا کر بے دردی سے پیٹنے لگے۔ اس ناگھانی آفت سے گھبراکر بھاگنے لگا تو ماسٹر نے پکڑ  لیا اور بے دریغ بید برسانے لگے۔میری چیخیں نکل گئیں۔ ہمارے ایک عزیز جن کا نام گل زئے تھا (جو جہاد کشمیر میں شہید ہوا) اور چوتھی جماعت کا ‌طالب علم تھا دوڑ کر آیا ماسٹر صاحب سے بید چھین لیا اور اسے ایک دھکہ دیکر گرادیا اور کہا بد بخت یہ کیا کرتے ہو کیا بچے کو مار ڈالوگے؟ اور اس کے بعد ہوا یہ کہ مجھے تعلیم سے شدید نفرت ہوگئ۔ میں بھائی کے خوف کی وجہ سے بستہ لیکر گھر سے ضرور نکل آتا مگر قلعے کی دیوار کے پاس ہی شمالی برج کے ان بے شمار ٹینوں کے اندر چھپا بیٹھا رہتا جو ایک سکھ مجذوب وہاں اکٹھا کر گیا تھا اور یا برج سے ملحق سید امیر شاہ بادشاہ کے مزار پر بیٹھا رہتا مگر یازیادہ تر اپنی والدہ کی قبر سے چمٹا رہتا۔۔۔۔چنانچہ جب سکول میں چھٹی ہو جاتی تو میں بھی گھر واپس آجاتا مگر میری مسلسل غیر حاضری رنگ لے آئی، میرے والد اور بھائی سے شکایت کی گئ کہ بچہ کئ روز سے غیر حاضر ہے چنانچہ بڑے بھائی نے مجھ سے کان پکڑوائے اوپر سے چند  چپٹ بھی رسید کرتے گئے مگر ساتھ ہی ساتھ ان کے آنسو بھی نکلتے رہے۔ اور پھر صلاح یہ ٹھہری کہ مجھے اسلامیہ کالجیٹ سکول پشاور میں داخل کرادیا جائے۔۔۔ یہ غالبا 1917 کا واقعہ ہےاور مجھے دوسری جماعت میں داخلہ دے دیا گیا اور تھرڈ ہاسٹل میں رکھا گیا۔۔۔۔۔تعلیم سے دل بالکل اچاٹ ہوگیا تھا، جب مدرسے کی گھنٹی بجتی تو مجھے صور اسرافیلی معلوم ہوتی۔ اگر پرائمری سکول لنڈی کوتل کے استاد کچھ تربیت یافتہ ہوتے تو وہ آسانی کے ساتھ میرے فطری رجحان کو سمجھ لیتے اور تختی پر انسانی خاکو کے بنانے کی وجہ سےسزا نہ دیتے بلکہ سمجھ لیتے کہ فطرتا فنون لطیفہ کی طرف میلان رکھتا ہوں۔ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ہمیں تعلیم اردو میں دی جاتی تھی، اس وقت پشتو کو نصاب میں (بھی) داخل نہیں دیا گیا تھا گو اب تک بھی اسے باقاعدگی سے ذریعہ تعلیم نہیں بننےدیا گیا۔ چنانچہ چند سال پیشتر جب انگلینڈ کا ایک اخبار نویس کسی قبا‎ئیلی پشتون سے انٹرویو لینے پشاور  ایا تو ٹرائبل پبلسٹی والے اسے میرے پاس لے آئے۔ چند سوالات پوچھنے کے بعد اس نے پوچھا: ‏ۖآپ نے کتنی کتابیں لکھی ہیں؟ میں نے تعداد بتادی۔ پوچھا: فروخت کتنی ہوئیں ہیں؟ میں نے جوابا کہا کہ ایک فیصد یا ایک فیصد بھی نہیں۔ متعجب ہوکر کہنے لگا: یہ کیوں؟ میں نے جواب دیا: یہ آپ کی قوم کی مہربانی ہے۔ہنس کر پوچھا: کیونکر؟ میں نے کہا: آپ انگریزوں نے جس طرح پشتون قوم کو مختلف دھڑوں میں تقسیم کردیا ہے، ان کی زبان پشتو کو بھی نصاب میں نہ آنے دیا، اب پشتو کتابیں خریدے تو کون، کیونکہ پشتو پڑھنے والے نہیں ملتے۔ کہنے لگا: بھائی اس وقت ہم انگریںزوں کے لئے ایسا کرنا ضروری تھا۔۔۔۔۔دوران گفتگو اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر یورپ میں کوئی یہ بات سن لے کہ پشتون قوم کو مادری زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں تعلیم دی جاتی ہے تو متعجب ہوکر ماننے سے انکار کردیگا۔ اور آج اقوام متحدہ کے منشور میں بھی یہ دفعہ موجود ہے کہ بچے کو اس کی مادری زبان میں تعلیم دلانی چاہیے۔ اور نفسیاتی نقطہ نظر سے اگر دیکھا جائےتو کسی قوم کو تباہ کرنے کیلئے صرف یہی ایک ہتھیار کافی ہےکہ ان کے بچوں کو اجنبی زبان میں تعلیم دلائی جائےکیونکہ چار پانچ سال کی عمر کے بچے کے ذہن کا سانچہ اپنی مادری زبان سے تعمیر ہوتا ہےاور جب ان پر اجنبی زبان کے الفاظ آتے ہیں تو بچے کو نامانوس لگتے ہیں، پھر بچے کے لئے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اجنبی الفاظ کے معنی بھی یاد کرلے اور اس سے بچے کے
ذہن میں تصادم شروع ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں یا تو بچہ تعلیم ہی سےنفرت کرنے لگتا ہےاور (یا) اگر اجنبی زبان میں تعلیم حاصل کرلی تو اپنی قوم اور قومی روایات سے نفرت کرنے لگ جاتا ہے، اور یہی حالت برصغیر کے لوگوں کی ہے، انگریزوں کو یہاں سے گئے تیس برس ہونے کو ہے(یہ بات بابا نے غالبا 1976 کے وسط میں لکھی ہے) مگر  مغربی تھذیب روز افزوں ترقی کر رہی ہےکیونکہ انگریزی ہی مسلسل طور پر ذریعہ تعلیم رہتی ہے۔))

                                                                                                                     ( اردو  ترجمہ(( نقش حیات))،  تصنیف حمزہ بابا   سے اقتباس)

نائين اليون کے بعد اسلام قبول کرنے والي

 

نائين اليون کے بعد اسلام قبول کرنے والي

 

امريکي خاتون

 

 

الزبتھ ٹورس کا اسلامي تعليمات ميں دلچسپي لينا ايک غير متوقع صورتحال ہے-  گيارہ ستمبر 2001ء کے حملوں ميں ان کے خاندان کے آٹھ افراد ہلاک ہوئے جو ورلڈ ٹريڈ سينٹر ميں کام کرتے تھے- بعد ميں ان حملوں کي ذمہ داري القاعدہ نے قبول کي تھي-

ٹورس کا کہنا ہے کہ وہ بہت عرصے تک روحاني سکون کي تلاش ميں تھيں، جو انہيں  چند برسوں کے بعد مراکش ميں ملا- اور انہوں  نے اسلام قبول کيا اور انہوں نے خود سے 22 سال  کم عمر  ايک مصري شخص سے شادي کي، جس کے بعد وہ الزبتھ ٹورس سے صفيہ ال کسبي بن گئيں-

وہ کہتي ہيں کہ مذہب آپ کو تباہي پھيلانے کي ترغيب نہيں ديتا- جن لوگوں (القاعدہ )  نے يہ حملے کيے انہيں (صہیونیسٹوں نے) استعمال کيا گيا تھا-

صفيہ دو سال تک امريکي رياست فلوريڈا کے علاقے ٹمپا کي سب سے بڑي مسجد ميں بطور  بزنس منيجر  کام کرتي رہيں- جہاں صفيہ کے مطابق وہ لوگوں کو  قرآني تعليمات اور مروجہ رسوم و رواج ميں پائے جانے والے فرق سے آگاہ  کرتي رہيں- ليکن اس کا نتيجہ  ان کي برطرفي کي شکل ميں نکلا-

وہ کہتي ہيں کہ جب ايک کام روزمرہ بنياد پر کيا جائے تو اسے مذہب کا حصہ سمجھ ليا جاتا ہے- جبکہ حقيقت يہ نہيں ہے- اسلام کسي کو نہيں کہتا کہ جاؤ اپني بيوي پر ہاتھ اٹھاؤ-

 اسلام قبول کرنے کے بعد صفيہ کو اپنے خاندان کي جانب سے بھي مخالفت کا سامنا کرنا پڑا- ان کي سب سے بڑي بيٹي سيلويا جو ايک فوجي کي بيوہ ہے  ان سے بات نہيں کرتي جبکہ انکي سولہ سالہ بيٹي نتاليا کو  اپنے دوستوں کي جانب سے حوصلہ شکن رويے برداشت کرنے پڑے-

غيرمسلموں  کي جانب سے ہراساں کيے جانے کے کئي واقعات کے بعد وہ ہراساں بھي رہيں - صفيہ تسليم کرتي ہيں کہ وہ  غير روايتي مسلمان ہيں مگر  اسلام کا راستہ انہوں نے  اپني مرضي سے منتخب کيا ہے اور وہ اپنے مذہب  کي پيروي کرتي رہيں گي- گيارہ ستمبر کے واقعات کے ليے وہ اسلام کي بجائے چند انسانوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتي ہيں-

 

 

 

قطرمسلمانوں کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کا جاسوسی اڈہ بن گیا ہے

 

قطرمسلمانوں کے خلاف امریکہ اور

 

اسرائیل کا جاسوسی اڈہ بن گیا ہے

 

مہر خبررساں ایجنسی نے نہرین نیٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ قطر مسلمانوں کے خلاف امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔ عرب سائٹ کے مطابق قطر میں طالبان کا سیاسی دفتر کھولنے کے لئے امریکہ نے قطر کو سبز چراغ دکھا دیا ہے۔ قطر شام کے مخالفین کی حمایت کررہا ہے قطر نے دارفور میں بھی حکومت مخالفین کی حمایت کی۔ قطر صومالیہ میں بھی حکومت مخالفین کی حمایت کررہا ہے۔ قطر عراق میں بھی ایک دہشت گرد گروپ کی حمایت کررہا ہے۔ قطر شیعہ اور سنیوں میں اختلاف ڈالنے کے لئے امریکہ اور برطانیہ کے ساتھ بھر پور تعاون کررہا ہے۔

 

شیخ سعدی کی حکایت

 

شیخ سعدی کی حکایت

 

وزراء میں سے ایک کا بیٹا کم عقل تھا ۔ اس نے اسے علماء میں سے ایک کے پاس بھیجا کہ اس کی تربیت کرو تاکہ وہ عقلمند ہو جاۓ ۔ ایک عرصہ اس کو تعلیم دی لیکن کوئی اثر نہ ہوا ۔ اس نے اس کے باپ کے پاس کسی کوبھیجا کہ یہ تو عقل مند نہیں ہوتا اور اس نے مجھے دیوانہ کر دیا ہے ۔ وزیر نے پوچھا کیوں؟  عالم نے جواب دیا:

٭  جب کسی کی ذات بنیادی طور پر باصلاحیّت ہو اس پر تربیت اثر کرتی ہے  ۔

٭ کوئی بھی چمکانے والی چیز بد خاصیت لوہے کو اچھا نہیں بنا سکتی ۔

٭ اگر تو کتے کو سات سمندروں کے پانی سے دھو لے تو جب وہ گیلا ہو گا ، زیادہ پلید ہو گا ۔

٭ حضرت عیسی کے گدھے کو اگر مکے لے جائیں ، جب وہ واپس آ ۓ گا  گدھا ہی ہو گا ۔

پاکستان میں ۹۰۰ سالہ قدیمی قرآنی نسخے کی دریافت

 

پاکستان میں ۹۰۰ سالہ قدیمی قرآنی نسخے کی

دریافت

بین الاقوامی: پاکستان کے آثار قدیمہ کے ایک ماہر شخص نے پاکستان کے شہر جہلم میں ۹۰۰ سالہ قدیمی قرآن مجید کا قلمی نسخہ کشف کیا ہے.

خبر رساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آثار قدیمہ کے ماہر غلام اکبر مالک نے اس ملک کے شہر جہلم میں ۱۲ ویں صدی عیسوی سے متعلق قرآن مجید کا ایک قلمی نسخہ دریافت کیا ہے.

غلام اکبر مالک نے کہا ہے کہ یہ قرآنی نسخہ شہر جہلم کے پہاڑی علاقے میں ایک بوڑھے شخص نے مجھے ھدیے کے طور پر دیا ہے.

یہ قرآنی نسخہ ۹۰۰ سال قدیمی ہے، قرآن مجید کے اس نسخے کو سراج الدین ابو طاھر محمد بن محمد بن عبد الرشید نے ۱۲ ویں صدی عیسوی میں اپنے قلم سے لکھا ہے.

انھوں نے مزید کہا: قرآن مجید کا یہ نسخہ ۱۲۰۰ صفحات پر مشتمل ہے اور اس کا وزن ۵ کلو گرام ہے.

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای سید حسن نصر اللہ کی نظر میں

 

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

سید حسن نصر اللہ کی نظر میں

                               

"جدت و اجتہاد امام خامنہ ای کی نظر میں" کے زیر عنوان ایک کانفرنس کا انعقاد بیروت میں ہوا۔ اس کانفرنس میں حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی الحسینی الخامنہ ای کی شخصیت کے علمی اور اجتہادی پہلوؤوں کا جائزہ لیا گیا۔ کانفرنس میں مختلف ممالک سے آئے ہوئے علماء، دانشوروں اور صاحب رائے شخصیات نے شرکت کی۔ حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل اور اسلامی مزاحمت تحریک کے قائد سید حسن نصر اللہ نے اپنے خطاب سے اس کانفرنس کا افتتاح کیا۔ یہاں ہم سید حسن نصر اللہ کے خطاب کا تلخیض شدہ متن قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔

أعوذ بالله من الشيطان الرجيم

بسم الله الرحمن الرحيم

و الحمد للہ رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا ونبينا شفيع ذنوبنا وحبيب قلوبنا ابی القاسم محمد بن عبد اللہ وعلى آلہ الطيبين الطاهرين وصحبہ الأخيار المنتجبين وعلى جميع الأنبياء والمرسلين.

محترم علماء، محترم نمایندگان، بھائیو اور بہنو! السلام عليكم جميعاً ورحمة اللہ وبركاتہ۔

یہ کانفرنس اہم قدم اور پہلی فکری اور علمی کانفرنس ہے جو امام خامنہ دام ظلہ العالی کے افکار اور شخصیت کے مختلف پہلوؤوں کا جائزہ لینے کے لئے بیرون ملک منعقد ہوئی ہے۔ میں ابتداء میں اس کانفرنس کے مہتممین اور تمام حاضرین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ابتدائی شناساسائی

میں نے پہلی بار 1986 میں امام خامنہ ای کو ذاتی طور پر براہ راست پہچانا۔ اسی زمانے میں، میں ان کے نظریات، فکری اصولوں، تجزیاتی روش، مختلف واقعات پر ان کی نگاہ، قیادت اور معاملات کے انتظام و انصرام کی روش نیز ان کی اخلاقی خصوصیات سے واقف ہوا۔

میں ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں سے حاصل کی ہوئی آگہی کے پیش نظر اطمینان سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمین قیادت، تقوی، فقہ اور اجتہاد کے میدان میں ایک عظیم امام و رہبر کا سامنا ہے؛ ایک ایسے رہبر جو ثابت و مستحکم فکری اصولوں کی بنیاد پر ہمہ جہت، عمیق اور متین نظریئے کے مالک ہیں؛ انہیں مشکلات اور احتیاجات سے پوری آگہی حاصل ہے؛ امکانات اور وسائل سے پوری طرح آگاہ ہیں، اصولوں اور مبانی کے مطابق اور ان اصولوں سے ہماہنگ راہ حل کو بخوبی جانتے ہیں، اسی بنا پر تمام واقعات، تبدیلیوں اور موضوعات کا روشن اور گہری نگاہ سے سامنا کرتے ہیں اور جب بھی عوام کے مختلف طبقات سے ملاقات کرتے ہیں آپ ایک ایسے امام و رہبر کا سامنا کرتے ہیں جو ہر موضوع سے واقف ہیں اور تمام معاملات کے جزئیات و تفصیلات سے آگہی رکھتے ہیں اور تمام امور کے بارے میں ماہرانہ رائے دیتے ہیں۔ہمیں ایک ایسے عظیم اور بے مثل شخصیت کا سامنا ہے جن کے بارے میں امت کے درمیان بہت سے لوگ کچھ بھی نہیں جانتے اور بہت کم ہی لوگ ایسے ہیں جو ان کی شخصیت سے آگہی رکھتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ امام فقط امت میں ہی نہیں بلکہ ایران میں بھی کتنے مظلوم ہیں۔ حتی کہ وہ اپنے آشکار ترین پہلو یعنی قیادت اور سیاست میں بھی مظلوم واقع ہوئے ہیں۔ آپ کو ایسی شخصیت کا سامنا ہے کہ عالمی سطح پر دشمنوں نے ان کا محاصرہ کررکھا ہے اور دوست بھی اس طرح سے ان کا حق ادا نہیں کرتے جس طرح کہ یہ حق ادا کرنے کا حق ہے۔

ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ اس امام عظیم کو امت میں متعارف کرائیں اور امت کو ان کی معرفت دیں تاکہ امت کے تمام افراد اس عظیم قائد و فقیہ و مفکر کی برکتوں سے حال اور مستقبل میں اور دنیا و آخرت میں فیض اٹھائیں اور ہماری ذمہ داری ایسے حال میں ہے کہ امت اسلامی کو عالمی سطح پر ایسے مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے جو گذشتہ عشروں اور صدیوں میں مسلمانوں کو درپیش نہ تھے اور اس کانفرنس کی ذمہ داری بہت اہم اور حساس ہے۔

میڈرڈ کانفرنس

1991 میں میڈرڈ کانفرنس کے دوران ـ اس مرحلے پر جب عالمی قواعد میں تبدیلی آئی ـ علاقے اور دنیا میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ امریکی حکومت نے اعلان کیا کہ [صہیونی ریاست کے حوالے سے] سازباز کا سلسلہ مکمل کیا جائے گا۔ اس زمانے میں بہت سوں کا خیال تھا کہ ہم عنقریب ساز باز کرنے والے ہیں اور یہ بات عمومی تصور میں تبدیل ہوگئی کہ امریکی سازباز کا یہ منصوبہ سب پر ٹھونس دیں گے۔ ان حالات میں [صرف] امام خامنہ ای کی رائے مختلف تھی اور ان کی رائے اس علاقائی اجماع سے باہر تھی۔ ان حالات میں انھوں نے کہا کہ میڈرڈ کانفرنس نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگی اور امریکہ ساز باز کے اس منصوبے کو ٹھونس نہیں سکے گا۔ آج 20 سال گذرنے کے بعد اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے افراد سے سن رہے ہیں کہ: ہم 1991 کی ساز باز کے دو عشروں سے ذلت و ناامیدی اور گمراہی سے دوچار تھے۔

