دہشت گردوں کوکس نے پناہ دے رکھی ہے؟

 

دہشت گردوں کوکس نے پناہ دے رکھی

ہے؟

 

 (اداریہ)

 

پاکستان کے تعلق سے یہ سوال کہ دہشت گردوں کوکس نے پناہ دے رکھی ہے؟

جتنا پیچیدہ ہے اتنا ہی آسان، اس لئے کہ پاکستان کودہشت گردوں کی جنت بنانے والے چہرے سب کے سامنے ہیں اور اتنے واضح اور عیاں ہیں کہ ان کے چہروں سے نقاب الٹنے کی بھی ضرورت نہیں۔

اب رہ گئی یہ بات کہ دہشت گردی میں طالبان، القاعدہ یا لشکر جھنگوی کے افراد ملوث ہیں،ایک بے معنی سی بات ہوکر رہ گئی ہے ۔

حقیقت یہ کہ جس وقت پاکستان کو چند ایک جنرلز صاحبان مل کر روس کے مقابلے کے بہانے امریکہ کی تحویل میں دے رہی تھے اس وقت انہیں سوائے ڈالروں کی ریل پیل کے اور کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔

اسلام کو سامنے رکھ کر ایک خاص مکتب فکر کے لوگوں کو ملک کی اکثریت پر مسلط کرنے کی لا حاصل کوشش کرکے سعودی عرب سے ریال بٹورنے کا کام بھی خوب زور شور سے کیا گیا ، مساجد مدارس اور تعلیمی مراکز کو فرقہ پرستوں کی تحویل میں دے کر پوری پاکستانی قوم کو تنگ نظری اور عصبیت کی آگ میں جھونک دیا گیا اور ملک ایک حساس ترین ادارے کو ایسے لوگوں کی پرورش اور تربیت کا مشن سونپا گیا یہی نہیں بلکہ خود اس حساس ترین ادارے میں ایسے لوگو ں صاحب اختیار بناکر بیٹھا دیا گیا جو خود بھی فکری اور نظریاتی لحاظ سے اس مکتب کے پروردہ تھے کہ جس کا دخل وخرج آل سعود کے ذمے رہا ہے ۔

میدان سیاست میں بھی ایسے لوگوں کو متعارف کریا گیا کہ جن کے اندر مذھبی عصبیت کے جراثیم پائے جاتے تھے۔

جو کچھ بیان کیا گیا اس میں امریکہ کے گھناؤنے کردار اور سیاست دانوں کی اس خاص سوچ وفکر کو بھی شامل کرلینا چاہیے جس کے تحت وہ امریکی چاپلوسی کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں ۔

 ان تلخ حقائق کے پیش نظر جو کچھ اس وقت پاکستانی قوم کو جھیلنا پڑ ھ رہا ہے اس سے راہ نجات ماضی قریب میں تو ممکن نہیں اس لئے کہ اس وقت امریکی مفاد اسی میں ہے کہ  اس پورے خطے میں بحرانی صورتحال باقی رہے ۔

چنانچہ اس وقت جہاں جہاں امریکہ اور اس کے فوجی بیٹھے ہوئے ہیں بم دھماکے ، خودکش حملے اور دہشت گردی اپنے عروج پر ہے اور اس کام میں اس کی معاونت وہ لوگ کررہے ہیں جنہیں عرف عام میں دہشٹدگرد کہا جاتاہے لیکن یہ سوال کہ ان دہشت گردوں کو پناہ کس نے دے رکھی ہے؟ اپنی جگہ خاصی اھمیت رکھتا ہے ۔ 

 

تزكيہ نفس

تزكيہ نفس

 

قسط نمبر 6

  

آيت اللہ ابراہيم اميني

ترجمہ :مرحوم علامہ شيخ اختر عباس

 

قلب كافر

 كافر كے دل كے متعلق كہا گيا ہے كہ وہ الٹا اور ٹيڑہا ہے اس ميں كوئي بھلائي نہيں ہے_ اس طرح كا دل اپنى اصلى فطرت سے ہٹ چكا ہے اور عالم بالا كى طرف نگاہ نہيں كرتا وہ صرف دنياوى امور كو ديكھتا ہے اسى لئے وہ خدا اور آخرت كے جہاں كا مشاہدہ نہيں كرتا اس كے بارے نيكى اور خوبى كا تصور نہيں كيا جاسكتا كيونكہ نيك كام اس صورت ميں درجہ كمال اور قرب الہى تك پہنچتے ہيں جب وہ رضا الہى كے لئے انجام ديئےائيں ليكن كافر نے اپنے دل كو الٹا كرديا ہے تا كہ وہ خدا كو نہ ديكھ سكے وہ اپنے تمام كاموں سے سوائے دنيا كے اور كوئي غرض نہيں ركھتا وہ صرف دنيا تك رسائي چاہتا ہے نہ خدا كا قرب_ اس طرح كا دل گرچہ اصلى فطرت والى آنكھ ركھتا تھا ليكن اس نے اپنى آنكھ كو اندھا كر ركھا ہے_ كيونكہ وہ واضح ترين حقيقت وجود خدا جو تمام جہاں كا خالق ہے كا مشاہدہ نہيں كرتا وہ اس دنيا ميں اندھا ہے اور آخرت ميں بھى اندھا ہوگا_ اس نے اس دنيا ميں امور دنيا سے دل لگا ركھا ہے اور آخرت ميں بھى اس كے لئے

 امور دنيا سے ہى وابستگى باقى رہے گى ليكن وہ اسے وہاں حاصل نہ ہوں گے اور وہ اس كے فراق كى آگ ميں جلتا رہے گا_ اس قسم كے دل ميں ايمان كا نور نہيں چمكتا اور وہ بالكل ہى تاريك رہتا ہے_

 

 - 2كافر كے دل مقابل مومن كامل كا دل ہے_ مومن كے دل كا دروازہ عالم بالا اور عالم غيب كى طرف كھلا ہوا ہوتا ہے ايمان كا چراغ اس ميں جلتا ہوا ہوتا ہے اور كبھى نہيں بجھتا_ اس كے دل كى دونوں آنكھيں ديكھ رہى ہوتى ہيں اور عالم غيب اور اخروى امور كو ان سے مشاہدہ كرتا ہے_ اس طرح كا دل ہميشہ ہميشہ كمال اور جمال اور خير محض يعنى خداوند تعالى كى طرف متوجہ رہتا ہے اور اس كا تقرب چاہتا ہے وہ خدا كو چاہتا ہے اور مكارم اخلاق اور اعمال صالح كے ذريعے ذات الہى كى طرف حركت كرتا رہتا ہے_ اس قسم كا دل عرش اور كرسى سے زيادہ وسيع اور بہشت سے زيادہ خوبصورت ہوتا ہے اور يہ قدرت ركھتا ہے كہ اللہ تعالى كا مركز انوار الہى اور خزانہ الہى قرار پائے_ اس طرح كے دل كى زمين اللہ كى معرفت اور اس كا آسمان اللہ پر ايمان اور اس كا سورج لقاء الہى كا شوق اور اس كا چاند اللہ كى محبت_ مومن كے دل ميں عقل كى حكومت ہوتى ہے اور رحمت الہى كى بارش كو اپنى طرف جذب كرليتا ہے كہ جس كا ميوہ عبادت ہے اس طرح كے دل ميں خدا اور اس كے فرشتوں كے سوا اور كوئي چيز موجود نہيں ہوتي  -   ايسا دل تمام كا تمام نور ا ور سرور اور شوق اور رونق اور صفا والا ہوتا ہے اور آخرت كے جہان ميں بھى اسى حالت ميں محشور ہوگا_ (ايسے دل والے كو مبارك ہو )

