تبليغاتX
مینہ
مینہ
پشاور سے پشتو اور اردو میں شائع ھونے والا آزاد مذہبی،قومی،ادبی،ثقافتی اور اجتماعی رسالہ
2011/12/22
"چودھری صاحب" کی موت ...  

 

"چودھری صاحب" کی موت

 

(اداریہ)

 

نذر حافی

 

ہمارے سمیت بہت سارے لوگوں کے نزدیک کتا ایک بھولا بھالا،سیدھا سادھا اور وفادار جانور ہےلیکن اس کے بد خواہوں نے خواہ مخواہ اسے بدنام کر رکھا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پطرس بخاری اور مولوی نظیر احمد جیسے ادیب بھی اپنی تحریروں میں کتّوں کا بے دریغ استعمال کرتے رہے ہیں۔ہمارے ہاں کتّوں کی مقبولیّت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ ہمارے ملک کی اہم ترین شخصیات کتوں کے ساتھ تصویریں بنوا نے میں فخر محسوس کرتی ہیں اور اگر اس کے باوجود آپ کا دل کتوں کی طرف سے صاف نہ ہو تو پھر آپ کسی گاوں کے "چودھری صاحب" کی داستان پڑھنا شروع کردیں۔آپ کو اس داستان سے کتّے کی بہت ساری ایسی خوبیاں پتہ چلیں گی کہ آپ دنگ رہ جائیں گے۔ داستانوں میں کتّے نے کبھی چودھری کو مایوس نہیں کیا ،جب بھی چودھری آواز دیتا ہےکتا بجلی کی طرح پہنچتا ہے،جدھر اشارہ کرتا ہے یہ دوڑ کر جاتا ہے۔صرف اسے کاٹتا ہے جسے کاٹنے کا چودھری نے حکم دیا ہو ورنہ دور سے صرف دھمکاتا رہتاہے۔

داستان میں سنسنی خیز لمحہ وہ ہوتا ہے کہ جب کتّے سے بچنے کے لئے کوئی شخص بھاگتا ہوا"چودھری صاحب" کے ہاں پہنچتا ہے اور پھر چودھری صاحب مظلوم کی مدد کا نعرہ لگاتے ہوئے مار مار کربیچارے کتے کے بخیئے ادھیڑ دیتے ہیں۔۔۔اس وقت کتا واقعی بیچارہ لگتاہے اگر یہ چودھری صاحب کے اشارے کے مطابق حملہ نہ کرے تونمک حرامی کے الزام میں چودھری صاحب اس پر پابندیاں لگا کر اس کا کھانا پینا بند کر دیتے ہیں اور اگر حملہ کرتا ہے تو مظلوم کی امداد کے نام پر چودھری صاحب کے ہاتھوں کتے کی پٹائی ہوتی ہے۔ لوگ کتے کی پٹائی ہوتے دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ چودھری صاحب تو بہت اچھے آدمی ہیں بلکہ انسانوں کے ہمدرد ہیں ۔اگرچودھری صاحب نہ ہوں تو کتا تو سب کو چیر پھاڑ ڈالے۔چنانچہ وہ اپنی زمینوں کی رگوں سے ذخائر نچوڑ نچوڑ کر چودھری صاحب کے قدموں میں ڈھیر کرتے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ کتے سے حفاظت کرنے پر چودھری صاحب کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں۔

چودھری اور کتے کا کھیل ہماری عوام اور امریکہ کے درمیان کئی سالوں سے جاری ہے ۔آپ جب بھی ریڈیوآن کریں یا ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھیں تو آپ کووطن عزیز کے کونے کونے سے آہ وفغاں کی صدائیں سنائی دیں گی۔کہیں پولیس مقابلے،کہیں مختلف قبائل پرلشکر کشی ،کہیں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن ،کہیں باغی مظاہرین پرلاٹھی چارج ،کہیں فرقہ وارانہ تصادم ،کہیں ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال،کہیں طالب علموں کے نعرے،کہیں تاجروں کا احتجاج اورکہیں ڈرون حملے دیکھنے کو ملیں گے۔لیکن یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے اور کون کروا رہا ہے اس کا کچھ پتا نہیں چلتا۔ہماری عوام ہمیشہ کی طرح بے خبر ہے۔

جب تک ہم سکرین کو دیکھ کر کہانی کو سمجھنے کی کو شش کرتے رہیں گئے ہمیں کچھ سمجھ نہیں آئے گا چونکہ سکرین پر ہمیں وہی کچھ دکھائی دیتا ہے جو باقاعدہ منصوبے سے تیار کیا جاتا ہے۔حقیقت کو سمجھنے کے لیے پسِ سکرین جانا ہوگا تاکہ اصل چہرے نظر آئیں اور پتہ چلے کہ پردے کے پیچھے بیٹھ کر کہانی کو ن لکھ رہا ہے؟پروڈیوسر کون ہے؟ ڈائر یکٹرکون ہے؟ اداکار کون کون سے ہیں؟جب اصل چہرے ہم نے دیکھ لیے تو پھر پتہ چلے گا کہ ہمارے ملک میں آگ اور خون کا یہ کھیل کون کھیل رہاہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ کیا خود کش دھماکے کرنے والے آسمان سے نازل ہوتے ہیں؟ کیا شدت پسند گھاس پھوس کی طرح خود بخود اُگتے ہیں؟کیا فوجی آپریشن میں مارے جانے والے ماں کی کوکھ سے ہی دہشت گرد پیدا ہوئے تھے؟

