اسلام میں موسیقی کا تصور
اسلام میں موسیقی کا تصور
آخری حصہ
مرتبہ : محمد تاج الدین کالامی
فقہ مالکی میں غناء سے متعلق موقف
مذہب مالکی میں غناء کے بارے میں بہت زیادہ شدت نہیں پائی جاتی۔ علامہ عز بن عبدالسلام کا شمار اَجل مالکی ائمہ میں ہوتا ہے، ان کے علم اور دین کے تدبر اور سوجھ بوجھ کے بارے میں مالکی فقہاء کا اس حد تک اتفاق ہے کہ وہ کہتے ہیں : لا ينعقد إجماع بدونه. ’’ان کے بغیر اجماع متحقق نہیں ہوتا۔‘‘ علامہ عز بن عبدالسلام کہتے ہیں : اصلاح قلوب خارجی عوامل کے ذریعہ ممکن ہے، ان عوامل میں قرآن مجید، وعظ و تذکیر، حدی خوانی اور ترانے شامل ہیں۔ (عبدری المالکی، التاج والاکلیل، 2 : 62)
دوران سفر حدی خوانی مالکیہ کے نزدیک مباح ہے۔ چنانچہ ابن عبد البر بیان کرتے ہیں: وأما قوله في حديث مالک : فرفع بلال عقيرته، فمعناه رفع بالشعر صوته کالمتغني به ترنما، وأکثر ما تقول العرب : رفع عقيرته، لمن رفع بالغناء صوته، وفي هذا الحديث دليل علي أن رفع الصوت بإنشاد الشعر مباح، ألا تري أن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم لم ينکر علي بلال رفع عقيرته بالشعر، وکان بلال قد حمله علي ذلک شدة تشوقه إلي وطنه، فجري في ذلک علي عادته، فلم ينکر رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم، وهذا الباب من الغناء قد أجازه العلماء، ووردت الآثار عن السلف بإجازته، وهو يسمي غناء الرکبان، وغناء النصب والحداء، وهذه الأوجه من الغناء لا خلاف في جوازها بين العلما۔ (ابن عبدالبر، التمهيد، 22 : 196، 197)
’’جہاں تک ان کے اس قول کا تعلق ہے جو حدیث مالک سے متعلق ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنی آواز بلند کی۔ اس کا معنی یہ ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے شعر پڑھتے ہوئے اپنی آواز بلند کی، جیسے کوئی ترنم کے ساتھ کلام پڑھتا ہے، اہل عرب اس شخص کے بارے میں کہتے ہیں جو اپنی آواز کو ترنم کے ساتھ بلند کرتا ہے۔ اس حدیث میں یہ دلیل پائی جاتی ہے کہ شعر پڑھتے ہوئے آواز بلند کرنا جائز ہے۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو شعر پڑھتے ہوئے ترنم کے ساتھ آواز بلند کرنے سے منع نہیں کیا اور اس بنیاد پر علماء نے غناء کو جائز قرار دیا ہے اور سلف صالحین کے اقوال بھی اس موقف کی تائید میں وارد ہوئے ہیں اور اس طرح کے غناء کو غناء رکبان، غناء نشیب اور غناء حداء کا نام دیا گیا ہے، اور غناء کی ان مختلف صورتوں کو جائز قرار دیا گیا ہے۔‘‘
فقہ شافعی میں غناء کا تصور
غناء کے بارے میں شوافع کا موقف یہ ہے کہ غناء بغیر آلہ موسیقی کے حرام نہیں ہے۔ پس یہ بھی اس کی مطلقاً اباحت کے قائل ہیں اور کبھی کبھی اس کو مکروہ قرار دیتے ہیں۔ ائمہ شوافع میں سے خطیب شربینی فرماتے ہیں : مع أن التحقيق : أن الغناء ليس محرما مطلقا، وإنما المحرم إذا کان بآلة في الهيئة الاجتماعية. (خطيب شربينی، مغنی المحتاج، 2 : 111) ’’یقینا غناء مطلقاً حرام نہیں ہے اور غناء اس صورت میں حرام ہوگا جب وہ آلہ موسیقی کے ساتھ اجتماعی صورت میں کسی تقریب میں ہو۔