آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای

سید حسن نصر اللہ کی نظر میں

                               

"جدت و اجتہاد امام خامنہ ای کی نظر میں" کے زیر عنوان ایک کانفرنس کا انعقاد بیروت میں ہوا۔ اس کانفرنس میں حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی الحسینی الخامنہ ای کی شخصیت کے علمی اور اجتہادی پہلوؤوں کا جائزہ لیا گیا۔ کانفرنس میں مختلف ممالک سے آئے ہوئے علماء، دانشوروں اور صاحب رائے شخصیات نے شرکت کی۔ حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل اور اسلامی مزاحمت تحریک کے قائد سید حسن نصر اللہ نے اپنے خطاب سے اس کانفرنس کا افتتاح کیا۔ یہاں ہم سید حسن نصر اللہ کے خطاب کا تلخیض شدہ متن قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔

أعوذ بالله من الشيطان الرجيم

بسم الله الرحمن الرحيم

و الحمد للہ رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا ونبينا شفيع ذنوبنا وحبيب قلوبنا ابی القاسم محمد بن عبد اللہ وعلى آلہ الطيبين الطاهرين وصحبہ الأخيار المنتجبين وعلى جميع الأنبياء والمرسلين.

محترم علماء، محترم نمایندگان، بھائیو اور بہنو! السلام عليكم جميعاً ورحمة اللہ وبركاتہ۔

یہ کانفرنس اہم قدم اور پہلی فکری اور علمی کانفرنس ہے جو امام خامنہ دام ظلہ العالی کے افکار اور شخصیت کے مختلف پہلوؤوں کا جائزہ لینے کے لئے بیرون ملک منعقد ہوئی ہے۔ میں ابتداء میں اس کانفرنس کے مہتممین اور تمام حاضرین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ابتدائی شناساسائی

میں نے پہلی بار 1986 میں امام خامنہ ای کو ذاتی طور پر براہ راست پہچانا۔ اسی زمانے میں، میں ان کے نظریات، فکری اصولوں، تجزیاتی روش، مختلف واقعات پر ان کی نگاہ، قیادت اور معاملات کے انتظام و انصرام کی روش نیز ان کی اخلاقی خصوصیات سے واقف ہوا۔

میں ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں سے حاصل کی ہوئی آگہی کے پیش نظر اطمینان سے کہہ سکتا ہوں کہ ہمین قیادت، تقوی، فقہ اور اجتہاد کے میدان میں ایک عظیم امام و رہبر کا سامنا ہے؛ ایک ایسے رہبر جو ثابت و مستحکم فکری اصولوں کی بنیاد پر ہمہ جہت، عمیق اور متین نظریئے کے مالک ہیں؛ انہیں مشکلات اور احتیاجات سے پوری آگہی حاصل ہے؛ امکانات اور وسائل سے پوری طرح آگاہ ہیں، اصولوں اور مبانی کے مطابق اور ان اصولوں سے ہماہنگ راہ حل کو بخوبی جانتے ہیں، اسی بنا پر تمام واقعات، تبدیلیوں اور موضوعات کا روشن اور گہری نگاہ سے سامنا کرتے ہیں اور جب بھی عوام کے مختلف طبقات سے ملاقات کرتے ہیں آپ ایک ایسے امام و رہبر کا سامنا کرتے ہیں جو ہر موضوع سے واقف ہیں اور تمام معاملات کے جزئیات و تفصیلات سے آگہی رکھتے ہیں اور تمام امور کے بارے میں ماہرانہ رائے دیتے ہیں۔ہمیں ایک ایسے عظیم اور بے مثل شخصیت کا سامنا ہے جن کے بارے میں امت کے درمیان بہت سے لوگ کچھ بھی نہیں جانتے اور بہت کم ہی لوگ ایسے ہیں جو ان کی شخصیت سے آگہی رکھتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ امام فقط امت میں ہی نہیں بلکہ ایران میں بھی کتنے مظلوم ہیں۔ حتی کہ وہ اپنے آشکار ترین پہلو یعنی قیادت اور سیاست میں بھی مظلوم واقع ہوئے ہیں۔ آپ کو ایسی شخصیت کا سامنا ہے کہ عالمی سطح پر دشمنوں نے ان کا محاصرہ کررکھا ہے اور دوست بھی اس طرح سے ان کا حق ادا نہیں کرتے جس طرح کہ یہ حق ادا کرنے کا حق ہے۔

ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ اس امام عظیم کو امت میں متعارف کرائیں اور امت کو ان کی معرفت دیں تاکہ امت کے تمام افراد اس عظیم قائد و فقیہ و مفکر کی برکتوں سے حال اور مستقبل میں اور دنیا و آخرت میں فیض اٹھائیں اور ہماری ذمہ داری ایسے حال میں ہے کہ امت اسلامی کو عالمی سطح پر ایسے مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے جو گذشتہ عشروں اور صدیوں میں مسلمانوں کو درپیش نہ تھے اور اس کانفرنس کی ذمہ داری بہت اہم اور حساس ہے۔

میڈرڈ کانفرنس

1991 میں میڈرڈ کانفرنس کے دوران ـ اس مرحلے پر جب عالمی قواعد میں تبدیلی آئی ـ علاقے اور دنیا میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ امریکی حکومت نے اعلان کیا کہ [صہیونی ریاست کے حوالے سے] سازباز کا سلسلہ مکمل کیا جائے گا۔ اس زمانے میں بہت سوں کا خیال تھا کہ ہم عنقریب ساز باز کرنے والے ہیں اور یہ بات عمومی تصور میں تبدیل ہوگئی کہ امریکی سازباز کا یہ منصوبہ سب پر ٹھونس دیں گے۔ ان حالات میں [صرف] امام خامنہ ای کی رائے مختلف تھی اور ان کی رائے اس علاقائی اجماع سے باہر تھی۔ ان حالات میں انھوں نے کہا کہ میڈرڈ کانفرنس نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگی اور امریکہ ساز باز کے اس منصوبے کو ٹھونس نہیں سکے گا۔ آج 20 سال گذرنے کے بعد اس کانفرنس میں شرکت کرنے والے افراد سے سن رہے ہیں کہ: ہم 1991 کی ساز باز کے دو عشروں سے ذلت و ناامیدی اور گمراہی سے دوچار تھے۔

اسحاق رابین کا وعدہ

ہم سب کو 1996 میں شام اور اسرائیل کے درمیان مذاکرت کی بڑی پیشرفت یاد ہے۔ وہ پیشرفت "اسحاق رابین کا وعدہ" کہلائی جس میں رابین نے وعدہ دیا تہا کہ اسرائیل 4 جون 1967 کی چوتھی لائن تک پسپا ہوگا اور جولان کی پہاڑیاں شام کو واگذار کردے گا۔ اس وقت ہمارے علاقے میں یہ تصور ابھرا کہ سازباز حتمی ہے اور علاقائی چپقلش اپنے انجام تک پہنچی ہے بس صرف بعض جزئیات طے ہونا باقی ہیں چنانچہ بعض لوگوں نے ہم سے کہا:  "اپنے آپ کو مزید مت تھکاؤ"۔ ایسی صورت حال میں لوگ ہمیں مزاحمت ترک کرنے کی دعوت دے رہے تھے کہ مزاحمت ترقی اور پیشرفت کی راہ پر گامزن تھی اور وہ ہم سے کہتے تھے کہ "مسئلہ ختم ہوگیا ہے اور تمہیں مزید قربانیاں دینے کی ضرورت نہیں ہے"۔ بعض حضرات نے ہم سے یہاں تک بھی کہہ دیا کہ "اپنے حالات کو اس حتمی ساز باز کے مطابق مرتب کرو"۔ حتی کہ بعض لوگوں نے ہم سے کہا کہ "ہم ایک مزاحمت تحریک کے عنوان سے نہ صرف اپنی ماہیت کو تبدیل کردیں بلکہ اپنے تنظیمی ڈھانچے اور سیاسی پروگراموں میں بھی تبدیلی کا انتظام کرلیں اور اپنے پروگراموں پر نظر ثانی کریں"۔  مگر ان ہی حالات میں امام خامنہ ای نے بڑے واضح الفاظ میں ہم سے فرمایا کہ "ان کی رائے یہ نہیں ہے کہ یہ مسئلہ کسی نتیجے پر پہنچ سکے گا اور یہ کہ شام اور لبنان اور نتیجتاً اسرائیل اور لبنان کے درمیان ساز باز عملی صورت اختیار نہیں کرے گی"۔ امام خامنہ ای نے فرمایا: "میری تجویز یہ ہے کہ اپنی مزاحمت اور جہاد کو جاری رکھیں بلکہ جہاد و مزاحمت کے سلسلے کو شدت بخشیں حتی کہ کامیابی کی چوٹیاں سر کرسکیں اور اس قسم کے فرضیات اور احتمالات اور دعوؤں کو توجہ نہ دیں"۔

