فرمان خداوندي

 

فرمان خداوندي

لوگو! ہم نے تم سب کو ایک مرد (آدم) اور ایک عورت (حوا) سے پیدا کیا اور پھر تمہاری ذاتیں اور برادریاں ٹھہرا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کی شناخت کرسکو۔ اللہ کے نزدیک  تم میں شریف و ہی ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے ۔ بے شک اللہ جاننے والا باخبر ہے ۔  فرمان خداوندي

 

 

 

ارشاد نبوی [صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم]

 

ارشاد نبوی [صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم]

 

 جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے مگر تین قسم کے اعمال ایسے ہیں کہ ان کا ثواب مرنے کے بعد بھی ملتا رہتا ہے ۔ (۱) صدقہ جاریہ ، (۲) ایسا علم چھوڑ جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں ۔(۳) نیک لڑکا جو اس کے لئے دعا کرتا ہے ۔

اداریہ

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 اداریہ

 

آج دنیا کو جن مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے وہ کسی سے پوشدہ نہیں ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مختلف ملکوں کی خود مختاری کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور آزادی بیان کے نام پر مقدس آسمانی کتابوں اور اوللعزم انبیا علیہم السلام کی توہین کی جارہی ہے۔  عالمگیریت یا گلوبلائيزیشن کے نام پر قوموں کی تہذیب و ثقافت پر حملے کئے جا رہے ہیں اور عالمی تجارت کے نام پر نیا سامراجی نظام نا‌فذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ گویا وقار انسانی ایک بار پھر پامالی کی زد پر ہے اور شیطان صفت طاقتیں اس دنیا کو  بنی آدم کے لیے جنہم بنانے پر تلی ہوئی ہیں۔ یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔  یہ حالات کیوں کر پیدا ہوئے اور صورتحال اتنی پیچیدہ کیونکر ہو رہی ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ کوئی جلسہ کیا جائے ، کوئی کانفرنس  بلائی جائے یا بہت بڑا مجمع جمع کر کے دھائی دی جائے۔ہم میں سے ہر شخص کو ایک لمحے کے لیے اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ صورتحال کی اس ابتری میں خود ہمارا کتنا کردار ہے۔ آپ یقینا یہ کہیں گے کہ اتنے بڑے کینوس پر ہماری حیثیت ہی کیا ہے اور ہماری مشکلات تو بہت ہی محدود نوعیت کی ہیں ، زیادہ سے زیادہ ملکی سطح کی بات کی جائے! اگر ہم اپنے جغرافیا ہی کو مد نظر رکھ لیں تو بھی ہم دیکھیں گے ہماری بہت سی مشکلات اسی بڑے کنیوس کا ہی حصہ ہیں ۔

وطن عزیز جن مشکلات اور مسائل میں گھرا ہوا ہے کیا ہم اسکی ذمہ داری سے اپنا شانہ خالی کرسکتے ہیں؟!فرقہ وارانہ تعصبات اور لسانیت کی آگ برسوں سے ہمارے دامن گیر ہے ہم نے اسے بجھانے کے لیے کیا کیا؟! بعض اوقات تو ہم اور آپ نے نہ صرف اسکو مزید ہوا دی بلکہ ہم میں سے بہت سے اس آگ کا ایندھن بنے اور ہمیں اب بھی ہوش نہ آیا ،ہماری آنکھوں کے سامنے کی بات ہے جب گلے میں قران ڈال کر پھرنے والے  بعض جاہلوں نے ہمارے ہم نوعوں کے گلے کاٹ ڈالے اور اسے دین کا نام دیا تو ہم نے انکے خلاف کتنی موثر آواز اٹھائی ۔ آج بھی جو لوگ دین کا نام لیکر ملک و ملت کے لیے وبال جاں بنے ہوئے ہیں  وہ کون ہیں؟ اور جو لوگ ترقی اور فیشن کے نام پر دین کی مسلمہ اقدار کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں وہ کون؟ وہ کون سے عوامل یا عناصر ہیں جو اس وبال کا سبب بنے ہیں؟