‘‘ اس طرح انہوں نے ایک دوسرے مقام پر کہا ہے : ويکره الغناء وهو بالمد، وقد يقصر، وبکسر المعجمة : رفع الصوت بالشعر، لقوله سبحانه تعالي ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِي لَهْوَ الحَدِيثِ) [لقمان، 31 : 6] قال ابن مسعود : هو واﷲ الغناء. رواه الحاکم، ورواه البيهقي، عن ابن عباس وجماعة من التابعين، هذا إذا کان بلا آلة من الملاهي المحرمة، ويکره سماعه۔ (خطيب شربيني، مغني الحتاج، 4 : 428) ’’غناء مکروہ ہے اس حالت میں جب وہ آواز کو کھینچ کر کیا جائے اور شعر کو بلند آواز سے پڑھنا ترنم کے ساتھ ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو بے ہودہ کلام خریدتے ہیں۔‘‘ تو اس حوالے سے ابن مسعودص نے کہا : خدا کی قسم! اس سے مراد غناء ہے۔ امام حاکم اور بیہقی نے اسے روایت کیا ہے اور ابن عباس اور دیگر تابعین سے روایت ہے کہ آلہ موسیقی کے ساتھ غناء حرام ہے اور آلہ موسیقی کے بغیر اس کی سماعت شدید مکروہ ہے۔‘‘
بعض شوافع کے نزدیک غناء مکروہ ہے۔ فقہاء شوافع میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے غناء کو مباح قرار دیا ہے، بشرطیکہ کلام ایسا نہ ہو جو معصیت کی طرف لے جاتا ہے، جیسے شعر اور عام عادت سے ہٹ کر کلام ہو۔ جن فقہاء نے یہ موقف اختیار کیا ہے ان میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں : نظم الشعر، وإنشاده، وسماعه، بألحان، وغير ألحان، ليس بحرام، إلا أن يکون في الشعر هجو، أو وصف امرأة معينة أو فحش، وما يحرم نثره فيحرم نظمه، فإن الشعر کلام، حسنه حسن، وقبيحه قبيح، وقد أُنشد عند رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم أشعار ولم ينکرها. وإن أطنب في المدح، حتي انتهي إلي حد الکذب، قيل : إنه حرام، والصحيح : أن ذلک ليس بکذب، إذ ذلک ليس يقصد منه الاعتقاد والتصديق، بل هو إظهار صنعة في الکلام، وسماع الغناء مباح، لأن ما جاز اللحن، جاز مع ألحان، إلا أن يتخذ ذلک عادة.(غزالي، الوسيط، 7 : 351) ’’شعر کو ترنم کے ساتھ یا بغیر ترنم کے پڑھنا اور سننا حرام نہیں ہے مگر یہ کہ اس شعر میں ہجو ہو یا اس میں کسی عورت کی صفات بیان کی گئی ہوں یا فحش کلام پر مبنی ہو تو اس صورت میں وہ حرام ہوگا۔ اور جس کلام کو نثر میں بیان کرنا حرام ہو وہ بصورتِ شعر بھی حرام ہے۔ پس شعر کلام ہے، اگر اچھا کلام ہے تو اچھا ہے اور اگر کلام قبیح ہے تو شعر بھی قبیح ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اَشعار پڑھے گئے مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں روکا۔ اگر کوئی شخص مدح سرائی میں اس قدر آگے بڑھ گیا کہ وہ کذب بیانی کی حدوں کو چھونے لگا تو اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ حرام ہے۔ اور درست بات یہ ہے کہ غناء پر جھوٹ کا حکم نہیں لگتا کیونکہ غنا کا مقصد عقیدہ وایمان کا اظہار نہیں ہوتا بلکہ کلام کے ذریعہ فن کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ اور غناء کی سماعت مباح عمل ہے کیونکہ جس کلام کا پڑھنا جائز ہے اسے خوبصورت آواز کے ساتھ پڑھنا بھی درست ہے لیکن یہ بات پیش نظر رہے کہ اسے بطورِ پیشہ اختیار نہ کیا جائے۔‘‘
