سرمایہ دارانہ نظام
سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بغاوت کی لہر
از:سید علی
اس وقت ایک عادلانہ نظام کا خلا ہے۔ سوشلزم اقور اشتراکیت اپنی موت مر چکی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام بھی آخری ہچکی لے رہا ہے۔ اب جو خلا ہوگا اس کو صرف اسلام کا عادلانہ نظام ہی پُر کر سکتا ہے۔
امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج ایشیا، افریقہ اور پوروپ تک پھیل گیا ہے۔ ہر جگہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان خونریز جھڑپیں ہورہی ہیں اور بڑی تعداد میں مظاہرین کی گرفتاری عمل میں آرہی ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک کے تحت امریکہ سے شروع ہونے والا مظاہرہ دنیا کے مختلف ملکوں میں پھیل گیا ہے۔
ان مظاہروں میں شریک افراد میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ یہ لوگ سرمایہ دارانہ نظام، غربت، عدم مساوات ، نسلی امتیاز ، جوہری توانائی سمیت دیگر خرابیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام اور کارپوریٹ گھرانوں کے خلاف بغاوت کی لہر سڈنی ، میکسیکو، چلی، ارجنٹینا، ایتھنز ، برلن ، ٹوکیو اور ہانگ کانگ تک پھیل گئی ہے۔ کنیڈا میں بھی کارپوریٹس کے خلاف مظاہرہ ہورہا ہے۔ ملائیشیا کے لوگ بھی سرمایہ دارانہ استعماریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔ ہسپانیہ کے شہر میڈرڈ اور پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں بھی مظاہرے ہورہے ہیں ۔
مبصرین کے مطابق نیویارک سے شروع ہونے والے مظاہروں میں دن بدن شدت آتی جارہی ہے۔ اس وقت امریکہ کے بشمول ۸۲ ممالک میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ ان تمام مظاہرین کا ایک ہی نعرہ ہے ’’ ہم عالمی تبدیلی چاہتے ہیں۔‘‘ اس وقت مظاہرین کا اصل نشانہ امریکہ ہے جو سرمایہ دارانہ استعماریت کا امام ہے، جس نے اپنی ناپاک پالیسی سے ساری دنیا کے امن و امان اور سلامتی کو زبردست نقصان پہنچایا ہے بلکہ امریکی معیشت کو بھی تباہ کردیا ہے۔ معاشی ناہمواری، عدم مساوات اور جنگ و جدل نے امریکہ کو بربادی کی کگار پر پہنچا دیا ہے اور بھکاریوں کی صف میں لا کھڑا کردیا ہے۔ بینکوں میں لوٹ کھسوٹ ، بے روزگاری، بد عنوانی اور سماجی نا برابری سے عام لوگوں کے صبر کا پیمانہ چھلک اٹھا ہے۔ اس وقت امریکہ اپنی سترکی دہائی کی تاریخ کو دہرا رہا ہے جب امریکی نوجوانوں نے 1968 میں ویت نام جنگ کے خلاف احتجاج کر کے اس وقت کے صدر لنڈن بی جائسن کو دوسری مرتبہ صدارتی انتخابات سے دستبردار ہونے اور ویت نام کی جنگ ختم کرنے پر مجبور کردیا تھا۔