یہ ٹھیک ہے کہ خود کش دھماکے کرنے والے عوام کے دشمن ہیں ۔۔۔یہ بھی ٹھیک ہے کہ فرقہ واریت کا پر چار کرنے والے مذہب و ملت کے دشمن ہیں ۔۔۔ یہ بات بھی معقول ہےکہ کہ منشیات فروش کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

لیکن دہشت گردوں کو ٹریننگ دینے والے،کلاشنکوف اور ہیرون کلچر کی بنیادیں فراہم کرنے والے بھی تو ان جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔دہشت گرد اور دھماکے تو سکرین پر چلنے والی کہانی کا حصہ ہیں اصلی ہاتھ تو پس سکرین ہیں۔جو پیسے لے کر کسی کو قتل کرتا ہے یا کہیں پر دھماکہ کرتاہے اگر وہ سزائے موت کا حقدار ہے تو پھر وہ جو ڈالر اور ریّال دے کر یہ سب کچھ کرواتے ہیں وہ بھی تو موت کے حقدار ہیں۔اگر کتا موت کا مستحق ہے تو چودھری بھی تو موت کا ہی حقدار ہے۔چونکہ کتاسب کچھ چودھری کے کہنے پر ہی کرتاہے۔

کہتے ہیں کہ ایران والوں کو بھی ایک چودھری نے اپنے کتوں کی مددسے دبا رکھا تھا لیکن ۱۹۷۹ء میں ۱۱فروری کو جب ایران والے اپنے اپنے گھروں سے لاٹھیاں لیکر نکلے تو چودھری کو اپنے کتوں سمیت ایران سے بھاگنا پڑا۔اگر ہم بھی ان جرائم اور مسائل سے نجات چاہتے ہیں تو ہمیں اچھی طرح سے جان لینا چاہیے کہ کتوں کو مارنے سے جرائم نہیں رُکتے ۔لہذا ضروری ہے کہ "چودھری کو کتے کی موت مارا جائے"۔

 

2011/12/22
تزكيہ نفس ...  

 

تزكيہ نفس

قسط نمبر 10

آيت اللہ ابراہيم اميني

ترجمہ: علامہ شيخ اختر عباس

 

نفس كے ساتھ جہاد

انسان كا سب سے بڑا دشمن اس كا نفس ہے اور وہ برابر عقل كے ساتھ جنگ اور تجاوز كى حالت ميں رہتا ہے_ شيطان كے وسوسوں سے الہام ليتا ہے اور لاو لشكر كے ساتھ عقل پر حملہ آور ہوتا ہے تا كہ اسے جدا اور خاموش كردے اور وہ تن تنہا ميدان پر قابو پائے ركھے اس كى غرض يہ ہے كہ فرشتوں كو نفس كى دنيا سے باہر نكال دے اور اسے پورى طرح شيطان كے قبضے ميں دے دے ايسے غدار دشمن كو سرنگوں كرنا كوئي آسان كام نہيں ہے_ ارادہ حتمى اور مقابلہ بلكہ جہاد كرنا اس كے لئے ضرورى ہو جاتا ہے اور وہ بھى ايك دفعہ اور دو  دفعہ يا ايك دن يا دو دن ايك سال يا دو سال نہيں بلكہ تمام عمر پے در پے جہاد كرنا ضرورى ہے _ اس سے سخت مقابلہ اور متصل جہاد چاہئے اور نفس اور روح كو رام كرنے اور اس كى خواہشات پر قابو پانے كے لئے بہت سخت جنگ كرنى پڑتى ہے_

پيغمبر اکرم (ص) اور ائمہ طاہرين (ع) سے الہام لے كر عقل كى مدد سے اس كے لائو لشكر سے جنگ كريں اور نفس كے تجاوزات اور زيادتيوں كو روكے ركھيں اور اس كى فوج كو گھيرا ڈال كر ختم كرديں تا كہ عقل جسم كى مملكت پر حكومت كر سكے اور شرعيت سے الہام لے كر كمال انسانى اور سير و سلوك تك پہنچ سكے _ نفس كے ساتھ صلح اور آشتى نہيں كى جا سكتى بلكہ اس سے جنگ كرنى چاہئے تا كہ اسے زير كيا جائے اور وہ اپني حد تك رہے اور شازش كرنے سے باز رہے سعادت تك پہنچنے كے لئے اس كے سوا اور كوئي راستہ موجود نہيں ہے _ اسى وجہ سے نفس كے ساتھ جنگ كرںے كو احادیث ميں جہاد كہا گيا ہے_ حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ '' اپنے نفس پر پے در پے جہاد كرنے سے تسلط پيدا كرو_(146)

آپ نے فرمايا '' نفس کے خواہشات اور ھوى اور ہوس پر غلبہ حاصل كرو اور ان سے جنگ كرو اگر يہ تمہيں جكڑ ليں اور اپنى قيد و بند ميں قرار دے ديں تو تمہيں بدترين درجہ ميں جاڈاليں گے_(147)

 

آپ نے فرمايا كہ '' نفس كے ساتھ جہاد ايك ايسا سرمايہ ہے كہ جس كے ذريعے بہشت خريدى جا سكتى ہے_ پس جو آدمى اپنے نفس كے ساتھ جہاد كرے وہ اس پر مسلط ہوجائيگا_ اور بہشت اس كے لئے جو اس كى قدر پہچان لے بہترين جزا ہوگي_(148)