اسحاق رابین کا وعدہ

ہم سب کو 1996 میں شام اور اسرائیل کے درمیان مذاکرت کی بڑی پیشرفت یاد ہے۔ وہ پیشرفت "اسحاق رابین کا وعدہ" کہلائی جس میں رابین نے وعدہ دیا تہا کہ اسرائیل 4 جون 1967 کی چوتھی لائن تک پسپا ہوگا اور جولان کی پہاڑیاں شام کو واگذار کردے گا۔ اس وقت ہمارے علاقے میں یہ تصور ابھرا کہ سازباز حتمی ہے اور علاقائی چپقلش اپنے انجام تک پہنچی ہے بس صرف بعض جزئیات طے ہونا باقی ہیں چنانچہ بعض لوگوں نے ہم سے کہا:  "اپنے آپ کو مزید مت تھکاؤ"۔ ایسی صورت حال میں لوگ ہمیں مزاحمت ترک کرنے کی دعوت دے رہے تھے کہ مزاحمت ترقی اور پیشرفت کی راہ پر گامزن تھی اور وہ ہم سے کہتے تھے کہ "مسئلہ ختم ہوگیا ہے اور تمہیں مزید قربانیاں دینے کی ضرورت نہیں ہے"۔ بعض حضرات نے ہم سے یہاں تک بھی کہہ دیا کہ "اپنے حالات کو اس حتمی ساز باز کے مطابق مرتب کرو"۔ حتی کہ بعض لوگوں نے ہم سے کہا کہ "ہم ایک مزاحمت تحریک کے عنوان سے نہ صرف اپنی ماہیت کو تبدیل کردیں بلکہ اپنے تنظیمی ڈھانچے اور سیاسی پروگراموں میں بھی تبدیلی کا انتظام کرلیں اور اپنے پروگراموں پر نظر ثانی کریں"۔  مگر ان ہی حالات میں امام خامنہ ای نے بڑے واضح الفاظ میں ہم سے فرمایا کہ "ان کی رائے یہ نہیں ہے کہ یہ مسئلہ کسی نتیجے پر پہنچ سکے گا اور یہ کہ شام اور لبنان اور نتیجتاً اسرائیل اور لبنان کے درمیان ساز باز عملی صورت اختیار نہیں کرے گی"۔ امام خامنہ ای نے فرمایا: "میری تجویز یہ ہے کہ اپنی مزاحمت اور جہاد کو جاری رکھیں بلکہ جہاد و مزاحمت کے سلسلے کو شدت بخشیں حتی کہ کامیابی کی چوٹیاں سر کرسکیں اور اس قسم کے فرضیات اور احتمالات اور دعوؤں کو توجہ نہ دیں"۔

ہم لبنان لوٹ کر آئے تو دیکھا کہ اسحاق رابین ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایک صہیونی کے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگیا اور شیمون پیرز اس کی جگہ برسر اقتدار آیا۔  ان حالات میں فلسطین کی تحریک حماس اور خاص طور پر جہاد اسلامی کو بہت سخت قسم کے نقصانات اٹھانا پڑے اور بات یہاں تک پہنچے کہ بعض لوگوں نے رائے قائم کی کہ "فلسطین میں مزاحمت کی تحریکیں مزید کسی بھی کاروائی کی قدرت نہیں رکھتیں لیکن اس کے فوراً بعد قدس شہر اور تل ابیب میں استشہادی کاروائیوں نے صہیونی ریاست کو لرزہ براندام کردیا۔ اس کے بعد جنوبی لبنان کے حالات تناؤ کا شکار ہوئے اور شرم الشیخ کا اجلاس منعقد ہوا اور دنیا کے بہت سے ممالک کے سربراہان اسرائیل کی حمایت اور بقول ان کے دہشت گردی کی مذمت کرنے کے لئے مصر کے شہر شرم الشیخ میں اکٹھے ہوئے اور انھوں نے واضح طور پر حماس، جہاد اسلامی اور حزب اللہ کا نام لیا اور بقول ان کے ان دہشت گرد تنظیموں کی ناکہ بندی کے لئے انھوں نے فیصلے بھی کئے جس کے بعد اپریل 1996 میں "غضب کی خوشی عناقيد الغضب" نامی آپریشنز ہوئے جس کے بعد بنیامین نتنیاہو اقتدار میں لوٹ آیا اور ساز باز کا سلسلہ پہلی والی بند گلی پر ہی منتج ہوا۔

اسرائیل کی پسپائی کا واقعہ

امام خامنہ ای مزاحمت تحریک کی کامیابیوں کی پیشین گوئی کرتے رہتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ وہ ان کامیابیوں پر یقین کامل رکھتے ہیں اور اس یقین کی جڑیں اعتقادات میں پیوست ہیں۔ 1996 کے بعد آپ مسلسل فرمایا کرتے تھے کہ اسرائیل کیچڑ کے دلدل میں پھنس گیا ہے اور نہ وہ آگے کی طرف پیشقدمی کرکے لبنان پر دوبارہ قبضہ کرسکتا ہے، نہ ہی پسپا ہوسکتا ہے اور نہ ہی اپنی جگہ ٹہر سکتا ہے؛ لہذا ہمیں انتظار کرنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ ہوتا کیا ہے؛ تاہم یہ مسئلہ مزاحمت تحریک کی کارکردگی پر منحصر ہے۔ 1999 کے آخر میں اسرائیل میں وزارت عظمی کے انتخابات ہوئے اور مقابلہ نتنیاہو اور ایہود باراک کے درمیان تھا۔ باراک نے اعلان کیا کہ اسرائیل جولائی (2000) میں لبنان سے پسپا ہوجائے گا اور لبنان اور شام میں سمجھا جارہا تھا کہ یہ تاریخ بھی گذر جائے گی اور اسرائیل پھر بھی پسپائی اختیار نہیں کرے گا۔ باراک نے کوشش کی کہ لبنان سے پسپائی کے عوض لبنان کی حکومت یا شام کے حافظ الاسد سے بعض مراعات اور بعض ضمانتیں حاصل کرے لیکن ناکام ہوگیا۔ چنانچہ یہ خیال تقویت پاگیا کہ وہ لبنان کے جنوبی علاقوں سے پسپا نہ ہوگا اور جولائی میں جب وعدے پر عمل کرنے کا وقت آئے گا تو وہ کہے گا کہ اسرائیل نے شام اور لبنان سے بعض ضمانتیں مانگی تھیں لیکن اسے یہ ضمانتیں نہیں ملیں چنانچہ پسپائی ممکن نہیں ہے۔ ہم مزاحمت تحریک کے اندر بھی اسی نتیجے پر پہنچے تھے کہ اسرائیل پسپا نہیں ہوگا۔ اسی صورت حال میں ہم نے امام خامنہ ای سے ملاقات کی اور ہم نے اپنی رائے بیان کی لیکن ان کی رائے مختلف تھی اور انھوں نے فرمایا: لبنان میں آپ لوگوں کی فتح بہت نزدیک ہے اور یہ کامیابی آپ کے تصورات سے بھی بہت قریب تر ہے۔ ان کی یہ بات تجزیات اور موجودہ حقائق سے بالکل مختلف تھی اور ہماری اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے پسپائی کے لئے کوئی بھی اقدام نہیں کیا تھا۔ لیکن انھوں نے ہم سے فرمایا کہ: اس کامیابی کے لئے تیاری کریں اور ابھی سے اسرائیلی پسپائی کے بعد کے لئے اپنے موقف کا تعین کریں؛ چنانچہ ہمارے لئے یہ ایک غیرمتوقعہ بات نہیں تھی اور ہمیں بالکل حیرت نہیں ہوئی بلکہ پوری طرح تیار تھے۔ اور ہم نے دیکھا کہ اسرائیل جولائی 2000 میں جنوبی لبنان کے اکثر علاقوں سے پسپا ہوگیا۔

امام خامنہ ای کو یقین ہے کہ جو کچھ ساز باز کے مذاکرات میں رونما ہورہاہے اور جوکچھ مزاحمت کی (لبنانی اور فلسطینی) تحریکوں کے حوالے سے دیکھا جارہا ہے وہ اس حقیقت کا نقیب ہے کہ ہمیں آج فلسطین کی نئی نسلوں کا سامنا ہے جو گذشتہ زمانوں سے کہیں زیادہ اپنی سرزمین میں لوٹنے کے لئے بے چین ہیں اور انہیں یقین کامل ہے کہ ایک دن ضرور آئے گا جب وہ اپنی سرزمین میں لوٹ کر جائیں گے۔

33 روزہ جنگ

33 روزہ جنگ میں ـ جو ایک عالمی جنگ تھی اور اس کا فیصلہ بین الاقوامی سطح پر ہوا تھا اور بعض عرب فریقوں نے بھی اس کی حمایت کی اور اسرائیل نے اس فیصلے پر عملدرآمد کیا اور اس جنگ کا عنوان بھی "لبنان میں مزاحمت تحریک کی نابودی" رکھا گیا تھا اور آپ سب نے اس جنگ میں اسرائیل کی شدت اور درندگی کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ان حالات میں ـ کامیابی اور فتح کے بارے میں بات کرنا ہی نہیں، حتی اس جنگ سے صحیح و سالم بچ نکلنے کے بارے میں بات کرنا دیوانگی سے مشابہت رکھتا تھا کیونکہ لبنان کی تحریک مزاحمت کے پاس معینہ مقدار میں وسائل تھے اور لبنان ایک چھوٹے ملک کی حیثیت سے ایسی صورت حال سے دوچار تھا پوری دنیا اس کے خلاف سازش کررہی تھی اور اس کے خلاف اس وحشیانہ جنگ کا آغاز کرچکی تھی۔ ان حالات میں بیروت کے جنوب میں مجھے امام خامنہ ای کا ایک دستی پیغام موصول ہوا؛ جبکہ بیروت کے جنوبی علاقے "ضاحیہ" کی عمارتیں صہیونیوں کی بمباری کے نتیجے میں یکے بعد دیگرے منہدم ہورہی تھیں۔ یہ پیغام کئی صفحات پر مشتمل تھا تا ہم میں اس پیغام کے بعض اقتباسات آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں۔

امام خامنہ ای نے اس پیغام میں تحریر فرمایا تھا: "میرے بھائیو! یہ جنگ، غزوہ خندق (جنگ احزاب) کی مانند ہے جب قریش، مدینہ کے یہودی اور تمام قبائل اور عشائر اکٹھے ہوگئے اور اپنی پوری قوت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا محاصرہ کرلیا۔ انھوں نے فیصلہ کیا تھا کہ اسلام اور مؤمنوں کے گروہ کی بیخ کنی کریں۔ یہ جنگ بھی اسی جنگ کی مانند ہے، لوگ جان بلب ہوجائیں گے لیکن اللہ پر توکل کرو اور میں تم سے کہتا ہوں کہ تم ضرور کامیاب ہوجاؤگے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کہتا ہوں کہ ایسی قوت میں تبدیل ہوجاؤگے کہ کوئی بھی طاقت تمہاری قوت کے مقابل میں نہیں ڈٹ سکے گی"۔

حقیقتاً ان حالات میں، خاص طور پر جنگ کے ابتدائی ایام میں کون ایسی پیشین گوئی کرسکتا تھا یا اس نتیجے پر پہنچ سکتا تھا؟۔

11 ستمبر کے واقعے کے بارے میں امام خامنہ ای کی رائے

ہم نے 11 ستمبر کے واقعے کے بعد دیکھا کہ کس طرح سب لرزہ براندام ہوگئے اور بہت سوں کا خیال تھا کہ ہمارا خطہ امریکی دور میں داخل ہوگیا ہے اور امریکہ کے براہ راست تسلط میں چلاگیا ہے اور یہ امریکی تسلط ایک صدی یا دو صدیوں تک جاری رہے گا اور بعض لوگوں نے اس صورت حال کو صلیبی جنگ سے تشبیہ دی۔ میں ایران گیا تھا اور امام خامنہ ای کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کی رائے پوچھی۔انھوں نے علاقے میں رائج تصورات کے برعکس اظہار خیال کیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت علاقے کی بہت سی حکومتیں اور سیاسی جماعتیں امریکی تسلط کے خیال کے سائے میں اپنی صورت حال اور مقدرات کا جائزہ لے رہی تھیں اور حتی ایران میں بعض سرکاری حکام آکر کہہ رہے تھے کہ نئے حقائق یہ ہیں اور انہیں بھی امریکہ کے ساتھ مصالحت کرنی چاہئے۔ لیکن امام خامنہ ای نے اپنی صائب اسٹریٹجک نگاہ کی رو سے مجھ سے فرمایا کہ فکرمندی اور تشویش کی کوئی بات نہیں ہے؛ امریکہ اپنی انتہائی ترقی کی چوٹیاں سرکرچکا ہے اور اس کے بعد ہم اس کے زوال اور سقوط کا مشاہدہ کریں گے اور افغانستان اور عراق میں امریکیوں کے آنے کے بعد امریکہ زوال کے ڈھلوان پر واقع ہوا ہے اور اس کا زوال شروع ہوگیا ہے؛ وہ ایک کٹاؤ اور گہری کھائی کی طرف بڑھ رہا ہے اور یہ امریکہ کے انجام اور علاقے میں اس کے مفادات اور اہداف کا اختتام ہے اور آپ بھی اسی بنیاد پر عمل کریں"۔ انھوں نے فرمایا: "اب جبکہ امریکہ موجودہ حکومتوں کے توسط سے اور اپنی افواج اور بحری بیڑوں کی مدد سے علاقے میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنے سے عاجز ہے اور وہ تمام بحری بیڑے اس علاقے میں لانے پر مجبور ہوگیا ہے، یہ اس کی کمزوری کی علامت ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطے کے حکمران اپنے عوام کے رجحانات اور جذبات و آراء سے کی نسبت جاہل ہیں کیونکہ ان کے عوام جہاد اور مزاحمت کی ثقافت و تعلیمات سے وابستہ ہیں اسی بنا پر جو کچھ رونما ہورہا ہے وہ تشویش کا باعث نہیں ہے بلکہ امید کا باعث ہے"۔

میں یہان یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ امت اسلامی گذشتہ 10 برسوں کے دوران اپنی تاریخ کی دشوار ترین جنگ سے دوچار تھی اور امریکہ اور اس کے حلیف اپنے تمامتر وسائل کو بروئے کار لائے اور علاقے پر تسلط جمانے اور پائیدار اور مستحکم حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لئے میدان میں آئے اور امام خامنہ ای اس مدت میں رونما ہونے والی تاریخ کی دشوار ترین جنگ کے قائد تھے جس کے لئے بہت زیادہ حکمت، عقل، شجاعت، اور تفکر کی ضرورت تھی اور ابھی تک اس عظیم جنگ کے بہت سے پہلوؤں کو فاش نہیں کیا جاسکتا۔

اسرائیل کی نابودی عنقریب

امام خامنہ ای کا عقیدہ اور یقین ہے کہ اسرائیل روبہ زوال ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس ریاست کی نابودی بہت دور نہیں ہے بلکہ وہ اس نابودی کو بہت قریب سمجھتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ ساز باز کے جاری سلسلے کا کوئی بھی نتیجہ نہیں ہے اور جو کچھ ساز باز کے مذاکرات میں رونما ہورہاہے اور جوکچھ مزاحمت کی (لبنانی اور فلسطینی) تحریکوں کے حوالے سے دیکھا جارہا ہے وہ اس حقیقت کا نقیب ہے کہ ہمیں آج فلسطین کی نئی نسلوں کا سامنا ہے جو گذشتہ زمانوں سے کہیں زیادہ اپنی سرزمین میں لوٹنے کے لئے بے چین ہیں اور انہیں یقین کامل ہے کہ ایک دن ضرور آئے گا جب وہ اپنی سرزمین میں لوٹ کر جائیں گے۔ جو کچھ امام خامنہ ای اسرائیل کے بارے میں فرما رہے ہیں اس کی حقیقت کو ہم امریکہ کی پسپائیوں، مزاحمت کے ثمرات، جولائی (2006) کی (33 روزہ) جنگ اور غزہ کی (22 روزہ) جنگ دیکھ رہے ہیں اور یہ دیکھ کر ہم اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ اسرائیل ان شاء اللہ مستقبل قریب میں روبہ زوال ہے اور یہ بات بالکل درست اور ایک شجاع اور دلیر قائد کی طرف سے حقائق کے صحیح ادراک پر مبنی ہے۔

 

تزكيہ نفس

تزكيہ نفس

قسط نمبر 8

 

 

آيت اللہ ابراہيم اميني

ترجمہ :مرحوم علامہ شيخ اختر عباس

 

 2 - عمل سے پہلے فكر كرنا: عقل كے قوى كرنے ميں ہميں كوشش كرنى چاہئے كہ  كسى كام كے انجام دينے سے پہلے سوچنا چاہئے اور اس كام كے نتائج اور آثار اور دنياوى و اخروى اثرات كو خوب ديكھناچاہئے اور يہ عہد كرليں كہ كسى كام كو بھى اس كى عاقبت انديشى سے پہلے انجام نہ ديں تا كہ آہستہ آہستہ سوچنے اور تفكر كے ذريعے اپنى روح كو آگاہ كيا كريں_

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں كہ '' تفكر انسان كو اچھے كاموں اور ان پر عمل كرنے كى دعوت ديتا ہے_(125) نيز حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں كہ '' كام كرنے سے پہلے انجام كو سوچنا تجھے پشيمانى سے محفوظ كردے گا_(126)

ايك شخص رسول خدا كى خدمت ميں حاضر ہوا اور عرض كى '' يا رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم مجھے كسى كام كى فرمائش كريں''_ آپ(ص) نے فرمايا كہ '' كيا تم ميرے كہنے پر عمل کروگے؟'' اس نے كہا'' ہاں يا رسول اللہ (ص) ''_ اس سے يہ سوال اور آپ كا يہ جواب تين دفعہ رد و بدل ہوا_ اس وقت رسول خدا نے فرمايا كہ '' ميرى فرمائش يہ ہے كہ جب تم كسى كام كو انجام دينا چاہو تو اس كے انجام كے بارے ميں پہلے خوب غور و فكر كرلو اگر اچھا ہو تو اسے بجا لاو اور اگر شك اور اشتباہ ہو تو اسے بجا نہ لاو_(127)

رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا ہے كہ '' جلد بازى لوگوں كو ہلاكت ميں ڈال ديتى ہے اگر لوگ اپنے كاموں ميں تدبر كرتے تو كبھى ہلاك نہ ہوتے_(128)

پيغمبر اسلام نے فرمايا ہے كہ '' انجام كو سوچنا اور جلد بازى نہ كرنا خدا كى طرف سے ہوتا ہے اور جلد بازى كرنا شيطن كى طرف سے _(129)

معصوم كى حديث ميں يوں آيا ہے كہ '' غور و فكر شيشہ كى طرح ہے جو تمہيں اچھائي اور برائي ظاہر كردے گا_(130)

