تزكيہ نفس

 

 

قسط نمبر 9

 

 

 

 

آيت اللہ ابراہيم اميني

ترجمہ: علامہ شيخ اختر عباس

 

_7اعتراض كئے جانے سے نصيحت حاصل كرے: دوست اكثر عيب كے ذكر كرنے سے اجتناب كرتے ہيں اس كے بر عكس دشمن اكثر عيب پر اعتراض اور تنقيد كرتے ہيں گرچہ وہ اعتراض كرنے ميں مخلص نہيں ہوتے بلكہ حسد بغض انتقام لينے كى غرض انہيں تنقيد كرنے پر ابھارتى ہے بہر حال انسان اپنے دشمنوں كے اعتراض اور تنقيد اور عيب جوئي سے استفادہ كر سكتا ہے انسان اپنے دشمنوں كے اعتراض سے دو طريق ميں سے كسى ايك سے روبرو ہو سكتا ہے پہلے يا تو وہ اپنے آپ كو ان اعتراضات سے دفاع كرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے كيونكہ وہ عيب جوئي دشمن سے ظاہر ہوتى ہے اور وہ اس كے بيان كرنے ميں اچھائي كى نيت نہيں ركھتا لہذا جس طرح سے بھى ہو وہ اپنے لئے دفاع كى حالت پر آمادہ ہوجاتا ہے اور اس كى اس طرح كى آواز كو خاموش كرنے كے در پے ہوتا ہے اس طرح كا انسان نہ فقط اپنے عيب كى اصلاح نہيں كرتا بلكہ اس سے بڑھ كر دوسرى غلطى اور خطا اور اشتباہ ميں اپنے آپ كو گرفتار كر ليتا ہے دوسرے وہ دشمنوں كے اعتراضات كو اچھى طرح سے سنتا ہے اور پھر حقيقت شناسى كى نيت سے اپنے آپ ميں رجوع كرتا ہے اور بطور انصاف اس اعتراض كى تحقيق كرتا  ہے اگر اس نے ديكھا كہ دشمن كا اعتراض درست ہے اور اس كا نفس معيوب ہے تو فورا اس كى اصلاح كرنے كى كوشش كرتا ہے بلكہ اگر مصلحت كا تقاضا ہو كہ ايسے دشمن سے كہ جس نے اس كا عيب بيان كيا ہے اور وہ اس كے نفس كے پاك كرنے كا وسيلہ بنا ہے شكريہ ادا كرے ايسا دشمن اس لحاظ كرنے والے دوست سے كہ جو اس كے عيب كو چھپاتا ہے اور اس كى اس عيب پر تعريف كرتے ہوئے چاپلوسى كر كے اسے جہالت اور نادانى ميں ركھے رہتا ہے بہت زيادہ بہتر اور مفيد ہوگا اور اگر اس نے سوچ و بچار كے بعد ديكھا كہ دشمن كا بيان كردہ عيب اس ميں موجود نہيں ہے تو پھر خدا كا شكريہ ادا كرے اور اپنے نفس كى حفاظت كرے كہ كہيں اس برے عيب ميں بعد ميں مبتلا نہ ہوجائے اس صورت ميں انسان ايسے دشمن سے فائدہ اٹھايا ہے ليكن اس كا اس طرح كرنا اس سے مانع نہيں ہوگا كہ وہ عقلدئي اور شرعى طريقے سے دشمن كى سازش اور خيانت كے نقشے كو ناكام بنادے_

 