کرپشن کی دیمک جس طرح سے ہماری معشت کو چاٹ رہی اسکے سد باب کے لیے ہم اور آپ کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟کیا ہمارے ارد گرد کے ماحول میں ، ہمارے جان پہچان والوں میں حتی ہمارے رشتہ داروں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کسی نہ کسی کرپشن ،غیر قانونی کاموں اور یا غیر اخلاقی کاروبار میں ملوث ہیں؟! اگر ہیں تو ہمارا رویہ انکے ساتھ کیسا ہے؟! کیا ہم ایسے لوگوں کا سماجی بائیکاٹ کرنے کی جرات رکھتے ہیں ؟!کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ کہیں ہم خود تو اس بیماری میں مبتلا نہیں ہیں؟! جقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور سے اداء ہی نہیں کیا بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ ہمیں نہ تو اپنی ذمہ داریوں کا اداراک ہے اور نا ہی ہم اپنے مسا‏ئل و مشکلات کو ہی سمجھ پا ئے ہیں ۔ جبکہ مسائل و مشکلات کو حل کرنے کے لیے ان دونوں باتوں کو سمجھنا ضروی ہے۔

 

وہ قیامت جو سر سے گزری ہے

دیکھيے  کب شعور  سے  گزرے

 

ہماری دعا ہے کہ خدا وند تعالی ہم سب کو شعور و ادراک کی نعمت سے بہرہ مند فرمائے۔ (آمین)

گزشتہ شمارے میں ہم نےعرض کیا تھا کہ مینہ ہر قسم کے تعصبات سے پاک ایک ایسے انسانی کنبے کی تشکیل کا خواہاں ہے جس میں برتری کا معیار رنگ و نسل اور قوم و قبیلہ اور گروہ یا جماعت نہیں بلکہ وقار انسانی کو ہر حال میں ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہو ۔ جہاں لسانی اور قومیتی تعصبات اور مذہبی منافرت کی بنا پر لوگوں کے گلے کاٹنے والوں کو دین کا ہیرو اور محافظ قرار نہ دیا جاتا ہو۔ دوسروں کی جان و مال اور عزت و آبرو کا اتنا ہی خیال رکھا جاتا ہو جتنا خود اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کا۔۔ ایسا معاشرہ کیونکر قائم ہوسکتا ہے ؟ اس بارے میں اگر آپ کچھ لکھنا چاہیں تو مینہ کے صفحات آپکے لیے حاضر ہیں۔ 

آپ حضرات نے جس طرح سے ہماری اس کاوش کو سراہا ہے اور اپنی آراء، تجاویز اور تنقید کے ذریعے ہماری حوصلہ افزائی کی ہے اس پر ادادہ آپکا شکر گزار ہے۔

مینہ کے آئندہ شماروں میں آپکی تجاویز اور تنقیدوں کو مد نظر رکھنے کی پوری پوری کوشش کی جائے گی ۔

 

                                                                                                  (ادراہ)

 

 

 

درد گناہ کا علاج

 

درد گناہ کا علاج

 