3  - مومن كا دل جب كبھى گناہ سے آلودہ ہوجاتا ہے تو ايسے مومن كا دل بالكل تاريك اور بند نہيں رہتا بلكہ ايمان كے نور سے روشن ہوجاتا ہے اور كمال الہى اور تابش رحمت كے لئے كھل جاتا ہے ليكن گناہ كے بجالانے سے اس كے دل پر ايك سياہ نقطہ موجود ہوجاتا ہے اور اسى طريق سے شيطن اس ميں راستہ پاليتا ہے_ اس كے دل  كى آنكھ اندھى نہيں ہوتى ليكن گناہ كى وجہ سے بيمار ہوگئي ہے اور اندھے پن كى طرف آگئي ہے_ اس طرح كے دل ميں فرشتے بھى راستے پاليتے ہيں اور شيطن بھي_ فرشتے ايمان كے دروازے سے اس ميں وارد ہوتے ہيں اور اسے نيكى كى طرف دعوت ديتے ہيں شيطن اس سياہ نقطہ كے ذريعے سے نفوذ پيدا كرتا ہے اور اسے برائي كى دعوت ديتا ہے_ شيطن اور فرشتے اس طرح كے دل ميں ہميشہ جنگ اور جدال ميں ہوتے ہيں_ فرشتے چاہتے ہيں كہ تمام دل پر نيك اعمال كے ذريعے چھاجائيں اور شيطن كو وہاں سے خارج كرديں اور شيطن بھى كوشش كرتا ہے كہ گناہ كے بجالانے سے دل كو تاريك بلكہ تاريك تر كردے اور فرشتوں كو وہاں سے باہر نكال دے اور پورے دل كو اپنے قبضے ميں لے لے اور ايمان كے دروازے كو بالكل بند كردے_ يہ دونوں ہميشہ ايك دوسرے كو دكھيلنے پر لگے رہتے ہيں اور پھر ان ميں كون كامياب ہوتا ہے اور اس كى كاميابى كتنى مقدار ہوتى ہے_ انسان كى باطنى زندگى اور اخروى زندگى كا انجام اسى سے وابستہ ہوتا ہے يہ وہ مقام ہے كہ جہاں نفس كيساتھ جہاد كرنا ضرورى ہوجاتا ہے كہ جس كى تفصيل بيان كى جائيگي_

 

قسى القلب

انسان كى روح اور دل ابتداء ميں نورانيت اور صفاء اور مہربانى اور ترحم ركھتے ہيں_ انسان كا دل دوسروں كے دكھ اور درد يہاں تك كہ حيوانات كے دكھ اور درد سے بھى رنج كا احساس كرتا ہے اسے بہت پسند ہوتا ہے كہ دوسرے آرام اور اچھى زندگى بسر كريں اور دوسروں پر احسان كرنے سے لذت حاصل كرتا ہے اور اپنى پاك فطرت سے خدا كى طرف متوجہ ہوتا ہے اور عبادت اور دعا راز و نياز اور نيك اعمال كے بجالانے سے لذت حاصل كرتا ہے اور گناہوں كے ارتكاب سے فوراً متاثر اور پشيمان ہوجاتا ہے_ اگر اس نے فطرت كے تقاضے كو قبول كرليا اور اس كے مطابق عمل كيا تو دن بدن اس كے صفا قلب اورنورانيت اور مہربان ہونے ميں اضافہ ہوتا جاتا ہے_ عبادت اور دعا كے نتيجے ميں دن بدن عبادت اور دعا اور خدا سے انس و محبت ميں زيادہ علاقمند ہوتا جاتا ہے_ اور اگر اس نے اپنے اندرونى اور باطنى خواہشات كو نظرانداز كيا اور اس كے مخالف عمل كيا تو آہستہ آہستہ وہ پاك احساسات نقصان كى طرف جانا شروع كرديتے ہيں يہاں تك كہ ممكن ہے وہ بالكل ختم اور نابود ہوجائيں_ اگر اس نے دوسروں كے درد كے موارد كو ديكھا اور ان كے خلاف اپنے رد عمل كا مظاہرہ نہ كيا تو آہستہ آہستہ ان سے مانوس ہوجاتا ہے اور ان كے ديكھنے سے معمولى سا اثر بھى نہيں ليتا بلكہ ہوسكتا ہے كہ ايسے مقام تك پہنچ جائے كہ دوسروں كے فقر اور فاقہ اور ذلت و خوارى بلكہ ان كے قيد و بند اور مصائب سے لذت حاصل كرنا شروع كردے_ انسان ابتداء ميں گناہ كرنے پر پشيمان اور ناخوش ہوتا ہے ليكن اگر ايك دفعہ گناہ كا ارتكاب كرليا تو دوسرى دفعہ گناہ كرنے پر تيار ہوجاتا ہے اور اسى طرح دوسرى دفعہ گناہ كے بعد تيسرى دفعہ گناہ كرنے كے لئے حاضر ہوجاتا ہے اور گناہ كرنے كے اصرار پر ايك ايسے مقام تك پہنچ جاتا ہے كہ پھر گناہ كرنے سے پيشمانى كا احساس تو بجائے خود بلكہ گناہ كرنے كو اپنى كاميابى اور خوشى قرار ديتا ہے_ ايسے انسانوں كے اس طرح كے دل سياہ اور الٹے ہوچكے ہوتے ہيں اور قرآن اور احاديث كى زبان ميں انہيں قسى القلب كہا جاتا ہے شيطين نے ايسے دلوں پر قبضہ كرليا ہوتا ہے اور اللہ تعالى كے مقرب فرشتوں كو وہاں سے نكال ديا ہوتا ہے_ اس كے نجات كے دروازے اس طرح بند ہوجاتے ہيں كہ اس كے لئے توبہ كرنے كى اميد بھى نہيں كى جاسكتي_  خدا قرآن ميں فرماتا ہے كہ ''جب ہمارى مصيبت ان پر وارد ہوتى ہے تو توبہ اور زارى كيوں نہيں كرتے؟ ان كے دلوں پر قساوت طارى ہوچكى ہے اور شيطان نے ان كے برے كردار كو ان كى آنكھوں ميں خوشنما بناديا ہے_ (98 )

نيز خدا فرماتا ہے_ '' افسوس ہے ان دلوں پر كہ جنہيں ياد خدا سے قساوت نے گھير ركھا ہے ايسے لوگ ايك واضح گمراہى ہيں پڑے ہوئے ہيں_(99)    امام محمد باقر عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ ''ہر مومن كے دل ميں ايك سفيد نقطہ ہوتا ہے اگر اس نے گناہ كا ارتكاب كيا اور دوبارہ اس گناہ كو بجالايا تو ايك سياہ نقطہ اس ميں پيدا ہوجاتا ہے اور اگر اس نے گناہ كرنے پر اصرار كيا تو وہ سياہ نقطہ آہستہ سے بڑھنا شروع ہوجاتا ہے يہاں تك كہ اس دل كے سفيد نقطہ كو بالكل ختم كرديتا ہے اس وقت ايسے دل والا آدمى كبھى بھى اللہ تعالى كى طرف متوجہ نہيں ہوتا اور يہى خداوند عالم كے اس فرمان سے كہ ان كے كردار نے ان كے دلوں كو چھپا ركھا ہے مراد ہے_ (100)

 

اميرالمومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ '' انسان كے آنسو قساوت قلب كى وجہ سے خشك ہوجاتے ہيں اور قلب ميں قساوت گناہون كے اثر كيوجہ سے ہوتى ہے_ (101)   رسول خدا نے فرمايا ہے '' چار چيزيں انسان ميں قساوت قلب كى علامتيں ہيں_ آنسوں كا خشك ہوجانا_ قساوت قلب_ روزى كے طلب كرنے ميں زيادہ حريص ہونا_ اور گناہوں پر اصرار كرنا_ (102)  امام سجاد عليہ السلام فرماتے ہيں_ '' اے ميرے خدا ميں دل كے سخت ہوجانے سے آپ سے شكايت كرتا ہوں ايسا دل جو وسواس سے ہميشہ تغيرپذير ہے اور آلودگى اور خشم سے جڑا ہوا ہے_ ميں آپ سے ايسى آنكھ سے شكايت كرتا ہوں جو تيرے خوف سے نہيں روتى اور اس كى طرف متوجہ ہے جو اسے خوش ركھتى ہے_ (103)

پس جو انسان قلب كى سلامتى اور اپنى سعادت سے علاقمند ہے اس كو گناہ كے ارتكاب سے خواہ گناہ صفيرہ ہى كيوں نہ ہو بہت زيادہ پرہيز كرنى چاہئے_ اور ہميشہ اپنى روح كو نيك كاموں عبادت دعا اور خدا سے راز و نياز مہربانى احسان اور دوسروں كى مدد مظلوموں اور محروموں كى حمايت اور خيرخواہى نيك كاموں ميں مدد عدالت خواہى اور عدالت برپا كرنے ميں مشغول ركھے تا كہ آہستہ آہستہ نيك اعمال بجالانے كى عادت پيدا كرے اور باطنى صفا اور نورانيت كو حاصل كرلے تا كہ اس كى روح ملائكہ كا مركز قرار پائے_

 قلب كے طبيب اور معالج

پہلے بيان ہوچكا ہے كہ دل اور روح بھى جسم كى طرح سالم ہوا كرتا ہے اور بيمار_ انسان كى اخروى سعادت اس سے مربوط ہے كہ انسان سالم روح كے ساتھ اس دنيا سے جائے_ ہمارے لئے ضرورى ہے كہ روح كى سلامتى اور بيماريوں سے واقف ہوں_