اسی طرح اب ایک بار پھر متوسط اور محنت کش طبقات کے افراد امریکہ کی افغانستان اور عراق کی جنگ کے نتیجے میں زوال پذیر معیشت سے پیدا ہونے والی کساد بازاری اور بے روزگاری پر بلبلا کر سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور اپنے تمام مصائب کا ذمہ دار معیشت پر سود خور یہودی اور صہیونی ساہوکاروں کے تسلط کو ٹھہرا رہے ہیں۔ اوبامہ نے دیوالیہ ہوتے ہوئے یہودی بینک کاروں، بڑی بڑی کمپنیوں بشمول جنرل لوٹرز اور فورڈ کو بچانے کے لئے 787 ارب ڈالر کی امدادی رقم فراہم کر دی لیکن کساد بازاری کے شکار لکھوکھا امریکی شہریوں کو بے سہارا چھوڑ دیا۔ رہن رکھنے والی کمپنیوں نے اپنے قرضداروں کے مکانات جن کی قسط وار خریداری کے لئے انہیں قرض دیا تھا فرق کر اکر انہیں بے دخل کردیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نہ ان کے پیروں تلے زمین رہی نہ سرون پر چھت۔ کہنے کو تو امریکہ میں فلاحی نظام رائج ہے لیکن وہ نہ ان بے گھر افراد کی کفالت کر سکا نہ انہیں آباد کرسکا۔
اوبامہ کی فراہم کر دہ رقم سے جنرل لوٹر کمپنی اور دوسرے دیوالیہ بینک ڈوبنے سے تو بچ گئے لیکن ان کا نزلہ ان کے ملازمین کی چھٹنی کی شکل میں گرا۔ امریکی عوام یہ دیکھتے رہے کہ امریکی جنگجو جنرلوں کو افغانستان اور عراق جنگ کے لئے 3 کھرب ڈالر دے دئیے گئے لیکن اس ملک کے متوسط اور محنت کش طبقے کو بے روزگاری سے بچانے کے لئے بس اتنی امداد دی گئی جسے اونٹ کے منہ میں زیرہ کہا جاتا ہے۔ اگر کساد بازاری سے صرف ایک طبقہ متاثر ہوتا تو شاید صورت حال پر کسی نہ کسی طرح قابو پایا جاسکتا تھا لیکن امریکہ کی معاشی شہ رگ وال اسٹریٹ پر قبضہ سے تحریک کی صدائے باز گشت پورے امریکہ بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک تک سنی جاسکتی ہے۔
سرمایہ دارانہ نظام میں سانس لینے والے مظاہرین جب یہ کہتے ہیں کہ محنت کشوں کی تعداد 90 فیصد ہے جو اپنے خون پسینے سے سرمایہ پیدا کرتے ہیں لیکن انہیں بنیادی ضرورت سے محروم کیا جاتا ہے اور اس کے برعکس بد عنوانی کے باعث دیوالیہ ہونے والے بنکوں کو سنبھالا دیا جاتا ہے۔
امریکہ میں طبقاتی کشمکش نے اتنی شدت اختیار کر لی ہے کہ اس سے خانہ جنگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ کہاں ہیں امریکہ کے وہ ڈھنڈورچی جو کہتے ہیں کہ اس کی طاقت لازوال ہے، اس کی تہذیب بے مثال ہے، اس کی معیشت نہایت ہی مستحکم ہے۔ کسی نے سچ کہا کہ امریکہ کا سرمایہ دارانہ نظام اب دم توڑ رہا ہے اور پیوندکاری اور رفو گری کے باوجود جگہ جگہ سے پھٹتا جارہا ہے۔ اوبامہ مسلم معاشروں پر پھبتی کستے ہیں کہ وہاں غربت کے باعث انتہا پسندی جنم لے رہی ہے لیکن خود امریکہ کس عذاب میں مبتلا ہے اور وہاں غربت اور بے روزگاری کا کیا حال ہے اوبامہ کی بولتی بند ہوگئی ہے۔ امریکہ نے اپنے معاشرے میں طبقاتی استحصال سے توجہ ہٹانے کے لئے بیسویں صدی کے چار عشروں تک ان کے سامنے سوویت یونین کا ہوا کھڑا کئے رکھا۔سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد اسے نئے دشمن کی تلاش ہوئی۔ اس نے اسلام کو دشمن چن لیا اور اسلامی بنیاد پرستی، انتہا پسندی، عسکریت پسندی اور دہشت گردی کا وظیفہ پڑھنے لگا اور اس کو مغربی تہذیب کے لئے خطرہ قرار دے کر اپنے عوام کو جنون اور خوف میں مبتلا کردیا۔ اسلام اور اسلامی تحریک کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑنے اور عوام کو ہذیان میں مبتلا کرنے کے لئے امریکہ نے صیہونی نسل پرستی سے مل کر 11/9کا ڈرامہ رچایا۔
ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے انہدام کو بنیاد بنا کر امریکہ کے آدم خور حکمرانوں اور جنرلوں نے افغانستان کے(خود ساختہ) طالبان اور القاعدہ کو 11/9 کا بے ثبوت ملزم ٹھہرا کر اس بہانے سے ملک کے قدرتی وسائل کو لوٹنے کے لئے منصوبہ بند حملہ کر دیا۔ ان قزاقوں اور لٹیروں کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ یہ اقدام سامراجی استعماریت کی موت ثابت ہوگی۔ امریکہ آج جس معاشی بحران کا شکار ہے اس کی ایک بڑی وجہ جنگی اخراجات ہیں۔
گذشتہ دس برسوں میں اس یکطرفہ جنگ میں 1280 بلین ڈالر خرچ ہوگئے ۔ جس حکومت کے پاس اپنے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لئے وسائل نہیں، جس ملک کا رواں رواں قرض کے بوجھ تلے دبا ہو آخر اس بے جوا زجنگ کا جاری رکھنا سوائے جنگی جنون کے کیا ہے؟ امریکہ انتظامیہ نے یہ جنگ دو محاذوں پر لڑی۔ ایک محاذ پر گولی، گولے، ٹینک، توپ اور میزائل تھے، دوسرے محاذ پر میڈیا اور پروپیگنڈہ ۔ ایک حملہ کا رخ مسلم دنیا کی طرف تھا، دوسرے کا رخ اپنے عوام کی طرف جن کو دھوکہ دیا جارہا تھا۔ اب بعد از خرابیٔ بسیار امریکی عوام کی آنکھیں بھی کھل گئیں اور دنیا کے ان نوجوانوں کی بھی جو امریکہ کے طلسم کے اسیر تھے۔
آج دنیا بھر کے لئے سیاسی آزادی، جمہوریت ، معاشی استحکام، امن و انصاف اور مساوات کا ٹھیکیدار امریکہ اپنے بوئے ہوئے کانٹوں کی کاشت کاٹنے پر مجبور ہے۔ اس نے نہ دنیا کو دھوکہ دیا اور اسلامی ملکوں کو لوٹا بلکہ اپنے شہریوں کے ساتھ غداری کی، ان کو شراب و شباب کا رسیا بنا کر اور عیاشی کا افیون کھلا کر مفلوج بنا دیا اور ان کی روٹی، امن، سکون کو جنگ کے شعلوں میں جلا ڈالا۔ امریکہ نے جو پالیسی اختیار کی ہے اس کا نتیجہ ہے کہ آج ماحولیاتی توازن میں بگاڑ، مشینوں کے مسائل، بیماریوں اور موسم کی حدت کی روز افزونی سے انسان کراہ رہا ہے اور عام شہری بدعنوانی، سماجی نابرابری، بے روزگاری اور جنگی جنون کی تابکاری سے اکتا کر بغاوت پر اتر آئے ہیں۔ سڑکوں پر نعرے لگا رہے ہے شہروں شہروں تبدیلی کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔
یہ عوامی بغاوت دراصل سرمایہ دارانہ استعماریت کے خلاف ہے جسے عوام مسترد کررہے ہیں۔ نئے نظام کے طلبگار ہیں جو انہیں امن، انصاف، مساوات، روزگار اور وقار دے سکے۔ اگرچہ سرمایہ دارانہ نظام کو بظاہر ایسا فوری خطرہ نہیں ہے کہ اس کی بساط لپیٹ دی جائے اور دوسرا نامعلوم نظام لے آیا جائے لیکن بہر حال سرمایہ دارانہ نظام کے زوال کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس کی عمارت بھی کسی وقت اسی طرح دھڑام سے زمین بوس ہوسکتی ہے جس طرح منٹوں میں طلسماتی طور پر امریکہ کا وقار ورلڈ ٹریڈ سینٹر مٹ گیا۔
اس وقت ایک عادلانہ نظام کا خلا ہے۔ سوشلزم اقور اشتراکیت اپنی موت مر چکی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام بھی آخری ہچکی لے رہا ہے۔ اب جو خلا ہوگا اس کو صرف اسلام کا عادلانہ نظام ہی پُر کر سکتا ہے۔