اسی طرح امام غزالی کے نزدیک غناء کا شمار کبھی طاعت میں ہوتا ہے تو کبھی یہی غناء معصیت کے زمرے میں آتا ہے۔ کیونکہ انہوں نے غناء کو محض ایک وسیلہ شمار کیا ہے اور اس کا فی نفسہ کوئی حکم نہیں ہے بلکہ اس کے حکم کا تعین غناء کے استعمال پر ہوتا ہے۔ پس حقیقت میں یہ فی نفسہ مباح عمل ہے اور اس کو معصیت یا طاعت کے زمرے میں لانے کا سبب غناء کا استعمال ہے۔ حاشیۃ البیجرمی میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کا موقف ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے : قال الغزالي : الغناء إن قصد به ترويح القلب علي الطاعة، فهو طاعة، أو علي المعصية، فهو معصية، أو لم يقصد به شيء فهو لهو معفو عنه.(بيجرمي، حاشيه، 4 : 375) ’’امام غزالی فرماتے ہیں : ’’اگر غناء سے مقصود دل کو طاعت کی طرف مائل کرنا ہے تو اس طرح کے غناء کو طاعت کے زمرے میں شمار کیا جائے گا اور اگر دل اس غناء سے معصیت کی طرف مائل ہوتا ہے تو ایسا غناء معصیت کے ضمن میں شمار ہو گا، اور اگر اس غناء سے کچھ بھی مقصود نہیں تو اس صورت میں یہ لہو و لعب کا ایسا عمل ہے جو معاف ہے۔‘‘
فقہاء حنابلہ کا مؤقف
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک غناء مکروہ ہے جب کہ دیگرفقہاء حنابلہ غناء کے حرمت اور اباحت کے مابین متردد ہیں۔ تاہم حدی خوانی حنابلہ کے نزدیک مطلقاً مباح ہے۔ ابن قدامہ سے منقول ہے کہ احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ مجھے غناء پسند نہیں ہے کیونکہ یہ دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔ مزید لکھتے ہیں : واختلف أصحابنا فيه، فذهب طائفة غلی حرمته، لأنه يروي عن ابن عباس، وابن مسعود، عن النبي صلی الله عليه وآله وسلم أنه قال : ’’الغناء ينبت النفاق في القلب.‘‘وذهب أبو بکر والخلال إلي إباحته مع الکراهة، وهو قول القاضي، لأن عائشة رضي اﷲ عنها قالت : ’’کانت عندي جاريتان تغنيان، فدخل أبو بکر فقال : مزمور الشيطان في بيت رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم؟ فقال رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم : ’’دعهما فإنها أيام عيد‘‘. قال أبو بکر : الغناء والنوح واحد، مباح ما لم يکن فيه منکر، ولا فيه طعن.‘‘ (ابن قدامه، الکافي، 4 : 526) ’’ہمارے اَصحاب نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے۔ پس کچھ نے اس کو حرام قرار دیا ہے اور ان کی دلیل وہ روایت ہے، جسے ابن عباس اور ابن مسعود نے روایت کیا ہے۔ اور وہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : غناء دل میں نفاق کو جنم دیتا ہے۔
’’اور ابوبکر اور خلال نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ عمل کراہت کے ساتھ مباح ہے اور یہی موقف القاضی کا ہے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں : ’’میرے پاس دو بچیاں خوبصورت آواز میں کلام پڑھ رہی تھیں، پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور فرمایا : بیتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں شیطان کا مزمار ہے؟ پس اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انہیں (پڑھنے) دو کیونکہ یہ ان کی خوشیوں کا دن ہے۔ اور ابوبکر بن عبدالعزیز کا موقف ہے کہ غناء اور نوح ایک ہی چیز ہے اور یہ دونوں مباح ہیں بشرطیکہ اس میں کوئی بری چیز نہ ہو۔