حيوانات اپنے كاموں ميں غرائز اور حيوانى خواہشات كى پيروى كرتے ہيں اور غور اور فكر نہيں ركھتے ليكن انسان چونكہ اس كے پاس عقل ہے لہذا اسے پہلے كاموں ميں غور و فكر كرنا چاہئے اور اسے عاقبت انديش ہونا چاہئے گرچہ انسان بھى وہى حيوانى غرائز اور خواہشات ركھتا ہے اسى وجہ سے جب كسى حيوانى خواہش كا طالب ہوتا ہے تو فورا اس كے بجالانے ميں دوڑتا ہے اور اس كى حيوانى خواہش اور غريزہ اسے غور و فكر كى مہلت نہيں ديتا كہ كہيں عقل اس ميدان ميں نہ آجائے اور اس كى حيوانى خواہش كے لئے سد راہ نہ بن جائے لہذا اگر ہم سے ہو سكے كہ ہم اپنے آپ كو يوں عادت ديں كہ ہر قدم اٹھانے سے پہلے اس ميں خوب غور اور فكر كريں عقل كے راستے كو كھول ديں اور اسے اس ميدان ميں كام كرنے ديں اور جب عقل اس ميدان ميں وارد ہوگا تو وہ اس اقدام كے واقعى مصالح اور مفاسد كو درك كرے گا اور حيوانى خواہش اور تمايلات ميں اعتدال پيدا كرے گا اور ہميں تكامل انسانى كے صراط مستقيم كى راہنمائي كرے گا اور جب عقل طاقت ور ہوگا اور جسم كى مملكت ميں حاكم ہوجائے گا تو پھر وہ انسانيت كے داخلى دشمنوں اور نفسانى بيماريوں سے ہميں آگاہ كردے گا اور اس كے علاج اور روكنے كى طرف متوجہ ہو جائيگا اسى لئے قرآن اور احاديث ميں غور و فكر اور تعقل و تدبر كى بہت زيادہ تاكيد اور سفارش كى گئي ہے_

 

3 - نفس كے بارے ميں بدبيني: اگر انسان اپنے اندر كو ديكھے اور اپنى نفسانى صفات كو انصاف كى نگاہ سے تو لے تو پھر وہ اپنى نفسانى بيماريوں اور عيوب سے آگاہ ہوجائے گا كيونكہ انسان سب سے زيادہ سے زيادہ آگاہ ہے (يعنى اپنے اندر نيكى اور بدى كے وجود كو سب سے زيادہ سمجھتا ہے ليكن عذر لانے كے پردے اپنى بصيرت كى آنكھ پر ڈالنا رہتا ہے_(131) ليكن ہم ميں سب سے مشكل اور مصيبت يہ ہے كہ ہم فيصلے اور حكم دينے ميں غير جانبدار نہيں رہتے بلكہ اكثر اوقات ہم اپنے بارے ميں خوش بين اور خودپسند ہوتے ہيں ہم اپنے آپ كو اور اپنے افعال اور صفات اور گفتار كو اچھا اور بلا عيب سمجھتے ہيں_ انسانى نفس امارہ ہمارے حيوانى كاموں كو ہمارے سامنے ايسا خوشنما بناتا ہے كہ ہم اپنے برے كاموں كو بھى اچھا سمجھنے لگ جاتے ہيں_ قرآن ارشاد فرماتا ہے كہ وہ شخص كہ جس كے كام اس كے سامنے خوشنما بنائے گئے ہيں اور انہيں نيك سمجھتا ہے ( آيا تو نے نہيں ديكھا؟) '' پس خدا جسے چاہتا ہے گمراہ كر ديتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے ہدايت ديتا ہے_(231)

 

اسى لئے ہم اپنے عيبوں كو نہيں ديكھ پاتے تا كہ ان كى اصلاح كى كوشش كريں_ اس مشكل كا حل يہ ہے كہ ہم ہميشہ اپنے نفس پر بد گمان اور بدبين رہيں اور يہ احتمال ديں بلكہ يقين كريں ہم بہت سى برائيوں اور بيماريوں ميں گرفتار ہيں ايسى حالت ميں ہم اپنے نفس كے بارے ميں سوچيں_

امير ا لمومنين عليہ السلام نے متقيوں كے صفات ميں فرمايا ہے كہ '' انكا نفس ان كے نزديك مورد تہمت اور بدگمانى ميں قرار پايا ہے اور وہ اپنے كاموں ميں خوف كھاتے ہيں جب بھى ان ميں سے كوئي كسى كى تعريف كا مورد قرار پاتا ہے تو وہ اپنى تعريف كئے جانے ميں ڈرتے ہيں اور كہتے ہيں كہ ہم اپنے نفس سے زيادہ واقف ہيں اور خدا ہم سے بہت زيادہ آگاہ ہے_(331)

بزرگ موانع ميں سے ايك مانع جو اجازت نہيں ديتا كہ انسان اپنى نفسانى بيماريوں سے آگاہ ہو اور اس كى اصلاح كرے يہى اپنے آپ كو اچھا سمجھتا اور اپنے بارے ميں حسن ظن ركھتا ہوتا ہے اگر يہ مانع دور كرديا جائے اور بطور انصاف اور يہ احتمال ديتے ہوئے كہ ہم ميں عيب موجود ہيں اپنے آپ كو پايا جائے تو اس وقت ہم اپنى بيماريوں كو بھى پہچان ليں گے اور ان كى اصلاح بھى كريں گے_

 

4  - روحانى طبيب كى طرف رجوع: انسان كا اپنے عيبوں كو پہچاننے كے لئے ايك ايسا اخلاق كے عالم كى طرف كہ جس نے اپنے نفس كى تہذيب كر ركھى ہو اور اچھے اخلاق سے متصف ہوچكا ہو رجوع كرنا چاہئے اپنے اندرونى صفات اور احوال كو بطور كامل اس كے سامنے بيان كرنا چاہئے اور اس عالم سے خواہش كرے كہ وہ اس كے نفسانى عيوب اور برے صفات سے اسے آگاہ كرے_ ايك روحانى طبيب جو اسلامي، اخلاقى اور نفسيات كو جانتا ہو اور خودعامل اور مكارم  اخلاق كا پابند ہو وہ تہذيب نفس اور سير و سلوك كے راستے بتلانے كے لئے بہت ہى اہميت ركھتا ہے اور موثر ہوا كرتا ہے اگر انسان اس قسم كا آدمى پيدا كرلے تو اسے خداوند عالم كا اس بزرگ نعمت پر شكريہ ادا كرنا چاہئے ليكن صد افسوس كہ اس قسم كے ادمى بہت كمياب ہيں_ قابل توجہ يہ بات ہے كہ روح كى بيماريوں كى تشخيص كرنا بہت مشكل ہے لہذا بيمار پر فرض ہے كہ اپنى اندرونى صفات اور افعال كو بغير چھپائے روحانى طبيب كے سامنے وضاحت سے بيان كردے تا كہ وہ اس كى بيمارى كى تشخيص كر سكے اور اگر بيمار نے اس بارے ميں روحانى طبيب كى مدد نہ كى اور واقعات كے اظہار ميں پس و پيش كيا تو وہ اس مطلوبہ نتيجہ تك نہيں پہنچ سكے گا_

 

5 - دانا دوست كى طرف رجوع كرنا: اچھا اور دانا اور خير خواہ دوست اللہ تعالى كى ايك بہت بڑى نعمت ہوتا ہے جو تہذيب نفس اور برى صفات كے پہچان كے راستے ميں انسان كى مدد كر سكتا ہے_ بشرطيكہ وہ دانا ہو اور برى اور اچھى صفات كو پہچانتا ہو اس كے علاوہ وہ خير خواہ اور مورد اعتماد بھى ہو اس واسطے كہ اگر وہ اچھى اور برى صفات كو نہ پہچانتا ہو تو وہ اس كے متعلق اس كى مدد نہيں كر سكے گا اور اگر وہ مورد اعتماد اور خير خواہ نہ ہوا تو ممكن ہے كہ وہ دوستى كى حفاظت اور ناراضگى كے مول نہ لينے كيوجہ سے اپنے دوست كے عيب كو چھپا لے بلكہ ممكن ہے كہ وہ خوشامد كرتے ہوئے اس كے عيب كو اس كے سامنے اچھا بيان كرے اور اس عيب پر اس كى تعريف اور تمجيد شروع كردے اگر كوئي اس قسم كا دوست پيدا كرے اور اس سے خواہش كرے كہ جو نقص اور عيب اس ميں ديكھے اسے اس كا تذكرہ كردے تو اسے اس كى ياد دھانى اور تذكر پر اس كى عزت اور قدردانى كرنى چاہئے_ اپنے نفس كى اصلاح كے لئے ايسے دوست سے استفادہ كرنا چاہئے اس كے تذكرات سے استفادہ اور اس كى عزت اور قدردانى پر اسے يہ باور كرائے كہ اس كے عيب بيان كرنے پر نہ صرف اسے برا معلوم نہيں ہوتا بلكہ اس سے وہ خوشحال بھى ہو جاتا ہے_ اس دوست پر كہ جسے خيرخواہ قرار ديا گيا ہے ضرورى ہے كہ وہ بھى اپنے اخلاص اور صداقت كو عملى طور پر ثابت كرے_ بطور انصاف اور بغير محبت اور بغض كے دوست كے صفات كو پركھے اور دقت كرے اور اس بارے جو اس كا نظريہ ہوا سے وہ خيرخواہى اور دوستانہ زبان ميں اسے بتلائے اور جہاں تك ہو سكے يہ اسے تنہائي اور مخفى طور سے بتلائے اور اس كے عيب كو لوگوں كے سامنے اظہار كرنے سے پرہيز كرے اس كى غرض واقع كا بتلانا ہو اور مبالغہ آميزى سے پرہيز كرے كيونكہ وہ اپنے مومن بھائي كے لئے بطور آئينہ ہوتا ہے جو خوبيوں اور اچھائيوں كو بغير كم اور زيادہ كے ظاہر كرتا ہے_ البتہ ايسے مہربان اور اصلاح طلب دوست جو انسان كے عيوب كو اصلاح كے لئے بيان كرديں بہت ہى كمياب ہوتے ہيں_ ليكن اگر كسى كو ايسا دوست مل جائے تو وہ ايك بہت بڑى سعادت پر فائز ہوتا جائيگا اسے اس كى قدر پہچاننى چاہئے اور اس كى ياد دھانيوں پر خوشحال ہونا چاہئے اس كے شكريہ كا اظہار كرے اور اسے متوجہ ہونا چاہئے كہ جو دوست اصلاح كى غرض سے انسان كے عيب كى ياد دھانى كرا رہا ہے اور ياد دھانى سے رنجيدہ خاطر ہو اور اس كے دفاع يا انتقام لينے پر اتر آئے_ اگر كسى نے تجھے بتلايا كہ كئي ايك بچھو تيرے لباس پر موجود ہيں كيا اس كے اس بتلانے سے تو رنجيدہ خاطرہ ہوگا اور اس سے انتقام لينے پر اتر آئے گا اس كے اس كہنے سے خوشحال ہوگا اور اس كى قدردانى كرے گا؟ برے صفات بھى بچھو كى طرح ہوا كرتے ہيں بلكہ اس سے بدتر ہوتے ہيں اور انسان كے جسم پر ڈيگ مارتے ہيں اور ہميشہ اس كے اندر چھپے رہتے ہيں جو ايسے بچھو سے بچانے ميں ہمارى مدد كرے اس نے ہمارى بہت بڑى خدمت انجام دى ہے_

امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا كہ '' ميرا بہترين بھائي وہ ہے جو ميرے عيب كو ميرے لئے بيان كرے_(134)

 

6 - دوسروں كے عيب سے نصيحت لينا: انسان غالبا اپنے عيب سے غافل ہوتا ہے ليكن دوسروں كے عيب كو ديكھتا ہے اور اس كى برائي كو خوب سمجھتا ہے اور مثال مشہور ہے كہ دوسروں كى آنكھ ميں تنكا ديكھتا ہے اور اسے پہاڑ سمجھتا ہے ليكن پہاڑ كو اپنى آنكھ ميں نہيں ديكھتا لہذا ايك راستہ اپنے نفسانى عيوب كى پہچان كا دوسروں كے عيوب كو ديكھتا ہے_ جب كسى عيب كو دوسروں ميں ديكھے تو اس پر اعتراض كرنے سے پہلے اسے اپنے ميں ڈھونڈے اور اپنے آپ ميں اسے مورد تفتيش قرار دے اور اپنے آپ ميں رجوع كرے اگر وہى عيب اس ميں موجود ہو تو اس كى اصلاح كرنے كى سعى اور كوشش كرے_ لہذا ہو سكتا ہے كہ دوسروں كے عيب سے نصيحت حاصل كرے اور اپنے نفس كو اس سے پاك كرلے رسول خدا(ص) نے فرمايا كہ'' وہ سعادتمند انسان ہے جو دوسروں سے نصيحت حاصل كرے_(135)

حواشي

126 - قال اميرالمؤمنين عليہ السلام: التدبير قبل العمل يؤمنك من الندم_ بحار/ ج 71 ص 338_

127- ان رجلاً اتى رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ فقال: يا رسول اللہ اوصني_ فقال لہ: فہل انت مستوص ان اوصيتك؟ حتى قال ذالك ثلاثا فى كلہا يقول الرجل: نعمت يا رسول اللہ، فقال لہ رسول اللہ: فانى اوصيك اذا ہممت بامر فتدبر عاقبتہ، فان يك رشداً فامضہ و ان يك غيا فانتہ عنہ_ بحارالانوار/ ج 71 ص 339_

_ 128قال رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ: انّما اہلك الناس العجلة و لو ان الناس تثبتوا لم يہلك احد_ بحار/ ج 71 ص 340_

_ 129قال رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ: الاناة من اللہ و العجلة من الشيطان_ بحار/ ج 71ص 340_

_ 130و اروي: التفكر مراتك ترايك سيئاتك و حسناتك_ بحار/ ج 71 ص 325_

_131بل الانسان على نفسہ بصيرة، و لو القى معاذيرہ_ قيامت/ 14 و 15_

132 -  افمن زيّن لہ سوء عملہ فراہ حسنا فان اللہ يضلّ من يشاء و يہدى من يشائ_ فاطر/ 8_

_ 133قال على (ع): فہم لانفسہم متہمون و من اعمالہم مشفقون و اذا زكّى احد منہم خاف مما يقال لہ فيقول: انا اعلم بنفسى من غيرى و ربى اعلم من بنفسي_ نہج البلاغہ/ خطبہ 193_

_134 قال الصادق عليہ السلام: احب اخوانى اليّ من اہدى اليّ عيوبي_ تحف العقول/ ص 385_

135  - قال رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ: السعيد من وعظ بغيرہ_ بحارالانوار/ ج 71 ص 234_

بحرين ميں سرکاري دہشتگردي

 

بحرين ميں سرکاري دہشتگردي/ عالمي

 

 عدالت انصاف ميں شکايت درج

 

 

بحرين کي آل خلفيہ حکومت سعودي فوجيوں کے تعاون سے انساني حقوق کي مسلسل خلاف ورزي کر رہي ہے-


منامہ سے ملنے والي خبروں ميں کہا گيا ہے کہ سعودي اور بحريني فوجيوں نے حکومت مخالفين کے گھروں پر حملوں اور مساجد کي تباہي کے بعد اب انساني حقوق کے لئے کام کرنے والے لوگوں کے گھروں پر حملے شروع کرديئے ہيں-

 

انٹر نيٹ پر ايسي تصاوير جاري کي گئي ہيں جن ميں سعودي اور بحريني فوجيوں کو انساني حقوق کے ايک کارکن سعيد اياد کے گھر کو آتش گير مادہ پھينک کر آگ لگاتے ہوئے دکھايا گيا ہے- انساني حقوق کے کارکنوں کے گھروں پر حملے اور آگ لگانے کا سلسلہ ايسے وقت ميں جاري ہے جب بحرين کي جيلوں ميں قيد حکومت مخالفين کے خلاف تشدد اور انہيں ايذائيں ديئے جانے کي اطلاعات مسلسل موصول ہورہي ہيں-

دوسري جانب اطلاعات ہيں کہ برطانيہ ميں مقيم بحرينيوں نے قانون دانوں کي ايک ٹيم کے ذريعے ہيگ کي بين الااقوامي عدالت انصاف ميں ايک اپيل دائر کي ہے جس ميں حکومت بحرين کے مجرمانہ اقدامات کي تحقيقات کا مطالبہ کيا گيا ہے- ہيگ کي بين الااقوامي عدالت نے برطانيہ ميں مقيم بحرينيوں کو يقين دھاني کرائي ہے کہ وہ انکي جانب سے پيش کي جانے والي دستاويزات اور شواہد کا جا‏ئزہ لے گي اور اس بارے ميں بہت جلد فيصلہ کرليا جائے کہ حکومت بحرين کے خلاف مقدمہ قائم کيا جائے يا نہيں

 

اداریہ

 

ایک نیا مشرق وسطی وجود میں آ رہا ہے

 

 

( اداریہ )



 تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے مگر اتنی حقیقت اور قطعیت کے ساتھ کبھی کبھی ہی ہوتا ہے جیسا 11 فروری کو ہوا۔ مشرق وسطیٰ میں 11فروری کو جہاں آب رود نیل کے فرزندوں نے استعماری قوتوں اور وقت کے فرعونوں کے نمائندہ آمر سے آزادی حاصل کی، بالکل ٹھیک اسی طرح 32 برس قبل 11 فروری کو ہی مشرق وسطیٰ کے ہی ایک اور ملک ایران میں ایرانی عوام نے اپنی زبردست مزاحمتی تحریک کے نتیجے میں استعماری قوتوں کے ایرانی نمائندے شاہ ایران کے وفادار فوجیوں پر فیصلہ کن فتح حاصل کی تھی۔ اس طرح انقلاب ایران کی طرح انقلاب مصر کا جنم دن (یوم تاسیس) بھی 11 فروری ہی قرار پاتا ہے۔ مصر کے 82سالہ سابق صدر اور ریٹائرڈ ایئرچیف مارشل حسنی مبارک نے 14 نومبر 1981 سے 11فروری 2011ء تک ملک پر 10ہزار 702 روز حکومت کی۔ اس دوران ان پر ملک میں اور بیرون ملک 6 بار قاتلانہ حملے ہوئے، مگر وہ محفوظ رہے، وہ مسلسل پانچ بار ملک کے صدر بنے۔ وہ مصر کی تاریخ میں محمد علی پاشا کے بعد دوسرے حکمران ہیں جنہوں نے ملک پر طویل ترین حکمرانی کی۔ موٴقر برطانوی جریدے گارڈین نے رپورٹ دی تھی کہ حسنی مبارک اور ان کے خاندانی اثاثوں کی مالیت 70ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے جو انہوں نے کرپشن، کک بیکس اور غیرقانونی طریقے سے کمائی ہے۔ اخبار کے مطابق سابق مصری صدر کے اثاثے مصر سمیت برطانیہ اور سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں ہیں۔ حسنی مبارک نے اپنے کیریئر کا آغاز مصر کی فضائیہ میں بطور پائلٹ آفیسر کیا تھا بعد میں 1972ء سے 1975ء تک وہ ایئرفورس میں کمانڈر رہے۔

مصر میں حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے بعد  اور فوج کی جانب سے مظاہروں اور جلسے جلوس پر پابندی لگنے کے باوجود  بھی التحریر اسکوائر میں وقتا فوقتامظاہرین کی کثیر تعداد  اپنے تمام  مطالبات منوانے کے حق میں جمع ہورہی ہے، مظاہرین کا کہنا ہے کہ مقصد صرف حسنی مبارک کو اقتدار سے الگ کرنا نہیں تھا بلکہ ان کے مطالبات میں یہ بھی شامل تھا کہ پائیدار اصلاحات کا عمل موٴثر طریقے سے آگے بڑھایا جائے اور ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ممکن بنایا جائے۔ ، سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے، ایمرجنسی ختم کی جائے، فوجی عدالتوں کو غیر فعال بنایا جائے اور آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار کی جائے۔ تاکہ ملک میں سول دور حکومت کا آغاز ہو سکے۔