_ 8روح كى بيماريوں كى علامتيں: بيمارى كى پہچان كا ايك بہترين طريقہ اس كى علامتوں سے ہوا كرتا ہے_ جسم كى بيمارى دو ميں سے ايك طريقے سے پہچانى جاتى ہے يا تو درد كے محسوس كرنے سے اور يا كسى عضو كے اس كام كے انجام دينے سے كمزور پڑ جانے سے جو اس كے ذمہ قرار پايا ہے كيونكہ بدن كے نظام كے برقرار رہنے ميں اس كے ہر عضو كا مخصوص عمل ہوا كرتا ہے اگر كوئي عضو اس كام كے انجام دينے ميں كمزور ہو جائے تو معلوم ہوجائيگا كہ وہ عضو مريض ہوگيا ہے مثلا آنكھ اگر سالم ہو تو وہ خاص شرائط كے ساتھ ديكھتى ہے پس اگر شرائط كے ہوتے ہوئے يا تو بالكل نہ ديكھے يا اچھى طرح نہ ديكھے تو معلوم ہو جائے گا كہ وہ  بيمار ہے اسى طرح بدن كے بقيہ تمام اعضاء اور جوارح مثل كان ، زبان، ہاتھ، پائوں، دل ، جگر، گردے و غيرہ ان ميں سے ہر ايك كا ايك مخصوص كام ہوا كرتا ہے كہ جسے وہ سلامتى كى حالت ميں انجام ديتے ہيں اگر انہوں نے وہ مخصوص كام انجام نہ ديئے تو معلوم ہوجائيگا كہ وہ بيمار ہيں انسان كى روح اور نفس بھى اسى طرح ہے كہ اس كے لئے فطرت اور خلقت كے لحاظ سے مخصوص كام قرار ديئے گئے ہيں جنہيں اس كو بجالانے ہوتے ہيں_ روح عالم ملكوت سے آئي ہے علم اور رحمت قوت احسان انصاف پسندى محبت معرفت نورانيت اور دوسرے كمالات اور مكارم اخلاق سے اسے سنخيت حاصل ہے اور ان سے مربوط ہے يہ فطرت كے لحاظ سے علت كو معلوم كرتى ہے اور خدا طلب ہے ايمان اور خدا كى طرف توجہ اور اس ذات سے محبت اور علاقمندى اس كى عبادت اور اس سے دعا اور راز و نياز روح كى سلامتى اور صحت كى علامتيں ہيں_ اسى طرح علم و دانش اور اللہ كے بندوں كى رضا الہى كے لئے خدمت_ قربانى اور ايثار، عدالت خواہى اور دوسرے مكارم اخلاق روح كى صحت اور سلامتى كى علامتيں شمار ہوتى ہيں اگر انسان اس قسم كى صفات اپنے ميں موجود پائے تو معلوم ہوجائيگا كہ اس كى روح سالم اور صحيح ہے اور اگر اسے حاصل ہو كہ وہ خدا كى طرف توجہ نہيں ركھتا اور عبادت اور دعا اور مناجات سے لذت حاصل نہيں كرتا اور اس سے بھاگتا ہے خدا كو دوست نہيں ركھتا اور صرف مقام اور مرتبہ جاہ و جلال دولت اور ثروت اور اولاد اور بيوى شہوترانى اور لذات حيوانى كو اللہ كى رضا پر ترجيح ديتا ہے اور زندگى سے صرف منافع شخصى كا ہدف ركھتا ہے اور فداكارى اور قربانى اور ايثار اور احسان اور خدمت خلق سے لذت حاصل نہيں كرتا اور دوسروں كے درد اور مصيبت سے دردناك نہيں ہوتا_ ايسے شخص كو جان لينا چاہئے كہ اس كى روح واقعا بيمار ہے اگر وہ اپنى سعادت كو چاہتا ہے تو اسے بہت جلدى اپنى روح كى اصلاح اور علاج كرنا چاہئے_

 