آپ نے فرمايا '' جہاد كر كے نفس كو اللہ كى اطاعت پر آمادہ كرو_ اس كے ساتھ يہ جہاد ويسا ہو جيسے دشمن كے ساتھ كيا جاتا ہے اور اس پر ايسا غلبہ كرو جو ايك ضد دوسرى ضد پر غلبہ كرتى ہے لوگوں سے قوى ترين آدمى وہ ہے جو اپنے نفس پر فتح حاصل كرے_(149)

آپ نے فرمايا كہ '' عقلمند انسان وہ ہے جو اپنے آپ كو نفس كے ساتھ جہاد ميں مشغول ركھے اور اس كى اصلاح كرے اور اسے ھوى اور ہوس اور خواہشات سے روكے ركھے اور اس طرح سے اس كو لگام دے اور اپنے كنتڑل ميں لے آئے_ عقلمند انسان اس طرح اپنے نفس كى اصلاح ميں مشغول رہتا ہے كہ وہ دنيا اور جو كچھ دنيا اور اہل دنيا ميں ہے اس ميں اتنا مشغول نہيں رہتا_(150)

 

نفس كے ساتھ جہاد ايك بہت بڑى اہم جنگ اور نتيجہ خيز ہے ايسى جنگ كہ ہميں كس طرح دنيا اور آخرت كے لئے زندگى بسر كرنى اور ہميں كس طرح ہونا اور كيا كرنا ہے سے مربوط ہے اگر ہم جہاد كے ذريعے اپنے نفس كو كنتڑل كر كے نہ ركھيں اور اس كى لگام اپنے ہاتھ ميں نہ ركھيں وہ ہم پر غلبہ كر لے گا اور جس طرف چاہئے گا لے جائيگا اگر ہم اسے قيد ميں نہ ركھيں وہ ہميں اسير اور اپنا غلام قرار دے ديگا اگر ہم اسے كردار اور اچھے اخلاق اپنا نے پر مجبور نہ كريں تو وہ ہميں برے اخلاق اور برے كردار كى طرف لے جائيگا_ لہذا كہا جا سكتا ہے كہ نفس كے ساتھ جہاد بہت اہم كام اور سخت ترين راستہ ہے جو اللہ كى طرف سير و سلوك كرنے والے كے ذمہ قرار ديا جا سكتا ہے _ جتنى اس راستے ميں طاقت خرچ كى جائے وہ قيمتى ہوگي_

 

جہاد اكبر

نفس كے ساتھ جہاد اس قدر مہم ہے كہ اسے پيغمبر اکرم  (ص) نے جہاد اكبر سے تعبير فرمايا ہے اتنا اہم جہاد ہے كہ جنگ والے جہاد سے بھى اسے بڑا قرار ديا ہے_حضرت على عليہ السلام نے نقل فرمايا ہے كہ'' رسول خدا(ص)  نے ايك لشكر دشمن سے لڑنے كے لئے روانہ كيا اور جب وہ جنگ سے واپس آيا آپ نے ان سے فرمايا مبارك ہو ان لوگوں كو كہ جو چھوٹے جہاد كو انجام دے آئے ہيں ليكن ابھى ايك بڑا جہاد ان پر واجب ہے آپ سے عرض كى گئي يا رسول اللہ(ص) بڑا جہاد كونسا ہے؟ آپ(ص)  نے فرمايا اپنے نفس سے جہاد كرنا_(151)

 

حضرت على عليہ السلام نے فرمايا ہے كہ '' بہترين جہاد اس شخص كا جہاد ہے كہ جو اپنے نفس سے جو اس كے دو پہلو ميں موجود ہے جہاد كرے_(152) پيغمبر اكرم(ص)  نے اس وصيت ميں جو حضرت علي(ع) سے كى تھى فرمايا كہ '' جہاد ميں سے بہترين جہاد اس شخص كا ہے جب وہ صبح كرے تو اس كا مقصد يہ ہو كہ ميں كسى پر ظلم نہيں كرونگا_(153) ان احاديث ميں نفس كے ساتھ جہاد كرنے كو جہاد اكبر اور افضل جہاد كے نام سے پہنچوانا گيا ہے يہ ايسا جہاد ہے كہ جو اللہ تعالى كے راستے ميں جہاد كرنے سے فضيلت اور برترى ركھتا ہے حالانكہ اللہ تعالى كے راستے ميں جہاد بہت ہى پر ارزش اور بہترين عبادت شمار ہوتا ہے اس سے جہاد نفس كا پر ارزش اور بااہميت ہونا واضح ہوجاتا ہے نفس كے جہاد كا برتر ہونا تين طريقوں سے درست كيا جا سكتا ہے_

1  - ہر ايك عبادت يہاں تك كہ اللہ تعالى كے راستے ميں جہاد كرنا بھى نفس كے جہاد كرنے كا محتاج ہے_ ايك عبادت كو كامل اور تمام شرائط كے ساتھ بجالانا نفس كے ساتھ جہاد كرنے پر موقوف ہے كيا نماز كا حضور قلب كے ساٹھ بجا لانا اور پھر اسكے تمام شرائط كى رعايت كرنا جو معراج مومن قرار پاتى ہے اور فحشا اور منكر سے روكتى ہے بغير جہاد اور كوشش كرنے كے انجام پذير ہو سكتا ہے؟ آيا روزہ كا  ركھنا جو جہنم كى آگ كے لئے ڈھال ہے بغير جہاد كے ميسر ہو سكتا ہے_ كيا نفس كے جہاد كے بغير كوئي جہاد كرنے والا انسان اپنى جان كو ہتھيلى پر ركھ كر جنگ كے ميدان ميں حاضر ہو سكتا ہے اور اسلام كے دشمنوں سے اچھى طرح جنگ كر سكتا ہے؟ اسى طرح باقى تمام عبادات بغير نفس كے ساتھ جہاد كرنے كے بجالائي جا سكتى ہيں؟