یہ بات مسلم ہے کہ ایک نیا مشرق وسطی وجود میں آ رہا ہے۔ تیونس سے شروع ہونے والی عوامی تحریک اب دوسرے ممالک تک پھیلتی جا رہی ہے۔ تیونس کے محمد  نامی  ایک نوجوان نے اپنے آپ کو احتجاجی طور پر اس لئے  آگ لگا ئی تھی کہ  وہ بے روزگار تھا اور  ریڑھی پر سبزی بیچنے پر مجبور تھا لیکن پولیس نے اسکی ریڑھی اس لئے ضبط کرلی کہ اس کے پاس اجازت نامہ نہیں تھا اور   اسطرح  ایک بے روزگار ، غریب اور مجبور نوجوان   کا اپنے آپ کو احتجاجی طور پر  آگ  لگانے کے بعد اس ملک میں عوامی آگ بھڑک اٹھی اور  آزادی سمیت اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لۓ عوام نے وسیع سطح پر احتجاجات کا سلسلہ شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں اس ملک کے صدر زین العابدین بن علی کو آل سعود کے ڈیکٹیٹر کے پاس  فرار ہونا پڑا ۔ بہر حال یہ عوامی تحریک مزید وسعت اور بھرپور اسلامی تتشخص کے ساتھ مصر میں شروع ہوئی، یہاں بھی تیس برسوں تک مصری عوام کی قسمت سے کھیلنے والا ڈکٹیٹر حسنی نامبارک عوامی انقلاب کا مقابلہ نہ کرسکا اور آخرکار اس نے صدارت سے استعفی دے دیا اور اختیارات فوجی کونسل کو سونپ دییۓ۔
مصر اور تیونس کے بعد  لیبیا ، بحرین ،اردن، یمن ، عمان  اور الجزائر میں بھی ان ممالک کے عوام نے اپنی اپنی حکومتوں کے خلاف مظاہرے شروع  کردئے اور اس کا سلسلہ بہت تیزی کے پھیل رہا ہے‏۔

اس میں شک نہیں کہ مشرق وسطٰی ایک نئے موڑ میں داخل ہو چکا ہے۔ زین العابدین اور حسنی مبارک کی حکومتوں کی سرنگونی عرب ممالک پر مسلط دوسرے ڈکٹیٹروں کے لۓ خطرے کی گھنٹی ہے۔ بہت سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اب ایک نیا مشرق وسطٰی وجود میں آ رہا ہے۔ اور اس میں کوئي شک نہیں کہ خطے میں عوامی حکومتوں کی تشکیل اور امریکہ کے اثر و رسوخ میں کمی مشرق وسطی پر حکمفرما نئی صورتحال کا ہی نتیجہ ہے۔ عرب عوام کے خلاف امریکہ بھی کہیں وہی طرزعمل اختیار نہ کر لے، جو اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی عوام کے ساتھ کر رکھا ہے۔ اگر صدر اوباما پر دباؤ ڈالنے والے، درندہ صفت صیہونیوں نے عقل و فہم سے کام نہ لیا، تو امریکہ کو یہ ظالمانہ پالیسی اختیار کرنے پر مجبور کر کے، وہ درحقیقت اسرائیل کے لئے خطرات پیدا کر یں گے۔

یوں تو اسرائیل جنم لیتے ہی خطرات سے دوچار ہے اور اس کا وجود بقول نذیر ناجی ہر وقت نیزے کی انی پر رکھے ہوئے خربوزے کی طرح ہے، جس کا پیٹ ذرا سی جنبش سے چاک ہو سکتا ہے۔ ابھی تک نیزے کی انی میں جنبش نہیں آئی اور وہ بچتا چلا آ رہا ہے۔ لیکن یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ سوا سو ملین عرب عوام کو زیادہ دیر تک اتنی سختی سے جکڑ کر نہیں رکھا جا سکتا کہ وہ اس نیزے کی انی میں ذرا سی جنبش بھی پیدا نہ کر سکیں، جس کے ہلتے ہی اسرائیل کے خربوزے کا پیٹ پھٹ جائے گا۔

ریمنڈ ڈیوس

 

ریمنڈ ڈیوس دراصل سی آئی اے کو

 

سیکورٹی فراہم کرنے والا ٹھیکے دار   ہے

 

 

 

واشنگٹن:اسلام ٹائمز  کی رپورٹ    کے مطابق امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ  نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں دو افراد کو قتل کرنے والا امریکی باشندہ، جسے سفارت کار قرار دیا جا رہا ہے، دراصل سی آئی اے کو سیکورٹی فراہم کرنے والا ٹھیکے دار (Security Contractor) ہے اور وہ لاہور میں سی آئی اے کی اس ٹیم کا حصہ تھا جو لاہور میں ایک محفوظ ٹھکانے سے اپنی سرگرمیاں انجام دے رہی تھی۔ اس نئے انکشاف کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے کشیدہ صورتحال کے مزید خراب ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں اور ممکن ہے کہ امریکا کی وہ کوششیں مشکلات کا شکار ہو جائیں جو وہ ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرانے کیلئے کرر ہا ہے۔ 36 برس کا ٹھیکے دار ریمنڈ ڈیوس پاکستان میں دو افراد کو قتل کرنے کے بعد گرفتار ہوا اور اس وقت سے وہ جیل میں ہے۔ بعد میں ریمنڈ ڈیوس نے دعویٰ کیا تھا کہ دونوں مقتولین اسے لوٹنے کی کوشش کر رہے تھے۔

 واشنگٹن پوسٹ کو ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے فوراً بعد ہی اس کے سی آئی اے کے ساتھ تعلق کے متعلق معلوم ہو گیا تھا، لیکن ایک سینئر امریکی انٹیلی جنس عہدیدار کی درخواست پر اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ یہ معلومات شایع نہیں کرے گا۔ مذکورہ عہدیدار نے یہ دلیل دی تھی کہ اگر یہ معلومات شایع ہوگئیں تو ڈیوس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ مذکورہ عہدیدار اپنے اس وعدے سے بعد میں دستبردار ہو گیا کیونکہ دیگر خبر رساں اداروں نے ریمنڈ ڈیوس کی اصلیت کے بارے میں معلومات شایع کر دی تھیں اور ریمنڈ کو سی آئی اے کا ملازم قرار دیا۔ واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ بات چیت میں امریکی انٹیلی جنس ذرائع نے ریمنڈ ڈیوس کے متعلق مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر اس خدشہ کا اظہار کیا کہ ریمنڈ ڈیوس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ مزید معلومات میں اس جیل کی حالت کا ذکر کیا گیا ہے جہاں ڈیوس کو قید رکھا گیا ہے۔ 
انہوں نے بتایا کہ ریمنڈ ڈیوس کو جس جگہ قید رکھا گیا ہے وہاں کے محافظوں سے ہتھیار لے لیے گئے ہیں کیونکہ اس بات کا ڈر تھا کہ کہیں محافظ ہی قاتل نہ بن جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ جیل میں 4 ہزار قیدی ہیں اور ماضی میں محافظوں نے تین قیدیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی پولیس نے مشتعل مظاہرین کو جیل کے قریب مظاہرہ کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس حکام ریمنڈ ڈیوس کو دی جانے والی کھانے پینے کی اشیاء کو کتوں کو سنگھاتے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ریمنڈ کے کھانے میں زہر شامل نہیں ہے۔
 اس کے علاوہ امریکی فوج کے اسپیشل سروسز گروپ کے ایک سابق رکن نے بتایا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو سی آئی اے کے ”گلوبل ریسپانس اسٹاف“ کے کنٹریکٹ ملازم کے طور پر بھرتی کیا گیا تھا۔ یہ اسٹاف دیگر ممالک میں ایجنسی کے ملازمین اور امریکی ٹھکانوں کی حفاظت پر مامور ہوتا ہے۔ امریکا کے موجودہ اور سابق عہدیداروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کو ایک ایسی سیکورٹی کمپنی میں بطور ملازم بھرتی کیا گیا تھا جس کا سابقہ نام بلیک واٹر اور موجودہ نام ایکس ای ہے۔ کمپنی کی ترجمان نے اس سلسلے میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ امریکی عہدیداروں کے مطابق جس وقت ریمنڈ ڈیوس نے دو افراد کو قتل کیا اس وقت وہ ایک ایسا کام کر رہا تھا جسے سی آئی اے کے لوگ Area Familiarization کہتے ہیں جس کا مطلب وہ بنیادی جاسوسی ہے جس کے تحت اس نوعیت کے ملازمین کو علاقے سے مانوس کیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ریمنڈ ڈیوس کے سامان سے کیمرا، چھوٹی ٹیلی اسکوپ، ابتدائی طبی امداد کا سامان، تیز روشنی والی ٹارچ اور ایک نیم خود کار پستول ”Glock“ برآمد ہوئی۔

ادھر پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک افسر نے تصدیق کر دی ہے کہ دو پاکستانیوں کو قتل کرنے والا امریکی شہری سی آئی اے کا اہلکار ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی قاتل ریمنڈ ڈیوس سی آئی اے کیلئے کام کر رہا تھا اور لاہور میں جاسوسی کے مشن پر تھا۔ آئی ایس آئی افسر نے مزید کہا کہ اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ وہ سی آئی اے کا کنٹریکٹ ملازم تھا اور سی آئی اے کیلئے مستقل بنیادوں پر کام نہیں کر رہا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس معاملے پر سی آئی اے کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں اور اب ان میں وہ چاشنی نہیں رہی، اب تعلقات کھٹے ہو چکے ہیں۔
 ادھر امریکا کا اصرار ہے کہ ریمنڈ ڈیوس امریکی سفارتخانے میں ”انتظامی اور تکنیکی عملے“ کا رکن تھا اور اس نے اپنے دفاع میں قتل کئے، اسے سفارتی استثنیٰ حاصل ہے، لہٰذا فوری طور پر رہا کیا جائے، لیکن پاکستان کی حکومت پر عوام اور اپوزیشن کا اس حوالے سے شدید دباؤ ہے۔

مساوات کا عملی درس

 

مساوات کا عملی درس

 

 

آج دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ قوم وملت کے رہبروں اور قائدوں کا صحیح معیار پر پورا نہ اترنا  ہے۔  دنیا کے سیاستدان عوام کو اپنا طرفدار بنانے کے لئے خوشنما اوردل پذیر نعروں کا سہارا لیتے ہیں اوربیچارے سادہ لوح انسان فریبی اور ڈھونگی رہنماؤں کے ڈھکوسلوں پربھروسہ کر کے ان کے لئے حکومت کے وسائل فراہم کر دیتے ہیں ۔ مگر ایک دن ان کی حقیقت کھل جاتی ہے اور ان کی محبوبیت کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور غریب و بیکس کفِ افسوس مل کر رہ جاتا ہے۔  لیکن کیا اس کے بعد وہ اپنے پامال شدہ حقوق کو وصول کرپاتے ہیں ؟ کیا وہ بعد کے ادوارکے لئے مناسب اور لایق رہنما کا انتخاب کر پاتے ہیں ؟ نہیں! بالکل نہیں! کیوں؟ اس لئے کہ خود ان کے انتخاب میں کمی ہوتی ہے۔ سیاسی بصیرت کی کمی اور خواہشات نفسانی کی پیروی انہیں نا اہل اورنالایق افراد کو منتخب کرنے پر مجبور کر دیتی ہے ۔

ہاں! یہ لوگ اسی وقت ایک لائق رہنما کا انتخاب کرسکیں گے جب ان میں خود اپنے لئے انسانی اور سیاسی ہمدردی محسوس ہو۔ اور وہ اپنے حق کی پوری معرفت حاصل کرنے کے بعد ہی پیدا ہو گی۔ اس لئے انتخاب کے مرحلے میں قدم رکھنے سے پہلے ہرشخص کو اپنا جائزہ  لینا چاہئے کہ وہ اپنے حق کو کس قدر پہچانتا ہے؟ چونکہ بشراپنی تمام ضروریات سے آگاہ بھی نہیں ہے۔  اس لئے خالق نے اس کائنات میں ان کی ضروریات کی فراہمی کو اپنے ذمہ لیا۔ اور ان کے احتیاجات کو پورا کرنے کے لئے انواع و اقسام کی چھوٹی بڑ ی اشیاء کو وجودعطا فرمایا اس کائنات میں تمام انسانوں کی ضرورت بھر ہرقسم کی اشیاء موجودہیں ۔ بس ان کی تقسیم میں نا انصافی اور دوسروں کی حق تلفی سے بعض افراد بعض چیزوں سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ خداوند عالم نے اس نا انصافی کا سد باب کرنے کے لئے اپنی طرف سے رہنماؤں کو انتخاب کیا اور بندوں پر فقط  ان کی اطاعت لازم قراردی اگر بندے ان کے فرامین پر عمل پیرا رہیں تو کبھی کسی مشکل میں گرفتار نہ ہوں۔ لہٰذا انتخاب کا دروازہ تو بند ہو گیا۔ تو کیا اس زمانے میں ہمیں کسی کو منتخب نہیں کرنا چاہئے؟ ہاں ہونا تو یہی چاہئے تھا مگر زمانے کی بد نصیبی  ہے کہ اس نے اپنے خالق کی ذمہ داریوں کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور الٰہی حکومت کے نام پراپنے ہی معیاروں پر چنے ہوئے لوگوں کے ہاتھوں میں نظام حکومت دیدیا ورنہ جہاں تک خالق کی قدرت سے بنائی ہوئی کائنات کا وجود ہے اس کے ہرگوشے میں الٰہی نمائندہ کی سلطنت قائم ہوتی اب چونکہ ایسا نہیں ہوا تو کیا ہماری ذمہ داری ختم ہوگئی؟ نہیں! بلکہ ہمارافریضہ ہے کہ ہمیں ان کی جگہ پر انہی کے جیسے افراد کو لانا چاہئے اگرسارے صفات ان جیسے نہ بھی ہوں تو کم سے کم بہت ضروری  صفات تو ان میں ہونے ہی چاہئیں جیسے صداقت، انصاف، مساوات، انسانی ہمدردی وغیرہ ان صفات کے ساتھ ایک سماج اورمعاشرہ خوشحالی کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے۔ دنیا میں وہی نمائندے محبت کا خراج وصول کرتے ہیں جوعوام کو اپنا شفاف کرداراوراپنی سچائی کا یقین دلا دیتے ہیں ۔

ہمارے سامنے انسانیت کے ایسے عظیم رہبروں کی سیرت موجود ہے جنہوں نے اپنے عمل سے قیامت تک آنے والے انسانوں کومعیاری اورخوشحال زندگی گزارنے کاسلیقہ عطا کر دیا ان میں سب کے سید و سردار، سرکار احمد مختار حضرت محمد مصطفے ٰ (ص) کی سیرت ہر بشر کے لئے سر مشق اوراسوۂ حسنہ کا حکم رکھتی ہے ۔ ہم ان کی زندگی سے مساوات کے چند عملی نمونے پیش کرتے ہیں :

مدینہ میں اسلامی حکومت کی بنیادپڑ گئی اورپورے طورپرآپ کا حکم نافذہو گیاتواب آپ کوکسی کی فکر نہ ہونی چاہئے تھی مگرآپ کا معمول تھا کہ مسجد کے باہری چبوترے پرزندگی بسر کرنے والے بے سہارا لوگوں کے ساتھ روزنمازصبح کے بعد تھوڑ ی دیرکے لئے ان کی احوال پرسی کی خاطر بیٹھتے اور ان کو اپنی ہمدردی کا یقین فراہم کرتے ایک روز ایک غریب مسلمان نے حضرت سے اپنا پہلوبچانا چاہا تو آپ نے پوچھا اے بھائی! تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ اس نے عرض کی حضور میرے کپڑوں پرگرد پڑی ہوئی ہے میرے دل نے گوارہ  نہ کیا کہ آپ کے لباس کو گردآلود کروں ۔ یہ سن کر آپ(ص)  کی آنکھوں میں آنسوں آ گئے اور آپ (ص)  نے اس کے احساس ناداری کو دورکرنے کے لئے اس کے زانوں پر ہاتھ رکھا اورشفقت سے اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے فرمایا:’’بھائی شرم نہ کر فقیر، فقیر کے پاس بیٹھا کرتا ہے ۔‘‘

جنگ احزاب میں خندق کھودی جا رہی تھی۔ مسلمانوں پرفاقوں کا وقت تھا۔ پیٹ پر پتھر باندھ  کر بھوک کو فاقوں سے بہلایا جا رہا تھا۔ ان مشقتوں میں کائنات کا حاکم بھی برابر کا شریک تھا۔ آپ کی اکلوتی بیٹی سے آپ کی بھوک  دیکھی نہ گئی نہ جانے کس طرح ایک روٹی پکا کر لائی اوراپنے چہیتے بابا کودے گئی حضور نے اس روٹی کے بہت سے ٹکڑ ے فرمائے اوران کو اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا اورخود بھی ان کے برابر کا حصہ تناول فرمایا۔

جنگ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والوں میں آپ کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب(رض)  بھی تھے ۔ مسلمانوں نے اوروں کی طرح ان کی مشکیں بھی خوب کس کر باندھ دی تھیں ۔ اور انھیں حضرت کے مکان کے قریب رکھا گیا تھا۔رات کوجب عباس کے کراہنے کی آوازآئی توآپ کی نیند اڑ گئی آپ نے اس آواز کا سبب دریافت کیا تو پتہ چلا کہ رسّی کی سخت بندش کی وجہ سے کراہ رہے ہیں ۔ آپ نے فوراً کچھ لوگوں کو بلایا اورحکم دیا کہ سب کی رسیاں ڈھیلی کر دو ۔

جناب ابوذر غفاری (رض) کا بیان ہے کہ ایک شام کو جو میں حضور کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو آپ کو سخت بے چین پایا میں نے سبب پوچھا تو فرمایا ’’اے ابوذر! بحق مسلمین میرے پاس تین درہم تقسیم کرنے سے رہ گئے ہیں میں اس بات سے ڈر رہا ہوں کہ اگر رات میں مجھے موت آگئی تو مسلمانوں کا یہ حق ادا ہونے سے رہ جائے گا۔ ابوذر (رض)  کہتے ہیں کہ صبح کوجب پھر حاضر ہوا تو آپ(ص)   کو ہشاش بشاش پایا میں نے سبب پوچھا تو فرمایا: ’’اے ابوذر! خدا کا شکر ہے جو چیز میرے پاس امانت تھی وہ رات اپنے مستحق تک پہنچ گئی ۔

مکہ کی زندگی کس قدر دشوار تھی جہاں اغیار کے ساتھ اپنے بھی طرح طرح کی ایذائیں پہنچا رہے تھے کبھی طعنوں کے زخم تو کبھی پتھروں کی بارش کبھی غلاظت افگنی تو کبھی راہ میں کانٹے یہاں تک کہ اقتصادی و معاشرتی بائیکاٹ تک کیا گیا جس کے نتیجہ میں عزیزترین افراد کی بھوک پیاس اور فاقہ کشی دیکھنی پڑی اور اپنی شریک حیات کو چھوٹی سی بچی کے ہمراہ مصائب میں گرفتار دیکھا ایک جاہ طلب اور قدرت کے خواستگار کے لئے انتقامی کاروائی کامناسب موقع ہاتھ آنے کی دیرتھی اپنے اگلے پچھلے حساب چکتا کرا لیتا مگر رحمۃ للعالمین(ص)   نے ہر مناسب موقع پر اپنی رحمدلی کا مثالی کردار پیش فرمایا چاہے جنگ کے میدان سے گرفتار شدہ سپاہی ہوں یا مکہ میں اپنے گھر کے دروازے بند کر لینے والے کفار۔ فتح مکہ کے دن آقائے دو جہان (ص)  نے عام منادی کرادی تھی کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہو گی سب کو امان ہے سب کے ساتھ برابری اور مساوات کا عمل اختیار کیا جائے گا۔

یہی وہ کردار ہے جودلوں پرحکمرانی کراتا ہے ، اسی مساواتی کردار کی وجہ سے کالے گورے غریب امیرآپس میں سکون واطمنان کی زندگی بسرکرتے ہیں اورتقویٰ و پارسائی کے سوا کسی چیزکو اہمیت نہیں دیتے جہاں بلال (رض)  جیسا حبشی غلام اپنے اندر کسی قسم کی کمی کا احساس نہیں کرتا۔ جہاں ثروتمند ایک نادار کے آگے اکڑ تا نہیں بلکہ اس سے جھینپتا نظر آتا ہے ۔

آج دنیا میں اگر خوشحالی چاہئے تو ایسی سیرت پر عمل کرنے والے رہنماؤں کوانتخاب کیاجائے تاکہ دنیا ومکرفریب سے دور ایک سچی خوشحال زندگی سے آشنا ہو سکے .