ان بيماريوں كى علامات كو پہچانيں تا كہ روح كى مختلف بيماريوں سے مطلع ہوں ان بيماريوں كے اسباب اور علل كو پہچانيں تا كہ ان بيماريوں كو روك سكيں كيا ان بيماريوں كى پہچان ميں ہم خود كافى معلومات ركھتے ہيں يا ان كى پہچان ميں پيغمبروں كے محتاج ہيں_ اس ميں كسى شك كى گنجائشے نہيں كہ ہم روح كى خلقت اور اس كے اسرار اور رموز سے جو اس موجود ملكوتى ميںركھے گئے كافى معلومات نہيں ركھتے_

قاعدتا ہم اپنى روحانى اور باطنى زندگى سے بے خبر ہيں_ نفسانى بيماريوں كے اسباب كو اچھى طرح نہيں جانتے اور ان بيماريوں كى علامتوں كى بھى اچھى طرح تشخيص نہيں كرسكتے اور ان مختلف بيماريوں كا علاج اور توڑ بھى نہيں جانتے اسى لئے پيغمبروں كے وجود كى طرف محتاج ہيں تا كہ وہ ہميں اس كے طريق كار كى ہدايت اور رہبرى كريں_ پيغمبر روح كے معالج اور ان بيماريوں كے علاج كے جاننے والے ہوتے ہيں_ اور اللہ تعالى كى تائيد اور الہامات سے روح كے درد اور اس كے علاج كو خوب جانتے ہيں وہ انسان شناسى كى درسگاہ ميں بذريعہ وحى انسان شناس بنے ہيں اور اس ملكوتى وجود كے اسرار اور رموز سے اچھى طرح مطلع اور آگاہ ہيں_ وہ صراط مستقيم اور اللہ كى طرف سير و سلوك كو خوب پہچانتے ہيں اور انحراف كے اسباب اور عوامل سے واقف ہيں اسى لئے وہ انسان كى اس سخت راستے كو طے كرنے ميں مدد كرتے ہيں اور انحراف اور كجروى سے روكتے ہيں_ جى ہاں پيغمبر اللہ كى طرف سے معالج ہيں كہ تاريخ انساني  ميں انہوں نے انسان كى خدمت انجام دى ہے اور ان كى ايسى خدمات كئي درجہ زيادہ بدن كے معالجين سے بڑھ كر كى ہے پيغمبروں نے جوہر ملكوتى ورح كو كشف كرتے ہوئے انسانوں كو اس كى پہچان كرائي ہے اور ان كى انسانى شخصيت كو زندہ كيا ہے_ پيغمبر(ص) تھے كہ جنہوں نے انسانوں كا مكارم اخلاق اور معارف اور معنويات سے روشناس كيا ہے اور قرب الہى كے راستے اور سيرو سلوك كى نشاندہى كى ہے_ پيغمبر تھے كہ جنہوں نے انسان كو خدا اور جہان غيب سے آشنا اور واقف كيا ہے اور انسان كے تزكيہ نفس اور تہذيب كے پرورش كرنے ميں كوشش اور تلاش كى ہے_ اگر انسان ميں معنويت محبت اور عطوفت اور مكارم اخلاق اور اچھى صفات موجود ہيں تو يہ اللہ كے بھيجے ہوئے معالجين كى دائمى اور متصل كوشش بالخصوص خاتم پيغمبر عليہ السلام كى دائمى كوشش كى بركت سے ہيں واقعا پيغمبر اللہ تعالى كے صحيح اور ممتاز بشريت كے معالج ہيں اسى لئے احاديث ميں ان كى عنوان طبيب اور معالج كے عنوان سے پہچان كرائي گئي ہے_

 

امير المومنين عليہ السلام پيغمبر گرامى كے بارے ميں فرماتے ہيں كہ '' محمد(ص) چلتا پھر تا طبيب ہے كہ ہميشہ انسانى روحوں كى طبابت كرنے ميں كوشان تھا اور بيماريوں كے علاج كے لئے مرہم فراہم كر ركھى تھى اور اسے مناسب مورد ميں كام ميں لاتا تھا_ اندھى روح اور بہرے كان گنگى زبان كو شفا ديتے تھے_ اور داؤوں كو انسانوں پر استعمال كرتے تھے جو حيرت اور غفلت ميں غرق اور تھے ان انسانوں كو جو حكمت اور علم كے نور سے استفادہ نہيں كرتے تھے اور حقائق اور معارف الہى كے ناشناس تھے اسى لئے تو ايسے انسان حيوانات سے بھى بدتر زندگى بسر كرتے تھے_(104)

قرآن كو روح كے لئے شفاء دينى والى دواء بيان كيا گيا ہے_

خدا ارشاد فرماتا ہے كہ '' اللہ كى طرف سے موعظہ نازل ہوا ہے اور وہ قلب يعنى روح كے درد كے لئے شفا ہے_(105) نيز خدا فرماتا ہے كہ '' قرآن ميں ہم نے بعض ايسى چيزيں نازل كى ہيں جو مومنين كے لئے شفاء اور رحمت ہيں_(106) امير المومنين عليہ السلام قرآن كے بارے ميں فرماتے ہيں كہ ''قرآن كو سيكھو كہ وہ بہترين كلام ہے اس كى بات ميں خوب غور كرو كہ عقل كى بارش روح كو زندہ كرتى ہے اور قرآن كے نور سے شفاء حاصل كرو كہ وہ دلوں كو يعنى روحوں كو شفا بخشتا ہے_(107)  ايك اور جگہ فرماتے ہيں كہ '' جو شخص قرآن ركھتا ہو وہ كسى دوسرى چيز كا محتاج نہ ہوگاہ اور جو شخص قرآن سے محروم ہوگاہ كبھى غنى نہ ہوگا_ قرآن كے واسطے سے اپنے روح كى بيماريوں كا علاج كرو اور مصائب كے ساتھے مٹھ بھيڑ ميں اس سے مدد لو كيونكہ قرآن بزرگترين بيمارى كفر اور نفاق اور گمراہى سے شفا ديتا ہے_(108)

جى ہاں قرآن ميں آيا ہے كہ پيغمبر اسلام نفوس كے طبيب ہيں_ ہمارے درد اور اس كے علاج كو خوب جانتا ہے اور ايسے قرآن كو لايا ہے جو ہمارے باطنى درد كے لئے شفا ديتے كا ضابطہ ہے اور ہميں ايسا قرآن ديا ہے_ اس كے علاوہ كئي اقسام كى باطنى بيماريوں اور ان كے علاج پيغمبر عليہ السلام اور ائمہ اطہار نے واضح كيا ہے اور وہ حديث كى شكل ميں ہمارے لئے باقى موجود ہيں لہذا اگر ہميں اپنے آپ كے لئے روح كى سعادت اور سلامتى مطلوب ہے تو ہميں قرآن اور احاديث سے استفادہ كرنا چاہئے اور اپنى روح كى سعادت اور سلامتى مطلوب ہے تو ہميں قرآن اور احاديث سے استفادہ كرنا چاہئے اور اپنى روح كى سعادت اور سلامتى كے طريق علاج كى مراعات كرنى چاہئے اور قرآن اور پيغمبر(ص) اور ائمہ اطہارعليہم السلام كى راہنمايى ميں اپنى روح كى بيماريوں كو پہچاننا چاہئے اور ان كى علاج كے لئے كوشش اور سعى كرنى چاہئے اور اگر ہم اس امر حياتى اور انسان ساز ميں كوتاہى كريں گے تو ايك بہت بڑے نقصان كے متحمل ہونگے كہ جس كا نتيجہ ہميں آخرت كے جہان ميں واضح اور روشن ہوگا_

تكميل اور تہذيب نفس

پہلے بتاتا جا چكا ہے كہ روح كى پرورش اور تربيت ہمارے لئے سب سے زيادہ  ضرورى ہے كيونكہ دنيا اور آخرت كى سعادت اسى سے مربوط ہے اور پيغمبر عليہم السلام بھى اسى غرض كى تكميل كے لئے مبعوث ہوئے ہيں_ روح كى تربيت اور خودسازى دو مرحلوں ميں انجام دينى ہوگي_

پہلا مرحلہ: روح كى برائيوں سے پاك كرنا يعنى روح كو برے اخلاق سے صاف كرنا اور گناہوں سے پرہيز كرنا اس مرحلہ كا نام تصفيہ اور تخليہ ركھنا گيا ہے_

دوسرا مرحلہ: روح كى تحصيل علم اور معارف حقہ فضائل اور مكارم اخلاق اور اعمال صالحہ كے ذريعے تبريت اور تكميل كرنا اس مرحلہ كا نام تحليہ ركھا گيا ہے يعنى روح كى پرورش اور تكميل اور اسے زينت دينا_