2  - ہر ايك عبادت اس صورت ميں قبول كى جاتى ہے اور موجب قرب الہى واقع ہوتى ہے جب وہ صرف اللہ تعالى كى رضا كے لئے انجام دى جائے اور ہر قسم كے شرك اور رياء خودپسندى اور نفسانى اغراض سے پاك اور خالص ہو اس طرح كے كام بغير نفس كے ساتھ جہاد كئے واقع ہونا ممكن نہيں ہوسكتے يہاں تك كہ جنگ كرنے والا جہاد اور شہادت بھى اس صورت ميں قيمت ركھتى ہے اور تقرب اور تكامل كا سبب بنتى ہے جب خالص اور صرف اللہ كى رضاء اور كلمہ توحيد كى سربلندى كے لئے واقع ہو اگر يہ اتنى بڑى عبادت اور جہاد صرف نفس كى شہرت يا دشمن سے انتقام لينے يا نام كے باقى رہ جانے يا خودنمائي اور رياكارى يا مقام اور منصب كے حصول يا زندگى كى مصيبتوں سے فرار يا دوسرى نفسانى خواہشات كے لئے واقع ہو تو يہ كوئي معنوى ارزش اور قيمت نہيں ركھتى اور اللہ تعالى كے پاس تقرب كا موجب نہيں بن سكتى اسى وجہ سے نفس كے ساتھ جہاد تمام عبادات اور امور خيريہ يہاں تك كہ اللہ تعالى كے راستے والے جہاد پر فضيلت اور برترى اور تقدم ركھتا ہے س واسطے كہ ان تمام كا صحيح ہونا اور باكمال ہونا نفس كے جہاد پر موقوف ہے يہى وجہ ہے كہ نفس كے جہاد كو جہاد اكبر كہا گيا ہے_

3  - جنگ والا جہاد ايك خاص زمانے اور خاص شرائط سے واجب ہوتا ہے اور پھر وہ واجب عينى بھى نہيں ہے بلكہ واجب كفائي ہے اور بعض افراد سے ساقط ہے اور بعض زمانوں ميں تو وہ بالكل واجب ہى نہيں ہوتا اور پھر واجب ہونے كى صورت ميں بھى واجب كفائي ہوتا ہے يعنى بقدر ضرورت لوگ شريك ہوگئے تو دوسروں سے ساقط ہو جاتا ہے اور پھر بھى عورتوں اور بوڑھوں اور عاجز انسانوں اور بيمار لوگوں پر واجب نہيں ہوتا ليكن اس كى برعكس نفس كا جہاد كہ جو تم پر تمام زمانوں اور تمام حالات ميں اور شرائط ميں واجب عينى ہوا كرتا ہے اور زندگى كے آخر لمحہ تك واجب ہوتاہے اور سوائے معصومين عليہم السلام كے كوئي بھى شخص اس سے بے نياز نہيں ہوتا_

 

4  -نفس سے جہاد كرنا تمام عبادات سے يہاں تك كہ جنگ والے جہاد سے كہ جس ميں انسان اپنى جان سے صرفنظر كرتى ہوئے اپنے آپ كو شہادت كے لئے حاضر كرديتا ہے_ مشكل تر ہے اور دشوار اور سخت تر ہے اس واسطے كہ محض اللہ كے لئے تسليم ہو جانا اور تمام عمر نفسانى خواہشات سے مقابلہ كرنا اور تكامل كے راستے طے كرنا اس سے زيادہ دشوار اور مشكل ہے كہ انسان جنگ ميں جہاد كرنے والا تھوڑے دن دشمن سے جنگ كے ميدان ميں جنگ كرے اور مقام شہادت پر فيض ياب ہوجائے_ نفس كے ساتھ مقابلہ كرنا اتنا سخت ہے كہ سواے پے در پے نفس كے ساتھ جہاد كرنے اور بہت زيادہ تكاليف كو برداشت كرنے كے حاصل نہيں ہو سكتا اور سوائے اللہ تعالى كى تائيد كے ايسا كرنا ممكن نہيں ہے_ اسى لئے نماز ميں ہميشہ اھدنا الصراط المستقيم پڑھنے ہيں_ صراط مستقيم پر چلنا اتنا دشوار اور سخت ہے كہ رسول گرامى اللہ تعالى سے كہتا ہے _الہى لا تكلنى الى نفسى طرفة عين ابدا_   ------ جاری ہے--------- باقی آسئندہ--------

حواشی

 

 

146 - قال على عليہ السلام: املكوا انفسكم بدوام جاہدہا_ غرر ا لحكم/ ج1 ص 131_

 

147 - قال على عليہ السلام: اغلبوا اہوائكم و حاربوہا فانہا ان تقيّدكم توردكم من الہلكة ابعد غاية غرر ا لحكم/ ج1 ص 138_

 