ہم لبنان لوٹ کر آئے تو دیکھا کہ اسحاق رابین ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ایک صہیونی کے قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگیا اور شیمون پیرز اس کی جگہ برسر اقتدار آیا۔  ان حالات میں فلسطین کی تحریک حماس اور خاص طور پر جہاد اسلامی کو بہت سخت قسم کے نقصانات اٹھانا پڑے اور بات یہاں تک پہنچے کہ بعض لوگوں نے رائے قائم کی کہ "فلسطین میں مزاحمت کی تحریکیں مزید کسی بھی کاروائی کی قدرت نہیں رکھتیں لیکن اس کے فوراً بعد قدس شہر اور تل ابیب میں استشہادی کاروائیوں نے صہیونی ریاست کو لرزہ براندام کردیا۔ اس کے بعد جنوبی لبنان کے حالات تناؤ کا شکار ہوئے اور شرم الشیخ کا اجلاس منعقد ہوا اور دنیا کے بہت سے ممالک کے سربراہان اسرائیل کی حمایت اور بقول ان کے دہشت گردی کی مذمت کرنے کے لئے مصر کے شہر شرم الشیخ میں اکٹھے ہوئے اور انھوں نے واضح طور پر حماس، جہاد اسلامی اور حزب اللہ کا نام لیا اور بقول ان کے ان دہشت گرد تنظیموں کی ناکہ بندی کے لئے انھوں نے فیصلے بھی کئے جس کے بعد اپریل 1996 میں "غضب کی خوشی عناقيد الغضب" نامی آپریشنز ہوئے جس کے بعد بنیامین نتنیاہو اقتدار میں لوٹ آیا اور ساز باز کا سلسلہ پہلی والی بند گلی پر ہی منتج ہوا۔