اِس واقعہ کو يا فعي نے اپني مشہور کتاب روضة الرياحين ميں صفحہ ۴۲ پر لکھا ہے۔ ايک مرتبہ اميرالمومنين علي ابن ابي طالب،(ع)  بصرہ کي ايک شاہراہ سے گذر رہے تھے ديکھا ايک مقام پر کثير مجمع ہے اور لوگ جوق در جوق چلے آ رہے ہيں ، آپ بھي بڑھے اور ديکھا کہ مجمع کے درميان ايک خوش پوش، خوش رو جوان ہے۔ لوگ شيشيوں ميں کوئي اپنا خون، کوئي اپنا ادرار(پيشاب) لئے اس کو دکھلا رہے ہيں۔ وہ ہر ايک کو اُس کي مرض کے مطابق دوا تجويز کررہا ہے۔ لوگوں سے معلوم ہوا کہ يہ بڑا مشہور و معروف حاذِق طبيب ہے۔ اميرالمومنين آگے بڑھے، سلام کيا، اور فرمايا! کيا دردِ گناہ کي بھي کوئي دوا آپ کے پاس ہے؟ طبيب:۔ (بغور ديکھ کر بولا) گناہ بھي کوئي درد يا بيماري ہے؟ اميرالمومنين:۔ نے فرمايا، ہاں۔ گناہ بڑي مُہلک تَرين بيماري ہے طبيب:۔ تا دير سر جھکائے سوچتا رہا، بعد تامل کہا۔ اگر گناہ بيماري ہے تو کيا کوئي اسکا علاج آپ کے پاس ہے؟ اميرالمومنين:۔ بيشک ميں گناہ کا علاج جانتا ہوں ا ور درد کي دوا رکھتا ہوں۔ طبيب:۔ ذرا ميں بھي سنوں کہ اس کي کيا دوا ہے۔ اور کون سا نسخہ ہے جس کے ذريعہ آپ اسکا علاج کرتے ہيں۔ اميرالمومنين:۔ (طبيب سے فرمايا) اچھا اُٹھو اور آوٴ، ذرا ميرے ہمراہ ’باغِ ايمان ميں چلو، وہاں پہنچ کر ’نيت کے درخت کے کچھ ريشے۔ دانہ پشيماني قدرے۔برگِ تدبر قدرے۔ تخم پرہيزگاري قدرے۔ ثمر فہم قدرے۔ شاخہائے يقين قدرے۔ مغز اِخلاص قدرے۔ پوست سعئي قدرے۔ زہر مُہرہ تواضع مختصرً۱ اور توبہ کا پچھلا حصہ لو ترکيب:۔اِن سب دواوٴں کو باہوش و حواس اِطمينان قلب سے توفيق کے ہاتھوں اور تصديق کي اُنگليوں سے تحقيق کے پيالہ ميں ڈالو۔ اور آنکھوں کے پاني ميں بھگو دو۔ کافي دير کے بعد پھر سب کو اميد کي پتيلي (ديگچي) ميں ڈال کر شوق کي آگ ميں جوش دو۔ اس قدر کہ مادئہ فاسدہ فنا ہو جائے اور خالص چيز رہ جائے۔ اِس کے بعد تسليم و رضا کي طشتري ميں رکھ کر توبہ و استغفار کي پھونکوں سے ٹھنڈا کرو۔ پھر اسے ايسي جگہ بيٹھ کر جہاں سوائے خدا کے اور کوئي نہ ہو ۔ پي لو‘ ۔ يہ ہے وہ دوا جو گناہ کے درد کو دفع اور مصيبت کے زخموں کو بھر ديتي ہے۔ پھر کوئي درد يا زخم کا اثر باقي نہيں رہتا۔ طبيب يہ سن کر حيران ہو گيا۔ کچھ دير خاموش رہ کر وہ آگے بڑھ کر اميرالمومنين کے قدموں پر گر گيا۔

 

 

عبدالقادر بیدل دھلوی

 

 

بر صغیر کے عظیم شاعر

 

عبدالقادر بیدل دھلوی

 

 

ترجمہ وتلخیص: سید محسن علوی

 

عبدالقادر بیدل دھلوی کا شمار سترھویں صدی کے معروف فارسی گو شعراء میں ہوتا ہے۔ وہ سن 1054 ہجری قمری بہ مطابق 1644 عیسوی میں غیر منقسم ہندوستان کے شہر عظیم آباد میں پیدا ہوئے ۔ انکے آباو اجداد ترک چغتائی نسل سے تعلق رکھتے تھے اور سرزمین بخارا سے ہجرت کرکے ہندوستان میں آباد ہوگئے تھے۔ بیدل نے ابتدائی تعلیم اپنی جائے پیدائش یعنی عظیم آباد ہی میں حاصل کی اور اٹھارہ برس کی عمر میں دھلی چلے گئے جہاں انکی ملاقات شاہ کابلی نامی ایک صوفی سے ہوئی۔ شاہ کابلی سے ملاقات نے بیدل کو بہت متاثر کیا اور انہوں نے شاہ کابلی کی مصاحبت اختیار کرلی۔ لیکن شاہ کابلی اچانک لاپتہ ہوگئے۔ بیدل نے دھلی اور اسکے نواحی شہروں اور جنگلات میں دس برس تک اپنے اس محبوب مرشد معنوی کی تلاش میں سر گرداں رہے۔ اس دوران بیدل کا عالم وہی تھا جو حضرت شمس تبریز کی غیبت کے بعد مولانا روم کا تھا۔ آخر کار وہ شاہ کابلی کی تلاش سے مایوس ہوگئے اور کچھ عرصہ ریاضت وسیر وسلوک میں بسر کیا۔ ایک عرصے کی سرگردانی کے بعد اپنا کھویا ہوا قرار اپنے گھر میں ملا.

