علامہ ڈاکٹر محمد اقبال در امام حسین

 علیہ السلام پر

 

شاعرِ اسلام علامہ محمد اقبال نے امام عالی مقام سیدنا امام حسین (ع) کی عظیم شہادت کی تاریخی حقیقت کو انتہائی خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے۔ ذیل میں انکے فارسی کلام کو اردو ترجمہ کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔

 

چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت

حّریت را  زہر اندر کام ریخت
جب خلافت نے قرآن پاک سے اپنا رشتہ توڑ لیا تو اس نے حریت کے حلق کے اندر زہر انڈیل دیا

خاست آں سر جلوۂ خیرالامم
چوں صحاب قبلہ باراں در قدم

یہ حالت دیکھ کر بہترین امت کا وہ بہترین جلوہ یوں اٹھا جیسے قبلہ کی جانب سے بارش سے بھرپور بادل

بر زمینِ کربلا بارید و  رفت
لالہ در ویرانہ ہا کارید و  رفت

یہ بادل کربلا کی زمین پر برسا، اس ویرانہ میں گلہائے لالہ اگائے اور آگے بڑھ گیا

تاقیامت قطع استبداد کرد
موج خونِ او چمن ایجاد کرد

اس نے قیامت تک کے لئے استبداد کی جڑ کاٹ دی، اس کی موج سے ایک نیا چمن پیدا ہوا

بہر حق در خاک و خوں غلطیدہ است
پس بنائے لا الہ گرویدہ است

سیدنا امام حسین (ع) حق کی خاطر خاک و خون میں لوٹے، اس لئے وہ لا الہ کی بنیاد بن گئے

مدعا یش سلطنت بودے اگر
خود نکردے باچنیں ساماں سفر

اگر ان کا مقصود سلطنت حاصل کرنا ہوتا تو اتنے تھوڑے ساز و سامان(بچوں اور خواتین) کے ساتھ یہ سفر اختیار نہ کرتے‘‘

ماسوی اللہ را مسلماں بندہ نیست
پیش فرعونے سرش افگندہ نیست

مسلماں غیراللہ کا بندہ نہیں وہ کسی فرعون کے سامنے اپنا سر نہیں جھکاتا

خونِ او تفسیر ایں اسرار کرد
ملت خوابیدہ را  بیدار کرد

سیدنا امام حسین (ع)  کے خون نے اس راز کی تفسیر پیش کر دی اور (اپنے عمل سے) ملت خوابیدہ کو بیدار کر دیا

رمز قرآن از حسین آموختیم
ز آتشِ او شعلہ ہا اندوختیم

ہم نے قرآن پاک کے رموز سیدنا امام حسین (ع)  سے سیکھے ہیں، ان کی روشن کی ہوئی آگ سے ہم نے آزادی کے شعلے اکٹھے کئے ہیں

تارِ ما از زخمہ اش لرزاں ہنوز
تازہ از تکبیرِ او ایماں ہنوز

ہماری زندگی کا تار ابھی تک سیدنا امام حسین (ع) کے زخم سے لرزاں ہے

انہوں نے میدان کربلا میں جو تکبیر بلند کی تھی اس سے ہمارا  ایمان ابھی تک زندہ اور تروتازہ ہے