 

رہبر انقلاب اسلامی کی نصیحت

 

خطے کے انقلابیوں کو رہبر انقلاب اسلامی

 

 کی نصیحت

 

رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظٰمی سید علی خامنہ ای نے خبردار کیا ہےکہ خطے کے ممالک کے دانشمندوں اور اقوام کو چاہیے کہ وہ تسلط کے نظام کو خطے کی اقوام کی عظیم تحریکوں کو ہائی جیک کرنے اور ان تحریکوں کو ان کے راستے سے ہٹانے کا موقع نہ دیں۔ رہبر انقلاب اسلامی کے فرمان کے مطابق خطے کی اقوام کی مشکلات کو حل کرنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اس علاقے سے امریکہ کا اثر و رسوخ ختم کیا جاۓ اور خطے کے ممالک اور اقوام اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کریں۔

 

گیارہ ستمبر کا واقعہ

 

گیارہ ستمبر کا واقعہ امریکی حکومت کا

 

 سوچا سمجھا منصوبہ تھا

 

 

اقوام ِمتحدہ کے اہلکارریچارڈ فولک نے گیارہ ستمبر 2001 کے حا دثے کو امریکی حکومت کا سوچا سمجھا منصو بہ قرار دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام ِمتحدہ کے اہلکارریچارڈ فولک نے گیارہ ستمبر 2001 ء کے حا دثے کو امریکی منصو بہ قرار دیا ہے۔ فلسطین میں انسا نی حقو ق کی خلا ف ورزیوں کی تفتیش کے لیے مقرر خصو صی تفتیشی افسر ریچارڈ نے اپنے بلاگ میں لکھاہے کہ گیارہ ستمبر 2001 ءکا حا دثہ امریکی حکو مت کا تیار کردہ منصوبہ تھا اوراس حادثے کے حقائق پر امریکی حکام نے جا ن  بو جھ کر پر دہ ڈا لا ہے ۔ انہوں نے اپنے بلا گ میں مغربی ذرائع ابلا غ کو مو ردِ الزام ٹہراتے ہو ئے یہ بھی لکھا ہے کہ گیارہ ستمبر 2001 ء کے حادثے کے بعد جا ری کیے گئے سر کا ری بیا نا ت میں واضح تضا دات مو جود تھے جنہیں نظر انداز کر دیا گیااور سچ کو چھپا نے کی بھر پور کوشش کی گئی ۔ بعض شواہد سے بھی ظاہر ہوتا ہے  کہ گیارہ ستمبرکا واقعہ امریکی حکومت نے کرایا تھا اور اس واقعہ میں امریکی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے اہلکار ملوث تھے اور انھوں نے القاعدہ کے اعلی رہنماؤں کو اس کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے آمادہ کیا القاعدہ کے اعلی رہنماؤں کے امریکی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے ساتھ قریبی رابطے تھے اور آج بھی ہیں، القاعدہ دہشت گرد تنظیم نے مسلمانوں کو بدنام کرنے اور مسلمان ممالک کو کمزور کرنےکے لئے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کی اور عراق اور افغانستان میں امریکی فوج کی مداخلت کا راستہ ہموار کیا۔ علاقہ میں صرف وہابی گروپوں میں القاعدہ کو مقبولیت حاصل ہے اور وہابی ایک گمراہ اور منحرف تنظیم ہے جس سے تمام مسلمان بےزار اور متنفر ہیں ایران کے صدر احمدی نژاد نے بھی اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کسی غیر جانبدار کمیٹی کے ذریعہ اس واقعہ کی تحقیقات کرائے لیکن اقوام متحدہ نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور نہ اس واقعہ کی آج تک  تحقیق کسی نے کی ہی نہیں اور نہ ہی اس کی تحقیق پر کسی نے توجہ دی ہے امریکہ جو اپنے مفاد میں ہر واقعہ کے بارے میں تحقیق پر زور دیتا رہتا ہے اس نے اس عظمیم سانحہ پر نہ یہ کہ چپ سادھ رکھی ہے بلکہ وہ تحقیق کی مخالفت بھی کرتا ہے کیونکہ تحقیق سے مرنے والوں کے لواحقین سے دل مجروح ہونگے لیکن عالمی مبصرین گیارہ ستمبر کے واقعہ کو تاریخ میں دوسرا ہولوکاسٹ مان رہے ہیں اور آئندہ اس واقعہ پر بات کرنا بھی ممنوع ہوجائے گا۔

 

اسلام قبول کرنے والی خاتون

 

اسلام قبول کرنے والی ناروے کی ایک خاتون کی

 

یادیں

یورپ اور مغربی دنیا میں ان ممالک کی حکومتوں کی سرپرستی میں اسلام کے خلاف میڈیا  اور  دوسرے مختلف ذرائع سے پروپیگنڈوں اور آئے دن اسلامی مقدسات کی توہین  کے باوجود  روز بروز اسلام قبول کرنے والوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہاں ماہنامہ (( مینہ ))  کی جانب سے ایک تازہ مسلمان ہونے والی خاتون مونیکا  کی ایک اسلامی ثی وی چینل کے ساتھ گفتگو کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو کہتی ہے:

میرا مسلمان ہونا میرےاہل خانہ کے لیۓ قابل قبول نہ تھا ۔ میری ماں نے مجھے گھر سے نکال دیا اور میں کئ دنوں تک ناروے کے مسلمان گھروں میں رہی۔  فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اوسلو میں مقیم مونیکا ہانگسلم نے "اقرا ‏‏ء،، ٹیلی وژن پر اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوۓ کہ اس نے کیوں اسلام قبول کیا کہا کہ میں نہ صرف پردے کو عورت کی توھین نہیں مجھتی بلکہ میں اسے عورت کی سہولت اور آسانی کے لئے انتہائی ضروری مجھتی ہوں ۔ مونیکا کہتی ہیں میں نے اتفاقا اسلام قبول نہیں کیا ھے بلکہ یہ مسئلہ چند سال پرانا ھے میں اس علاقے سے تعلق رکھتی ہوں جہاں مرد رات کو نشہ میں دھت  گھر آتے ہیں اور اپنی عورتوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر اپنی اور اس کی زندگیوں کو تباہ کرتے ہیں ۔ میں نے اسلام کو ایک امن ، صلح اور رحمت  کا دین سمجھ کر انتخاب کیا ھے اس سے پہلے کہ میں اسلام کو قبول کرتی میں نے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھا اور اس کا انجیل سے موازنہ کیا اس کے بعد میں قرآن کی الہی تعلیمات کی مجزوب ہو گئي مونیکا کے بقول اس نے نہ صرف قرآن مجید کا مطالعہ کیا بلکہ فقہ اور سیرت پیغامبر سے بھی آشنائي پیدا کی۔ نومسلم مو نیکا کہتی ہیں یورپ میں لوگ انجیل کا نام تو لیتے لیکن بدقسمتی سے اس پر  عمل نہیں کرتے لیکن جن مسلمانوں نے مجھے اسلام اور قرآن سے آشنا کیا وہ خدائی اور قرآنی تعلمات پر عمل پیرا ہیں اور جو کچھ قرآن وسنت میں موجود ھے اس کا خاص خیال  کرتے ہیں ۔ یہ وہ چند اھم چیزیں تھیں جن کو دیکھ کر میں نے اسلام قبول کیا ۔

مونیکا  کہتی ہیں انجیل کا مطالعہ کرنے کے بعد بھی میں اس کے مطالب کو نہ تو صحیح سمجھ سکی اور نہ وہ قابل عمل تھے لہذا میں نے انجیل کو کنارے پر رکھ کر قرآن کا مطالعہ شروع کر دیا ۔ قرآنی مطالب نے مجھے حیران کر دیا اور  میں نے ان سے بہت ذیادہ استفادہ کیا۔ میں سورہ توحید کے مطالعے اور تلاوت کوقرآن سے عشق کا آغاز اور اپنے لیے امن و سلامتی سمجھتی ہوں مونیکا کہتی ہیں  میں اس پر بہت ذیادہ خوش ہوں کہ اس وقت میری بہت سی سہلییاں  بھی اسلام قبول کر چکی ہیں اور میں بھی ایک مسلمان ہوں مونیکا اسلام قبول کرنے کے بعد اپنے خاندان کے رد عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہتی ہیں میرے گھرانے کے لشے میرا اسلام قبول کرنا ناقابل قبول تھا ۔ میری ماں نے مجھے گھر سے نکال دیا میں کافی عرصے تک مسلمان گھروں میں رہتی رہی۔ اس میں کوئي شک نہیں میرا مسلمان ہونا شروع میں میرے گھر والوں کے لیئے ایک بڑی مصیبت اور بحران کی مانند تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے حقیقت کو تسلیم کر لیا اور مجھے گھر میں واپس بلا لیا ۔

مونیکا ہانگسلم نے اس سوال کے جواب میں کہ بعض لوگ اس طرح کے شکوک و شبھات کا اظہار کرتے ہیں کہ قرآنی تعلیمات میں عورتوں کے موجودہ امور کے بارے میں کوئی ھدایت نہیں ھے کہا ناروے کے زرائع ابلاغ اسلام کی صحیح  تعلیمات اورحقیقی شناخت سے محروم ہیں ۔ وہ اسلام کی حقیقت کو لوگوں کو بتانے سے قاصر ہیں ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ  دین اسلام سے ذیادہ کوئي دین عورت کی عظمت اور احترام کا قائل  نہیں ھے اسلام عورت کی آزادی اور اکرام پر خصوصی توجہ دیتا ھے ۔

مغرب کی نظر میں عورت کی آزادی کا یہ مطلب ھے کہ وہ کپڑے اتارکر یا نیم برہنہ ہو کر سڑکوں پر گھومے پھرے آزادی کا حقیقی مفہوم یہ نہیں ھے میرا یہ عقیدہ ھے کہ اسلام نے عورت کو مکمل آزادی عطا کی ھے اور میں نہ صرف یہ کہ اسلامی پردے کو عورت کی توھین نہیں سمجھتی بلکہ حجاب اور پردے کو عورت کی سہولت اور آسانی کے لیۓ ضروری سمجھتی ہوں ۔

مونیکا اپنی روز مرہ کی مصروفیات کی تفصیلات بتاتے ہوے کہتی ہیں میں آجکل ناروے کی بعض مسلمان خواتین کے ساتھ مل کر اسلامی تعلیمات کی تعلیم و تربیت کا پروگرام چلا رہی ہوں ۔ ناروے کے مسلمان گونا گوں مشکلات کا شکار ہیں ۔ یہاں کے مسلمان بچے مسلمان اساتذہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے اسلامی تعلیمات سے دور ہیں لہذا مسلمان آبادی میں ایک مسجد کی تعمیر کا پروگرام بنایا گیا لیکن وسائل کی کمی کی وجہ  سے یہ منصوبہ ابھی مکمل نہیں ہوا ھے۔ مونیکا مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کی زیارت کے بارے میں کہتی ہیں میں جب مکہ مکرمہ پہنچی تو  میرے اوپر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی اور مسجد الحرام کی زیارت کے وقت تو مجھے ایسے محسوس ہواجیسے میں خدا کے بہت ہی قریب آ گئی ہوں ۔ میری آرزو ھے کہ یہ زیارت مجھے بار بار نصیب ہو اور اسلام پوری دنیا میں پھیل جاۓ ۔ مونیکا ایک شادی شدہ خاتون ہیں اور اس کے تین بچے ہیں جو قرآن پاک کو صحیح عربی لہجے میں تلاوت کرتے ہیں یہ پورا خاندان اسلام کے سا ۓ میں خدا پر ایمان رکھتے ہوۓ مطمئن زندگی گزار رہا ہے۔

 

حضرت زینب سلام اللہ علیھا، تاریخ کا ایک ممتاز کردار

 

حضرت زینب سلام اللہ علیھا، تاریخ کا ایک

 

 ممتاز کردار

 

 

 

(رہبر انقلاب اسلامی کے خطببہ سے اقتباس)

حضرت زینب کبری تاریخ کا ایک ممتاز کردار ہے جس نے تاریخ کے ایک اہم ترین مسئلہ میں عورت کی کارکردگي کا باعظمت ثبوت پیش کیا ہے۔ یہ جو کہا جاتاہے کہ عاشور کو کربلا میں خون شمشیر پرکامیاب ہوا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے تو اس کامیابی کا سبب حضرت زینب تھیں ورنہ امام حسین علیہ السلام کا انقلاب کربلا میں ہی ختم ہوجاتا۔ کربلا کی جنگ ظاہری طورپر سپاہ حق کی شکست پر تمام ہوئي۔ لیکن جس چیز نے اس ظاہری شکست کو دائمی اور یقینی فتح میں تبدیل کردیا وہ حضرت زینب کی کارگردگي سے عبارت ہے۔وہ ذمہ داری جو حضرت زینب نے سنبھالی لی تھی وہ نہات اہمیت رکھتی ہے ۔ اس واقعے سے پتہ چل گيا کہ عورت تاریخ کے حاشیے پررہنےوالا کردار نہیں ہے بلکہ تاریخ کے اہم واقعات کے مرکز میں ہے۔ قرآن نے بھی متعدد موقعوں پر اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ انسان جب زینب کبری کودیکھتا ہے تو پاتاہے کہ آپ میدان عمل میں بڑے دبدبے اور شان و شوکت سے وارد ہوتی ہیں اور ایسا وار کرتی ہیں کہ وہ دشمن جو بظاہر جنگ میں کامیاب ہوچکا ہے اور اس نے اپنے مخالفین کا قتل کردیاہے اور کامیابی کا جشن منارہاہے، اپنے ہی شاہی محل میں حقیر وذلیل ہوجاتاہے۔ حضرت زینب کبری اس کی پیشانی پرابدی ننگ وعار کا داغ لگادیتی ہیں اور اسکی فتح کو شکست میں تبدیل کردیتی ہیں یہ آپ کا کارنامہ ہے ۔ حضرت زینب سلام اللہ علیھا نے یہ ثابت کردکھایا کہ عفت و حجاب کے ساتھ مجاھدانہ سربلندی حاصل کی جاسکتی ہےاور عظیم جہاد کیا جاسکتاہے۔
دشمن نے جب آپ کو مصیبت میں گھرا دیکھ کر شماتت کرنے کی کوشش کی تو آپ نے فرمایا کہ مارایت الا جمیلا، میں نے اچھائی کے سوا کچھ نہيں دیکھا۔ میں نے کچھ نہیں دیکھا مگر یہ کہ وہ خدا کی مرضی کے مطابق ہو۔ ان کے بھائي، بیٹے ، اعزا اور ان کے بھا ئي کے قریبی ترین ساتھی ان کی آنکھوں کےسامنے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئےتھے، خاک و خون میں غلطاں ہوگئےتھے، ان کے سرنیزوں پرچڑھادئے گئے تھے، ان حالات میں بھی آپ فرماتی ہیں مارایت الا جمیلا۔میں نے اچھائي کے سوا کچھ نہيں دیکھا۔( یعنی ہم نے خدا کے لئے قربانی دی ہے تو وہ محض اچھائي ہے) یہ کونسی اچھائي ہے؟ آپ اس اچھائي کو گيارھويں محرم کی رات میں بھی دیکھ سکتےہیں جب حضرت زینب سلام اللہ علیھا نماز شب پڑھ رہی ہیں اور آپ کی نماز شب ترک نہيں ہوتی۔ اسیری کے دوران بھی آپ کی نماز شب ترک نہیں ہوئي یہ ا نقطاع الی اللہ ہے ، خداوند تعالی سے ان کے عشق میں کوئي کمی نہيں آئي بلکہ اضافہ ہی ہوا۔ یہ خاتون نمونہ عمل ہے۔

خطبہ حضرت زینب سلام اللہ علیھا

حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے بیانات میں سے جو کچھ باقی ہے اور ہماری دسترس میں ہے انمیں آپ کا ایک مشہور ومعروف خطبہ بھی ہے۔اس خطبے سے آپ کی عظمت و بزرگي کی نشاندھی ہوتی ہے۔ حضرت زینب نے یہ یادگار خطبہ بازار کوفہ میں ارشاد فرمایا تھا یہ کوئي معمولی بات نہیں ہے، یہ کسی بزرگ شخصیت کے معمول کے الفاظ نہیں ہیں۔ اس زمانےمیں اسلامی معاشرے کا حقیقی تجزیہ و تحلیل ہے جو خوبصورت ترین ، گہرے ترین اور بامعنی ترین الفاظ میں بیان کی گئي ہے۔ حضرت زینب کی شخصیت کی عظمت و دبدبے کو ملاحظہ کریں آپ کی شخصیت کس قدر بلند و عظیم ہے۔ دو دنوں قبل ہی تو کربلا کے بیابان میں آپ کے بھائي کو آپ کے امام کو آپ کے رہبر کو اور عزیزوں ، جوانوں، بیٹوں کو آپ کی آنکھوں کےسامنے قتل کیا گيا تھا ، اور اھل حرم کو اسیر کرلیا گيا تھا، انہیں لوگوں کی بھیڑ میں لایا گيا، اونٹوں پرسوار کیا گيا، لوگوں کی بھیڑہے لوگ انہيں دیکھ رہےہیں۔ کچھ لوگ شور مچارہےہیں اور کچھ گریہ کررہےہیں ایسے بحرانی حالات میں ناگھان یہ خورشید عظمت طلوع ہوتاہے، اس کا لہجہ وہی ہے جو اس کے باپ امیرالمومنین کا ہے جو آپ منبر خلافت پرامت کے سامنے استعمال کیا کرتےتھے۔ اپنے باپ ہی کی طرح گفتگو کرتی ہیں۔ ان ہی طرح کلمات کا استعمال کرتی ہیں، ان ہی کی فصاحت و بلاغت کا نمونہ پیش کرتی ہیں ان ہی کی طرح اعلی اور بلند مضامیں کا استعمال کرتی ہیں، فرماتی ہیں یا اھل الکوفہ یا اھل الغدر و الختل۔ اے دھوکے بازو ، اے دکھاو کرنے والو، شاید تمہیں بھی یقین ہوگيا ہے کہ تم اسلام اور اھل بیت کے پیرو ہو۔لیکن تم نے بہت برا امتحان دیا ہے۔ فتنے کے موقع پر اندھے ہونے کا ثبوت دیا۔ ھل فیکم الا الصلف و والعجب والشنف و الکذب و ملق الاماء و غمز الاعداء تمہاری رفتار اور گفتار تمہارے دلوں سے ہماہنگ نہیں ہیں، تم مغرور ہوگئے، یہ سوچا کہ ایمان دار ہو، یہ سوچا کہ انقلابی ہو، تم نے یہ سوچا بدستور امیرالمومنین علیہ اسلام کے پیرو ہو، جبکہ حقیقت یہ نہیں ہے، تم فتنہ کے موقع پر فتنے سے مقابلہ کرنے کی ذمہ داری پوری نہ کرسکے، اپنے آپ کو ساحل نجات تک نہ پہنچاسکے "مثلکم کمثل الذی نقضت غزلھا میں بعد قوۃ انکاثا"تمہاری مثال اس عورت کی ہے جو اون کاتتی ہے اس کا دھاگہ بناتی ہے لیکن بعد میں اسے دوبارہ ادھیڑدیتی ہے۔ اسی اون میں تبدیلی کردیتی ہے ۔ تم نے بے بصیرتی، کا ثبوت دے کر فضا کو نہ پہچان کر، حق و باطل میں فرق نہ کرکے، اپنے اعمال کو اور اپنے ماضی کو تباہ کردیا۔ تمہارا ایمان دکھاوا ہے، تم صرف انقلابی ہونے کے دعوے کرتے ہو، لیکن باطن کھوکھلا، اور مخالف ہواوں کے مقابلے عدم استقامت سے بھرا ہوا۔