 اس کے پعد  انہوں نے شادی کرلی۔ بیدل کچھ عرصے تک اورنگ زیب کے بیٹے محمد اعظم شاہ کے دیوان خانے میں بھی ملازم رہے لیکن انہوں نے شہزادوں اور امراء کے سامنے اپنی شاعرانہ استعداد اور صلاحیتوں کو کبھی ظاہر نہیں ہونے دیا۔ ایک دفعہ کسی درباری نے شہزادہ محمد اعظم کی موجودگی میں اس راز کو فاش کردیا کہ بیدل سرزمین ہندوستان بہترین شعراء میں سے ایک ہیں۔ شہزادہ محمد اعظم کو جو ایک ادب دوست انسان تھا یہ سن کر حیرانی ہوئی اور اس نے بیدل سے کہا کہ وہ اسکی تعریف میں شعر کہیں۔ یہ بات بیدل کو سخت باگوار گزری اور وہ اسی وقت دربار سے اٹھ کر چلے گئے اور پھر کبھی نہ پلٹے۔ اسکے بعد وہ واپس عظیم آباد جاکر رہائش پذیر ہوئے۔  انکا آستانہ اہل سخن اور ادباء کا مرکز بن گیا۔1720 میں انکا انتقال ہوگیا اور انہیں اپنے گھر کے صحن میں دفن کیا گیا۔

بیدل دھلوی نے شعر اور نثر دونوں میں گرانبہا ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے ۔ اکثر محقیقن نے انکے اشعار کی تعداد نوے ہزار سے لیکر ایک لاکھ تک بتائی ہے ۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل سے شائع ہونے والا  بیدل کا شعری اور نثری مجموعہ انکے آثار کا مکمل نسخہ شمار ہوتا ہے جو چار جلدوں پر مشتمل ہے۔ چار جلدوں پر مشتمل اس نسخے میں بیدل کی غزلیات قصائد، رباعیات اور مختلف عرفانی اور معنوی مفاہیم کی حامل مثنویاں شامل ہیں۔

 بیدل کی مثنویوں کا موضوع عرفان و تصوف ہے انکی مثنوی کا انداز سنائی ‏غزنوی اور عطار نیشاپوری جیسے عظیم شعراء اور صوفیا سے متاثر دکھائی دیتا ہے حتی انہوں نے اپنی بعض مثنویاں ان ہی شعراء کے طرز اسلوب پر کہی ہیں ۔ بیدل کی مثنویوں میں تصوف اور فلسفہ کی آمیزش دکھائی دیتی ہے ۔ بیدل کے آثار میں تین کتابیں باقی رہ گئی ہیں جن مین چہار عنصر، رقعات اور نکات شامل ہیں۔بیدل دھلوی کو فارسی شاعری کے ہندی اسلوب تکمیل کنندہ تصور کیا جاتا ہے۔ اپنے کلام کی نمایاں خصوصیات کے باوجود بیدل کو ایران میں وہ شہرت حاصل نہیں ہوسکی جو انہیں ملنا چاہیے تھی لیکن ایران سے باہر فارسی بولنے والے ملکوں میں انہیں کافی شہرت حاصل ہے ۔ بیدل ، افغانستان، تاجکستان کے عوام اور ان تمام لوگوں کے درمیان جنکی ادبی اور ثقافتی روایات فارسی زبان کی شعری روایات کے ساتھ چلا آرہا ہے پوری طرح جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ بیدل کو برصغیر پاک و ہند ، مارواء النھر اور افغانستان میں حافظ شیرازی کا ہم پلہ بلکہ بعض اوقات حافظ سے بھی بہتر سمجھا جاتا ہے۔

بیدل شناسوں کا کہنا ہے کہ انکی غزلوں میں انکے افکار و نظریات عکس پوری طرح نمایاں ہے۔ بیدل کے دور کی فارسی شاعری میں خیال پردازی یا تخیل کو کلام کی جان تصور کیا جاتا تھا یہی وجہ ہے کہ انکے اشعار  ظریفانہ تخیل سے سرشار نظر آتے ہیں۔ فارسی شاعری کے تمام دیوانوں میں بیدل کا دیوان انوکھی فکر اور اچھوتے تخیلات سے بھرا پڑا ہے ۔ انکے اشعار میں پائے جانے والے مفاہیم بھی بہت متنوع دکھائی دیتے ہیں۔ بیدل کے اشعار کو پڑھ کر اس بات کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ انہوں نے اپنی اشعار میں قاری کو حیرت میں ڈالنے کی پوری کوشش کی ہے ۔ وہ قاری کو شعر کے ظاہری مفہوم اور مروجہ خیالات سے ہاہر لے جاتے ۔ بیدل کی غزلوں میں عرفانی عشق کا ذائقہ ملتاہے ۔ جیسے وہ کہتے ہیں

 

تو کریم مطلق و من گدا چہ کنی جز اینکہ نخوانیم

در  دیگری  بنما کہ  من بکجا روم   چوں    بہ رانیم

 

 

مرحوم احمد فراز کی یاد میں

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

[مرحوم احمد فراز کی یاد میں]

 