اسرائیل کی پسپائی کا واقعہ

امام خامنہ ای مزاحمت تحریک کی کامیابیوں کی پیشین گوئی کرتے رہتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ وہ ان کامیابیوں پر یقین کامل رکھتے ہیں اور اس یقین کی جڑیں اعتقادات میں پیوست ہیں۔ 1996 کے بعد آپ مسلسل فرمایا کرتے تھے کہ اسرائیل کیچڑ کے دلدل میں پھنس گیا ہے اور نہ وہ آگے کی طرف پیشقدمی کرکے لبنان پر دوبارہ قبضہ کرسکتا ہے، نہ ہی پسپا ہوسکتا ہے اور نہ ہی اپنی جگہ ٹہر سکتا ہے؛ لہذا ہمیں انتظار کرنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ ہوتا کیا ہے؛ تاہم یہ مسئلہ مزاحمت تحریک کی کارکردگی پر منحصر ہے۔ 1999 کے آخر میں اسرائیل میں وزارت عظمی کے انتخابات ہوئے اور مقابلہ نتنیاہو اور ایہود باراک کے درمیان تھا۔ باراک نے اعلان کیا کہ اسرائیل جولائی (2000) میں لبنان سے پسپا ہوجائے گا اور لبنان اور شام میں سمجھا جارہا تھا کہ یہ تاریخ بھی گذر جائے گی اور اسرائیل پھر بھی پسپائی اختیار نہیں کرے گا۔ باراک نے کوشش کی کہ لبنان سے پسپائی کے عوض لبنان کی حکومت یا شام کے حافظ الاسد سے بعض مراعات اور بعض ضمانتیں حاصل کرے لیکن ناکام ہوگیا۔ چنانچہ یہ خیال تقویت پاگیا کہ وہ لبنان کے جنوبی علاقوں سے پسپا نہ ہوگا اور جولائی میں جب وعدے پر عمل کرنے کا وقت آئے گا تو وہ کہے گا کہ اسرائیل نے شام اور لبنان سے بعض ضمانتیں مانگی تھیں لیکن اسے یہ ضمانتیں نہیں ملیں چنانچہ پسپائی ممکن نہیں ہے۔ ہم مزاحمت تحریک کے اندر بھی اسی نتیجے پر پہنچے تھے کہ اسرائیل پسپا نہیں ہوگا۔ اسی صورت حال میں ہم نے امام خامنہ ای سے ملاقات کی اور ہم نے اپنی رائے بیان کی لیکن ان کی رائے مختلف تھی اور انھوں نے فرمایا: لبنان میں آپ لوگوں کی فتح بہت نزدیک ہے اور یہ کامیابی آپ کے تصورات سے بھی بہت قریب تر ہے۔ ان کی یہ بات تجزیات اور موجودہ حقائق سے بالکل مختلف تھی اور ہماری اطلاعات کے مطابق اسرائیل نے پسپائی کے لئے کوئی بھی اقدام نہیں کیا تھا۔ لیکن انھوں نے ہم سے فرمایا کہ: اس کامیابی کے لئے تیاری کریں اور ابھی سے اسرائیلی پسپائی کے بعد کے لئے اپنے موقف کا تعین کریں؛ چنانچہ ہمارے لئے یہ ایک غیرمتوقعہ بات نہیں تھی اور ہمیں بالکل حیرت نہیں ہوئی بلکہ پوری طرح تیار تھے۔ اور ہم نے دیکھا کہ اسرائیل جولائی 2000 میں جنوبی لبنان کے اکثر علاقوں سے پسپا ہوگیا۔

امام خامنہ ای کو یقین ہے کہ جو کچھ ساز باز کے مذاکرات میں رونما ہورہاہے اور جوکچھ مزاحمت کی (لبنانی اور فلسطینی) تحریکوں کے حوالے سے دیکھا جارہا ہے وہ اس حقیقت کا نقیب ہے کہ ہمیں آج فلسطین کی نئی نسلوں کا سامنا ہے جو گذشتہ زمانوں سے کہیں زیادہ اپنی سرزمین میں لوٹنے کے لئے بے چین ہیں اور انہیں یقین کامل ہے کہ ایک دن ضرور آئے گا جب وہ اپنی سرزمین میں لوٹ کر جائیں گے۔

