کرنل قذافی کا مختصر تعارف

 

 

لیبیا؛ جغرافیہ اور آبادی

 لیبیا شمالی افریقی ملک ہے جو بحیرہ روم کے جنوبی ساحل پر واقع ہے اور جیوپولیٹیکل حوالے سے مشرق وسطی کو "مغرب عربی" سے متصل کرتا ہے اور یورپ کے لئے افریقہ میں داخلے کا راستہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ملک مشرق میں مصر، مغرب میں تیونس اور الجزائر، جنوب میں سوڈان، چاڈ اور نیجر کا پڑوسی ہے۔ رقبہ سترہ لاکھ پچھتر ہزار کیلومیٹر مربع ہے اور یہ ملک رقبے کے لحاظ سے افریقہ کا چوتھا بڑا ملک مانا جاتا ہے اور بحیرہ روم میں اس کے ساحل کی لمبائی 1800 کیلومیٹر ہے۔ قذافی کی حاکمیت کے بعد اس کا سرکاری نام گریٹ لیبین سوشلسٹ پیپلز  ریپبلکس (الجماهيرية العربية الليبية الشعبية الاشتراكية العظمى = Great Libyan Socialist People's Arab Republics) رکھا گیا۔ اس ملک کی آبادی ساٹھ لاکھ کے لگ بھگ ہے؛ 97٪ لیبیائی مسلمان ہیں اور ملک کا سرکاری مذہب سنی مالکی ہے جبکہ سرکاری زبان عربی ہے۔

قذافی سرت 1946 کو سرت شہر کے قریب جہنم نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان خانہ بدوش تھا چنانچہ وہ آخری دم تک خانہ بدوشی کے رہے اور ان کا خیمہ ہر وقت بپا رہتا تھا اور بیرونی مہمانوں کو بھی اسی خیمے میں بلواتے اور ان سے ملاقات کرتے اور وہیں ان کی پذیرائی کرتے تھے۔

امریکہ  اور یورپ میں فوجی تعلیم حاصل کی اور 1969 کو مصر کے جمال عبدالناصر کی پیروی کرتے ہوئے بادشاہ "ملک ادریس" کا تختہ الٹ دیا اور ملک میں ایک مطلق العنان حکومت قائم کردی اور اس کو وہم تھا کہ عوام اس کی پوجا کررہے ہیں۔ یوں اس نے 42 برس تک حکومت کی اور حال ہی میں20 اکتوبر 2011  کو ایک عوامی انقلاب میں نہ فقط اس کی آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہوا بلکہ آخری جھڑپ میں مارا بھی گیا اور لیبیا کے عوام نے اس کی ہلاکت پر جشن منایا اور اسطرح  بیسویں صدی کی ایک طویل ترین آمریت کا زوال تاریخ کے صفحات پر ثبت ہوگیا۔

قذافی کے خلاف پر امن انقلاب شروع ہوا جس کو اس نے فوجی طاقت کا بے تحاشا استعمال کرکے کچلنا چاہا اور یوں فوج میں بھی بغاوت ہوئی اور گذشتہ 42 برسوں کے دوران اس کے ہاتھوں زخم کھانے والے عوام نے بھی مخالف جنگجوؤں کا ساتھ دیا لیکن مغرب نے ان کی مدد نہیں کی لیکن جب انقلابی قوتوں کی ناکامی یقینی ہوگئی تو انھوں نے اپنا ہاتھ نیٹو کے سامنے پھیلادیا اور یوں جنگ مزید وسیع ہوگئی اور کہا جاتا ہے کہ اس جنگ میں چالیس ہزار کے قریب لوگوں کا قتل عام ہوا۔