‘‘ ابن قدامہ اپنی کتاب ’’المغنی‘‘ میں لکھتے ہیں : واختلف أصحابنا في الغناء، فذهب أبو بکر الخلال، وصاحبه أبو بکر عبد العزيز إلي إباحته، وقال أبو بکر عبد العزيز : الغناء والنوح معني واحد مباح، ما لم يکن معه منکر، ولا فيه طعن، وکان الخلال يحمل الکراهة من أحمد علي الأفعال المذمومة، لا علي القول بعينه. (ابن قدامه، المغني، 10 : 174) ’’ہمارے اَصحاب کے مابین غناء کے مسئلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ابوبکر الخلال اور ابوبکر عبدالعزیز کا موقف ہے کہ یہ مباح ہے۔ ابوبکر عبدالعزیز کہتے ہیں کہ غناء اور ’’نوح‘‘ ہم معنی الفاظ ہیں اور یہ مباح ہے بشرطیکہ اس کے ساتھ کوئی بری چیز شامل نہ ہو اور ابوبکر خلال نے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے غناء میں کراہت کا احتمال مذموم اَفعال کی وجہ سے بیان کیا ہے نہ کہ محض کلام پڑھنے کی وجہ سے۔‘‘
مزید برآں ابن قدامہ لکھتے ہیں : وممن ذهب إلی إباحته کراهة، سعد بن إبراهيم، وکثير من أهل المدينة، والعنبري.(ابن قدامة، المغني، 10 : 174)’’جن فقہاء نے اباحت کا موقف اختیار کیا ہے ان میں سعد بن ابراہیم اور اہل مدینہ کے اکثر علماء ہیں۔‘‘ احادیث غناء کے ذکر کے بعد پھر لکھتے ہیں : واختار القاضي أنه محرم، وهو قول الشافعي، قال : هو من اللهو المکروه، وقال أحمد : الغناء ينبت النفاق في القلب، لا يعجبني. (ابن قدامة، المغني، 10 : 174) ’’قاضی نے ’’حرام‘‘ ہونے کا موقف اختیار کیا ہے اور یہی امام شافعی کا قول ہے اور کہا ہے کہ غناء مکروہ لہو و لعب میں شمار ہوتا ہے۔ اور امام احمد بن حنبل کا موقف ہے کہ غناء نفاق کو دل میں جنم دیتا ہے اور مجھے پسند نہیں ہے۔‘‘
مذکورہ بالا اقوال فقہاء پر غور و خوض کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ’’غناء‘‘ سے متعلق بحث، عقیدہ کے اصول و مبادی کے زمرے میں نہیں آتی اور نہ دین کے ضروری امور میں آتی ہے، بلکہ یہ ایک فروعی مسئلہ ہے اور اس سے متعلق دلائل میں غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نغمگی اور خوش الحانی ان دنیاوی لذتوں میں سے ایک لذت ہے، جسے انسانی فطرت پسند کرتی ہے اور حواس خمسہ میں سے حسِسامعہ یعنی کان اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ گویا یہ کانوں کی لذت ہے، جیسے کھانا زبان کی لذت ہے اور خوبصورت منظر آنکھوں کی لذت ہے اور اچھی خوشبو حس شامہ کی لذت ہے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کی لذتیں اسلام میں حرام ہیں یا حلال؟
اصول اباحت کے تحت اِسلام میں تمام اچھی اشیاء جن سے انسانی نفوس اور عقول لطف اندوز ہوتے ہیں، اَصلاً حلال ہیں۔ خود اﷲ تعالیٰ نے امت مسلمہ پر اپنا لطف و کرم کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ. (المائده، 5 : 4)
’’لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ ان کے لیے کیا چیزیں حلال کی گئی ہیں؟ آپ (ان سے) فرما دیں کہ تمہارے لیے پاک چیزیں حلال کر دی گئی ہیں۔‘‘
لہٰذا غناء بھی سوائے کلام کے کچھ نہیں۔ پس کلام اچھا ہوگا تو غناء بھی اچھا ہوگا اور اگر کلام قبیح ہے تو غناء بھی قبیح ہوگا، اور ہر وہ کلام جو حرام کو شامل ہوگا وہ حرام ہوگا۔ اکثر فقہاء شوافع اور حنابلہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بغیر آلۂ موسیقی کے غناء مطلقاً مباح ہے۔ اس موقف کی تائید امام ابن حزم، امام غزالی، اور ابن سمعانی سمیت دیگر سلف صالحین اور ائمہ کرام نے کی ہے۔ پس جس نے موسیقی کے جواز کا قول دیا ہے، اُس نے یہ قول امام غزالی، امام ابن حزم ابن سمعانی اور دیگر سلف صالحین کے اقوال کی اتباع میں کیا ہے۔