انسان كو انسان بنانے كے لئے دونوں مرحلوں كى ضرورت ہوتى ہے اس واسطے كہ اگر روح كى زمين برائيوں سے پاك اور منزہ نہ ہوئي تو وہ علوم اور معارف حقہ مكارم اخلاق اعمال صالح تربيت كى قابليت پيدا نہيں كرے گاہ وہ روح جو ناپاك اور شيطان كا مركز ہو كس طرح انوار الہى كى تابش كا مركز بن سكے گا؟ اللہ تعالى كے مقرب فرشتے كس طرح ايسى روح كى طرف آسكيں گے؟ اور پھر اگر ايمان اور معرفت اور فضائل اخلاق اور اعمال صالح نہ ہوئے تو روح كس ذريعے سے تربيت پا كر تكامل حاصل كرسكے گي_ لہذا انسان كو انسان بنانے كے لئے دونوں مرحلوں كو انجام ديا جائے ايك طرف روح كو پاك كيا جائے تو دوسرى طرف نيك اعمال كو اس ميں كاشت كيا جائے _ شيطن كو اس سے نكالا جائے اور فرشتے كو داخل كيا جائے غير خدا كو اس سے نكالا جائے اور اشراقات الہى اور افاضات كو اس كے لئے جذب كيا جائے يہ دونوں مرحلے لازم اور ملزم ہيں يوں نہيں ہو سكتا كہ روح كے تصفيہ كے لئے كوشش كى جائے اور نيك اعمال كو بجا لانے كو بعد ميں ڈالا جائے جس طرح يہ نہيں ہو سكتا كہ باطنى امور كى اہميت كو نظر انداز كيا جائے اور نيك اعمال بجالانے ميں مشغول ہوا جائے بلكہ يہ دونوں ايك ہى زمانے ميں بجا لائے جانے چاہئيں برائيوں اور برے اخلاق كو ترك كر  دينا انسان كو اچھائيوں كے بجالانے كى طرف بلاتا ہے اور نيك اعمال كا بالانا بھى گناہوں اور برے اخلاق كے ترك كر دينے كا موجب ہوتا ہے لہذا اس بحث ميں ہم مجبور ہيں كہ ان دونوں مرحلوں كو ايك دوسرے سے جدا كرديں لہذا پہلے ہم تہذيب نفس اور روح كى پاكى بحث كرتے ہيں_

حواشي

98_ فلو لا اذ جائہم با سنا تضرّعوا و لكن قست قلوبہم و زيّن لہم الشيطان ما كانوا يعمولن_ انعام 43_

99_فويل للقاسية قلوبہم من ذكر اللہ اولئك فى ضلال مبين_ زمر/ 22_

100_ عن ابى جعفر عليہ السلام قال: ما من عبد مؤمن الّا و فى قلبہ نكتة بيضاء فان اذنب و ثنّى خرج من تلك النكتة سواد فان تمادى فى الذنوب اتسع ذالك السواد حتى يغطى البياض فاذا غطّى البياض لم يرجع صاحبہ الى خير ابداً و ہو قول اللہ '' كلّا بل ران على قلوبہم ما كانوا يكسبون، بحار/ ج 73 ص 361_

101_ قال اميرالمؤمنين عليہ السلام: ما جفّت الدموع الّا لقسوة القلوب و ما قست القلوب الّا لكثرة الذنوب_ بحار/ ج 73 ص 354_

102_ قال رسول اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ : من علامات الشقائ: جمود العين و قسوة القلب و شدة الحرص فى طلب الرزق و الا صرار على الذنب_ بحارالانوار/ ج 73 ص 349_

103_ قال على بن الحسين(ع) فى دعائہ: الہى اليك اشكو قلباً قاسياً، مع الوسواس متقلباً و بالرين و الطبع متلبسا و عيناً عن ابكاء من خوفك جامدة و الى ما تسرہا طامحہ_ بحار/ ج 94ص 143_

104_ طبيب دوّارہ بطبّہ قد احكم مراہمہ و احمى مواسمہ يضع من ذالك حيث الحاجة اليہ، من قلوب عمى و آذان صمّ و السنة بكم_ متّبع بدوائہ مواضع الغفلة و مواطن الحيرة لم يستضيثوا باضواء الحكمة و لم يقد حوابزناد العلوم الثاقبة، فہم فى ذالك كالانعام السائمة و الصخور القاسية نہج البلاعہ/ خطبہ 108_

105_ قد جائتكم موعظة من ربكم و شفاء لما فى الصدور_ يونس/ 57_

106_ و ننزّل من القرآن ما ہو شفاء و رحمة للمؤمنين_ اسرائ/ 82_

107_ قال على عليہ السلام: و تعلّموا القرآن فانّہ احسن الحديث و تفقّہوا فيہ فانّہ ربيع القلوب و استشفوا بنورہ فانہ شفاء الصدور_ نہج البلاغہ/ خطبہ 110_

108_ قال على عليہ السلام: و اعلموا انّہ ليس على احد بعد القرآن من فاقة و لا لاحد قبل القرآن من غني، فاستشفوہ من اودائكم و استعينوا بہ على لا وائكم فانہ فيہ شفاء من اكبر الداء و ہو الكفر و الغيّ و الضلال_ نہج البلاغہ/ خطبہ 176_

 

 

حج

حج کے سیاسی پھلو سے غفلت

   

(( حج کے تمام پھلوؤں میں سے سب سے زیادہ غفلت اور لا پرواھی کا شکار ان عظیم مناسک کا سیاسی پھلو ھے ۔ خیانت کاروں کی سب سے زیادہ فعالیت اس امر سے غافل کرنے میں رھی ھے اور رھے گی کہ اس کا یہ پھلو کسی گوشے میں مقید ھو جائے ۔ آج کے دور میں کہ جب دنیا میں جنگل کا قانون چل رھا ھے ،مسلمان گذشتہ زمانوں کی نسبت زیادہ ذمہ دار ھیں کہ وہ اس پھلو کے بارے میں اظھار کریں اور اس سے متعلق ابھامات دور کریں  کیونکہ بین الاقوامی بازی گر مسلمانوں کو غفلت میں ڈال کر انھیں پسماندہ رکہ کر نیز مفاد پرست حکمراں ، نادان اور غفلت زدہ افراد ، درباری و کج فھم مُلا اور جاھل عابد سب دانستہ و غیر دانستہ مل کر اس تقدیر ساز اور مظلوموں کے نجات دھندہ پھلو کو ختم کرنے کے در پے ھیں ۔

فرض شناس ، بیدار اور دل سوز افراد اسلام کی غربت کے پیش نظر اور احکام اسلام سے اس سیاسی پھلو کے متروک ھو جانے کے خطرے کے پیش نظر ، خصو صاً حج کے دوران کہ جھاں یہ پھلوزیادہ نمایاں اور ظاھر ھے ، اٹہ کھڑے ھوں اور قلم ،بیان ، گفتار اور تحریر کے ذریعے جد و جھد کریں ۔ حج کے ایام میں اس کی زیادہ کوشش کریں کیونکہ ان مراسم کے اختتام پر دنیا کے مسلمان جب اپنے شھروں اور علاقوں کی طرف لوٹتے ھیں تو وہ اس عظیم پھلو کو مد نظر رکھتے ھوئے وھاں کے مسلمانوں اور دنیا کے مظلوموں کو بیدار کر سکتے ھیں ۔ امن کے دعویدار ستمگروں کے روز افزوں ظلم سے نجا ت حاصل کرنے کے لئے انھیں حرکت اور انقلاب کےلئے تیار کر سکتے ھیں ۔

یہ بات اظھر من الشمس ھے کہ اگر اس عظیم عالمی اجتماع میں کہ جھاں  اسلامی اقوام کے مظلوم اورھر مذھب ، قوم ، زبان ، فرقے ، رنگ اور جغرافیہ سے تعلق رکھنے والے تمام طبقات ایک جیسے لباس میں ھر قسم کے تصنع اور بناوٹ سے پاک ھو کر اکٹھے ھوتے ھیں،اسلام اور مسلمانوں اور دنیا کے تمام مظلوموں کے بنیادی مسائل حل نہ ھوں اور ظالم و جابر حکومتوں سے نجات پانے کی کوئی سبیل نہ کی جائے تو پھر چھوٹے علاقائی اور لوکل اجتماعات سے کچہ نہ بن پڑے گا اور کوئی ھمہ گیر راہ حل ھاتہ نہ آئے گا ۔ )) 