تحریر: عطاء الحق قاسمی

ہمارے درمیان سے ایک اور بڑا شاعر اٹھ گیا ، چونکہ ہمارے ہاں شجر کاری کا رواج نہیں، چنانچہ کسی برگد کے کٹ جانے اور کسی بڑے آدمی کے اٹھ جانے کے بعد اس کی جگہ لینے والا کوئی نہیں ہوتا، احمد فراز جیسا شاعر بھی اب ہمارے درمیان کوئی نہیں۔ احمد فراز نے فیض اور حبیب جالب دونوں کی کمی  کو پورا کرنے کی کوشش کی تھی مگر فراز کی کمی کون پوری کرے گا کہ وہ صرف اعلیٰ درجے کا شاعر ہی نہیں آمروں سے ٹکرا جانے والا ایک بہادر آدمی بھی تھا۔

 

ایک وقت تھا کہ فراز اگرچہ میرے پسندیدہ ترین شعراء میں شامل تھا مگر میں اس کی شخصیت کے حوالے سے کچھ غلط فہمیوں میں مبتلا تھا۔1980ء کی دہائی کے ابتدائی دنوں میں پاک ہند مشاعروں میں شرکت کے لئے میں اور فراز بھارت گئے تو وہاں تقریباً دو ہفتے اکٹھے گزرے اور یوں فراز کی شخصیت کی مختلف پرتیں زیادہ واضح ہو کر سامنے آئیں۔ اس شاعر خوش نوا کے ساتھ بہت طویل نشستیں ہوئیں اور یوں مختلف مسائل پر اس کا نقطہ نظر سامنے آیا تو میں نے محسوس کیا کہ اس کی عوام دوستی اور وطن دوستی کا نظریہ مجھ سے مختلف تو ضرور تھا مگر اس میں کوئی کھوٹ نہیں تھا، چنانچہ کئی محفلوں میں اس نے کشمیر کی جدوجہد آزادی کی بھرپور حمایت کی ۔ ایک ٹی وی پروگرام میں تو وہ ایک بھارتی وزیر سے باقاعدہ الجھ پڑا۔ اس کے بعد چند برس پیشتر اس نے شدید بارش کے دوران اسلام آباد میں مقیم شاعروں اور دانشوروں کے ساتھ پیدل مارچ کرتے ہوئے بھارتی سفارت خانے میں آزادی کشمیر کے حوالے سے ایک یاد داشت بھی پیش کی۔ فراز بیسیوں دفعہ بھارت گیا مگر اس نے کسی ایک موقع پر بھی انڈین میڈیا کا وہاکھنڈ بھارتی دانہنہیں چگا جو وہ اکثر پاکستانی مہمانوں کے سامنے ڈالتے ہیں اور چند دوسرے قسم کے پاکستانی وہ دانہ چگنے بھی لگتے ہیں۔

 

جہاں تک فراز کی شاعری کا تعلق ہے اسے پڑھتے ہوئے حافظ و خیام کی یاد آتی ہے۔ وہی لطافت ا ور وہی سرمستی،شاعری لفظوں کے انتخاب کا نام ہے اور اس کے علاوہ لطف سخن اس کی پہلی شرط ہے۔ فراز کی شعری تربیت میں فارسی لٹریچر نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ اردو کا کلاسیکی ادب اور انگریزی شاعروں کے کلام پر بھی اس کی گہری نظر تھی۔ یہ چیزیں اس کی شاعری کے لئے کھاد کا کام دیتی تھیں لیکن اصل کمال اس کا اپنا تھا۔ وہ اگلے ہوئے نوالے نہیں چبا سکتا تھا۔ ہمار ی کلاسیکی شاعر ی کا محبوب ایک قصائی اور اس کانخچیر ایک میمنے کی صورت نظر آتا ہے۔اس میمنے نے گردن جکائی ہوئی ہے اور قصائی قسم کا محبوب اس کےچھوڈے اتارتا چلا جاتا ہے۔ یہ محبو ب بے وفا ہے اور اس کا عاشق بے ا نا ہے۔ وہ محبوب کی طرف سے ملی ہوئی ذلت کو ناکافی سمجھتے ہوئے ہل من مزیدکے نعرے لگاتا ہے جبکہ فراز کی شاعری میں عاشق محبوب کے تھلے لگا ہوا نظر نہیں آتا بلکہ وہ اپنی تمام تر وارفتگی کے باوجود اس معشوق میں عاشقی تلاش کرتا دکھائی دیتا ہے۔ سوز و ساز میں ڈوبی ہوئی فراز کی عاشقانہ غزلیں اردو غزل کی روایت سے ہٹ کر بھی ہیں اور اس کی دین یعنی بہترین کرافٹنگ کا اعلیٰ ترین نمونہ بھی ہیں۔ آپ فراز کی غزل میں سے کوئی ا یک لفظ بھی ادھر ادھر نہیں کرسکتے۔ ان میں جو لفظ بھی جہاں آیا ہے نگینے کی طرح آیا ہے۔ فراز کی تقلید میں بہت سے دوسرے شعراء نے بھی رومانی غزلیں کہنے کی کوشش کی مگر چونکہ وہ فراز نہیں تھے لہٰذا اس طرح کے شعری مجموعوں کو آپ کسی ایسے فراز کی شاعری قرار دے سکتے ہیں جو کسی نشیب میں رہتا ہو۔ فراز کے متعلق اس خیال سے کہ وہ صرف رومانی شاعر ہے اتفاق کرنا بہت مشکل ہے اس کی نظر زندگی کے تمام شعبوں پر ہے وہ شاعری برائے شاعری نہیں کرتا بلکہ اپنے اس ہنر سے وہ اس سے بھی بہتر کام لیتا ہے۔ اس کی اس نوع کی شاعری اس کے اپنے اس شعر کی تفسیر ہے۔