علاج كرنے كا عزم

جب ہم نے نفس اور روح كى بيماريوں كو پہچان ليا اور يقين كر ليا كہ ہم بيمار ہيں تو ہميں فورا علاج شروع كرنا چاہئے اور سب سے اہم اس مرحلہ ميں انسان كا ارادہ اور عزم ہے اگر واقعا ہم چاہئيں اور حتمى ارادہ كرليں كہ ہم اپنے آپ كو برائيوں اور برے اخلاق سے اپنى روح كو پاك كريں گے تو يسا كر سكتے ہيں ليكن اگر اس كو معمولى شمار كريں اور ارادہ اور عزم نہ كريں تو پھر روح كى سلامتى اور اس كام کا صحيح ہوجانا غير ممكن ہوگا يہ وہ وقت ہے كہ شيطان اور نفس امارہ اپنا كام كرنا شروع كر ديتا ہے اور مختلف بہانوں كو سامنے لاتا ہو تا كہ ہميں روح كى اصلاح كرنے سے روكے ركھے ليكن ہميں بہت زيادہ ہوشيار ہونا چاہئے تا كہ اس كے حيلے اور بہانوں كا فريب نہ كھائيں_ ممكن ہے كہ ہمارى برى عادت كو يوں بتلايا جائے كہ تم نے لوگوں كے ساتھ زندگى بسر كرنى ہے دوسرے بھى ايسى صفت ركھتے ہيں_ فلان فلان  كو ديكھو اسى صفت بلكہ اس سے بدتر صفت ركھتا ہے كيا تم تنہا زندگى گذار سكتے ہو؟ اگر تو چاہتا ہے كہ رسوائے زمانہ نہ ہو تو زمانے كى طرح چال چلو_ ليكن انسان كو اس فريب اور دھوكے كے سامنے ڈٹ جانا ہوگا_ اگر دوسرے اس مرض ميں مبتلا ہيں تو ان كا مجھ سے كيا ربط ہے كسى دوسروں كا اس بيمارى ميں گرفتار ہوجانا ميرے اس كے ارتكاب كا جواز نہيں بنتا_ اسے يوں كہنا ہوگا كہ يہ عيب اور بيمارى تو مجھ ميں موجود ہے اگر ميں اس بيمارى كے ساتھ مرگيا تو ہميشہ بدبختى اور شقاوت ميں جا پڑوں گا_ لہذا مجھے اس كا علاج كرنا چاہئے اور اپنے نفس كو اس سے پاك كرنا ہوگا_

