کلام اقبال (رح)

 

تو راز ِ کُن فکاں ہے، اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا

 

خُودی کا رازداں ہو جا، خدا کا ترجُماں ہو جا

 

ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع ِ انساں کو

 

اُخُوّت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا

 

یہ ہندی، وہ خراسانی، یہ افغانی، وہ تورانی

 

تو اے شرمندۂ ساحل! اچھل کر بے کراں ہو جا

 

غبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے

 

تو اے مرغ حرم! اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جا

 

خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سر زندگانی ہے

 

نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا

 

مصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کر

 

شبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جا

 

گزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سے

 

گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جا