33 روزہ جنگ

33 روزہ جنگ میں ـ جو ایک عالمی جنگ تھی اور اس کا فیصلہ بین الاقوامی سطح پر ہوا تھا اور بعض عرب فریقوں نے بھی اس کی حمایت کی اور اسرائیل نے اس فیصلے پر عملدرآمد کیا اور اس جنگ کا عنوان بھی "لبنان میں مزاحمت تحریک کی نابودی" رکھا گیا تھا اور آپ سب نے اس جنگ میں اسرائیل کی شدت اور درندگی کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا ان حالات میں ـ کامیابی اور فتح کے بارے میں بات کرنا ہی نہیں، حتی اس جنگ سے صحیح و سالم بچ نکلنے کے بارے میں بات کرنا دیوانگی سے مشابہت رکھتا تھا کیونکہ لبنان کی تحریک مزاحمت کے پاس معینہ مقدار میں وسائل تھے اور لبنان ایک چھوٹے ملک کی حیثیت سے ایسی صورت حال سے دوچار تھا پوری دنیا اس کے خلاف سازش کررہی تھی اور اس کے خلاف اس وحشیانہ جنگ کا آغاز کرچکی تھی۔ ان حالات میں بیروت کے جنوب میں مجھے امام خامنہ ای کا ایک دستی پیغام موصول ہوا؛ جبکہ بیروت کے جنوبی علاقے "ضاحیہ" کی عمارتیں صہیونیوں کی بمباری کے نتیجے میں یکے بعد دیگرے منہدم ہورہی تھیں۔ یہ پیغام کئی صفحات پر مشتمل تھا تا ہم میں اس پیغام کے بعض اقتباسات آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں۔

امام خامنہ ای نے اس پیغام میں تحریر فرمایا تھا: "میرے بھائیو! یہ جنگ، غزوہ خندق (جنگ احزاب) کی مانند ہے جب قریش، مدینہ کے یہودی اور تمام قبائل اور عشائر اکٹھے ہوگئے اور اپنی پوری قوت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا محاصرہ کرلیا۔ انھوں نے فیصلہ کیا تھا کہ اسلام اور مؤمنوں کے گروہ کی بیخ کنی کریں۔ یہ جنگ بھی اسی جنگ کی مانند ہے، لوگ جان بلب ہوجائیں گے لیکن اللہ پر توکل کرو اور میں تم سے کہتا ہوں کہ تم ضرور کامیاب ہوجاؤگے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کہتا ہوں کہ ایسی قوت میں تبدیل ہوجاؤگے کہ کوئی بھی طاقت تمہاری قوت کے مقابل میں نہیں ڈٹ سکے گی"۔

حقیقتاً ان حالات میں، خاص طور پر جنگ کے ابتدائی ایام میں کون ایسی پیشین گوئی کرسکتا تھا یا اس نتیجے پر پہنچ سکتا تھا؟۔

11 ستمبر کے واقعے کے بارے میں امام خامنہ ای کی رائے

ہم نے 11 ستمبر کے واقعے کے بعد دیکھا کہ کس طرح سب لرزہ براندام ہوگئے اور بہت سوں کا خیال تھا کہ ہمارا خطہ امریکی دور میں داخل ہوگیا ہے اور امریکہ کے براہ راست تسلط میں چلاگیا ہے اور یہ امریکی تسلط ایک صدی یا دو صدیوں تک جاری رہے گا اور بعض لوگوں نے اس صورت حال کو صلیبی جنگ سے تشبیہ دی۔ میں ایران گیا تھا اور امام خامنہ ای کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کی رائے پوچھی۔انھوں نے علاقے میں رائج تصورات کے برعکس اظہار خیال کیا۔ مجھے یاد ہے کہ اس وقت علاقے کی بہت سی حکومتیں اور سیاسی جماعتیں امریکی تسلط کے خیال کے سائے میں اپنی صورت حال اور مقدرات کا جائزہ لے رہی تھیں اور حتی ایران میں بعض سرکاری حکام آکر کہہ رہے تھے کہ نئے حقائق یہ ہیں اور انہیں بھی امریکہ کے ساتھ مصالحت کرنی چاہئے۔ لیکن امام خامنہ ای نے اپنی صائب اسٹریٹجک نگاہ کی رو سے مجھ سے فرمایا کہ فکرمندی اور تشویش کی کوئی بات نہیں ہے؛ امریکہ اپنی انتہائی ترقی کی چوٹیاں سرکرچکا ہے اور اس کے بعد ہم اس کے زوال اور سقوط کا مشاہدہ کریں گے اور افغانستان اور عراق میں امریکیوں کے آنے کے بعد امریکہ زوال کے ڈھلوان پر واقع ہوا ہے اور اس کا زوال شروع ہوگیا ہے؛ وہ ایک کٹاؤ اور گہری کھائی کی طرف بڑھ رہا ہے اور یہ امریکہ کے انجام اور علاقے میں اس کے مفادات اور اہداف کا اختتام ہے اور آپ بھی اسی بنیاد پر عمل کریں"۔ انھوں نے فرمایا: "اب جبکہ امریکہ موجودہ حکومتوں کے توسط سے اور اپنی افواج اور بحری بیڑوں کی مدد سے علاقے میں اپنے مفادات کا تحفظ کرنے سے عاجز ہے اور وہ تمام بحری بیڑے اس علاقے میں لانے پر مجبور ہوگیا ہے، یہ اس کی کمزوری کی علامت ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطے کے حکمران اپنے عوام کے رجحانات اور جذبات و آراء سے کی نسبت جاہل ہیں کیونکہ ان کے عوام جہاد اور مزاحمت کی ثقافت و تعلیمات سے وابستہ ہیں اسی بنا پر جو کچھ رونما ہورہا ہے وہ تشویش کا باعث نہیں ہے بلکہ امید کا باعث ہے"۔