ممكن ہے كبھى اور حيلے كے ذريعے سے كہ جس سے وقت گذرتا جائے اور تاخير ہوجائے شيطان ميدان ميں آجائے اور ہمارے ارادہ كو منصرف كردے اور يوں خيال ميں لائے كہ يہ تو ٹھيك ہے كہ يہ عيب تو تجھ ميں موجود ہے اور اس كى اصلاح بھى كرنى چاہئے ليكن اتنى جلدى كيا ہے اور كيا دير ہوگئي ہے؟ رہنے دو ميں فلان كام انجام دے لوں_ اس وقت فارغ البال ہو كر نفس كے پاك كرنے ميں مشغول ہو جائونگا_ ابھى تو ميں جوان ہوں اور عيش كرنے كا زمانہ ہے جب بڑھا پے ميں جائونگا تو پھر توبہ كر لونگا اور نفس كے پاك كرنے ميں مشغول ہوجائونگا_ انسان كو متوجہ رہنا چاہئے  كہ يہ بھى شيطان كا ايك فريب اور حيلہ ہے_ كيا معلوم كہ اس وقت تك انسان زندہ رہے گا؟ شايد اس سے پہلے مرجائے اور انہيں نفسانى بيماريوں ميں فوت ہوجائے اس وقت ہمارا انجام كيا ہوگا؟ اور بالغرض اس وقت تك ز ندہ بھى رہ جائے تو كيا اس وقت شيطان اپنى حيلہ گرى اور فريب دينے كو چھوڑ دے گا_ اور ہميں آزاد چھوڑ دے گا تا كہ اپنے نفس كو پاك كر سكيں اس وقت شيطان كوئي اور فريب دے كر نفس كے پاك كرنے سے ہميں روك دے گا لہذا كتنا ہى اچھا ہے كہ ابھى سے نفس كے پاك كرنے ميں شروع ہوا جائے اور نفس امارہ پر قابو پايا جائے_ ممكن ہے كہ نفس امارہ ہميں كہے كہ تم نے فلاں صفت كى عادت كر ركھى ہے اور عادت كا چھوڑنا تيرے لئے ممكن نہيں ہو گا تو خواہشات نفس كا قيدى ہے كس طرح تو اپنے آپ كو اس قيد سے رہائي دلا سكتا ہے؟ تيرى روح گناہ اور معصيت كى وجہ سے تاريك ہوچكى ہے ابھى اسے گلو خلاصى ممكن نہيں ہے معلوم ہونا چاہيے كہ يہ بھى شيطان كى ايك فريب كارى اور دھوكا دہى ہے تجھے اپنے نفس كو كہہ دينا چاہئے كہ عادت كا چھوڑنا غير ممكن نہيں ہوتا بلكہ يہ ممكن ہے گرچہ يہ مشكل تو ہے ليكن اصلاح كرنے كے عمل ميں شروع ہو جانا چاہئے اور اپنے نفس كو پاك كرنے ميں كوشش كرنے چاہئے اگر گناہ اور برى عادت كا چھوڑنا ممكن نہ ہوتاتو يہ سارے حكم جو پيغمبر اکرم (ص) اور ائمہ اطہار علیہم السلام كے اس بارے ميں آئے ہيں تو ان سے صادر نہ ہوتے اور توبہ كے دروازے كسى وقت بند نہ ہوتے توبہ كا دروازہ ہميشہ كے لئے كھلا ہوا ہے لہذا حتمى ارادہ كر لينا چاہئے اور روح كے پاك كرنے ميں مشغول ہو جانا چاہئے_ ہو سكتا ہے كہ شيطان نفسانى بيماريوں اور برى صفات كو معمولى اور كم بتلائے اور كہے كہ تم واجبات كے بجالانے كے تو پابند ہو اور فلان فلان مستحب كام بھى بجالاتے ہو خدا تمہيں بخش دے گا اور تيرى جگہ بہشت ہے اور يہ كئي ايك برى صفات جو تم ميں موجود ہيں يہ اتنى اہم نہيں ہيں تيرے مستحبات كے بجالانے كى وجہ سے ان كا تدارك ہو جائيگا اور وہ بخش دى جائيں گى اس صورت ميں بھى ملتفت رہنا چاہئے كہ اس قسم كے خيالات اور اميديں دلانا بھى شيطان كا ايك مكر اور فريب ہوتا ہے

 اور ہميں اپنے نفس ا مارہ سے كہنا چاہئے كہ نيك اعمال تو صرف متقيوں سے قبول ہوتے ہيں اور تقوى كا حاصل كرنا نفس كو پاك كئے بغير حاصل نہيں ہوتا اگر ہمارا نفس برائيوں سے پاك نہ ہوا تو نفس ميں اچھائيوں كى نشو و نما نہيں ہو سكے گى اور اگر نفس سے شيطان باہر نہ گيا تو فرشتہ رحمت اس ميں داخل نہيں ہو سكے گا اگر گناہ اور برے اخلاق سے نفس آلودہ ہوا تو آخرت كے جہان ميں اس كے لئے نور نہ ہوگا_

ہميں ہميشہ ان بيماريوں كے انجام كى طرف جو پہلے بيان كى جاچكى ہيں متوجہ رہنا چاہئے اس كے ساتھ احاديث اور اخلاق كى كتابوں كے مطالعہ سے ان نفسانى بيماريوں اور ان كى اخروى سزا اور عقاب كو مورد توجہ قرار دينا چاہئے اس ذريعے سے ہميں نفس امارہ كے حيلے اور بہانے اور نفس امارہ كے توہمات كا مقابلہ كرنا چاہئے اور نفس كى اصلاح اور اسے پاك كرنے ميں حتمى اور جزمى ارادہ كر لينا چاہئے اگر ہم نے ارادے كا مرحلہ طے كر ليا تو پھر عمل كرنے كا مرحلہ قريب تر ہوجائيگا_