حضرت زینب علیہ السلام نے ان دشوار حالات میں اس مستحکم بیان اور ان رسا کلمات سے گفتگو کی۔

ایسا نہیں تھا کہ کچھ لوگ سامعین کی حیثیت سے حضرت زینب سلام اللہ علیھا کے سامنے بیٹھیں ہوں اور آپ کی باتیں سن رہےہوں اور آپ ان کے لئے تقریرفرمارہی ہوں بلکہ دشمنوں کی بھیڑ تھی، دشمن کے سپاہی نیزے لئے اطراف کھڑے ہوئےتھے، پل پل میں رنگ بدلنے والے لوگ بھی موجود تھے، وہی لوگ جنہوں نے مسلم (ابن عقیل علیہ السلام ) کو ابن زیاد کے حوالے کیا، وہی لوگ جنہوں نے حضرت امام حسین ( علیہ السلام ) کو خط لکھے تھے اور بے وفائي کی، وہی لوگ تھے کہ جب ابن زیاد سے مقابلے کاوقت تھا اپنے گھروں میں روپوش ہوگئے تھے، یہی لوگ بازار کوفہ میں بھی تھے، ایک گروہ ان لوگوں کا تھا جنہوںنے نفس کی کمزوری کا ثبوت پیش کیا۔ آج تماشہ دیکھ رہےہیں امیرالمومنین (علیہ السلام )کی بیٹی کو دیکھ رہےہیں، رورہےہیں ، حضرت زینب کبری ( سلام اللہ علیھا ) کو ان مختلف النوع اور ناقابل اعتماد افراد کا سامنا ہے۔ لیکن آپ بڑی صلابت سے تقریر فرماتی ہیں۔ آپ تاریخ ساز خاتوں ہیں۔ یہ کوئي ضعیف خاتون نہیں ہے، عورت کو ضعیف نہیں کھ سکتے، یہ مومنہ خاتوں کا جوہر ہےجو اس طرح دشوارحالات میں نمایاں ہورا ہے۔ یہ عورت ہے جو نمونہ عمل ہے۔ سارے عالم کے بزرگ مردوں اور خواتین کے لئے، حضرت زینب انقلاب نبوی اور انقلاب علوی کو درپیش خطرات کی نشاندھی کرتی ہیں۔ فرماتی ہیں تم لوگ فتنے کےموقع پرحق کی تشخیص میں ناکام رہے، اپنی ذمہ داریوں پرعمل کرنے میں ناکام رہے جس کانتیجہ یہ نکلا کہ جگر گوشہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سرقلم کرکے نیزے پرچڑھادیاگيا۔ یہاں آپ حضرت زینب سلام اللہ علیھا کی عظمت کو درک کرسکتےہیں۔

امام جعفرصادق علیہ السلام اورتنور

 

 

 

 

امام جعفرصادق علیہ السلام اورتنور

 

 

 

 

 

مامون رقی سے منقول ہے : ایک دن میں حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں سہل بن حسن خراسانی بھی وہاں پہنچ گئے سلام کرکے بیٹھ گئے ۔ بیٹھنے کے بعد عرض کی :اے فرزند رسول ، امامت آپ کا حق ہے کیونکہ آپ ہی خانوادہ رحمت و رافت ہيں آپ اپنا حق لینے کے لئے اٹھ کھڑے کیوں نہیں ہوتے جبکہ آپ کے ایک لاکھ چاہنے والے ننگي تلواریں لے کرآپ کی حمایت کرنے اورآپ کے قدموں ميں جان دینے کے لئے تیارہیں ۔وہ دشمن سے لڑنے کے لئے ہمہ وقت آمادہ بیٹھے ہوئے ہيں ۔

امام نے فرمایا :اے خراسانی بیٹھ جاؤ ابھی حقیقت تم پرواضح ہوجائے گی ۔

امام نے اپنی کنیزکو حکم دیا کہ تنور کوروشن کرے تنور روشن ہوگیا اوراس میں آگ کےشعلے بلند ہونے لگے آگ کے شعلوں سے تنورکا بالائی حصہ سفید ہوگیا تھا ۔امام نے سہل سے فرمایا : اے خراسانی ! اٹھو اوراس تنورمیں جاکر بیٹھ جاؤ !

سہل خراسانی نے امام سے معافی مانگنا شروع کردی اورکہا : اے فرزند رسول ! مجھے آگ میں نہ جلائے اس حقیر کومعاف کردیجئے !

امام نے فرمایا ڈرو نہيں میں نے تمہيں معاف کردیا ۔

اسی وقت ہارون مکی اپنے ہاتھوں ميں اپنی جوتیاں لئے وہاں پہنچ گئے ننگے پیروں وہ امام کی خدمت ميں مشرف ہوئے انھوں نے امام کوسلام کیا اورامام نے بھی جواب سلام دینے کے بعد ہارون مکی سے فرمایا :جوتیوں کوپھینک دو اور تنور میں کود جاؤ !

یہ کہہ کرامام جعفرصادق علیہ السلام دوبارہ سہل خراسانی سے باتوں میں مشغول ہوگئے اوربازار و اقتصادی حالات اورخراسان کے لوگوں کے مسائل کے بارے میں بات کرتے رہے آپ خراسان کے بار ےمیں سہل سے ایسی ایسی باتیں کررہے تھے گویا آپ برسوں خراسان میں رہ چکے ہوں ۔کچھ دیرکے بعد امام نے سہل سے فرمایا جاؤ دیکھو تنور کی آگ کچھ کم ہوئی سہل کا کہنا ہے کہ میں جب تنورکے پاس پہنچا تودیکھا کہ ہارون مکی آگ کے درمیان دوزانو بیٹھے ہوئے ہيں اورجیسے ہی مجھے دیکھا وہ تنور سے باہر آگئے اورمجھے سلام کیا ۔ امام نے سہل سے فرمایا :

خراسان میں کتنے لوگ ہارون مکی جیسے ہيں ؟ سہل خراسانی نے عرض کیا : خدا کی قسم ! ایک آدمی بھی ان جیسا وہاں نہیں ملے گا ۔

امام جعفرصادق علیہ السلام نے بھی فرمایا :جی ہاں ! خدا کی قسم ! ایک آدمی بھی ہارون جیسا نہيں ملے گا اگرہارون کی طرح مجھے پانچ آدمی بھی مل جاتے تو میں اپنے حق کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ۔

 

 

پیغمبر اکرم (ص) کا نسب

 

پیغمبر اکرم (ص) کا نسب

 

رسولِ خدا(ص)  کا تعلق خاندانِ ہاشم اور قبیلہ قریش سے ہے۔ جزیرہ نما عرب میں تین سو ساٹھ قبیلے آباد تھے۔ ان میں قریش شریف ترین قبیلہ تھا۔ ماہرین نسب کی اصطلاح میں حضرت نضر بن کنانہ کی نسل ہی کو قریش کہا جاتا تھا جو کہ آنحضرت(ص)   کے بارہویں جد امجد تھے۔

آپ کے چوتھے جد اعلیٰ حضرت قصیٰ بن کلاب کا شمار قبیلہ قریش کے سربرآوردہ افراد میں ہوتا تھا۔ انہوں نے ہی کعبہ کی تولیت اور کنجی قبیلہ ”خزاعہ“ کے چنگل سے نکالی تھی۔ انہوں نے ہی حرم کے مختلف حصوں میں اپنے قبیلے کے افراد کو آباد کیا اور کعبہ کی تولیت سنبھالی تھی۔(۲)

مورخ یعقوبی لکھتا ہے: قصیٰ بن کلاب وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے قبیلہ قریش کو عزت و آبرو مندی بخشی اور اس کی عظمت و ناموری کو آشکار کیا۔ قبیلہ قریش میں خاندانِ ہاشم سب سے زیادہ نجیب و شریف شمار ہوتا تھا۔

 

رسولِ خدا (ص)  کے آباؤ اجداد

مورخین نے آنحضرت کے آباؤ اجداد میں حضرت عدنان تک اکیس پشت کے نام بیان کیے ہیں اور ترتیب ذیل اسماء پر سب متفق الرائے ہیں۔

حضرت عبداللہ، حضرت عبدالمطلب، حضرت ہاشم، حضرت عبدمناف، حضرت قیس، حضرت کلاب، حضرت مرہ، حضرت کعب، حضرت لوی، حضرت غالب، حضرت مہر، حضرت مالک، حضرت نضر، حضرت کنانہ، حضرت خزیمہ، حضرت مدرکہ، حضرت الیاس، حضرت مضر، حضرت نزار، حضرت معد اور حضرت عدنان۔حضرت عدنان سے اوپر حضرت ابراہیم (ع) تک اور حضرت ابراہیم خلیل(ع)  سے حضرت آدم صفی اللہ(ع)  تک کی ترتیب کے بارے میں اختلاف ہے۔ اس سلسلے میں پیغمبر اکرم(ص)   کی روایت بھی بیان کی گئی ہے۔ اذا بلغ نسبی الی عدان فامسکوا

”جب میرے نسب کے بارے میں حضرت عدنان تک پہنچ جاؤ تو ٹھہر جاؤ۔“ اب ہم مختصر طور پر آپ کے آباؤ اجداد میں سے بعض کا حال بیان کریں گے۔

 

حضرت عبدمناف

حضرت قصیٰ کے عبدالدار، عبدمناف، عبدالعزی اور عبد قصیٰ چار فرزند تھے۔ جن میں حضرت عبدمناف سب سے زیادہ شریف اور محترم و بزرگ سمجھے جاتے تھے۔ حضرت عبدمناف کا اصل نام ”مغیرہ“ تھا۔ انہیں اپنے والد محترم کے نزدیک نیز لوگوں کے درمیان خاص مرتبہ حاصل تھا۔ وہ بہت زیادہ سخی اور وجیہ انسان تھے۔ اسی وجہ سے انہیں ”فیاض“ اور ”قمرالبطحا“ کے القاب سے نوازا گیا۔ پرہیزگاری، خوش خلقی، نیک چلن اور صلہ رحم جیسے اوصاف ان کی زندگی کا شعار تھے۔ ان کی نظر میں دنیوی مقامات و مراتب ہیچ تھے، مگر اہل انصاف لوگوں سے حسد بھی نہیں کرتے تھے۔ اگرچہ کعبہ کے تمام عہدے اور مناصب ان کے بھائی عبدالدار کے دست اختیار میں تھے مگر انہیں اپنے بھائی سے کوئی پرخاش نہیں تھی۔

 

حضرت ہاشم

حضرت قصیٰ کے فرزند مکہ سے متعلق معاملات اور کعبہ کی تولیت کا انتظام کسی اختلاف کے بغیر انجام دیتے رہے۔ مگر ان کی وفات کے بعد عبدالدار اور عبدمناف کے لڑکوں کے درمیان کعبہ کے عہدوں کے بارے میں اختلاف ہوگیا۔ بالآخرفیصلہ اس بات پر ہوا کہ کعبہ کی تولیت اور دارالندوہ کی صدارت عبدالدار کے فرزندوں کے پاس ہی رہے اور حاجیوں کو پانی پلانے نیز ان کی پذیرائی حضرت عبدمناف کے لڑکوں کی تحویل میں دے دی جائے۔ حضرت عبدمناف کے فرزندوں میں یہ عہد حضرت ہاشم کے سپرد کیا گیا۔

حضرت ہاشم اور ان کے بھائی عبدالشمس ایک ساتھ پیدا ہوئے تھے، پیدائش کے وقت دونوں کے بدن ایک دوسرے سے پیوست تھے۔ جس وقت انہیں ایک دوسرے سے جدا کیا گیا تو دونوں کا خون زمین پر بہہ گیا اور عربوں نے اس واقعہ کو سخت بدشگوفی خیال کیا۔اتفاق سے یہ بدشگوفی صحیح ثابت ہوئی اور حضرت ہاشم اور عبدالشمس کے لڑکوں میں ہمیشہ ہی کشمکش اور لڑائی رہی۔

عبدالشمس کا لڑکا امیہ پہلا شخص تھا جس نے حضرت ہاشم کی مخالفت شروع کی۔ اس نے جب فرزندانِ عبدمناف میں سے حضرت ہاشم میں عزت و شرف اور بزرگواری جیسے اوصاف پائے تو ان سے حسد کرنے لگا اور اپنے چچا کے ساتھ چشمک اور مخالفت پر اتر آیا۔ چنانچہ یہیں سے بنی ہاشم اور بنی امیہ کے درمیان مخالفت اور دشمنی شروع ہوئی، جو ظہورِ اسلام کے بعد بھی جاری رہی۔ حضرت ہاشم اس فرض کو انجام دینے میں جو ان کے ذمہ تھا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ جیسے ہی حج کا زمانہ شروع ہوتا تو وہ قبیلہ قریش کی پوری طاقت و قوت اور تمام وسائل اور امکانات کو حجاج بیت اللہ کی خدمت کے لیے بروئے کار لاتے، اور زمانہ حج کے دوران جس قدر پانی اور خوراک کی ضرورت ہوتی اسے فراہم کرتے تھے۔

لوگوں کی خاطرداری، مہمان نوازی اور حاجت مندوں کی مدد کرنے میں وہ بے مثال یکتائے زمانہ تھے، اسی وجہ سے انہیں ”سیدالبطحا“ کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔حضرت ہاشم کے پاس اونٹ کافی تعداد میں تھے، چنانچہ جس سال اہل مکہ قحط و خشک سالی شکار ہوئے تو انہوں نے اپنے بہت سے اونٹ قربان کر دیئے اور اس طرح لوگوں کے لیے کھانے کا سامان فراہم کیا۔

حضرت ہاشم نے جو اختراعات کیں اور نمایاں کام انجام دیئے ان میں سے ان کا ایک کارنامہ یہ بھی تھا کہ انہوں نے قریش کی محدود کاروباری منڈیوں کو جاڑوں اور گرمیوں کے موسم میں تجارتی سفروں کے ذریعے وسعت دی اور اس منطقے کی اقتصادی زندگی میں حرکت پیدا کی۔

حضرت ہاشم نے بیس یا پچیس سال کی عمر میں تجارتی سفروں کے درمیان ”غزہ“ نامی مقام پر انتقال کیا۔

 

حضرت عبدالمطلب

حضرت ہاشم کی وفات کے بعد ان کے بھائی ”مطلب“ کو قبیلہ قریش کا سردار مقرر کیا گیا، اور جب ان کی وفات ہوگئی تو ان کے فرزند حضرت ”شیبہ“ کو، کہ جنہیں لوگ عبدالمطلب کہتے تھے، قریش کی سرداری سپرد کی گئی۔ حضرت عبدالمطلب اپنے ذاتی کمالات و فضائل اور اوصاف کی بناء پر لوگوں میں بہت محبوب تھے اور خاص حیثیت کے مالک تھے۔ وہ عاجز اور مجبور لوگوں کے حامی اور ان کے پشت و پناہ تھے۔ ان کی جود و بخشش کا یہ عالم تھا کہ ان کے دستر خوان سے صرف انسان ہی نہیں بلکہ پرندے اور حیوانات بھی فیضیاب ہوتے تھے، اسی وجہ سے انہیں ”فیاض“ کا لقب دیا گیا تھا۔

رسولِ خدا (ص)   کے دادا بہت ہی دانشمند و بردبار شخص تھے۔ وہ اپنی قوم کے لوگوں کو اخلاق کی بلندی، جور و ستم سے کنارہ کشی، برائیوں سے بچنے اور پست باتوں سے دور رہنے کی تعلیم دیتے تھے۔ ان کا یہ قول تھا کہ ظالم آدمی اپنے کیے کی سزا اسی دنیا میں پاتا ہے اور اگر اسے اپنے کیے کا بدلہ اس دنیا میں نہیں ملتا تو آخرت میں یہ صلہ اسے ضرور ملے گا۔

اپنے اس عقیدے کی بنا پر انہوں نے اپنی زندگی میں نہ کبھی شراب کو ہاتھ لگایا، نہ کسی بے گناہ کو قتل کیا اور نہ ہی کسی برے کام کی طرف رغبت کی، بلکہ اس کے برخلاف نیک کاموں کی ایسی روایات قائم کیں جن کی دین اسلام نے بھی تائید کی۔ ان کی قائم کردہ بعض روایات درج ذیل ہیں:

 باپ کی کسی زوجہ کو بیٹے کے لیے حرام کرنا۔   مال و دولت کا ہر سال پانچواں حصہ (خمس) راہ خدا میں خرچ کرنا۔   چاہ زمزم کا ”سقایتہ الحاج“ نام رکھنا۔  قتل کے بدلے سو اونٹ بطور خون بہا ادا کرنا۔   کعبہ کے گرد سات مرتبہ طواف کرنا۔ تاریخ کی کتابوں میں ان کی قائم کردہ دیگر روایات کا بھی ذکر ملتا ہے۔ ان میں سے چند یہ ہیں: منت مان لینے کے بعد اسے پورا کرنا، چور کا ہاتھ کاٹنا، لڑکیوں کے قتل کی ممانعت اور مذمت، شراب و زنا کو حرام قرار دینے کا حکم جاری کرنا اور برہنہ ہو کر کعبہ کا طواف نہ کرنا وغیرہ۔

 