قذافی نے ابتداء میں القاعدہ کو اپنے خلاف جنگ کا ملزم ٹہرایا تا کہ مغرب کی حمایت حاصل کرسکے لیکن مغرب نے اس کی زبانی کلامی حمایت پر اکتفا کیا اور جب ان کی کمزوری نظر آہی گئی اور مغرب کو یقین ہوگیا کہ اب آمر اس کے مفادات کا تحفظ نہیں کرسکے گا اور ادھر عبوری کونسل نے فرانس، اٹلی اور امریکہ کو ضمانتیں دیں تو مغرب نے بظاہر انقلابیوں کی حمایت کردی اور نیٹو کا حملہ شروع ہوا۔ قذافی کو زوال کے مرحلے تک پہنچانے کے لئے انقلابیوں کو طویل جنگ لڑنی پڑی جو 2011 کے آغاز سے شروع ہوکر 20 اکتوبر تک جاری رہی۔ قذافی ملک کے تمام امور کا مالک تھا اور حتی کہ صنعت و تجارت پر بھی اس کا قبضہ تھا اور اس نے ایک قانون لکھا تھا جو ایک سبز رنگ کی کتاب میں لکھا ہوا تھا۔  قذافی کے دور میں ب‍ظاہر حکومت عوام کے ہاتھ میں تھی اور مقامی انقلابی کونسلیں ملک کے معاملات چلا رہی تھی لیکن عمل میں تمام فیصلے قذافی کے ہاتھ میں تھے اور ملکی مال و دولت اسی کے کنٹرول میں تھی۔

قذافی کے مخالفین اس کی مطلق العنانیت، قبائلیت، لوٹ مار، غربت، تہذیبی پسماندگی، حکومت میں شراکتداری سے عوامی کی محرومیت اور حکام کی بدعنوانی سے نالاں تھے۔ مثال کے طور پر لیبیا کی پوری آبادی ساٹھ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور اس ملک کی گذشتہ سال کی تیل کی آمدنی 32 ارب ڈالر تھی لیکن اس چھوٹی آبادی میں بے روزگاری کی شرح 30 فیصد تھی۔ ملک میں نجی شعبہ مفلوج تھا اور حکومت سب کو روزگار نہیں دے سکتی تھی اور نہیں دے رہی تھی چنانچہ بے روزگاروں کی فوج کو بھی اس نظام حکومت کی بقاء میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

قذافی نے ملک میں جوہری پروگرام شروع کررکھا تھا اور مغرب اس بات پر بھی ناراض تھا اور لاکربی طیارہ دھماکہ کیس میں بھی مغرب کی جانب سے اس کو سخت دباؤ کا سامنا تھا چنانچہ اس کے بیٹے سیف الاسلام نے امریکہ اور یورپ میں اپنے ذاتی تعلقات کی بنا پر اپنے والد اور مغرب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا اور 2003 میں جبکہ امریکہ نے افغانستان اور عراق پر قبضہ کرلیا تھا قذافی نے اعلان کیا کہ وہ اجتماعی قتل کے ہتھیار بنانے کا پروگرام ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے بعد اس نے جوہری تنصیبات کی تمامتر مشینری بحری جہازوں پر لاد کر امریکہ کے حوالے کردیا اور لاکربی کیس میں ہلاک شدگان کے پسماندگان کو اربوں ڈالر کا معاوضہ ادا کیا اور یوں امریکہ اور یورپ کے ساتھ اس کے تعلقات میں بہتری آئی لیکن 2005 میں عوام نے بنغازی میں اپنے جائز مطالبات کے لئے مظاہرے کئے تو قذافی نے انہیں بری طرح کچل دیا اور یوں عوام کے ساتھ اس کے تعلقات بہت خراب ہوئے اور قذافی مغربی دنیا کا دوست اور اپنے عوام کا دشمن بنا اور ایک طرف سے عوام کی غربت اور محرومیت بڑھی تو دوسری طرف سے تیل کی مغربی کمپنیاں لیبیا میں آباد ہوگئیں۔

یہ ساری صورت حال بہرحال عوامی انقلاب پر منتج ہوئی اور انقلابی تحریک بنغازی سے شروع ہوئی۔

 

انقلابی تحریک کی ڈائری اور اہم واقعات

انقلاب بنغازی سے شروع ہوا وہیں سے جہاں قذافی نے 2005 میں عوام کا قتل عام کیا تھا وہاں کے عوام ابتداء سے قذافی سے بدظن تھے اور قذافی کو بھی اس شہر پر کوئی اعتماد نہیں تھا چنانچہ اس شہر میں سروسز بھی کمزور تھیں اور قذافی اس شہر کی ترقی سے بھی غافل تھا۔