 

نفس پر غلبہ كرنا

تمام اعمال اور افعال اور برائياں اور اچھائيوں كو بجالانے والى در حقيقت روح ہوا كرتى ہے اگر روح سالم اور صحيح ہو تو انسان كى دنيا اور آخرت آباد ہوگى اور اگر روح فاسد ہوئي تو پھر وہ برائيوں كے بجالانے كا موجب ہوگى اور دنيا اور آخرت كى ہلاكت اسے لاحق ہوجائيگى اگر انسان نے انسانيت كے راستے پر قدم ركھا تو اللہ كے مقرب فرشتوں سے بھى بالاتر ہوجائيگا اور اگر اس نے انسانى شرافت كو نظر انداز كيا اور حيوانيت كے راستے پر گامزن ہوا تو حيوانات سے بھى بدتر ہوجائيگا بلكہ وہ شيطنت كے مقام تك پہنچ جائيگا ان دونوں راستوں كے طے كرنے كے اسباب اور عوامل انسان كى فطرت ميں ركھ ديئے گئے ہيں_ وہ عقل بھى ركھتا ہے اور فطرت كے ما تحت انسانى فضائل اور كمالات كا چاہنے والا بھى ہوتا ہے اور يہ حيوان بھى ہے اور حيوانى غرائز اور خواہشات بھى ركھتا ہے اور يوں بھى نہيں كہا جا سكتا كہ حيوانى خواہشات اور غرائز بالكل اور نقصان وہ ہوتى ہيں اور انسان كو پستى كى طرف دكھيل ديتى ہيں نہ بلكہ ان كا ہونا بھى انسان كى زندگى كے لئے ضرورى ہے_ اگر ان سے صحيح اور ٹھيك استفادہ كيا جائے تو انہيں انسانى تكامل اور اللہ كى طرف سير و سلوك كے لئے كام ميں لايا جا سكتا ہے ليكن اصل مشكل يہ ہے كہ حيوانى خواہشات اور تمنيك ايك معين حد تك نہيں ٹھہر تيں اور دوسروں كا لحاظ نہيں كرتيں اور نہ ہى انسانى خصوصيات كى طرف متوجہ ہوتى ہيں اور نہ ہى دوسرے غرائز كا لحاظ كرتى ہيں بلكہ ان كى غرض اور غايت صرف اپنے آپ كو آخر تك پہچانا ہوتا ہے_

حيوانى غريزہ كى غرض صرف اسى غريزہ كو بطور كامل حاصل كرنا ہوتا ہے اور اس كے علاوہ اس كى كوئي غرض نہيں ہوتى تمام حيوانى خواہشات اور غرائز جيسے كھانے پينے كى چيزوں سے لذت حاصل كرنا مقام اور منصب كى محبت حكومت اور شہرت مال اور دولت سے وابستگى زندگى كے تجملات اسى طرح غصہ انتقام لينا اور تمام وہ صفات جو ان سے پھوٹتى ہيں يہ تمام كى تمام كسى ايك معين حد تك نہيں ٹھہرتيں بلكہ ان ميں سے ہر ايك كو آخر تك حاصل كرنا مقصود ہوجاتا ہے_ اسى وجہ سے انسان كا نفس اور روح مختلف خواہشات اور غرائز كے لئے ميدان جنگ اور شكست و ريخت كا ميدان بنا رہتا ہے اور كبھى آرام اور سكون ميں نہيں رہتا جو بھى اس جنگ ميں كامياب ہو جاتا ہے وہى روح اور نفس كو پورى طرح اپنا اسير اور قيدى بنا ليتا ہے ليكن ان كے درميان عقل بہت قدرت اور بہت زيادہ اہميت ركھتى ہے_ عقل شرعيت كى راہنمائي ميں حيوانی خواہشات اور تمينات پر كنٹرل كر سكتى ہے اور انہيں اعتدال كى حالت ميں قرار دے سكتى ہے اور افراط اور تفريط سے مانع بن سكتى ہے عقل اپنى حكومت كو كام ميں لا سكتى ہے_ خواہشات كے درميان اعتدال برقرار كرسكتى ہے_ عقل اس وسيلے سے نفس اور روح كى مملكت كو گڑ بڑ اور نا آرامى اور زيادہ طلبى سے نجات دلا سكتى ہے اور انسانيت كے سيدھے راستے اور سير اور سلوك كى راہ نمائي كر سكتى ہے_