 

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

 

چنانچہ اس شاعر بے بدل نے اپنے حصے کی کئی شمعیں جلائیں اور یوں معاشرے کو اپنے حصار میں لئے ہوئے اندھیروں کے خلاف اعلان جنگ کیا۔ وہ شاعری کے علاوہ اپنے تند و تیز جملوں سے اس سٹیبلشمنٹ کے بھی پسینے چھڑا دیتا تھا جس کے کچھ ارکان اس کی شاعری کے مداح ہونے کی وجہ سے ذاتی سطح پر اس کے دوست بھی تھے بلکہ اس پر کوئی برا وقت آنے والا ہوتا تھا وہ درپردہ اس کی مدد بھی کرتے تھے لیکن جب وہ اپنی آئی پرآتا تھا تو پھر کسی کی پرواہ نہیں کرتا تھا۔ فراز سے زیادہ بذلہ سنج شاعر بھی میں نے کوئی نہیں دیکھا۔ اس کے جملے قہقہہ آور ہوتے تھے۔ وہ بات پر بات پیدا کرنے میں یکتا تھا۔ اس کی صحبت میں گزرا ہوا وقت انسان رخت سفر کی طرح ہر جگہ اپنے ساتھ لئے پھرتا تھا۔ فراز ہر کھرے آدمی کی طرح بےحد منہ پھٹ تھا۔ وہ اگر کسی کو ناپسند کرتا تھا تو اپنی ناپسندیدگی کا اظہار اس کے منہ پر کرتا تھا اوراکثر اوقات برسرِ محفل بھی کردیتا تھا۔ ایسا کرتے ہوئے بعض اوقات وہ بہت پست قامت لوگوں سے بھی الجھ پڑتا تھا۔ ایسے لوگ جو کے ٹخنوں کے برابر بھی نہیں آتے تھے ۔میں فراز سے کہتا تھا کہ آپ اپنے برابر کے لوگوں کے ساتھ چونچیں لڑایا کریں جب آپ ان کو ڈو قسم کے لوگوں کے منہ آتے ہیں تو یہ کسی کے کاندھے پر بیٹھ کر آپ پر حملہ آور ہوتے ہیں اور پھر خود کو عالم چنا سمجھنے لگتے ہیں، مگر فراز اپنی طبیعت سے مجبور تھا۔ دو چار بار مشورہ دینے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ ایسے معاملات میں فراز کومشورہ دینے کا کوئی فائدہ نہی. میں نے پوری زندگی میں فراز سے زیادہ مقبولیت کسی شاعر کی نہیں دیکھی۔

 

لطیفه

 

ٹیچر کا بچوں سے سوال

 

کلاس جس میں صرف ایک مسلمان بچہ تھا۔ باقی سارے کافر او خدا کے منکر تھے ،کلاس ٹیچر بھی ہندو تھا۔ ایک دن کلاس ٹیچر بچوں کو پڑھا رہے تھے ۔

بولے بچو یہ میز سب کو نظر آرہی ہے نا؟۔

بچے بولے ۔ بے شک ۔

ٹیچر بولے۔ کیا خدا آپ کو نظر آرہا ہے ؟۔

بچے بولے نہیں ۔

ٹیچر بولے۔ اگر خدا ہوتا تو نظر آتا نا؟۔

اتنے میں مسلمان بچہ اُٹھ کھڑا ہوا اور بچوں سے مخاطب ہوکر بولا۔ کیا آپ کو ماسٹر جی کی عقل نظر آ رہی ہے ؟۔