                                                                       ( امام خمینی "رح" )

صیہونیزم اور ٹروریزم

صیہونیزم اور ٹروریزم

 

See full size image

"صیہونیزم" انیسویں صدی کے آخر میں "تھئوڈور ہرٹزل" نامی ایک یہودی مفکر کی جانب سے دنیا میں پھیلے ہوئے یہودیوں کو فلسطین منتقل کرنے اور وہاں پر ان کیلئے ایک خودمختار ریاست قائم کرنے کے ہدف سے معرض وجود میں آیا۔ اس مکتب فکر کے مطابق ہدف وسیلے کو جائز بنا دیتا ہے باین معنا کہ ہر وہ فعل جو ہدف کو حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے جائز ہے چاہے دینی اور عقلی حوالے سے قابل مذمت ہی کیوں نہ ہو۔ ہرٹسل پہلے اس مقصد کی خاطر عثمانی خلافت کے سربراہ سلطان عبدالحمید کے پاس گیا لیکن انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ عثمانی خلیفہ سے مایوسی کے بعد اس نے برطانیہ کا رخ کیا اور برطانوی حکومت کو یہودی ریاست کے قیام کیلئے استعمال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہو گیا۔ دوسری جنگ عظیم میں خلافت عثمانی کے خاتمے کے بعد ہرٹسل نے فلسطین میں ایک یہودی ایجنسی قائم کی جس کو برطانیہ کی حمایت بھی حاصل تھی۔ برطانیہ نے رسمی طور پر اس ایجنسی کو دنیا کے تمام یہودیوں کی نمائندہ جماعت قرار دیا جس کے نتیجے میں ساری دنیا کے یہودیوں نے اس ایجنسی کی مدد سے فلسطین کا رخ کیا۔ 

تھوڑی مدت کے بعد اس ایجنسی کی زیر نگرانی یہودیوں کی حفاظت کے بہانے مسلح گروپس بننا شروع ہو گئے۔ یہ گروپس فلسطین میں یہودی مہاجرین کی حفاظت کو اپنا فرض ظاہر کرتے تھے لیکن آہستہ آہستہ ان گروپس نے فلسطینی مسلمانوں پر حملے کرنا شروع کر دیئے۔ یہ گروپس نظریاتی حوالے سے ایکدوسرے سے اختلافات رکھتے تھے لیکن سب کا ہدف ایک تھا اور وہ یہودیوں کے مفادات کی حفاظت کرنا تھا۔

 

صیہونیزم:

انسائیکلوپیڈیا میں صیہونیزم کے لفظ کی تعریف اس طرح سے کی گئی ہے: "صیہونیزم ایسا لفظ ہے جو 1890 میں ایک ایسی تحریک کیلئے مشہور ہو گیا جس کا ہدف دنیا کے تمام یہودیوں کو فلسطین منتقل کرنا تھا"۔  1896 سے یہ لفظ ایک سیاسی تحریک کیلئے استعمال ہونے لگا جس کی بنیاد تھئوڈور ہرٹسل نے رکھی"۔

 یہ لفظ "صیہون" نامی ایک پہاڑ سے لیا گیا ہے۔ یہ لفظ یہودیوں کے نزدیک "مقدس سرزمین" یا "سرزمین موعود" کے معنا میں رائج ہو گیا ہے۔ اس لفظ کو پہلی بار ایک جرمن یہودی مصنف بارنتن برینیوم نے انیسویں صدی میں یہودیوں کے درمیان ایک نئی سیاسی سوچ کیلئے استعمال کیا تھا۔ سیاسی صیہونیزم ہرٹسل کی جانب سے اس کی تحریروں میں ایک عملی منصوبے کے طور پر استعمال کیا گیا جس کی بنیاد پر یہ کہا گیا کہ دنیا میں ایک مسئلہ "مسئلہ یہود" کے عنوان سے موجود ہے جس کی اصل وجہ یہودیوں کی دربدری اور اصلی وطن نہ ہونا ہے اور اس کا واحد حل یہ ہے کہ دنیا کے تمام یہودی اپنی اصلی سرزمین یعنی فلسطین کی طرف لوٹ جائیں اور وہاں ایک خالص یہودی ریاست قائم کریں۔ یہ تحریک انیسویں صدی میں اس وقت وجود میں آئی جب دو بڑے سیاسی نظریئے پائے جاتے تھے۔ پہلا نظریہ انسانی بھائی چارے، مساوات، ترقی اور ایسی دنیا قائم کرنے پر مبنی تھا جس میں تمام انسان ایک گھرانے کے طور پر زندگی بسر کر سکیں جبکہ دوسرا نظریہ ایک خاص نسل کی دوسرے انسانوں پر برتری کا نظریہ تھا۔ پہلا نظریہ لیبرالیزم سے لیا گیا تھا جسکے حامی فقیر یہودی تھے جبکہ دوسرا نظریہ ایسے یہودیوں کا تھا جو انسانی مساوات کے قائل نہیں تھے بلکہ یہودی نسل کی برتری کے قائل تھے۔

 

سفاک قاتل

سفاک قاتل اور سیاست دانوں کی مجبوریاں

 

  آر اے سید

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے لاہور اور کوئٹہ میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر کہا ہے کہ کوئٹہ حملے میں انہیں سیکیورٹی انتظامات کی خامی نظر نہيں آتی،تاہم اسے انتظامات میں کمی کہا جاسکتا ہے،انہوں نے کہا کہ لشکر جھنگوی،القاعدہ اور تحریک طالبان ایک ہو چکے ہیں۔رحمان ملک صاحب نے یہ بتا کر طالبان القاعدہ اور لشکر جھنگوی ایک ہو گئے ہیں،کوئی نیاانکشاف کیا ہے نہ ہی اس میں تعجب کی کوئی بات ہے۔تعجب کی بات تب تھی،جب موصوف یہ کہتے کہ ان تینوں تنظموں میں آپس میں کوئی ربط نہیں،جس طرح مسلم لیگ نون والے کہتے ہیں کہ جنوبی پنجاب میں دہشت گردوں کا کوئی وجود نہیں ہے۔

البتہ یہ سیاست دانوں اور حکمرانوں کی مجبوری ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کے بیانات دے کر اپنا دامن بچائیں۔موصوف کے بقول سیکورٹی میں کوئی خامی نہیں،لیکن اس کے باوجود دو دنوں میں سو سے زائد بے گناہ انسان چند سفاکوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔

لشکر جھنگوی اور طالبان کو سپورٹ کرنے والے مراکز،نام نہاد مدارس اور مسجدوں میں پیش اماموں کا لبادہ اوڑھے ہوئے دہشت گرد بلاشبہ حکومت کی دسترس میں ہیں اور ایجنسیاں بھی اچھی طرح ان کے وجود سے باخبر ہیں،تو پھر ان کے خلاف کاروائی کرنے میں کون رکاوٹ بن رہا ہے؟اس کا جواب دینے سے سب گریزاں رہتے ہیں۔

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ کے بقول صرف پنجاب میں سترہ دہشت گرد گروہ موجود ہیں،لیکن پنجاب کے وزیراعلی ان کی اس بات کو صاف جھٹلا دیتے ہیں اور ان کی طرف سے چھوٹی سی بھی ایسی کوئی کاروائی نہیں کی جاتی،جس سے پتہ چلتا ہو کہ ان کو لوگوں کے جان مال کی کوئی پرواہ ہے۔دراصل دہشت گردوں کا ووٹ بینک اتنا مضبوط اور قوی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومت سنجیدہ اور ٹھوس کاروائی کر کے اس کو اپنے ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتی۔ کراچی اور کوئٹہ میں بھی کم وبیش یہی صورتحال ہے۔

بعض اوقات دہشت گردوں کو پولیس پکڑ بھی لیتی ہے،تو میڈیا پر ابتدائی خبروں کے بعد لوگوں کو ان کے منطقی انجام سے متعلق کی خبروں کی جستجو اور تلاش ہی رہتی ہے۔لیکن ایسا کب تک ہوتا رہے گا؟کیا پاکستان میں ایک بھی ایسی سیاسی جماعت موجود نہیں کہ جو ملک و قوم کو اس وحشی پن سے نجات دلا سکے کہ جس کا بیج 33 برس قبل ایک ڈکٹیٹر نے بویا اور جس کی آبیاری امریکی ڈالروں اور سعودی ریالوں سے کی گئی۔

کیا پاکستانی قوم اقتدار کے بھوکے سیاست دانوں اور جہالت میں غرق چند فرقہ پرستوں کے ہاتھوں اسی طرح اپنے ہی خون غلطان رہے گی؟کہیں یہ پاکستان کے بٹوارے یا خدا نخواستہ خاتمے کی تو سازش نہیں؟