ليكن عقل كا اس پر حاكم اور مسلط ہوجانا كوئي آسان كام نہيں ہے كيونكہ وہ باقى طاقت ور قوتوں اور خواہشات كے روبرو ہوتى ہے اور دھوكے باز دشمن كہ جس كا نام نفس امارہ ہے اور اس كے بہت زيادہ مددگار اور ساتھى ہيں جو اس كى حمايت كرتے ہيں_ اسے اس كا سامنا كرنا پڑتا ہے_

خداوند عالم قرآن ميں فرماتا ہے كہ'' نفس ہميشہ برے كاموں كا حكم ديتا ہے مگر کہ خدا رحم كردے_(136)

رسول خدا (ص)  نے فرمايا ہے كہ '' تيرا سب سے بڑا دشمن تيرا نفس ہے جو تيرے دو پہلو ميں موجود دہے_(137)

اميرالمومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ '' عقل اور شہوت ايك دوسرے كى ضد ہيں علم عقل كى مدد كرتا ہے اور ہوى اور ہوس شہوت كى تائيد كرتے ہيں_ انسانى نفس دو قوتوں كى لڑائي كا ميدان ہوتا ہے ان ميں سے جو دوسرى قوت پر غلبہ حاصل كر لے انسانى نفس كو اپنى گرفت ميں لے ليتا ہے_(138) حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ '' برائي اور شر ہر ايك نفس ميں موجود ہيں اگر نفس كے مالك نے اس پر غلبہ حاصل كر ليا تو وہ مخفى ہوجاتا ہے اور اگر اس پر غلبہ نہ كيا تو وہ ظاہر ہوجاتا ہے_ (139)

لہذا عقل بہت اچھا حاكم ہے ليكن مدد كئے جانے كا محتاج ہے اگر اس جنگ ميں عقل كى مدد كريں اور نفسانى خواہشات اور شہوات اور ہوى و ہوس پر شورش كريں اور جسم كى مملكت كے انتظام كا كاكم عقل كے سپرد كرديں تو ايك بہت بڑى فتح اور كامرانى كو حاصل كر ليں گے_ يہى دو چيز ہے كہ جو دين كے پيشوائوں اور رہبروں اور شريعت اور طريقت پر  چلنے والوں نے ہم سے طلب كى ہوئي ہے اور اس كے متعلق بہت زيادہ تاكيد كر ركھى ہے_ حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ '' ہوشيار رہنا كہ كہيں شہوات تمہارے دلوں پر غالب نہ آجائيں كيونكہ پہلے وہ تمہيں اپنى ملكيت ميں ليں گى اور آخر ميں تجھے ہلاك كرديں گي_(140) امير المومنين عليہ السلام نے فرمايا كہ '' جس نے اپنى خواہشات كو اپنى ملكيت ميں قرار نہ ديا تو وہ اپنى عقل كا مالك بھى نہيں رہے گا_(141)  امام جعفر صادق عليہ السلام نے فرمايا كہ '' جو شخص خوف اور رغبت اور شہوت اور غضب كے وقت اپنے نفس پر مسلط ہوا تو خدا اس كے بدن كو جہنم كى آگ پر حرام قرار دے دے گا_(142) حضرت على عليہ السلام نے فرماياہے كہ'' تم اپنے نفس پر مسلط ہوجائو اور اسے گناہوں سے روكو تا كہ تم اسے اللہ كى اطاعت كى طرف آسان كردو_(143)