میں یہان یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ امت اسلامی گذشتہ 10 برسوں کے دوران اپنی تاریخ کی دشوار ترین جنگ سے دوچار تھی اور امریکہ اور اس کے حلیف اپنے تمامتر وسائل کو بروئے کار لائے اور علاقے پر تسلط جمانے اور پائیدار اور مستحکم حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لئے میدان میں آئے اور امام خامنہ ای اس مدت میں رونما ہونے والی تاریخ کی دشوار ترین جنگ کے قائد تھے جس کے لئے بہت زیادہ حکمت، عقل، شجاعت، اور تفکر کی ضرورت تھی اور ابھی تک اس عظیم جنگ کے بہت سے پہلوؤں کو فاش نہیں کیا جاسکتا۔

اسرائیل کی نابودی عنقریب

امام خامنہ ای کا عقیدہ اور یقین ہے کہ اسرائیل روبہ زوال ہے اور انہیں یقین ہے کہ اس ریاست کی نابودی بہت دور نہیں ہے بلکہ وہ اس نابودی کو بہت قریب سمجھتے ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ ساز باز کے جاری سلسلے کا کوئی بھی نتیجہ نہیں ہے اور جو کچھ ساز باز کے مذاکرات میں رونما ہورہاہے اور جوکچھ مزاحمت کی (لبنانی اور فلسطینی) تحریکوں کے حوالے سے دیکھا جارہا ہے وہ اس حقیقت کا نقیب ہے کہ ہمیں آج فلسطین کی نئی نسلوں کا سامنا ہے جو گذشتہ زمانوں سے کہیں زیادہ اپنی سرزمین میں لوٹنے کے لئے بے چین ہیں اور انہیں یقین کامل ہے کہ ایک دن ضرور آئے گا جب وہ اپنی سرزمین میں لوٹ کر جائیں گے۔ جو کچھ امام خامنہ ای اسرائیل کے بارے میں فرما رہے ہیں اس کی حقیقت کو ہم امریکہ کی پسپائیوں، مزاحمت کے ثمرات، جولائی (2006) کی (33 روزہ) جنگ اور غزہ کی (22 روزہ) جنگ دیکھ رہے ہیں اور یہ دیکھ کر ہم اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ اسرائیل ان شاء اللہ مستقبل قریب میں روبہ زوال ہے اور یہ بات بالکل درست اور ایک شجاع اور دلیر قائد کی طرف سے حقائق کے صحیح ادراک پر مبنی ہے۔