بچے بولے نہیں ۔

مسلم بچہ بولا ۔ اگر ماسٹر صاحب کی عقل ہوتی تو نظر آتی نا؟۔

بچے ایک ساتھ ہو کر بولے ۔ بے شک ۔

 

 

کلام اقبال

 

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر  

 

 

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر

کرتے ہیں خطاب آخر، اٹھتے ہیں حجاب آخر

 

احوال محبت میں کچھ فرق نہیں ایسا!

سوز و تب و تاب اول، سوز و تب و تاب آخر!

 

میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر اُمم کیا ہے

شمشیر و سناں اول، طاؤس و رباب آخر

 

میخانۂ یورپ کے دستور نرالے ہیں

لاتے ہیں سرور اول، دیتے ہیں شراب آخر

 

کیا دبدبۂ نادر، کیا شوکتِ تیموری!

ہوجاتے ہیں سب دفتر غرقِ مئے ناب آخر

 

خلوت کی گھڑی گزری، جلوت کی گھڑی آئی

چھٹنے کو ہے بجلی سے آغوشِ سحاب آخر!

 

تھا ضبط بہت مشکل اس سیلِ معانی کا

کہہ ڈالے قلندر نے، اسرارِ کتاب آخر

 

 

قارئین کے خطوط

 

قارئین کے خطوط

 

جناب سید محمدعظیم سبزواری صاحب اور مینہ میگزین کی پوری ٹیم کو میری طرف سے سلام

 

مینہ پشتو میں اردو کے صفحات کا اضافہ ایک اچھی کوشش ہے۔ البتہ اسکا گیٹ اپ مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ اردو صفحات کے آغاز میں اگر ٹائیٹل پیج کا اضافہ کیا جاتا اور مضامین کی فہرست دی جاتی تو بہتر ہوتا۔

(نور خان یوسف زئی، کراچی)

 

 

جناب شاہین صاحب اور سبزواری صاحب! سلام محبت

 

میرے ایک دوست نے مینہ کا گزشتہ شمارہ مجھے دیا، اچھا لگا۔ اردو سیکشن کا اضافہ بھی اچھا ہے۔ اداریہ میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے وہ قابل قدر ہیں لیکن اس موضوع پر مزید کام کرنے کی ضروت ہے ۔ خدا ہم سب کو دین کی حقیقت کو سمجھنے کی توفیق عطا کرے۔(آمین)

(محمد انور، پشاور)

 

 

پیارے بہائی شاہین صاحب! السلام علیکم

 میں مینہ کا مستقل قاری ہوں۔ گزشتہ شمارے میں اردو کے مضامیں پڑھے پسند آئے البتہ اس میں مزید بہتری کی ضرورت ہے ۔ مجھے امید ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مزید بہتری آئے گی۔ میرا مشورہ ہے کہ اردو سیکشن سے شروع کے صفحے پر اگر رنگین ٹائیٹل اور فہرست کا اضافہ کیا جائے تو اچھا ہوگا۔

 

(علی عباس ؛ کوہاٹ )

 

 

 

جناب ایڈیٹر صاحب! آداب

مینہ پشتو کے شمارے میں اردو کے صفحات کے اضافے پر میں پوری ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ میرا مشورہ ہے کہ اردو صفحات کی تعداد بڑھائی جائے اور اچھے لکھنے والوں کے مضامین شامل کیے جائیں۔ اگر پشتو ادب کی قدآرو شخصیات اور انکی ادبی خدمات اور کاوشوں کے بارے میں اردو میں بھی مضامیں شائع کیے جائیں تو بہت ہی اچھا ہوگا۔ اور اردو جاننے والوں کو پشتو ادیبوں کے افکارو نظریات کو سمجھنے کا موقع ملے گا۔ آگر رحمان بابا اور خوشحال خان خٹک کی شاعری پر مضمو ن شائع کریں تو شکر گزار ہوں گا۔

(لیاقت علی اعوان، نوشہرہ)

 

 

عشق

 

عشق

 

الطاف حسین حالی

 

اے عشق تو نے اکثر قوموں کو کھا کے چھوڑا

جس گھر سے سر اٹھایا اس کو بٹھا کے چھوڑا

 

رایوں کے راج چھینے شاہوں کے تاج چھینے

گردن کشوں کو اکثر نیچا دکھا کے چھوڑا

 

