پشتونون کي فطري خامي
پشتونون کي فطري خامي
فیروز افریدی - قطر
اج کل بعض قوم پرست اور ترقی پسند دوست کہتے ہیں کہ پشتون صرف بندوق نہیں بلکہ علوم و فنون میں بھی کسی سے کم نہیں او یہ کہ ہم لوگوں کو جب کوئی غیر کہے اور پیٹھ پر تپکی دے کہ بہادری صرف پشتونون کی وصف ہے، لہذا پشتون انکے بہکاوے میں اکر مارنے مرنے پر تیار ہوجاتے ہیں اور یہاں تک کہ اگر کوئی پرایا دشمن مارنے کے لئے ھاتھ نہ ائے تو اپنے بھائی کو بھی مارنے سے دریغ نہیں کرتے.
اس قسم کی باتیں ہم روز سنتے اور پڑھتے ہیں
""پر امنہ پختانہ یو"" کے گیت بھی سنتے ھیں.
شاعر اور ادیب بچارہ بھی امن کے گیت لکھ لکھ کر مایوس ہوچکا ہے
پشتونوں کی وحشیانہ سلوک کے بارے میں کچھ عرصہ پہلے ایکسپریس اخبار میں زمرد نقوی نے بہی لکہا تھا جہاں انہوں نے اسی قسم کا مضموں باندھا تھا.
انہوں نے یہ بھی شائید کہا تھا اور چرچل کی کسی کتاب کا حوالہ دیا تھا کہ پشتون پیدائیشی عسکری ہے اور انکو سوائے تلوار ،بندوق او مارنے مرنے کا کوئی دوسر ھنر نہیںاتا. شائید انکی کچھ باتیں صحیح بھی تھی مگر انہوں نے زیادہ تر باتیں تعصب میں اکر لکھی تھی.
نقوی صاحب کے کالم کا جواب ھمارے پشتون لکھاریوں نے بر وقت دیا تھا
سب سے اچھا اور خوبصورت جواب انتہائی دھیمے اور پرامن لہجے میں ہمارے بزرگ دانشور سعداللہ جان برق صاحب نے دیا تھا
برق صاحب نے اپنے جواب میں بہت سی وجوہات بیان کی تھی سب سے بڑی وجہ انہوں نے پشتون قوم کا مسلسل جنگوں میں گزر بسر اور صدیوں سے اس مٹی پرمختلف اطراف سے جنگ مسلط رکھنا اور اسی جنگی کیفیات سے پشتون قوم کی مزاج میں لڑائی اور جنگ وجدل کی طرف انکا رجحان ایک فطری امر بن گیا ہے.
جہاں تک امن کا تعلق ہے تو اس مٹی پر اتنی جنگیں ہوئی ہیں،کہ اس کا ذرہ ذرہ خون الود ہے .او یہ خون بہت گہرائی تک رس رس کر اتر چکا ہے.
اب لوگ جنگوں سے تنگ اکر واقعی جنگ نہیں چاہتے بکہ لوگوں کی اکثریت جنگ کا نام بھی سننا پسند نہیں کریں گے مگر مجبوری یہ ہے کہ کوئی انہے امن سے رہنے نہیں دیتے اور جہاں کوئی اگر امن سے رہنا چاہے وہ یا تو مار دیا جائیگا یا یہاں سے ہجرت کر جائیگا امن کا حواہاں یہاں نہیں رہ سکتا
اب یہ بھی نہیں کہ لوگ سمجھ بوجھ سے عاری ہیں.یہاں کا شخص انتھائی عقلمند ہے مگر مجبور ہے.
کیونکہ جب کوئی شخص یہاں سے ہجرت کر جاتا ہے .تو وہ خود یا انکی نسل میں سے کوئی بڑا نام کمالیتا ہے.
دوسری جگہ جہاں وہ جنگوں کی کیفیات اور ماحول سے نکل جاتا ہے تو یہی پشتون پھر کمالات دیکھاتا ہے اور جس چیز میں بھی ھاتھ ڈالتا ھے اسے کمال تک پہنچاتا ہے.
مگر یہاں اس مٹٰی پر پڑھا لکھا شخص بھی روایتی دشمنی کی بھینٹ چڑتا ھے.
اور نہ چاہتے ھوئے بھی بندوق اٹھاتا ہے.
یہ خامی پشتوںوں کی اس مٹٰی اور ماحول میں ہے کہ دوسرا جو بھی اسے پیٹھ پر تپکھائے کہ اپ تو انتھائی بہادر ہیں او اسلام بھی اپکی وجہ سے پھیل سکتا ہے اور جھاد بھی اپکے بغیر کامیاب نہیں ھوسکتا تو اپنی اس فطری خامی سے مجبور ہوکر وہ اسلام پہیلانے کے لئے پھر بندوق اٹھاتا ھے اور سامنے انے والا بھائی بھی معاف نہیں کرتا-
یہی خامی تو ان پشتوںوںمیں بھی ہے جو اسلام کی بجائے کوئی دوسری ازم پسند یا اپنے اپ کو مترقی کہنے والے ہیں
اس کی مثال اج کی قوم پرست جماعت کو لیجئے جب ان کو کہا گیا کہ اس مٹی کی اصل حقدار تو اپ ہیں یہاں کے مولویوں کو اپ ہی بھگا سکتے ہیں حالنکہ وہ لوگ جو انکے ساتھ حکومت میں شریک ہیں وہ کچھ نہیں کہتے انکو اگے کرکے اپنے ھی بھائیوں کو ھمیشہ کے لئے انکا دشمن بنا دیا ھے
.اب ساری عمر تو حکومت میں نہیں رہیں گے مگر اس مٹی پر ایک دھڑے کا دوسرے دھڑے کے ساتھ ازلی دشمنی کا بیل بودیا گیا ہے.سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں مرگئے ہیں اور ایسی طرح مرتے رہیں گے اب کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ یہاں امن کیوں نہیں اتا ؟
یہاں کبھی امن نہیں ائیگا جب تک پشتون اپنی اس فطری خامی سے چھٹکارہ نہیں پاتا.
پشتون جب تک اپنی حالات خود نہ بدلے کوئی دوسرا اکر انکے لئے نہیں بدلے گا.