واقعہ عام الفیل

حضرت عبدالمطلب کے عہد میں جو اہم واقعات رونما ہوئے ان میں سے ایک واقعہ ”عام الفیل“ تھا۔ اس واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ یمن کے حکمران ابرہہ نے اس ملک پر اپنا تسلط برقرار کرنے کے بعد یہ محسوس کیا کہ اس کی حکومت کے گرد و نواح میں آباد عرب کی خاص توجہ کعبہ پر مرکوز ہے اور وہ ہر سال کثیر تعداد میں اس کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔  اس نے سوچا کہ عربوں کا یہ عمل اس کے نیز ان حبشی لوگوں کے لیے جو یمن اور جزیرہ نما عرب کے دیگر مقامات پر آباد ہیں کوئی مصیبت پیدا نہ کر دے۔ چنانچہ اس نے یمن میں ”قیس“ نام کا بہت بڑا گرجا تیار کیا اور تمام لوگوں کو وہاں آنے کی دعوت دی تاکہ کعبہ جانے کی بجائے لوگ اس کے بنائے ہوئے کلیسا میں زیارت کی غرض سے آئیں۔ اس کے اس اقدام کو لوگوں نے ناپسند ہی نہیں کیا بلکہ بعض نے تو اس کے کلیسا کی بے حرمتی بھی کی۔ لوگوں کے اس رویے سے ابرہہ کو سخت طیش آ گیا اور اس نے فیصلہ کیا کہ ان کے اس جرم کی پاداش میں کعبہ کا وجود ہی ختم کر دے گا۔ اس مقصد کے تحت اس نے عظیم لشکر تیار کیا جس میں جنگجو ہاتھی پیش پیش تھے۔ چنانچہ پورے جنگی ساز و سامان سے لیس ہو کر وہ مکہ کی جانب روانہ ہوا۔ سردار قریش حضرت عبدالمطلب اور دیگر اہل شہر کو جب ابرہہ کے ارادے کا علم ہوا تو انہوں نے شہر خالی کر دیا اور نتیجے کا انتظار کرنے لگے۔ جنگی ساز و سامان سے لیس اور طاقت کے نشے میں چور جب ابرہہ کا لشکر کعبہ کی طرف بڑھا تو ابابیل جیسے پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ اپنی منقاروں اور پنجوں میں کنکریاں لے کر اس کے لشکر پر چھا گئے اور انہیں ان پر برسانا شروع کر دیا، جس کی وجہ سے ان کے جسم ایسے چور چور ہو گئے جیسے چبایا ہوا بھوسا۔ یہ واقعہ بعثت سے چالیس سال قبل پیش آیا، چنانچہ عربوں نے اس واقعے سے ہی اپنی تاریخ شروع کر دی جو رسول خدا (ص)   کے مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کے عہد تک جاری رہی اور واقعات اسی سے منسوب کیے جانے لگے۔

 

قابل ذکر باتیں

ابرہہ کا حملہ اگرچہ مذہبی محرک کا ہی نتیجہ تھا مگر اس کا سیاسی پہلو یہ تھا کہ سرزمین عرب پر سلطنت روم کا غلبہ ہو جائے اس لیے اس کی اہمیت مذہبی پہلو سے کسی طرح بھی کم نہ تھی۔ ابرہہ کا مکہ اور حجاز کے دیگر شہروں پر قابض ہو جانا سیاسی اور اقتصادی اعتبار سے روم جیسی عظیم طاقت کی اہم فتح و کامرانی تھی، کیونکہ یہی ایک ایسا طریقہ تھا جسے بروئے کار لا کر شمال عرب کو جنوب عرب سے متصل کیا جا سکتا تھا۔ اس طرح پورے جزیرہ نما عرب پر حکومت روم کا غلبہ و تسلط ہوسکتا تھا۔ نیز اس کا استعمال ایران پر حملہ کرنے کے لیے فوجی چھاؤنی کے طور پر کیا جا سکتا تھا۔

خداوند تعالی کے حکم سے معجزہ کی شکل میں ابرہہ کے لشکر کی جس طرح تباہی و بربادی ہوئی اس کی تائید قرآن مجید اور اھل بیت علیہم السلام کی ان روایات سے ہوتی ہے جو ہم تک پہنچی ہیں۔ قرآن مجید کے سورہ فیل میں ارشاد ہے:

الم تر کیف فعل ربک باصحاب الفیلoالم یجعل کیدھم فی تضلیل وارسل علیھم طیرا ابابیلoترمیھم بحجارة من سجیل فجعلھم کعصف ماکونo

”تم نے دیکھا کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا اس نے ان کی تدبیر کو اکارب نہیں کر دیا اور ان پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیئے، جو ان پر پتھر پھینک رہے تھے، پھر ان کا یہ حال کر دیا جیسے (جانوروں) کا کھایا ہوا بوسا۔“

جو لوگ اس واقعہ کی توجیہ پیش کرتے ہیں کہ اس سال مکہ چیچک کی بیماری ابرہہ کے سپاہیوں میں مکھیوں اور مچھروں کے ذریعے پھیلی اور ان کی ہلاکت کا باعث ہوئی، بعض وہ مسلمان جو خود کو روشن فکر خیال کرتے ہیں وہ بھی مغرب کے مادہ پرستوں کے ہم خیال ہوگئے ہیں، قابل افسوس بات تو یہ ہے کہ بعض مسلم مورخین اور مفسرین بھی اس مغرب پرستی کا شکار ہوگئے ہیں۔

ابرہہ کے لشکر کی شکست اور خانہ کعبہ کو گزند نہ پہنچنے کے باعث قریش پہلے سے بھی زیادہ مغرور و متکبر ہو گئے چنانچہ حرام کاموں کے کرنے، اخلاقی پستیوں کی جانب جانے اور ان لوگوں پر ظلم و ستم روا رکھنے میں جو حرم کے باہر آباد تھے ان کی گستاخیاں اور دراز دستیاں پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئیں۔ وہ برملا کہنے لگے کہ ہم ہی آل ابراہیم ہیں، ہم ہی پاسبان حرم ہیں، ہم ہی کعبہ کے اصل وارث ہیں، ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ جاہ و مرتبت میں عربوں کے درمیان کوئی ہمارا ہم پلہ نہیں ہے۔

ان نظریات کی بناء پر انہوں نے حج کے بعض احکام جو حرم کے باہر انجام دیئے جاتے ہیں جیسے عرفہ میں قیام، قطعی ترک کر دیئے۔ ان کا حکم تھا کہ ان زائرین بیت اللہ کو جو حج یا عمرہ کی نیت سے آتے ہیں یہ حق نہیں ہے کہ اس کھانے کو کھائیں جسے وہ اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ یا اپنے کپڑے پہن کر خانہ کعبہ کا طواف کریں۔

 

حضرت عبداللہ

حضرت عبدالمطلب کے سب سے چھوٹے بیٹے حضرت عبداللہ تھے کہ جنہیں رسول خدا کے والد ہونے کا فخر حاصل ہوا ۔ وہ حضرت ابوطالب یعنی امیر المومنین علی علیہ السلام کے والد اور زبیر ایک ہی ماں یعنی حضرت فاطمہ کے بطن سے تھے۔ حضرت عبداللہ کی اپنے والد کی نظروں میں دوسرے بھائیوں کے مقابل زیادہ قدر و منزلت تھی، جس کی وجہ ان کے ذاتی اوصاف اور معنوی کمالات تھے۔ اس کے علاوہ دانشوروں اور کاہنوں نے بھی یہ پیشین گوئی کی تھی کہ ان کی نسل سے ایسا فرزند پیدا ہوگا جسے پیغمبری کے لیے منتخب کیا جائے گا۔ اس خوشخبری کی تائید و تصدیق اس خاص تابانی سے ہوتی تھی جو حضرت عبداللہ کے چہرے سے عیاں تھی۔ حضرت عبدالمطلب نے اپنے جواں سال فرزند حضرت عبداللہ کے لیے طائفہ بنی زہرہ کے سردار حضرت وہب بن عبدمناف کی دختر نیک اختر حضرت آمنہ سے رشتہ مانگا۔ اور انہیں اپنے فرزند دلبند کے حبالہ نکاح میں لے آئے۔ اس شادی خانہ آبادی کا حاصل و ثمرہ حضرت محمد (ص)    کا وجود مسعود تھا اور یہی وہ ذات گرامی ہے جسے بعد میں خاتم الانبیاء کہا گیا۔  حضرت آمنہ سے شادی کرنے کے بعد حضرت عبداللہ تجارتی قافلے کے ہمراہ سفر پر روانہ ہوئے۔ سفر سے واپسی پر شہر یثرب میں بیمار ہو گئے اور اس بیماری کی وجہ سے وہیں ان کا انتقال ہو گیا اور اسی شہر میں انہیں دفن کیا گیا۔

حضرت خواجہ غریب نواز  (رح) فرماتے ہیں:

 

حضرت خواجہ غریب نواز  (رح) فرماتے ہیں:

 

 

 ٹايٹل

 

حضرت امام حسین علیہ السلام کے ارشادات

 

1-  قال الامام الحسین علیہ السلام: ” یا اعرابی نحن قوم لا نعطی المعروف الا علی قدر المعرفة “

امام الحسین علیہ السلام نے فرمایا:” ہم اہل بیت بخشش نہیں کرتے مگر لوگوں کی معرفت کے مطابق“۔

2- قال علیه السلام : ” ان اجود الناس من اعطی من لا یرجوه “

 فرمایا: ” سب سے بڑا سخی وہ انسان ہے جو کسی ایسے کو عطا کرے جس سے کسی قسم کی توقع نہ ہو “

3- قال علیه السلام: ” ان اعفیٰ الناس من عفا عن قدرة “

 فرمایا:” سب سے بڑا عفو کرنے والا انسان وہ ہے جو قدرت ہونے کے باوجود معاف کر دے “ ۔

4-  قال علیه السلام: ” ان اوصل الناس من وصل من قطعه“

فرمایا: ” سب سے زیادہ صلہٴ رحم کرنے والا انسان وہ ہے جو قطع رحم کرنے والوں سے تعلقات قائم کرے “ ۔

5-  قال علیه السلام: ” من نفس کربة مومن فرج اللہ عنه کرب الدنیا و الاخرة “

فرمایا: ” جو کسی مومن کے کرب و غم کو دور کرے ،خدا اسکے دنیا و آخرت کے غم و اندوہ کو دور کرے گا “۔

6- قال علیه السلام: ” موت فی عز خیر من حیات فی ذل “

فرمایا:” ذلت کی زندگی سے عزت کی موت کہیں بہتر ہے “ ۔

7- قال علیه السلام: ” ان حوائج الناس الیکم من نعم اللہ علیکم فلا تملوا النعم فتحور نقما“

فرمایا: ” خدا کی نعمتوں میں سے ایک، لوگوں کو تمہارے پاس حاجت کے لئے آنا ہے پس اس نعمت پر حزن و ملال محسوس نہ کرو ورنہ یہ نعمت ، نقمت میں تبدیل ہو جائیگی “۔

8- قال علیه السلام: ” ایها الناس من جاد ساد ، و من بخل رذل “

فرمایا:” لوگو! جود و سخاوت کرنے والا سردارقرار پاتا ہے ، اور بخل کرنے والا پستی میں ڈوب گیا“۔

9- قال علیه السلام: ”ان المومن لا یسئی و لا یعتذر والمنافق کل یوم یسئی و یعتذر “

فرمایا:” مومن نہ برائی کرتا ہے نہ ہی عذر  پیش کرتا ہے جب کہ منافق ہر روز برائی کرتا ہے اور ہر روز معذرت خواہی کرتا ہے“ ۔

10 - قال علیه السلام: ” من احبک نهاک و من ابغضک اغراک “

 فرمایا: ”دوست وہ ہے جو تمہیں برائی سے بچائے دشمن وہ ہے جو تمہیں برائیوں کی ترغیب دلائے“۔

11- قال علیه السلام:  ” انی لا اری الموت الا سعادة ولا الحیاة مع الظالمیں الابرما “

فرمایا:  ” میں موت کو سعادت اور ظالموں کے ساتھ زندگی کو لائق ملامت سمجھتا ہوں “ ۔

حج

حج کے سیاسی پھلو سے غفلت

   

(( حج کے تمام پھلوؤں میں سے سب سے زیادہ غفلت اور لا پرواھی کا شکار ان عظیم مناسک کا سیاسی پھلو ھے ۔ خیانت کاروں کی سب سے زیادہ فعالیت اس امر سے غافل کرنے میں رھی ھے اور رھے گی کہ اس کا یہ پھلو کسی گوشے میں مقید ھو جائے ۔ آج کے دور میں کہ جب دنیا میں جنگل کا قانون چل رھا ھے ،مسلمان گذشتہ زمانوں کی نسبت زیادہ ذمہ دار ھیں کہ وہ اس پھلو کے بارے میں اظھار کریں اور اس سے متعلق ابھامات دور کریں  کیونکہ بین الاقوامی بازی گر مسلمانوں کو غفلت میں ڈال کر انھیں پسماندہ رکہ کر نیز مفاد پرست حکمراں ، نادان اور غفلت زدہ افراد ، درباری و کج فھم مُلا اور جاھل عابد سب دانستہ و غیر دانستہ مل کر اس تقدیر ساز اور مظلوموں کے نجات دھندہ پھلو کو ختم کرنے کے در پے ھیں ۔

فرض شناس ، بیدار اور دل سوز افراد اسلام کی غربت کے پیش نظر اور احکام اسلام سے اس سیاسی پھلو کے متروک ھو جانے کے خطرے کے پیش نظر ، خصو صاً حج کے دوران کہ جھاں یہ پھلوزیادہ نمایاں اور ظاھر ھے ، اٹہ کھڑے ھوں اور قلم ،بیان ، گفتار اور تحریر کے ذریعے جد و جھد کریں ۔ حج کے ایام میں اس کی زیادہ کوشش کریں کیونکہ ان مراسم کے اختتام پر دنیا کے مسلمان جب اپنے شھروں اور علاقوں کی طرف لوٹتے ھیں تو وہ اس عظیم پھلو کو مد نظر رکھتے ھوئے وھاں کے مسلمانوں اور دنیا کے مظلوموں کو بیدار کر سکتے ھیں ۔ امن کے دعویدار ستمگروں کے روز افزوں ظلم سے نجا ت حاصل کرنے کے لئے انھیں حرکت اور انقلاب کےلئے تیار کر سکتے ھیں ۔

یہ بات اظھر من الشمس ھے کہ اگر اس عظیم عالمی اجتماع میں کہ جھاں  اسلامی اقوام کے مظلوم اورھر مذھب ، قوم ، زبان ، فرقے ، رنگ اور جغرافیہ سے تعلق رکھنے والے تمام طبقات ایک جیسے لباس میں ھر قسم کے تصنع اور بناوٹ سے پاک ھو کر اکٹھے ھوتے ھیں،اسلام اور مسلمانوں اور دنیا کے تمام مظلوموں کے بنیادی مسائل حل نہ ھوں اور ظالم و جابر حکومتوں سے نجات پانے کی کوئی سبیل نہ کی جائے تو پھر چھوٹے علاقائی اور لوکل اجتماعات سے کچہ نہ بن پڑے گا اور کوئی ھمہ گیر راہ حل ھاتہ نہ آئے گا ۔ )) 

                                                                       ( امام خمینی "رح" )

خبر نویسی

 

بر صغیر میں خبر نویسی کا آغاز

 

 

بر صغیر میں خبر نویسی کا آغاز:

قدیم ہندوستان میں خبر رسانی و خبر نویسی کا ایک خاص طریقہ تها- ہر گاؤں سے خبریں اکٹهی کر کے بادشاه وقت تک پہنچانے کا انتظام تها- مورخین کے بقول اشوک کے عہد سے قبل ہر گاؤں میں سرکاری نامہ نگار مقرر کیا گیا تها- ان کی کارکردگی کی دیکه بال کرنے کے لئے ہر دس گاؤں پر ایک، ہر بیس گاؤں پر ہر سو گاؤں پر اور ہر ہزار گاؤں ایک صدر راجہ مقرر تها- گاؤں کا نامہ نگار چوہدری کہلاتا تها- جو اپنے گاؤں کا نیک و بد کا پتہ دس گاؤں کے صدر تک پہنچاتا- یوں یہ خبر بغیر تاخیر بیس گاؤں کے صدر پهر گاؤں کے صدر اور آخر میں صدر راجہ تک پہنچتی- صدر راجہ اس خبر کی تصدیق کرنے کے بعد شہنشاه تک پہنچاتا-

ان دنوں چونکہ مطبع خانے نہیں تهے اور نہ ہی کاغذ ایجاد ہوا تها- اس لئے اہم اعلانات و خبروں کو بڑے بڑے ستونوں اور چٹانوں پر لکهے جاتے تهے- پهر ان کی جگہ تانبے کی چاروں نے لے لی-

اشوک کں دور میں خبر نویسی اور خبر رسانی کو ترقی ملی- اس عںد میں خبر نگاروں سے خفیہ کام لینے اور باغیانہ حرکات کی اطلاع کرنے کں لئے جاسوسی کا کام بهی لیا جانے لگا- ہر گاؤں کا چودہری صدر دفتر کو اپنے علاقہ کی ہفتہ وار رپورٹ بهیجنے کا پابند تها- ان کے علاوه ہر گاؤں میں خفیہ طور پر خفیہ نویس بهی تعینات تهے جس کہ ذمہ گاؤں کے چودہری کے علاوه دیگر نوعیت کی خفیہ حرکات کی اطلاع صدر کو بلاتاخیر بهجوانا تها-

محمد تغلق نے اس نظام کو ترقی دیتے ہوئے اس شعبہ کا نام محکمہ ڈاک رکه دیا- یہ محکمہ صرف خبر رسانی کاکام کرتا تها- خبر کے تاخیر سے پہنچنے کی معقول وجہ نا بتانے پر ہر کاره کو سخت ترین سزائیں بهی دی جاتی تهیں- اس نظام کو مزید بہتر بنانے کے لئے شیر شاه سوری نے رابطہ سڑکوں کی تعمیر کا آغاز کیا- سرائیں بنوائیں، ہر سرائے میں ڈاک چوکی بنائی- ڈاک کی تیز رفتاری کی ترسیل کے لئے ہر اسٹیشن پر دو گهوڑے رکهے گئے-

شیر شاه سوری موصول ہونں والی خبروں کی اہمیت کں اعتبار سں مناسب حکم جاری کرتں- جہاں ضروری سمجهتا خود اس علاقہ میں پہنچ کر واقعہ کی چهان بین بهی کرتا- اگر خبر نویس یا وقائع نگار سے ارادتا یا سہوا غلطی سر زد ہو جاتی تو پهانسی سے کم سزا مقرر نہ تهی-

مغلوں کے دور حکومت میں اس اداره کی ترقی کی طرف خصوصی توجہ دی گئی خبر نگاروں کہ علاوه خفیہ نویس تعینات کئے گئے- سوانح نگار اہم خبروں کو تفضیل سں لکهتں- خفیہ نویس کا تعلق صرف صیغہ راز سے تها جو اپنی رپورٹ و خبریں براه راست صدر دفتر کو روانہ کرنے کا پابند تها- خفیہ نویس کی تقرری اس حد تک خفیہ ہوتی کہ مقامی انتظامیہ کو بهی معلوم نہ ہوتا کہ یہاں کا خفیہ نویس کون ہے؟

وقایع نگار، سوانح نگار، خفیہ نویس اور ہر کاروں کی خبریں سب سے پہلے داروغہ ڈاک چوکی کے پاس آتیں- داروغہ ڈاک بطور افسر اطلاعات کام کرتا ہے- یہ ان چاروں افراد کی خبروں کا مفصل مطالعہ کرتا اگر ذره برابر فرق ہو تا تو قصور وار کو سزا دیتا-

 

اسلامک یونیورسٹی غزہ

 

اسلامک یونیورسٹی غزہ

 