مذاہب اربعہ کے غناء کے موقف پر اجمالی نظر
جب ہم مذاہب اربعہ کے مؤقف۔ جو انہوں نے مسئلہ غناء میں اختیار کیا ہے۔ پر اِجمالی نظر دوڑاتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ غناء آلہ موسیقی کے ساتھ اور بغیر آلہ موسیقی کے ساتھ ایسا مسئلہ ہے جس پر علماء اسلام کے مابین کچھ امور میںاتفاق ہے اور کچھ امور میں اختلاف۔ ایسے غناء میں اختلاف ہے جو بغیر آلہ موسیقی کے ہو اور بغیر کسی تقریب کے ہو۔ پس کچھ فقہاء نے اس کو مباح قرار دیا ہے، کچھ نے مکروہ اور کچھ نے مستحب۔ فقہاء کی آرا ء کی روشنی میں درج ذیل امور سامنے آتے ہیں :
1. وہ غناء جو بغیر آلہ موسیقی کے ہو اور جس کا اہتمام جائز تقریبات جیسے عرس، عید اور شادی کی تقریبات میں ہو اس میں کوئی گناہ نہیں۔
2. ’’حدی خوانی‘‘ مباح ہے اور اس میں کوئی گناہ نہیں۔
3. غناء کو ہمیشگی کے ساتھ اختیار کرنے والا اور اس کو سننے والے شخص کی گواہی مردود ہے کیونکہ غناء پر دوام اختیار کرنا اور اس میں کثرت کرنا کسی شخص کواباحت کی حدود سے خارج کرکے کراہت کی حدود تک لے جا سکتا ہے اور ممکن ہے حرام کی حدود میں داخل کر دے۔
4. ہر وہ غناء جو فحش یا فسق یا معصیت پر ابھارنے جیسے امور پر مشتمل ہے اس کے حرام ہونے پر علماء کرام کے مابین اتفاق رہا ہے۔
5. ایسا فطری غناء جو آلات موسیقی اور معصیت کو ابھارنے سے خالی ہو اور ایسے اچھے کلام پر مشتمل ہو، جس میں محض وزن، نغمگی اور تاثیر جمع ہو جائے، اس کے مباح ہونے پر علماء کرام کے مابین اتفاق ہے۔
چونکہ غناء کا اہتمام عموماً خوشی و مسرت کے مواقع، جیسے ولیمہ، عرس اور عید کی تقریبات میں کیا جاتا ہے، اس میں ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ شرعی حددد کے اندر ہو اور اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔
خلاصۂ بحث
قرآنی ارشادات اور فرمودات نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ شادی کے موقعوں پر ڈھول بجانا اور خوشی کے تہواروں کی مناسبت سے صحت مند شاعری اور خوبصورت کلام عمدہ آواز کے ساتھ پڑھنا نیز تفریحی کھیل کود اسلامی احکام کی خلاف ورزی نہیں، یہ عمل حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی سنت بھی رہا ہے۔ یہ خوشی اور مسرت و شادمانی کا فطری اور بے ساختہ اظہار ہے، جس سے لوگوں کو اپنے جذبات طرب و مسرت کے اظہار کا جائز موقع فراہم ہوتا ہے۔ یہ لوگوں کی ثقافتی ضرورت بھی ہے، خاص طور پر ان کی جو دکھوں اور غموں سے پریشان حال ہوتے ہیں۔ ہر چیز جو قرآن و سنت سے مطابقت رکھتی ہے، قابل تحسین ہے اور اس پر کسی مزید جواز کی ضرورت نہیں کہ لوگوں کے جائز جذبات مسرت پر کوئی سند لائی جائے۔ تاہم بعض احتیاطی اور انسدادی تقاضوں کو بہر صورت پورا کرنا لازمی و لابدی ہے۔ شائستگی کی حدوں کو پھلانگنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے اور اس بات کا خیال رکھا جائے کہ لغو، بے ہودہ اور فحش باتوں سے اجتناب برتا جائے اور مخلوط اجتماعات سے گریز کیا جائے کیونکہ اسلام اخلاق، میانہ روی اور توازن کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس لیے ایسے مواقع پر اچھائی اور نیکی کے کاموں سے پہلو تہی ہرگز نہ کی جائے۔