148 - قال على عليہ السلام: الا و ان الجہاد ث4من الجنة فمن جاہد نفسہ ملكہا و ہى اكرم ثواب اللہ لمن عرفہا_ غرر ا لحكم/ ج1 ص

 

149 - قال على عليہ السلام: جاہد نفسك على طاعة اللہ مجاہدة العدوّ عدوّہ، و غالبہا مغالبة الضد صدہ فان اقوى الناس من قوى على نفسہ_ غرر ا لحكم/ ج1 ص 371_

 

150- قال على عليہ السلام: ان الحازم من شغل نفسہ بجہاد نفسہ فاصلحہا و حبسہا عن اہويتہا و لذاتہا فملكہا و ان للعاقل بنفسہ عن الدنيا و ما فيہا و اہلہا شغلاً_ غرر ا لحكم/ ج1 ص 237_

 

151- عن اميرالمؤمنين عليہ السلام:ان رسول اللہ صلى عليہ و آلہ بعث سرية فلمّا رجعوا قال: مرحباً بقوم قضوا الجہاد الاصغر و بقى عليہم الجہاد الاكبر: قيل: يا رسول اللہ و ما الجہاد الاكبر؟ فقال: جہاد النفس_ وسائل الشيعہ/ ج 11 ص 124_

 

152- قال على عليہ السلام: ان افضل الجہاد من جاہد نفسہ التى بين جنبيہ_ وسائل الشيعہ/ ج 11 ص 124_

 

153- فى وصية النبى لعلى عليہم السلام قال: يا علي افضل الجہاد من اصبح لا يہمّ بظلم احد_ وسائل/ ج 11 ص

2011/12/22
کیا اسلام کی نگاہ میں دین سیاست سے جدا ہے؟ ...  

 

کیا اسلام کی نگاہ میں دین سیاست سے جدا ہے؟

 

  جواب: اس سوال کے جواب سے قبل بہتر یہ ہے کہ پہلے سیاست کے معنی کو واضح کردیا جائے تاکہ دین اور سیاست کا رابطہ سمجھ میں آسکے یہاں سیاست کے دو معنی بیان کئے جاتے ہیں .

۱۔سیاست کے یہ معنی مراد لئے جائیں کہ اپنے ہدف تک پہنچنے کے لئے ہر قسم کے وسیلے کو اختیار کیا جائے چاہے وہ وسیلہ دھوکہ اور فریب کاری ہی کیوں نہ ہو (یعنی مقصد کے حصول کے لئے کسی بھی چیز کو وسیلہ بنایا جاسکتا ہے) واضح ہے کہ اس قسم کی سیاست دھوکے اور فریب سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے اور ایسی سیاست کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے.

۲۔سیاست کے یہ معنی مراد لئے جائیں کہ اسلامی اصولوں کے مطابق انسانی معاشرے کے نظام کو چلایا جائے اس قسم کی سیاست کے معنی یہ ہیں کہ مسلمانوں کے نظام کو قرآن اور سنت کی روشنی میں چلایا جائے ایسی سیاست دین کا حصہ ہے اور ہرگز اس سے جدا نہیں ہے.

اب ہم یہاں پر سیاست اور دین کے درمیان رابطے اور حکومت کو تشکیل دینے سے متعلق چند دلیلیں پیش کریں گے : اس سلسلے میں واضح ترین گواہ پیغمبر خداؐ کا عمل ہے پیغمبرخداؐ کے اقوال اور کردار کے مطالعے سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ آنحضرتؐ نے اپنی دعوت اسلام کے آغاز ہی سے ایک ایسی مضبوط حکومت قائم کرنے کا ارادہ کرلیا تھا جس کی بنیاد خدا پر ایمان کے محکم عقیدہ پر استوار تھی اور جو اسلام کے مقاصد کو پورا کرسکتی تھی یہاں پر بہتر ہے کہ ہم رسول خداؐ کے اس عزم و ارادہ کے سلسلے میں چند شواہد پیش کریں:

 

پیغمبرخداؐ اسلامی حکومت کے بانی ہیں

۱۔جس وقت رسول خدا [ص] کو حکم ملا کہ لوگوں کو کھلم کھلا طریقے سے اسلام کی دعوت دیں تو اس وقت آنحضرتؐ نے مختلف طریقوں سے جہاد و ہدایت کے زمینے کو ہموار کیا اور اسلامی سپاہیوں کی تربیت اور ان کی آمادگی کا بیڑا اٹھایا اس سلسلے میں آپ نزدیک اور دور سے زیارت کعبہ کے لئے آنے والے افراد سے ملاقات کرتے تھے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دیتے تھے اسی دوران آپؐ نے مدینے کے دو گروہوں سے عقبہ کے مقام پر ملاقات کی اور ان سے یہ معاہدہ کیا کہ وہ لوگ آنحضرتؐ کو اپنے شہر میں بلائیں گے اور آپ ؐ کی حمایت کریں(سیرہ ہشام جلد۱ ص۴۳۱ مبحث عقبہ اولی طبع دوم مصر  )اور اس طرح اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے آنحضرتؐ کی سیاست کا آغاز ہوا .

۲۔رسول خداؐ نے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد ایک ایسی مضبوط فوج تیار کی جس نے بیاسی جنگیں لڑیں اور ان جنگوں میں کامیابی حاصل کر کے اسلامی حکومت کی راہ میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو ہٹا دیا.