تحریر :  سید اسداللہ ارسلان

اسلامک یونیورسٹی غزہ  ایک آزاد تعلیمی ادارہ ہے  جو فلسطینی ریاست میں واقع ہے ۔ یہاں پر مختلف شعبوں میں تحقیق اور تدریس کے  مناسب مواقع فراہم کیۓ  گۓ ہیں ۔ یہ ادارہ چار  ایسوسی ایشنز کا رکن بھی ہے ۔ ان کے نام درج ذیل ہیں ۔

1۔  انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف یونیورسٹیز

2۔ کمیونٹی آف میڈٹیرانیین  یونیورسٹیز

3۔ ایسوسی ایشن آف عرب یونیورسٹیز

4۔ ایسوسی ایشن آف اسلامک یونیورسیٹیز

یہ ادارہ فلسطینی معاشرے  میں پروفیشنل معیار اور اصولوں کا حامل ایک اچھا تعلیمی اور ثقافتی ادارہ بننے کی پوری کوشش کر رہا ہے ۔ اس ادارے کی یہ بھرپور کوشش ہے کہ غزہ کی پٹی میں رہنے والے طالب علموں کا تعلیمی معیار ایک حد تک بلند کیا جاۓ ۔ یہاں پر طالب علموں کو سائنسی میدان میں تحقیق کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے تاکہ وہ جدید علوم سے آراستہ ہوں ۔ یہ ادارہ فلسطینی معاشرے کی تعمیر وترقی میں بھرپور شرکت کر رہا ہے ۔  یہاں پر طالب علموں کی خداداد صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیۓ  بھرپور کوشش کی جاتی ہے ۔ اس ادارے کو بیرونی ممالک کی یونیورسٹیوں سے بھی متصل  کیا  گیا ہے تاکہ اس نزدیکی تعاون سے  مقامی طالب علم آ‎سانی سے دنیا کی جدید یونیورسٹیوں میں  ہونے والی جدید تحقیق سے آگاہ رہیں اور ان کے طرز  تدریس و تحقیق سے مستفید  ہوتے رہیں ۔

مزید معلومات کے لیۓ براۓ مہربانی یونیورسٹی کی ویب سائٹ سے رجوع کریں ۔

اسلامک یونیورسٹی غزہ کی ویب سائٹ : http://www.iugaza.edu.ps

توحید و خلقت عالم حضرت علی (ع) کی نظر میں

 

توحید و خلقت عالم حضرت علی (ع) کی نظر میں

  

(آپ (ع) کے خطبہ کا ایک حصہ)

 

((ساری تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس کی مدحت تک بولنے والوں کے تکلم کی رسائی نہیں ہے او ر اس کی نعمتوں کوگننے والے شمار نہیں کر سکتے ہیں۔ اس کے حق کو کوشش کرنے والے بھی ادا نہیں کر سکتے ہیں۔ نہ ہمتوں کی بلندیاں اس کا ادراک کرسکتی ہیں اور نہ ذہانتوں کی گہرائیاں اس کی تہ تک جا سکتی ہیں۔ اس کی صفت ذات کے لئے نہ کوئی معین حد ہے نہ توصیفی کلمات۔ نہ مقررہ وقت ہے اور نہ آخری مدت۔اس نے تمام مخلوقات کو صرف اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کیا ہے اور پھر اپنی رحمت ہی سے ہوائیں چلائی ہیں اور زمین کی حرکت کو پہاڑوں کی میخوں سے سنبھال کر رکھا ہے۔

 

دین کی ابتداء اس کی معرفت سے ہے اور معرفت کا کمال اس کی تصدیق ہے۔ تصدیق کا کمال توحید کا اقرار ہے اور توحید کا کمال اخلاص عقیدہ ہے اور اخلاص کا کمال زائد بر ذات صفات کی نفی ہے‘ کہ صفت کا مفہوم خود ہی گواہ ہے کہ وہ موصوف سے الگ کوئی شے ہے اورموصوف کا مفہوم ہی یہ ہے کہ وہ صفت سے جدا گانہ کوئی ذات ہے۔اس کے لئے الگ سے صفات کا اثبات ایک شریک کا اثبات ہے اور اس کا لازمی نتیجہ ذات کا تعدد ہے اور تعدد کا مقصد اس کے لئے اجزاء کا عقیدہ ہے اوراجزاء کا عقیدہ صرف جہالت ہے معرفت نہیں ہے اور جو بے معرفت ہو گیا اس نے اشارہ کرنا شروع کردیا اور جس نے اس کیطرف اشارہ کیا اس نے اسے ایک سمت میں محدود کردیا اورجس نے محدود کردیا اس نے اسے گنتی کا ایک شمار کرلیا( جو سراسر خلاف توحید ذات ہے)

 

جس نے یہ سوال اٹھایا کہ وہ کس چیز میں ہے اس نے اسے کسی کے ضمن میں قرار دے دیا اور جس نے یہ کہا کہ وہ کس کے اوپر قائم ہے اسنے نیچے کا علاقہ خالی کرا لیا۔ اس کی ہستی حادث نہیں ہے اور اس کا وجودعدم کی تاریکیوں سے نہیں نکلا ہے ۔ وہ ہر شے کے ساتھ ہے لیکن مل کرنہیں ‘ اور ہر شے سے الگ ہے لیکن جدائی کی بنیاد پر نہیں۔ وہ فاعل ہے لیکن حرکات و آلات کے ذریعہ نہیں اور وہ اس وقت بھی بصیر تھا جب دیکھی جانے والی مخلوق کا پتہ نہیں تھا۔ وہ اپنی ذات میں بالکل اکیلا ہے اور اس کا کوئی ایسا ساتھی نہیں ہے جس کو پا کر انس محسوس کرے اور کھو کر پریشان ہو جانے کا احسان کرے۔

 

اس نے مخلوقات کو از غیب ایجاد کیا اور ان کی تخلیق کی ابتدا کی بغیر کسی فکر کی جو لانی کے اور بغیر کسی تجربہ سے فائدہ اٹھائے ہوئے یا حرکت کی ایجاد کئے ہوئے یا نفس کے افکار کی الجھن میں پڑے ہوئے ۔

تما م اشیاء کو ان کے اوقات کے حوالے کردیا اور پھر ان کے اختلاف میں تناسب پیدا کردیا سب کی طبیعتیں مقرر کر دیں اور پھر انہیں شکلیں عطا کردیں۔اسے یہ تمام باتیں ایجاد کے پہلے سے معلوم تھیں اور وہ ان کے حدود اور ان کی انتہا کو خوب جانتا تھا۔ اسے ہرشے کے ذاتی اطراف کا بھی علم تھا اوراس کے ساتھ شامل ہو جانے والی اشیاء کا بھی علم تھا۔

اس کے بعد اس نے فضا کی وسعتیں۔اس کے اطراف واکناف اور ہواؤں کے طبقات ایجاد کئے اور ان کے درمیان وہ پانی بہا دیا جس کی لہروں میں تلاطم تھا اور جس کی موجیں تہ بہ تہ تھیں اور اسے ایک تیز و تند ہوا کے کاندھے پر لاد  دیا اور پھر ہوا کو الٹنے پلٹنے اور روک کر رکھنے کا حکم دے دیا اور اس کی حدوں کو پانی کی حدوں سے یوں ملا دیا کے نیچے ہوا کی وستعیں تھیں اور اوپر پانی کا طلاطم۔

 

اس کے بعد ایک اور ہوا ایجاد کی جس کی حرکت میں کوئی تولیدی صلاحیت نہیں تھی اور اسے مرکز پر روک کراس کے جھونکوں کو تیز کردیا اور اس کے میدان کو وسیع تر بنا دیا اور پھراسے حکم دیدیا کہ اس بحر زخار کو متھ ڈالے اور موجوں کو الٹ پلٹ کردے۔ چنانچہ اس نے سارے پانی کو ایک مشکیزہ کی طف متھ ڈالا اوراسے فضائے بسیط میں اس طرح لے کرچلی کہ اول کو آخر پر الٹ دیا اور ساکن کو متحرک پر پلٹ دیا اور اسکے نتیجہ میں پانی کی ایک سطح بلند ہوگئی اور اس کے اوپر ایک جھاگ کی تہہ بن گئی۔پھر اس جھاگ کو پھیلی ہوئی ہوا اور کھلی ہوئی فضا میں بلند کردیا اوراس سے سات آسمان پیدا کردئیے جس کی نچلی سطح ایک ٹھہری ہوئی موج کی طرح تھی اور اوپر کا حصہ ایک محفوظ سقف اوربلند عمارت کے مانند تھا۔ نہ اس کا کوئی ستون تھا جو سہارا دے سکے اور نہ کوئی بندھن تھا جو منظم کر سکے ۔

پھر ان آسمانوں کو ستاروں کی زینت سے مزین کیا اور ان میں تابندہ نجوم کی روشنی پھیلا دی اور ان کے درمیان ایک ضوفگن چراغ اور ایک روشن ماہتاب رواں کردیا جس کی حرکت ایک گھومنے والے فلک اور ایک متحرک چھت اور جنبش کرنے والی تختی میں تھی۔

 

پھر اس نے بلند ترین آسمانوں کے درمیان شگاف پیدا کئے اور انہیں طرح طرح کے فرشتوں سے بھر دیا جن میں سے بعض سجدہ میں ہیں تو رکوع کی نوبت نہیں آتی ہے اور بعض رکوع میں ہیں تو سر نہیں اٹھاتے ہیں اور بعض صف باندھے ہوئے ہیں تو اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتے ہیں بعض مشغول تسبیح ہیں تو خستہ حال نہیں ہوتے ہیں سب کے سب وہ ہیں کہ ان کی آنکھوں پر نیند کا غلبہ ہوتا ہے اورنہ عقلوں پر سہوو نسیان کا۔ نہ بدن میں سستی پیدا ہوتی ہے اور نہ دماغ میں نسیان کی غفلت۔

ان میں سے بعض کو وحی کا امین اور رسولوں کی طرف قدرت کی زبان بنایا گیا ہے جو اس کے فصیلوں اور احکام کو برابر لاتے رہتے ہیں اور کچھ اس کے بندوں کے محافظ اور جنت کے دروازوں کے دربان ہیں اور بعض وہ بھی ہیں جن کے قدم زمین کے آخری طبقہ میں ثابت ہیں اور گردنیں بلند ترین آسمانوں سے بھی باہرنکلی ہوئی ہیں۔ان کے اطراف بدن اقطار عالم سے وسیع تر ہیں اور ان کے کاندھے پایہ ہائے عرش کے اٹھانے کے قابل ہیں۔ان کی نگاہیں عرش الٰہی کے سامنے جھکی ہوئی ہیں اوروہ اس کے نیچے پروں کو سمیٹے ہوئے ہیں۔ان کے اور دیر مخلوقات کے درمیان عزت کے حجاب اور قدرت کے پردے حائل ہیں۔ وہ اپنے پروردگار کے بارے میں شکل و صورت کا تصور بھی نہیں کرتے ہیں اور نہ اس کے حق میں مخلوقات کے صفات کو جاری کرتے ہیں۔ وہ نہ اسے مکان میں محدود کرتے ہیں اور نہ اس کی طرف اشباہ ونظائر سے اشارہ کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔))

 

 

(اداریہ)

 

عالمی یوم القدس

 

(اداریہ)

 

ارض فلسطین انبیاء کی سرزمین بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اوّل اس وقت غاصب صہیونی ریاست کے قبضے میں ہے.مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کے ان اساسی اور بنیادی مسائل میں سے ایک ہے جس نے گزشتہ کئی عشروں سے امت مسلمہ کو بے چین کررکھا ہے ۔ ارض فلسطین جسے انبیاء کی سرزمین کہا جاتا ہے اور بیت المقدس جو مسلمانوں کا قبلہ اوّل ہے اس وقت سے غاصب صہیونی ریاست کے قبضے میں ہے جب سے ایک عالمی سازش کے تحت برطانیہ اوراسکے ہم نواؤں کی کوششوں سے دنیا بالخصوص یورپ کے مختلف علاقوں سے متعصب یہودیوں کو فلسطین کی زمین پر بسایا گیا ۔ صہیونیوں کے اس سرزمین پر آتے ہی وہاں کے مقامی فلسطینی باشندوں کو کنارے لگادیا گیا اور آہستہ آہستہ فلسطینیوں پر ظلم و ستم اس سطح پر پہنچ گئے کہ فلسطینیوں کو اپنے ہی ملک میں تیسرے درجے کا شہری بننا پڑا یا مجبور ہوکر انہیں ترک وطن کرنا پڑا ۔فلسطین کا مسئلہ شروع میں تو ایک علاقائی مسئلہ رہا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فلسطین کی مخلص اور مجاہد قیادت کو یہ ادراک ہونے لگا کہ دشمن صرف زمین اور علاقائی مسئلہ سمجھ کر فلسطین پر قابض نہیں ہونا چاہتا بلکہ اس کے پیچھے دینی اور نظریاتی مسائل ہیں ۔ فلسطین کے مسئلے کے حل کے لئے گزشتہ چھ عشروں میں کئی کوششیں ہوئیں ایک دور تھا کہ فلسطین میں یاسرعرفات کا طوطی بولتا تھا اور فلسطین اور فلسطینیوں کی قسمت کا فیصلہ پی ایل او اور یاسر عرفات کے ہاتھوں میں تھا۔ پی ایل او نے شروع میں تو انقلابی نعروں کے ساتھ بیت المقدس کی آزادی اور فلسطین کی تمام سرزمینوں کی غاصب صہیونیوں سے آزادی کےلئے صدائے احتجاج بلند کی لیکن یاسرعرفات کے یہ افکار و نظریات بہت جلد سازش اور سازباز کا شکار ہوگئے اور وہ بھی دوسرے عرب سربراہوں کی طرح فلسطینیوں کی زبان بولنے کی بجائے امریکہ اور مغرب کی زبان بولنے لگے اور بالآخر صورتحال یہاں تک پہنچ گئی کہ فلسطینیوں کا ایک بڑا حلقہ یاسرعرفات کو فلسطینی کاز کا خائن قرار دینے لگا ۔ یاسرعرفات ، پی ایل او اور الفتح تنظیم کی انہی سرگرمیوں کے درمیان اسلامی انتفاضہ کا آغاز ہوا اسّی کے آخری عشرے میں مسئلہ فلسطین علاقائی مسئلے سے ایک دینی اور مذہبی مسئلے میں تبدیل ہوگیا ۔ نئے نئے فلسطینی گروپ میدان میں آئے اور بالآخر حماس کی صورت میں ایک فلسطینی گروہ  فلسطینیوں کی حقیقی آواز میں بدل گیا ۔امام خمینی (رح) ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی سے پہلے ہی فلسطین کے مسئلے کو مسلمانوں کا اہم ترین مسئلہ گردانتے تھے آپ نے انقلاب کی کامیابی سے پہلے بھی فلسطین کے حوالے سے امت مسلمہ کی بیداری کے لئے کئی اقدامات انجام دیئے ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد تہران میں فوری طور پر اسرائیل کا سفارتخانہ ختم کرکے فلسطین کا سفارتخانہ قائم کیا گیا اور فلسطین کے مسئلے کے حل اور بیت المقدس کی آزادی کے لئے نئی انقلابی حکومت نے فلسطینی قوم کی ہر طرح کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی امداد کرنے کااعلان کیا اسی دوران امام خمینی (رح) کی دور اندیش قیادت نے فلسطین کے مسئلے کو عالمی اور تمام امت مسلمہ کا مشترکہ مسئلہ قرار دینے کے لئے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو دنیا بھرمیں فلسطینی مظلوموں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے یوم القدس منانے کا اعلان کیا جمعۃ الوداع کے دن یوم القدس منانے کے اعلان نے دنیا بھر میں ایک بار پھر فلسطین کے مسئلے کو زندہ کردیا۔امریکہ مغربی ممالک اور صہیونی لابی جس مسئلے کو ایک معمولی علاقائي مسئلہ بنا کر عالمی مسائل کی فہرست سے نکالنا چاہتے تھے امام خمینی (رح) نے جمعۃ الوداع کے دن کو عالمی یوم القدس قرار دے کر انکی سازشوں کو نقش برآب ثابت کردیا ۔امام خمینی(رح) کی رحلت کے بعد آپ کے جانشین رہبر انقلاب حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بھی امام خمینی (رح) کی روش کو جاری رکھا اور فلسطین اور بیت المقدس کی رہائی کے لئے امام خمینی (رح) کے انقلابی ، اصولی ، اسلامی اور حق و حقیقت پر مبنی موقف کو آگے بڑھایا۔ اسرائیل کا وجود اور فلسطین پر ظالمانہ قبضہ حقیقت میں اس دور کی بڑی طاقتوں امریکہ ، برطانیہ اور دوسرے یورپی ممالک کی سازشوں اور اسلام مخالف رویوں کا شاخصانہ ہے ۔ غاصب صہیونی ریاست کے ناجائز قیام سے لے کر اب تک اگر اس ظالم ریاست کے ظلم و تشدد اور مظلوم فلسطینیوں پر روا رکھے جانے والے انسانیت سوز اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اسرائیل نے آج تک جو کچھ کیا ہے اس کے پیچھے مغرب اور امریکہ کی بھرپور حمایت تھی ۔اسرائیل کے مظالم کے خلاف عالمی اداروں میں کئی دفعہ قراردادیں آئیں لیکن امریکہ نے کبھی بھی ان قراردادوں کو منظور نہیں ہونے دیا اگر کبھی غلطی سے کوئی قرارداد امریکہ کے ویٹو سے بچ بھی گئی تو اسرائیل نے امریکہ اور مغربی ملکوں کی حمایت کی وجہ سے اسے کبھی بھی قابل توجہ اور قابل عمل نہیں سمجھا۔امریکہ اور مغربی ممالک کی اس بے جا اور بھر پور حمایت نے اسرائیل کی غاصب صہیونی ریاست کو اتنا جری بنا دیا ہے کہ وہ نہ صرف علی الاعلان عالمی اداروں کے فیصلوں کو نہیں مانتی بلکہ ان فیصلوں اور قراردادوں کے خلاف عمل کرتی ہے۔امریکہ اور مغربی ممالک کی حمایت تو ممکن ہے اسلام دشمنی اور علاقے میں اپنی مرضي کی پالیسیاں مسلط کرنا ہو لیکن جو بات امت مسلم کو خون کے آنسو رلاتی ہے وہ علاقے کے عرب ممالک کے حکمرانوں کا منافقانہ رویہ ہے ۔ عرب ممالک کے سربراہ یوں تو اپنے ہر مسئلے کو عربوں کا مسئلہ قرار دےکر اسکے لئے شب و روز کوششیں کرتے ہیں لیکن فلسطین کے مسئلے پر ان کا رویہ ہمیشہ دفاعی یا انتہائي کمزور رہا ہے ۔عالمی اداروں کی خاموشی ، عرب حکمرانوں کا منافقانہ رویہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے دوہرے معیار اور عالمی برادری کی عدم توجہ اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ امت مسلمہ اتحاد و وحدت اور اسلامی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لئے میدان عمل میں آجائے یوم القدس اس بات کا بہترین موقع ہے کہ ہم امت واحدہ کی صورت میں اپنے تمام تر فروعی اختلافات اور مسائل کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے قبلۂ اوّل کی آزادی کے لئے سراپا احتجاج بن جائيں ۔ امام خمینی (رح) کے بقول یوم القدس یوم اسلام ہے اور فلسطین کا مسئلہ صرف فلسطینیوں کا نہیں تمام عالم اسلام کا مسئلہ ہے.