15 فروری 2011: عوامی احتجاج کی لہریں تیونس اور مصر سے لیبیا میں بھی سرایت کرگئیں۔ قذافی کے حامیوں نے بنغازی میں عوام پر حملے کئے اور بے شمار افراد زخمی ہوئے۔ ملک میں خونریز لڑائی کا امکان واضح ہے۔

25 فروری 2011: قذافی کی فورسز کو بنغازی سے پیچھے دھکیل دیا گیا اور یہ شہر مخالفین کا اصلی مرکز بن گیا۔ امریکہ نے لیبیا پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا۔

27 فروری 2011: اپوزیشن نے بنغازی میں "عبوری قومی کونسل" تشکیل دی جبکہ اب تک ہزاروں افراد قذافی کی افواج اور اس کے کرائے کے بیرونی ایجنٹوں کے ہاتھوں قتل ہوچکے ہیں، ہزاروں دیگر زخمی ہیں اور مختلف شہروں میں گھمسان کی لڑائی ہورہی ہے۔

 

2 مارچ 2011: قذافی کے جنگی طیاروں نے لیبیا کے مشرق میں مخالفین کے ٹھکانوں پر بمباری کی اور عبوری قومی کونسل نے عالمی برادری سے درخواست کی کہ وہ لیبیا کو نوفلائی زون قرار دے۔

17 مارچ 2011: اقوام متحدہ نے امریکہ اور یورپ کے کہنے پر لیبیا کی فضاؤں کو نو فلائی زون قرار دینے کی قرارداد منظور کرلی اور قذافی نے دھمکی دی کہ وہ مخالفین کو کچلنے کے لئے پوری طاقت استعمال کرے گا اور خون کا حمام گرم کرے گا۔

18 مارچ 2011: قذافی گویا انقلابیوں کے مقابلے میں کمزور پڑ گیا ہے چنانچہ اس نے جنگ بندی کی تجویز پیش کی لیکن عوام کا کہنا ہے کہ قذافی کا اعلان ایک فریب ہے اور عوام کا قتل عام جاری ہے۔

19 مارچ 2011: نوفلائی زون کو زبردستی نافذ کرنے کی تجویز بھی سلامتی کونسل نے منظور کرلی اور نیٹو کے طیارے بنغازی کی فضاؤں میں دکھائی دینے لگے۔

21 اگست 2011: قذافی نے اپنے حامیوں کو خون کے آخری قطرے تک لڑنے کی دعوت دی؛ طرابلس میں شدید لڑائی جاری ہے اور قذافی کے مخالفین نے گرین اسکوائر پر قذافی کی سرنگونی کا جشن منایا قذافی روپوش ہوگیا۔

24 اگست 2011: دارالحکومت طرابلس اور دوسرے علاقوں میں گھمسان کی لڑائی، عبوری کونسل نے اعلان کیا کہ عام انتخابات قذافی کے زوال کے آٹھ مہینے بعد ہونگے۔

25 اگست 2001: عبوری حکومت کے اولین وزراء طرابلس میں، عوام نے زبردست استقبال کیا۔ برطانوی فوج کا ایک اسپیشل گروپ قذافی اور اس کے بیٹوں کی تلاش میں۔

۲۹ اگست 2011: قذافی کی بیوی صوفیا اور بیٹے هنی بال اور محمد نیز بیٹی عائشہ الجزائر فرار ہوگئے۔

8 ستمبر 2011: کہا گیا تھا کہ قذافی نیجر فرار ہوگیا ہے لیکن اس نے آڈیو پیغام میں اعلان کیا کہ وہ ابھی تک لیبیا میں ہے لیکن اس کے باوجود بعض اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ قذافی حکومت کے سینئر حکام گاڑیوں کے ایک بڑے قافلے میں لیبیا سے خارج ہوگئے ہيں۔