۳۔مدینے میں اسلامی حکومت قائم ہونے کے بعد آنحضرتؐ نے اس زمانے کی سیاسی اور اجتماعی بڑی طاقتوں کے پاس اپنے سفیراور خطوط بھیج کر ان سے رابطہ قائم کیا اور بہت سے قبیلوں کے سربراہوں سے اقتصادی ،سیاسی اور فوجی معاہدے کئے تاریخ نے پیغمبرخداؐ کے ان خطوط کی خصوصیات و تفصیلات کو بیان کیا ہے جو آپؐ نے ایران کے شہنشاہ ’’کسریٰ‘‘ ، روم کے بادشاہ ’’قیصر‘‘ ، مصر کے بادشاہ ’’مقوقس‘‘، حبشہ کے بادشاہ ’’نجاشی‘‘ اور دوسرے بادشاہوں کو بھیجے تھے . بعض محققین نے آنحضرتؐ کے ان خطوط کو اپنی مستقل کتابوں میں جمع کیا ہے(جیسے کہ’’الوثائق السیاسیہ‘‘ (مؤلفہ محمد حمید اللہ) ’’مکاتیب الرسول‘‘(مؤلفہ علی احمدی) ہیں)

۴۔رسول خداؐ نے اسلام کے مقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے اور اسلامی حکومت کے استحکام کے لئے بہت سے قبیلوں اور شہروں کے لئے حکام معین فرمائے تھے ہم یہاں اس سلسلے میں بطور مثال ایک نمونے کا ذکر کرتے ہیں پیغمبر اسلام ؐ نے رفاعہ بن زید کو اپنا نمائندہ بنا کرانھیں ان کے اپنے قبیلے کی طرف روانہ کیا اور خط میں یوں تحریر فرمایا :

’’بسم اللہ الرحمن الرحیم ، (ھذا کتاب) من محمد رسول اللّہ [ص] لرفاعۃ بن زید بعثتہ اِلیٰ قومہ عامۃ و من دخل فیھم یدعوھم اِلیٰ اللّہ والیٰ رسولہ فمن اقبل منھم ففي حزب اللّہ و حزب رسولہ و من أدبر فلہ أمان شہرین‘‘(مکاتیب الرسول جلد ۱ ص ۱۴۴.)

شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بہت مہربان اور نہایت ہی رحم کرنے والا ہے محمد رسول خداؐ کی طرف سے یہ نوشتہ رفاعہ بن زید کے نام، بے شک میں انہیں ان کی قوم کے عام لوگوں اور قوم میں شامل ہوجانے والوں کی طرف بھیج رہا ہوں تاکہ وہ انہیں خدا اور اس کے رسول کی طرف دعوت دیں پس جس نے ان کی دعوت کو قبول کیا وہ خدا اور اس کے رسول کے گروہ میں شامل ہو گیا.اور جو ان کی دعوت سے روگردانی کرے گا اس کے لئے صرف دو ماہ کی امان ہے.

پیغمبر اسلامؐ کے ان اقدامات سے بخوبی یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ بعثت کے آغاز ہی سے ایک ایسی مضبوط حکومت بنانا چاہتے تھے کہ جس کے سائے میں انسانی معاشرے کی زندگی کے تمام پہلوؤں سے متعلق، اسلام کے احکام کونافذ کیا جاسکے، اب سوال یہ ہے کہ رسول خداؐ کا مختلف گروہوں اور قدرتمند قبیلوں سے معاہدہ کرنا ،ایک

مضبوط فوج تیار کرنا، مختلف ممالک میں سفیر بھیجنا اور اس زمانے کے بادشاہوں کو خبردار کرنا، نیز ان سے خط و کتابت کرنا ساتھ ہی ساتھ شہروں کے گورنر اور حکام معین کرنا اور ایسے ہی دوسرے امور کا انجام دینا اگر سیاست نہیں تھا تو اور کیا تھا؟ پیغمبر اسلام ؐ کی سیرت کے علاوہ خلفائے راشدین کا کردار اور خاص طور پرحضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب ۔ کا طرز عمل بھی شیعوں اور اہل سنت دونوں فرقوں کیلئے اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ سیاست دین سے جدانہیں ہے.دونوں اسلامی فرقوں کے علماء نے حکومت قائم کرنے کے سلسلے میں قرآن مجید اور سنت پیغمبرؐ سے مفصل دلیلیں بیان کی ہیں نمونے کے طور پر ہم ان میں سے بعض کا ذکر کرتے ہیں:

ابوالحسن ماوردی نے اپنی کتاب ’’احکام سلطانیہ‘‘ میں یوں لکھا ہے:

’’الإمامۃ موضوعۃ لخلافۃ النبّوۃ في حراسۃ الدین و سیاسۃ الدنیا و عقدھا لمن یقوم بھا في الأمۃ واجب بالإجماع‘‘(الاحکام السلطانیۃ (ماوردی) باب اول ص۵ طبع مصر)

امامت کو نبوت کی جانشینی کے لئے قرار دیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ دین کی حفاظت کی جاسکے اور دنیا کی سیاست و حکومت کا کام بھی چل سکے امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ایسی حکومت قائم کرنااس شخص پر واجب ہوجاتا ہے جو اس کام کو انجام دے سکتا ہو۔

اہل سنت کے مشہور عالم ماوردی نے اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے دو طرح کی دلیلیں پیش کی ہیں:

۱۔ عقلی دلیل

۲۔ شرعی دلیل

عقلی دلیل کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’لما في طباع العقلاء من التسلیم لزعیم یمنعھم من التظالم و یفعل بینھم في التنازع والتخاصم ولولا الولاۃ لکانوا فوضیٰ مھملین ھمجاً مضاعین‘‘(الاحکام السلطانیۃ (ماوردی) باب اول ص۵ طبع مصر)

کیونکہ یہ بات عقلاء کی فطرت میں ہے کہ وہ کسی رہبر کی پیروی کرتے ہیں تاکہ وہ انہیں ایک دوسرے پر ظلم و ستم کرنے سے روکے اور اختلاف اور جھگڑوں کی صورت میں ان کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرے اور اگر ایسے حکام نہ ہوتے تولوگ پراگندہ اور پریشان ہوجاتے اور پھر کسی کام کے نہ رہ جاتے.اور شرعی دلیل کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’ولکن جاء الشرع بتفویض الأمور اِلی ولیہ في الدین قال اللّہ عزّوجلّ ( یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا

أَطِیعُوا اﷲَ وَأَطِیعُوا الرَّسُولَ وَأُوْلِي الْأَمْرِ مِنْکُم)ففرض علینا طاعۃ أولي الأمر فینا وھم الأئمۃ المأتمرون علینا‘‘(الاحکام السلطانیۃ (ماوردی) باب اول ص۵ طبع مصر)

لیکن شرعی دلیل میں یہ ہے کہ دین کے امور کو ولی کے سپرد کردیا گیا ہے خداوندکریم فرماتا ہے:ایمان والو اللہ کی اطاعت کرو اور رسول اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تمہیں میں سے ہیں.پس خداوند نے ہم پرصاحبان امر کی اطاعت کو واجب کردیا ہے اور وہ معصوم امام ہیں جو ہم پر حکومت کرتے ہیں .

شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے فضل بن شاذان سے ایک روایت نقل کی ہے جو امام علی بن موسیٰ الرضا ۔ کی طرف منسوب ہے اس طولانی روایت میں امام ۔ نے حکومت قائم کرنے کو ایک لازمی امر قرار دیا ہے . ہم اس روایت کے چند جملے ذکر کرتے ہیں :

’’إنّا لا نجد فرقۃ من الفرق ولا ملۃ من الملل   بقوا و عاشوا إِلاّ بقیّم و رئیس، لما لابدّ لھم  منہ من أمر الدین والدنیا، فلم یجزفيحکمۃ  الحکیمأن یترک الخلق لما یعلم انہ لابدّ لھم منہ  والإقوام لھم إلاّ بہ فیقاتلون بہ عدوھم و یقسمون بہ فیءھم و یقیمون بہ جمعتھم و جماعتھم و یمنع ظالمھم من مظلومھم ‘‘(علل الشرائع باب ۱۸۲ حدیث نمبر۹ ص ۲۵۳)

ہمیں کوئی ایسی قوم یا ملت نہیں ملے گی جو اس دنیا میں باقی رہی ہواور اس نے زندگی گزاری ہو سوائے یہ کہ اس کے پاس ایک ایسا رہبر اور رئیس رہا ہو جس کے وہ لوگ دین اور دنیا کے امور میں محتاج رہے ہوں پس خداوند حکیم کی حکمت سے یہ بات دور ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ایک ایسی چیز عطا نہ فرمائے جسکے وہ لوگ محتاج ہیں اور اسکے بغیر باقی نہیں رہ سکتے ہیں کیونکہ لوگ اپنے رہبر ہی کی ہمراہی میں اپنے دشمنوں کے ساتھ جنگ کرتے ہیں اور اسی کے حکم سے مال غنیمت کو تقسیم کرتے ہیں اور اس کی اقتداء میں نماز جمعہ اور بقیہ نمازیں باجماعت ادا کرتے ہیں اور رہبر ہی ظالموں سے مظلوموں کو بچاتا ہے.

اس سلسلے میں وارد ہونے والی ساری روایتوں کی تشریح کرنا اور تمام مسلمان فقہاء کے اقوال کا جائزہ لینا اس مختصر مضمون کی گنجائش سے باہر ہے اس کام کے لئے ایک مستقل کتاب درکار ہے۔اسلامی فقہ کا دقت کے ساتھ مطالعہ کرنے سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ شریعت کے بہت سے قوانین ایسے ہیں جو ایکمضبوط حکومت کے بغیر نافذ نہیں کئے جاسکتے ہیں.

اسلام ہمیں جہاد اور دفاع کرنے ، ظالم سے انتقام لینے اور مظلوم کی حمایت کرنے، شرعی حدود اور تعزیرات جاری کرنے، امر بالمعروف و نھی عن المنکر انجام دینے، ایک مالی نظام برقرار کرنے اور اسلامی معاشرے میں وحدت قائم کرنے کا حکم دیتا ہے اب یہ بات واضح ہے کہ مذکورہ اہداف ایک مضبوط نظام اور حکومت کے بغیر پورے نہیں ہوسکتے کیونکہ شریعت کی حمایت اور اسلام سے دفاع کرنے کے لئے ایک تربیت یافتہ فوج کی ضرورت ہوتی ہے اور اس قسم کی طاقتور فوج تیار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی اصولوں کے مطابق ایک مضبوط حکومت قائم کی جائے اور اسی طرح فرائض کی پابندی اور گناہوں سے دوری کے لئے حدود اور تعزیرات کو جاری کرنا اور ظالموں سے مظلوموں کا حق لینا ایک حکومت اور نظام کے بغیر ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر قوی حکومت نہ پائی جاتی ہو تو معاشرہ فتنہ اور آشوب کی آماجگاہ بن جائے گا اگرچہ حکومت قائم کرنے کے لازمی ہونے کے سلسلے میں ہماری ان دلیلوں کے علاوہ بھی بہت سی دلیلیں ہیں لیکن ان دلیلوں ہی سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ نہ صرف دین سیاست سے جدا نہیں ہے بلکہ شریعت کے قوانین کے مطابق اسلامی حکومت قائم کرنا ایک لازمی امر ہے جو کہ اس دنیا میں پائے جانے والے ہر اسلامی معاشرہ کے لئے ایک فریضہ قرار دیا گیا ہے۔