حضرت معصومہ (س)   کے مختصر حالات

 

حضرت معصومہ (س)   کے مختصر حالات

 

محمد حسن خان

 

آپ کا اسم مبارک فاطمہ ہے۔آپ کا مشہور لقب معصومہ ہے۔آپ کے پدر بزرگوار امام حضرت موسی بن جعفر (ع) ہیں آپ کی مادر گرامی حضرت نجمہ خاتون ہیں اور یہی بزرگوار خاتون امام رضا (ع)   کی بھی والدہ محترمہ ہیں ۔بس اسی وجہ سے حضرت معصومہ (س) اور امام رضا (ع) ایک ماں سے ہیں۔ آپ کی ولادت با سعادت اول ذیقعدہ سال ۱۲۳ھجری قمری کو مدینہ منورہ میں ہوئی۔

ابھی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ بچپنے ہی میں آپ اپنے شفیق باپ کی شفقت سے محروم ہوگئیں ۔آپ کے والد کی شہادت، ہارون رشیدکے قید خانہٴ بغداد میں ہوئی ۔ باپ کی شہادت کے بعد آپ اپنے عزیز بھائی امام علی بن موسی الرضا (ع) کی آغوش تربیت میں آگئیں ۔ 

 ۲۰۰ ہجری میں مامون عباسی کے بے حداصرار اور دھمکیوں کی وجہ سے امام (ع) سفر کرنے پر مجبور ہوئے امام رضا (ع)  نے خراسان کے اس سفر میں اپنے عزیزوں میں سے کسی ایک کو بھی اپنے ہمراہ نہ لیا ۔امام کی ہجرت کے ایک سال بعد بھائی کے دیدار کے شوق میں اور رسالت زینبی اور پیام ولایت کی ادائیگی کے لئے آپ (س)  نے بھی وطن کو الوداع کہااور اپنے کچھ بھائیوں اور بھتیجوں کے ساتھ جانب خراسان روانہ ہوئیں۔

ہر شہر اور ہرمحلے میں آپ کا والہانہ استقبال ہورہاتھا،یہی وہ وقت تھا کہ جب آپ اپنی پھوپھی حضرت زینب (س) کی سیرت پرعمل کرکے مظلومیت کے پیغام اور اپنے بھائی کی غربت مومنین اور مسلمانوں تک پہنچارہی تھیں اور اپنی و اہلبیت کی مخالفت کا اظہار بنی عباس کی فریبی حکومت سے کررہی تھیں ،یہی وجہ تھی کہ جب آپ کا قافلہ شہر ساوہ پہنچاتو کچھ دشمنان اہلبیت (ع) جن کے سروں پر حکومت کا ہاتھ تھا راستے میں حائل ہوگئے اور حضرت معصومہ (س) کے کاروان سے ان بد کرداروں نے جنگ شروع کردی ۔نتیجتاً کاروان کے تمام مردوں نے جام شہادت نوش فرمایا۔یہاں تک کہ ایک روایت کے مطابق حضرت معصومہ (س) کو بھی زہر دیا گیا ۔

بہر کیف حضرت معصومہ (س) اس عظیم غم کے اثر سے یا زہر جفا کی وجہ سے بیمار ہوگئیں اب حالت یہ تھی کہ خراسان کے سفرکو جاری و ساری رکھنا ناممکن ہوگیالہٰذا شہر ساوہ سے شہر قم کا قصد کیااور آپ نے پوچھا اس شہر (ساوہ)  سے شہر قم کتنا فاصلہ ہے ۔اس دوری کو لوگوں نے آپ کو بتایا تو اس وقت آپ نے فرمایا :مجھے قم لے چلو اس لئے کہ میں نے اپنے والد محترم سے سنا ہے کہ انھوں نے فرمایا :شہر قم ہمارے پیرو کاروں کا مرکز ہے ۔

اس مسرت بخش خبر سے مطلع ہوتے ہی بزرگان قم کے در میان ایک خوشی کی لہر ،سی دوڑ گئی اور وہ سب کے سب آپ کے استقبال کیلئے دوڑپڑے۔موسی بن خزرج جو کہ اشعری خاندان کے بزرگ تھے انھوں نے آپ کی مہار ناقہ کو آگے بڑھ کر تھام لیا ۔اور بہت سے لوگ جو سوارہ اور پیادہ تھے پروانوں کی طرح اس کاروان کے ارد گرد چلنے لگے ۔۲۳ربیع الاول سال ۲۰۱ ہجری وہ عظیم الشان تاریخ تھی جب آپ کے مقدس قدم قم کی سرزمین پر آئے ۔پھر اس محلّے میں جسے آج کل میدان میر کے نام سے یاد کیاجاتاہے حضرت کی سواری موسی بن خزرج کے گھر کے سامنے بیٹھ گئی نتیجتاً آپ کی میزبانی کا عظیم شرف موسی بن خزرج کو مل گیا۔

اس عظیم ہستی نے صرف سترہ(۱۷)دن اس شہر میں زندگی گزاری اور ان ایام میں آپ اپنے خدا سے راز ونیاز کرتیں اور اس کی عبادت میں مشغول رہیں ۔ معصومہ (س) کی جائے عبادت اور قیامگاہ مدرسہ ستیہ جو آج کل ”بیت النور “کے نام سے مشہور ہے جو ،اب حضرت (س) کے عقیدتمندوں کی زیارتگاہ بنی ہوئی ہے ۔

آخر کار روز دہم ربیع الثانی اور ایک قول کے مطابق(دوازدہم ربیع الثانی) ۲۰۱ ھ قبل اس کے آپ کی چشم مبارک برادر عزیز کے چہرہ منور کی زیارت کرتی ،غریب الوطنی میں بہت زیادہ غم اندوہ دیکھنے کے بعد بند ہوگئیں۔

قم کی سر زمین آپ کے غم میں ماتم کدہ بن گئی ۔قم کے لوگوں نے کافی عزت واحترام کے ساتھ آپ کی تشییع جنازہ باغ بابلان جو کہ اس وقت شہر سے باہر تھاوہاںآپ کی قبر اطہر آمادہ کی گئی ۔اب جو سب سے بڑی مشکل اہل قم کے لئے تھی وہ یہ کہ ایسا کون باکمال شخص ہوسکتاہے جوآپ کے جسم اطہر کو سپرد لحد کرے ابھی اہل قم اس مشکل کاحل سوچ ہی رہے تھے کہ ناگاہ دوسوار جو نقاب پوش تھے قبلہ کی جانب سے نظر آنے لگے اور بہت بڑی سرعت کے ساتھ وہ مجمع کے قریب آئے نماز پڑھنے کے بعد ان میں سے ایک بزرگوار قبر میں اترے اور دوسرے بزرگوار نے جسم اطہر کو اٹھایا اور اس قبر میں اترے ہوئے بزرگوار کے حوالے کیا تا کہ اس نورانی پیکر کو سپرد خاک کریں۔

یہ دو شخصیتیں جو ابھی کچھ دیر پہلے آئیں تھیں انھوں نے تمام مراسم بنحوِ احسن انجام دے کراور کسی سے کچھ کہے بغیر واپس روانہ ہوگئیں۔ یہ دو شخصیتیں حجت پروردگار تھیں یعنی امام رضا (ع) اور حضرت امام جواد (ع) تھے کیونکہ معصومہ (س) کی تجہیز وتکفین ایک معصوم ہی انجام دیتاہے، تاریخ میں ایسی مثالیں موجود ہیں مثلاً حضرت زہرا (س) کے جسم اطہرکی تجہیز وتدفین حضرت علی (ع) کے ہاتھوں انجام پائی، اسی طرح حضرت مریم سلام اللہ علیہاکو حضرت عیسیٰ (ع)     نے بنفس نفیس غسل دیا۔

حضرت معصومہ (س) کے جسم اطہر کی تدفین کے بعد موسی بن خزرج نے ایک حصیری سائبان آپ کی قبر اطہر پر ڈال دیا۔اس کے بعد حضرت زینب جو امام جواد (ع) کی اولاد میں سے تھیں انھوں نے ۲۵۶ھ میں پہلا گنبد اپنی عظیم پھوپھی کی قبر اطہر کے لئے تعمیر کروایا ۔

اسی علامت کی وجہ سے اس عظیم خاتون کی تربت پاک محبان اہلبیت (ع) کے لئے قبلہ ہوگئی جہاں نماز مودت ادا کرنے کے لئے محبان اہلبیت (ع) جوق در جوق آنے لگے ۔ عاشقان ولایت وامامت کے لئے یہ بارگاہ دار الشفاء ہوگئی جس میں مضطرب دلوں کو سکون ملنے لگا ۔ مشکل کشاء کی بیٹی ،لوگوں کی بڑی بڑی مشکلوں کی مشکل کشائی کرتی رہیں اور نا امیدوں کے لئے مرکز امید بن گئیں ۔

