بسم اللہ الرحمن الرحیم

 اداریہ

 

آج دنیا کو جن مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے وہ کسی سے پوشدہ نہیں ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مختلف ملکوں کی خود مختاری کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور آزادی بیان کے نام پر مقدس آسمانی کتابوں اور اوللعزم انبیا علیہم السلام کی توہین کی جارہی ہے۔  عالمگیریت یا گلوبلائيزیشن کے نام پر قوموں کی تہذیب و ثقافت پر حملے کئے جا رہے ہیں اور عالمی تجارت کے نام پر نیا سامراجی نظام نا‌فذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ گویا وقار انسانی ایک بار پھر پامالی کی زد پر ہے اور شیطان صفت طاقتیں اس دنیا کو  بنی آدم کے لیے جنہم بنانے پر تلی ہوئی ہیں۔ یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔  یہ حالات کیوں کر پیدا ہوئے اور صورتحال اتنی پیچیدہ کیونکر ہو رہی ہے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ کوئی جلسہ کیا جائے ، کوئی کانفرنس  بلائی جائے یا بہت بڑا مجمع جمع کر کے دھائی دی جائے۔ہم میں سے ہر شخص کو ایک لمحے کے لیے اپنے اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا اور یہ دیکھنا ہوگا کہ صورتحال کی اس ابتری میں خود ہمارا کتنا کردار ہے۔ آپ یقینا یہ کہیں گے کہ اتنے بڑے کینوس پر ہماری حیثیت ہی کیا ہے اور ہماری مشکلات تو بہت ہی محدود نوعیت کی ہیں ، زیادہ سے زیادہ ملکی سطح کی بات کی جائے! اگر ہم اپنے جغرافیا ہی کو مد نظر رکھ لیں تو بھی ہم دیکھیں گے ہماری بہت سی مشکلات اسی بڑے کنیوس کا ہی حصہ ہیں ۔

وطن عزیز جن مشکلات اور مسائل میں گھرا ہوا ہے کیا ہم اسکی ذمہ داری سے اپنا شانہ خالی کرسکتے ہیں؟!فرقہ وارانہ تعصبات اور لسانیت کی آگ برسوں سے ہمارے دامن گیر ہے ہم نے اسے بجھانے کے لیے کیا کیا؟! بعض اوقات تو ہم اور آپ نے نہ صرف اسکو مزید ہوا دی بلکہ ہم میں سے بہت سے اس آگ کا ایندھن بنے اور ہمیں اب بھی ہوش نہ آیا ،ہماری آنکھوں کے سامنے کی بات ہے جب گلے میں قران ڈال کر پھرنے والے  بعض جاہلوں نے ہمارے ہم نوعوں کے گلے کاٹ ڈالے اور اسے دین کا نام دیا تو ہم نے انکے خلاف کتنی موثر آواز اٹھائی ۔ آج بھی جو لوگ دین کا نام لیکر ملک و ملت کے لیے وبال جاں بنے ہوئے ہیں  وہ کون ہیں؟ اور جو لوگ ترقی اور فیشن کے نام پر دین کی مسلمہ اقدار کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں وہ کون؟ وہ کون سے عوامل یا عناصر ہیں جو اس وبال کا سبب بنے ہیں؟

کرپشن کی دیمک جس طرح سے ہماری معشت کو چاٹ رہی اسکے سد باب کے لیے ہم اور آپ کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟کیا ہمارے ارد گرد کے ماحول میں ، ہمارے جان پہچان والوں میں حتی ہمارے رشتہ داروں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کسی نہ کسی کرپشن ،غیر قانونی کاموں اور یا غیر اخلاقی کاروبار میں ملوث ہیں؟! اگر ہیں تو ہمارا رویہ انکے ساتھ کیسا ہے؟! کیا ہم ایسے لوگوں کا سماجی بائیکاٹ کرنے کی جرات رکھتے ہیں ؟!کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ کہیں ہم خود تو اس بیماری میں مبتلا نہیں ہیں؟! جقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طور سے اداء ہی نہیں کیا بلکہ اگر یوں کہا جائے تو بہتر ہوگا کہ ہمیں نہ تو اپنی ذمہ داریوں کا اداراک ہے اور نا ہی ہم اپنے مسا‏ئل و مشکلات کو ہی سمجھ پا ئے ہیں ۔ جبکہ مسائل و مشکلات کو حل کرنے کے لیے ان دونوں باتوں کو سمجھنا ضروی ہے۔

 

وہ قیامت جو سر سے گزری ہے

دیکھيے  کب شعور  سے  گزرے

 

ہماری دعا ہے کہ خدا وند تعالی ہم سب کو شعور و ادراک کی نعمت سے بہرہ مند فرمائے۔ (آمین)

گزشتہ شمارے میں ہم نےعرض کیا تھا کہ مینہ ہر قسم کے تعصبات سے پاک ایک ایسے انسانی کنبے کی تشکیل کا خواہاں ہے جس میں برتری کا معیار رنگ و نسل اور قوم و قبیلہ اور گروہ یا جماعت نہیں بلکہ وقار انسانی کو ہر حال میں ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہو ۔ جہاں لسانی اور قومیتی تعصبات اور مذہبی منافرت کی بنا پر لوگوں کے گلے کاٹنے والوں کو دین کا ہیرو اور محافظ قرار نہ دیا جاتا ہو۔ دوسروں کی جان و مال اور عزت و آبرو کا اتنا ہی خیال رکھا جاتا ہو جتنا خود اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کا۔۔ ایسا معاشرہ کیونکر قائم ہوسکتا ہے ؟ اس بارے میں اگر آپ کچھ لکھنا چاہیں تو مینہ کے صفحات آپکے لیے حاضر ہیں۔ 

آپ حضرات نے جس طرح سے ہماری اس کاوش کو سراہا ہے اور اپنی آراء، تجاویز اور تنقید کے ذریعے ہماری حوصلہ افزائی کی ہے اس پر ادادہ آپکا شکر گزار ہے۔

مینہ کے آئندہ شماروں میں آپکی تجاویز اور تنقیدوں کو مد نظر رکھنے کی پوری پوری کوشش کی جائے گی ۔

 

                                                                                                  (ادراہ)