روح انسانى كو پاكيزہ بنانے كے لئے نفس اور اس كى خواہشات اور ھوى اور ہوس پر كنٹرول كرنا ايك ضرورى اور زندگى ساز كام ہے_ انسان كا نفس اور روح مثل ايك سركش گھوڑے كى طرح ہے اگر وہ رياضت كے ذريعے مطيع اور آرام ميں ہوا اور اس كى لگام اپنے ہاتھ ميں ركھى اور اس كى پشت پر سوار ہوا تو پھر اس سے فائدہ حاصل كر سكے گا اور اگر وہ مطيع اور فرمانبردار نہ ہوا اور جس طرف چاہے وہ جانے لگا تو وہ تجھے اپنى پشت سے تہہ غار ميں گرا دے گا ليكن سركش نفس كو مطيع اور فرمانبردار بنانا كوئي آسان كام نہيں ہے وہ ابتداء ہى ميں تجھ سے مقابلہ كرے گا_ ليكن اگر تو مقاومت كرے اور مضبوط بنے تو وہ تيرا مطيع اور فرمانبردار ہوجائے گا_  امير المومنين عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ '' اگر تيرا نفس تيرے سامنے سختى سے پيش ائے اور مطيع اور فرمانبردار نہ ہو تو بھى اس پر سختى كر تا كہ وہ تيرا مطيع اور فرمانبردار ہوجائے تو اس كے ساتھ حيلے اور بہانے سے پيش آ   تا كہ وہ تيرى اطاعت ميں آجائے _ (144) نيز حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ '' انسان خواہشات اور شہوات ، مار دينے والى بيمارياں ہيں اور انكا بہترين علاج اور دوا، صبر اور استقامت اور اس كے مقابلے ميں ڈٹ جانا ہے_ (145)

 

حواشي

 136 - انّ النفس لا مّارة بالسوء الّا ما رحم ربّي_ يوسف/ 53_

 137 - قال النبى اللہ صلى اللہ عليہ و آلہ:اعدى عدوك نفسك التى بين جنبيك_ بحار/ ج 70 ص 64_

138  - قال على عليہ السلام: العقل و الشہوة ضدان، و مؤيد العقل العلم و مؤيّد الشہوة الہوي، و النفس متنازعة بينہما_ فايّہما قہر كانت فى جانبہ_ غرر الحكم/ ج 1 96_

139  - قال على عليہ السلام: الشرّ كامن فى طبيعة كل احد فان غلبہ صاحبہ بطن و ان لم يغلبہ ظہر_ غرر الحكم/ ج 1 ص 105_

140 - قال على عليہ السلام: ايّاكم و غلبة الشہوات على قلوبكم فان بدايتہا ملكة و نہايتہا ہلكة_ غرر الحكم/ 16_

141 - قال على عليہ السلام: من لم يملك شہوتہ لم يملك عقلہ_ غرر الحكم/ ج 2 ص 702_

142 - قال الصادق عليہ السلام: من ملك نفسہ اذا رغب و اذا رہب و اذا اشتہى و اذا غضب و اذا رضى حرّم اللہ جسدہ على النار_ وسائل الشعيہ/ ج 6 ص 123_

143- قال على عليہ السلام: غالبوا انفسكم على ترك المعاصى يسہل عليكم مقادتہا الى الطاعات غرر الحكم/ ج 2 ص 508

 144- قال على عليہ السلام: اذا صعب عليك نفسك فاصعب لہا تذل لك و خادع نفسك عن نفسك تنقدلك_ غرر ا لحكم/ ج 1 ص 319_

145 - قال على عليہ السلام: الشہوات اعلال قاتلات و افضل دوائہا اقتناء الصبر عنہا_ غررالحكم/ ج 1 ص 72_