فرہاد کوہکن کی لی تو نے جان شیریں

اور قیس عامری کو مجنوں بنا کے چھوڑا

 

یعقوب سے بشر کو دی تو نے ناصبوری

یوسف سے پارسا پر بہتان لگا کے چھوڑا

 

عقل و خرد نے تجھ سے کچھ چپقلش جہاں کی

عقل و خرد کا تو نے خاکہ اڑا کے چھوڑا

 

افسانہ تیرا رنگین، روداد تیری دلکش

شعر و سخن کا تو نے جادو بنا کے چھوڑا

 

اک دسترس سے تیری حالی بچا ہوا تھا

اس کے بھی دل پہ آخر چرکا لگا کے چھوڑا

 

اہلبیت پشتو اکیڈمی اغراض و مقاصد

اہلبیت پشتو اکیڈمی

اغراض و مقاصد

1.    پشتو زبان میں اللہ کے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلیہ وسلم اور آپکے اہلبیت پاک علیہم السلام نبز صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی کی سیرت و تعلیمات کی نشرو اشاعت کا اہتمام کرنا۔

2.    دین مبین اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے پشتوزبان میں تعلیم و تربیت کوفروغ دینا اور پشتوزبان و ادب اورتہذیب و ثقافت کی اصل روابات کی پاسداری کرنا۔

3.    تمام زبانوں اور اقوام  کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پشتونوں میں انکی مادری زبان اور ثقافت کے ساتھ محبت کا جذبہ بیدارکرنا۔

4.    دنیا بھر میں قا‏‏ئم پشتو زبان و ادب سے متعلق تنظیموں، اداروں اور لائیبریریوں کی اخلاقی حمایت اور انکی حوصلہ افزائی کرنا۔

5.    پشتو زبان و ادب کی خدمت کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا اور پشتوزبان میں اہلبیت اطھارعلیھم السلام کے بارے میں بہترین کتاب لکھنے والوں کو حمزہ بابا(رح) ایوارڈ دینا۔

 

نوٹ:- اہلبیت پشتو اکیڈمی ایک آزاد اور با اختیار ادارہ ہے جسکا کسی بھی مذہبی، سیاسی، لسانی، قومیتی اور فرقہ وارانہ تنظیم ،جماعت،گروپ یا ادارے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ البتہ ہر ایسے ادارے، انجمن اور افراد کے ساتھ تعاون اور انکی حمایت کرتا ہے جو ادارے کے اغراض و مقاصد سے اتفاق کرتے ہوں اور انہیں آگے بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

 

تعاون کے طلبگار

پتہ: اہلبیت پشتو اکیڈمی حبیب مارکیٹ شعبہ بازار پشاور شہر

ایمیل: ahlebait_pakhto@yahoo.com

ویب سائیٹ: http://majorca.globat.com/~worbal.com/ahlibayt

فون: 7114566    موبائل: 3459047584

اکاونٹ نمبر: 5 – 809 الائیڈ بینک میونسپل بس سٹینڈ برانچ پشاور

رکنیت فارم

 

رکنیت فارم

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

جناب سرکولیشن مینیجر صاحب:

 

میں رسالہ مینہ کا سالانہ/شش ماہی خریدار بننا چاہتا ہوں ۔ رسالے کا زر اشتراک مبلغ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔روپۓ/ڈالر/دیگر زر مبادلہ  (۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔) بصورت نقد/منی آرڈر/ بینک ڈرافٹ/ چیک کے ذریعے ارسال کر رہا ہوں ۔ برائے مہربانی میرے نام رسالہ جاری کریں۔

دستخط خریدار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔                                     

رابطے کے لیے میرا نام اور پتہ مندرجہ ذیل ہے  :  نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔عمر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پیشہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاک کا مکمل پتہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔  

فون نمبر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  موبائل: ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

                    

رسالے کے بارے میں اپنے تاثرات، مشورے اور تنقید یہاں تحریر کیجیے

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

پتہ: اہلبیت پشتو اکیڈمی حبیب مارکیٹ شعبہ بازار پشاور شہر

ایمیل: meenaurdu@yahoo.com

فون: 7114566    موبائل: 3459047584

اکاونٹ نمبر: 5 – 809 الائیڈ بینک میونسپل بس سٹینڈ برانچ پشاور

ڈاک کے ذریعے ارسال کرنے کی صورت میں اس فارم کی فوٹو سٹیٹ بہی قابل قبول ہے۔