 

وہ احادیث جو حضرت معصومہ (س) سے منقول ہیں

 حدثتنی فاطمۃ و زینب و ام کلثوم بنات موسی بن جعفر قلن :عن فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم و رضی عنہا : قالت : ” انسیتم قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یوم غدیر خم ، من کنت مولاہ فعلی مولاہ و قولہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، انت منی بمنزلۃ ہارون من موسی “

اس حدیث کو حضرت فاطمہ معصومہ (س) امام صادق (ع) کی بیٹی سے نقل کرتی ہیں ۔اس حدیث کی سند کا سلسلہ حضرت زہرا (س) پر اختتام پزیر ہوتا ہے ۔  

 حضرت فاطمہ زہرا (س) نے فرمایا :کیا تم نے فراموش کردیا رسول خدا (ص) کے اس قول کو جسے آپ نے غدیر کے دن ارشاد فرمایا تھا کہ جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی (ع) مولا ہیں ۔

اور کیا تم نے رسول خدا (ص) کے اس قول کو فراموش کردیا کہ آپ (ص) نے علی (ع) کے لئے فرمایا تھاکہ آپ (ع) میرے لئے ایسے ہیں جیسے موسی (ع) کے لئے ہارون (ع) تھے۔  (عوالم العلوم، ج/۲۱ ، ص/۳۵۳ )

عن فاطمۃ بنت موسی بن جعفر علیہ السلام : ۔۔۔ عن فاطمۃ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : قالت : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم : ” اٴلا من مات علی حب آل محمد مات شہیداً “

حضرت فاطمہ معصومہ (س) اسی طرح ایک اور حدیث حضرت امام صادق (س) کی بیٹی سے نقل کرتی ہیں اور اس حدیث کا سلسلہ ٴ سند بھی حضرت زہرا (س) پر اختتام پزیر ہوتا ہے ۔

حضرت زہرا (س) نے فرمایاکہ رسول خدا (ص) فر ماتے ہیں:آگاہ ہوجاوٴ کہ جو اہل بیت (ع) کی محبت پر اس دنیا سے اٹھتاہے وہ شہید اٹھتاہے ۔

مرحوم علامہ مجلسی شیخ صدوق سے حضرت معصومہ (س) کی زیارت کی فضیلت کے بارے میں روایت نقل فرماتے ہیں :

قال ساٴلت ابا الحسن الرضا علیہ السلام عن فاطمۃ بنت موسی ابن جعفر علیہ السلام قال : ” من زارہا فلہ الجنۃ “

راوی کہتاہے کہ میں نے حضرت فاطمہ معصومہ (س) کے بارے میں امام رضا (ع) سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ جو شخص ان کی قبر اطہر کی زیارت کرے گا اس پر جنت واجب ہوجائے گی۔

 

حزب اللہ

حزب اللہ کی جانب سے پاکستان میں

 

تسلسل کے ساتھ ہونے والے دھماکوں

 

کی شدید مذمت

 

اسلام آباد: -المنار ٹی وی چینل میں نشر ہونے والے بیان کے مطابق حزب اللہ نے پاکستان میں تسلسل کے ساتھ ہونے والے دھماکوں کی شدت کے ساتھ مذمت کی اور مسلمانوں کو امریکی سازشوں کے مقابلے میں ہشیار رہنے کی تاکید کی۔
گذشتہ دنوں کوئٹہ میں عالمی یوم القدس کے جلوس میں اسرائیلی ایجنٹوں کے حملے کی لبنان کی اسلامی تحریک مزاحمت نے شدت کے ساتھ مذمت کی اور اسے ایک بزدلانہ کاروائی سے تعبیر کیا ،اس بیان کے مطابق حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس قسم کے دھماکے درحقیقت امریکا ان سازشوں کا حصہ ہیں جس کا ہدف مسلمانوں کے درمیان فتنہ پیدا کرنا ہے،خاص کر اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ گذشتہ چند سالوں سے امریکہ کو عراق،افغانستان اور دیگر جگوں پر مسلسل ہزیمت اٹھانی پڑھ رہی ہے،

اس بیان میں اس بات پر مزید تاکید کی گئی ہے کہ مسلمانوں کو امریکی اور استکباری حملات کا منہ توڑ جواب دینے کے لئے اپنے درمیان اتحاد،اپنے موقف میں ہم آہنگی اور خاص طور پر امت مسلمہ کے مشترکہ مسئلہ یعنی فلسطین پر باہم متحد رہنا چاہیے۔ 

 

سعودی عرب  اسرائیل

سعودی عرب نے تبوک کے مقام پر

اسرائیل کو فوجی اڈہ فراہم کر دیا، رپورٹ

 

اسلام ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے سعودی عرب کے شمال مغرب میں واقع شہر تبوک میں ایک فوجی اڈہ قائم کر لیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق کئی اسرائیلی جہازوں نے تبوک کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جو شہر سے 9 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، فوجی سازوسامان کے ساتھ اسرائیلی فوجیوں کو منتقل کیا ہے۔

اسی طرح سعودی ائر لائنز کی ایک رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ 18 اور 19 جون بروز جمعہ اور ہفتہ کو اس ہوائی اڈے پر تمام اندرونی اور بیرونی پروازیں کینسل کر دی گئی تھیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق انہی دو دنوں میں اسرائیل نے اپنے فوجی اور فوجی سازوسامان کو تبوک ائرپورٹ منتقل کیا ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں پروازیں کینسل ہونے کا اتفاق بہت کم ہے۔ تبوک ائرپورٹ کے منتظمین نے اسکی وجہ بتانے سے انکار کر دیا تھا اور صورتحال پر اعتراض کرنے کے بعد مسافروں کو حکومتی اخراجات پر فور سٹار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا۔

تبوک کا علاقہ جو تبوک کے شہر سمیت سات چھوٹے اور بڑے شہروں پر مشتمل ہے امیر فہد بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود کی زیر نگرانی ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق امیر فہد بن سلطان کے اسرائیلی جاسوسی ادارے "موساد" کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔

تبوک کا علاقہ پیغبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں بھی مسلمانوں کیلئے مختلف اہم واقعات جیسے جنگ تبوک کا مرکز رہا ہے۔ کہیں یہودی دوبارہ اس سرسبز علاقے میں واپسی کے خواب تو نہیں دیکھ رہے اور ایک نیا قلعہ تبوک بنانے کے منصوبے تو نہیں بنا رہے؟۔

 

عراق میں امریکی

 

عراق میں امریکی قبضے کے دوران 230

 

صحافی قتل ہو چکے ہیں، رپورٹ

 

 

 

 العالم نیوز چینل کے مطابق صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم Reporters without borders نے اعلان کیا ہے کہ عراق میں 2003 سے لے کر آج تک امریکی قبضے کے دوران قتل ہونے والے صحافیوں کی تعداد 230 ہو چکی ہے۔ اس رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ 99 فیصد صحافیوں کے قاتل قانون کی گرفت سے بچنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو انتہائی افسوس کی بات ہے۔

رپورٹ کے مطابق عراق میں قتل ہونے والے صحافیوں کی تعداد ویتنام کی جنگ اور الجزائر کی خانہ جنگی میں قتل ہونے والے صحافیوں کی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراق پر امریکہ کی جانب سے ٹھونسی گئی جنگ کے دوران 93 صحافیوں کو اغوا کیا گیا ہے۔ اسکے علاوہ تقریبا 30 صحافی امریکی فوجیوں کے ہاتھوں گرفتار کئے جا چکے ہیں۔ سب سے زیادہ تعداد میں صحافی 2008 میں گرفتار کئے گئے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2006 میں جنوبی عراق میں واقع امریکی جیل "بوکا" مشرق وسطی میں صحافیوں کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہو چکی تھی۔

 

 

خبر نویسی

 

بر صغیر میں خبر نویسی کا آغاز

 

 

بر صغیر میں خبر نویسی کا آغاز:

قدیم ہندوستان میں خبر رسانی و خبر نویسی کا ایک خاص طریقہ تها- ہر گاؤں سے خبریں اکٹهی کر کے بادشاه وقت تک پہنچانے کا انتظام تها- مورخین کے بقول اشوک کے عہد سے قبل ہر گاؤں میں سرکاری نامہ نگار مقرر کیا گیا تها- ان کی کارکردگی کی دیکه بال کرنے کے لئے ہر دس گاؤں پر ایک، ہر بیس گاؤں پر ہر سو گاؤں پر اور ہر ہزار گاؤں ایک صدر راجہ مقرر تها- گاؤں کا نامہ نگار چوہدری کہلاتا تها- جو اپنے گاؤں کا نیک و بد کا پتہ دس گاؤں کے صدر تک پہنچاتا- یوں یہ خبر بغیر تاخیر بیس گاؤں کے صدر پهر گاؤں کے صدر اور آخر میں صدر راجہ تک پہنچتی- صدر راجہ اس خبر کی تصدیق کرنے کے بعد شہنشاه تک پہنچاتا-

ان دنوں چونکہ مطبع خانے نہیں تهے اور نہ ہی کاغذ ایجاد ہوا تها- اس لئے اہم اعلانات و خبروں کو بڑے بڑے ستونوں اور چٹانوں پر لکهے جاتے تهے- پهر ان کی جگہ تانبے کی چاروں نے لے لی-

اشوک کں دور میں خبر نویسی اور خبر رسانی کو ترقی ملی- اس عںد میں خبر نگاروں سے خفیہ کام لینے اور باغیانہ حرکات کی اطلاع کرنے کں لئے جاسوسی کا کام بهی لیا جانے لگا- ہر گاؤں کا چودہری صدر دفتر کو اپنے علاقہ کی ہفتہ وار رپورٹ بهیجنے کا پابند تها- ان کے علاوه ہر گاؤں میں خفیہ طور پر خفیہ نویس بهی تعینات تهے جس کہ ذمہ گاؤں کے چودہری کے علاوه دیگر نوعیت کی خفیہ حرکات کی اطلاع صدر کو بلاتاخیر بهجوانا تها-

محمد تغلق نے اس نظام کو ترقی دیتے ہوئے اس شعبہ کا نام محکمہ ڈاک رکه دیا- یہ محکمہ صرف خبر رسانی کاکام کرتا تها- خبر کے تاخیر سے پہنچنے کی معقول وجہ نا بتانے پر ہر کاره کو سخت ترین سزائیں بهی دی جاتی تهیں- اس نظام کو مزید بہتر بنانے کے لئے شیر شاه سوری نے رابطہ سڑکوں کی تعمیر کا آغاز کیا- سرائیں بنوائیں، ہر سرائے میں ڈاک چوکی بنائی- ڈاک کی تیز رفتاری کی ترسیل کے لئے ہر اسٹیشن پر دو گهوڑے رکهے گئے-

شیر شاه سوری موصول ہونں والی خبروں کی اہمیت کں اعتبار سں مناسب حکم جاری کرتں- جہاں ضروری سمجهتا خود اس علاقہ میں پہنچ کر واقعہ کی چهان بین بهی کرتا- اگر خبر نویس یا وقائع نگار سے ارادتا یا سہوا غلطی سر زد ہو جاتی تو پهانسی سے کم سزا مقرر نہ تهی-

مغلوں کے دور حکومت میں اس اداره کی ترقی کی طرف خصوصی توجہ دی گئی خبر نگاروں کہ علاوه خفیہ نویس تعینات کئے گئے- سوانح نگار اہم خبروں کو تفضیل سں لکهتں- خفیہ نویس کا تعلق صرف صیغہ راز سے تها جو اپنی رپورٹ و خبریں براه راست صدر دفتر کو روانہ کرنے کا پابند تها- خفیہ نویس کی تقرری اس حد تک خفیہ ہوتی کہ مقامی انتظامیہ کو بهی معلوم نہ ہوتا کہ یہاں کا خفیہ نویس کون ہے؟

وقایع نگار، سوانح نگار، خفیہ نویس اور ہر کاروں کی خبریں سب سے پہلے داروغہ ڈاک چوکی کے پاس آتیں- داروغہ ڈاک بطور افسر اطلاعات کام کرتا ہے- یہ ان چاروں افراد کی خبروں کا مفصل مطالعہ کرتا اگر ذره برابر فرق ہو تا تو قصور وار کو سزا دیتا-

 

اسلامک یونیورسٹی غزہ

 

اسلامک یونیورسٹی غزہ

 

تحریر :  سید اسداللہ ارسلان

اسلامک یونیورسٹی غزہ  ایک آزاد تعلیمی ادارہ ہے  جو فلسطینی ریاست میں واقع ہے ۔ یہاں پر مختلف شعبوں میں تحقیق اور تدریس کے  مناسب مواقع فراہم کیۓ  گۓ ہیں ۔ یہ ادارہ چار  ایسوسی ایشنز کا رکن بھی ہے ۔ ان کے نام درج ذیل ہیں ۔

1۔  انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف یونیورسٹیز

2۔ کمیونٹی آف میڈٹیرانیین  یونیورسٹیز

3۔ ایسوسی ایشن آف عرب یونیورسٹیز

4۔ ایسوسی ایشن آف اسلامک یونیورسیٹیز

یہ ادارہ فلسطینی معاشرے  میں پروفیشنل معیار اور اصولوں کا حامل ایک اچھا تعلیمی اور ثقافتی ادارہ بننے کی پوری کوشش کر رہا ہے ۔ اس ادارے کی یہ بھرپور کوشش ہے کہ غزہ کی پٹی میں رہنے والے طالب علموں کا تعلیمی معیار ایک حد تک بلند کیا جاۓ ۔ یہاں پر طالب علموں کو سائنسی میدان میں تحقیق کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے تاکہ وہ جدید علوم سے آراستہ ہوں ۔ یہ ادارہ فلسطینی معاشرے کی تعمیر وترقی میں بھرپور شرکت کر رہا ہے ۔  یہاں پر طالب علموں کی خداداد صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیۓ  بھرپور کوشش کی جاتی ہے ۔ اس ادارے کو بیرونی ممالک کی یونیورسٹیوں سے بھی متصل  کیا  گیا ہے تاکہ اس نزدیکی تعاون سے  مقامی طالب علم آ‎سانی سے دنیا کی جدید یونیورسٹیوں میں  ہونے والی جدید تحقیق سے آگاہ رہیں اور ان کے طرز  تدریس و تحقیق سے مستفید  ہوتے رہیں ۔

مزید معلومات کے لیۓ براۓ مہربانی یونیورسٹی کی ویب سائٹ سے رجوع کریں ۔

اسلامک یونیورسٹی غزہ کی ویب سائٹ : http://www.iugaza.edu.ps

ایٹمی فضلہ

امریکہ اور برطانیہ اپنا ایٹمی فضلہ

 

افغانستان میں دفن کر رہے ہیں، رپورٹ

 

 

 

افغانستان کے ایک اہم حکومتی عہدیدار نے کابل میں اسلام ٹائمز کے نمائندے کو بتایا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ انتہائی خطرناک ایٹمی فضلہ خفیہ طور پر افغانستان کے صوبے ہلمند میں دفن کر ہے ہیں۔ اس افغانی حکومتی عہدیدار کے مطابق جو اپنا نام صیغہ راز میں رکھنا چاہتا تھا نے بتایا کہ اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کے ایٹمی فضلہ سے بھرے تین ٹرک صوبہ ہلمند پہنچے ہیں۔ اس نے مزید بتایا کہ یہ ایٹمی فضلہ صوبہ ہلمند کے ایک صحرائی علاقے میں دفن کیا جا رہا ہے اور برطانوی فوجیوں نے تمام علاقے کو اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے اور 50 کلومیٹر کے فاصلے تک کسی کو وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ایٹمی فضلہ ایسی پرانی امریکی اور برطانوی جوہری تنصیبات سے لایا جاتا ہے جنکی تاریخ پوری ہو چکی ہے اور انہیں نابود کر دیا گیا ہے۔ یہ ایٹمی فضلہ خطرناک تابکاری مواد پر مشتمل ہے۔

افغانستان میں ماحولیات کے ماہرین کے مطابق اس ایٹمی فضلے میں موجود تابکاری مواد کے اثرات 200 کلومیٹر دور تک محسوس کئے جا سکتے ہیں۔ یہ ایٹمی فضلہ افغانستان کے ماحول اور جانوروں پر خطرناک قسم کے اثرات ڈال سکتا ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان کے صوبہ ہلمند سے کئی دریا گزرتے ہیں جو صوبہ ہلمند کے علاوہ ایران کے صوبے بلوچستان کو بھی سیراب کرتے ہیں۔ ان دریاوں کے تابکار مواد سے آلودہ ہونے کی صورت میں خطے میں رہنے والے افراد اور زراعت پر انتہائی منفی اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں۔