12 ستمبر 2011: قذافی کا بیٹا الساعدی نیجر فرار ہوگیا ہے۔

13 ستمبر 2011: عبوری کونسل کے سربراہ مصطفی عبدالجلیل نے طرابلس میں اس کونسل کے حامیوں کے اجتما‏ع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا میں ایک اعتدال پسند اسلامی حکومت قائم ہونی چاہئے۔ انھوں نے ایسی حکومت کے قیام کے لئے ترکی کی موجودہ حکومت کو نمونے کے طور پر پیش کیا۔

15 ستمبر 2011: فرانسیسی صدر نیکولا سرکوزی اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے پہلے مغربی حکام کے طور پر طرابلس کا دورہ کیا۔ یہ دو افراد لیبیا میں فوجی مداخلت اور نیٹو کے حملوں کے اہم ترین حامی تھے۔

16 ستمبر 2011: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس اسمبلی میں لیبیا کی عبوری کونسل کی رکنیت کی ضمانت فراہم کردی اور اس کے ساتھ ساتھ لیبیائی انقلابیوں نے آمر کے آخری اڈوں پر حملوں کا آغاز کردیا ہے۔

22 ستمبر 2011: عبوری کونسل کی افواج نے تمام راستوں اور وادیوں پر قبضہ کرکے صحراؤں اور وادیوں کے راستے قذافی کے نکل بھاگنے کے تمام راستے بند کردیئے تا کہ وہ کسی صورت میں بھی پڑوسی افریقی ممالک میں داخل نہ ہوسکے۔

28 ستمبر 2011: کہا جاتا ہے کہ قذافی لیبیا، الجزائر اور تیونس کے مشترکہ سرحدی علاقوں میں دکھائی دیا ہے لیکن اس نے شام کے الرأی ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے پیغام میں کہا ہے کہ لیبیا میں رہنے کو ترجیح دیتا ہے اور اپنے ملک میں مرنا چاہتا ہے۔

17 اکتوبر 2011: قومی عبوری کونسل کی فورسز نے بنی ولید شہر پر قبضہ کرلیا اور یوں قذافی کے آبائی شہر "سرت" کا صرف ایک حصہ اس کے وفاداروں کے پاس رہ گیا۔

20 اکتوبر 2011: شدید مسلحانہ جھڑپوں کے بعد قذافی کے کافی سارے وفادار فوجی مزاحمت کو بے فائدہ پا کر بھاگ گئے ہيں اور بعض دوسرے گرفتار ہوچکے ہيں اور معمر قذافی گرفتار ہونے کے بعد ہلاک کیا گیا ہے۔

24 اکتوبر کو مصطفی عبدالجلیل نے اسلامی حکومت کے قیام کے لئے قرآن مجید کی بنیاد پر ملکی آئین کی تیاری کا اعلان کیا جبکہ قذافی اور اس کے بیٹے اور وزیر دفاع کی لاشیں عوام کے تماشے کے لئے مصراتہ رکھی گيیں اور بعد میں نا معلوم مقام پر  دفن کی گئیں۔ اس کی ہلاکت پر مصطفی عبدالجلیل نے کہا کہ وہ قذافی کی ہلاکت کے بارے میں تحقیقات کا حکم بھی دے چکے ہيں کیونکہ وہ اور لیبیا کے عوام قذافی کو قید کرنا چاہتے تھے اور اس کی موت پر وہ خوش نہیں ہیں جبکہ قذافی کے ساتھیوں اور بعض طاقتوں کو قذافی کی زندگی سے خطرہ تھا اور وہ ان کے راز فاش کرسکتا تھا چنانچہ انقلابی قوتیں قذافی کی قاتل نہیں ہیں اور تحقیقات سے ثابت ہوہی جائے گا کہ قذافی کو کس نے کیوں قتل کیا؟

ادھر مغربی بھیڑیئے امریکہ کی سربراہی میں دانت تیز کرکے بیٹھے ہيں اور  اور اس عوامی انقلاب کو اپنے شیطانی مقاصد کی طرف منحرف کرنے کے لئے سرگرم ہوگئے ہیں۔ لیکن یہ عوامی اور انقلابی رہنماوں کی ذمہ داری ہے کہ ان اپنےناپاک مقاصد میں کامیاب نہ ہونے دیں۔

...................