جلال بادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی                                  

(علامہ اقبال)

  

2011/12/22
خلیج تعاون کونسل ...  

خلیج تعاون کونسل اسلامی تحریکوں کو

منحرف کرنے کی امریکی اور اسرائیلی

پالیسی پر عمل پیرا ہے، سیاسی ماہرین

 

 

عرب دنیا کے بعض معروف سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے فارس نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے خلیج تعاون کونسل کی جانب سے امریکی اور مغربی پالیسیوں کو جامہ عمل پہنانے میں مرکزی کردار ادا کرنے پر روشنی ڈالی ہے۔ قطر خطے میں رونما ہونے والی اسلامی تحریکوں کو منحرف کرنے کی امریکی پالیسی میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے:

عرب ممالک اور صہیونزم سے مربوط مسائل کے ماہر مصر کے ڈاکٹر امین اسکندر نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے حکام خطے میں رونما ہونے والی اسلامی اور عوامی تحریکوں کے حق میں نہیں جسکی وجہ یہ ہے کہ وہ ان تحریکوں کو اپنے تاج و تخت کیلئے شدید خطرہ تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممالک ان عوامی تحریکوں کو آزادی، عدالت اور مساوات پر مبنی اپنے حقیقی راستے سے منحرف کرنے کی امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں پر سختی سے عمل پیرا ہیں اور دولت اور میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈے کی مدد سے ان تحریکوں کو امریکہ اور اسرائیل کے مفاد میں موڑنے کیلئے سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔

ڈاکٹر امین اسکندر نے قطر کی جانب سے ڈپلومیٹک اور میڈیا سطح پر امریکی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ عرب ممالک میں رونما ہونے والی تحریکوں کو منحرف کرنے کیلئے امریکہ کی جانب سے سونپے گئے کردار کو بہت اچھی طرح ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر ان امریکی اہداف کیلئے مالی امداد کے علاوہ اپنے میڈیا کے ذریعے بھی اس سے تعاون کر رہا ہے۔

خلیجی ممالک امریکہ کے مطیع اور خودمختار خارجہ پالیسی سے عاری ہیں:

الازھر یونیورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر مخیمر ابوسعدہ نے کہا کہ خلیجی ممالک جہاں امریکہ کے سب سے بڑے اڈے موجود ہیں، آزادی اور خودمختاری سے برخوردار نہیں، لہذا انکے فیصلے اپنی مرضی کے مطابق نہیں ہوتے بلکہ مغربی قوتوں کے اشاروں پر ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ اگر خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک آزاد اور خودمختار پالیسی کے حامل ہیں تو پھر وہ کیوں اپنی آرمی اور اسلحہ کے ذخائر کو فلسطین کی آزادی اور غزہ کے ظالمانہ محاصرے کے خاتمے کیلئے بروئے کار نہیں لاتے؟۔

ڈاکٹر مخیمر ابوسعدہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک عرب دنیا کے مفادات سے کہیں دور ہو چکے ہیں اور امریکہ کی پیروی کرنے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ امریکہ ہے جو انکی پالیسیوں کو تشکیل دیتا ہے، یہ انتہائی شرم والی بات ہے کہ یہ ممالک خطے میں رونما ہونے والی اسلامی تحریکوں کو اپنے اصلی راستے سے منحرف کرنے کی امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔

ڈاکٹر ابوسعدہ نے کہا کہ خلیجی عرب ممالک امریکہ کے بھیانک چہرے پر پردہ ڈالنے اور عرب انقلابی تحریکوں کے خلاف سازشیں کرنے میں کسی اقدام سے دریغ نہیں کرتے لیکن عرب اقوام ہر گز ان ممالک کے جھوٹے دعووں کے فریب میں نہیں آئیں گی۔

عرب ممالک جمہوریت سے خوفزدہ ہیں:

انٹرنیشنل ریلیشنز کے ماہر ڈاکٹر علاء ابو طہ نے اس بارے میں کہا کہ اسٹریٹجک اسٹڈیز میں کسی ملک کے موقف کو جاننے کیلئے ایک علمی طریقہ موجود ہے اور وہ یہ کہ "کسی ملک کی خارجہ پالیسی کو سمجھنے کیلئے اسکے بنیادی اصولوں کو جاننا ضروری ہے"۔ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان بہت سے مسائل پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر ابو طہ نے خلیج تعاون کونسل کی جانب سے مصر کے سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کو بچانے کیلئے انقلابی گروہوں پر دباو ڈالے جانے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک مصر کے انقلاب کا اپنے ممالک تک پھیل جانے اور وہاں پر بھی جمہوریت کا مطالبہ سامنے آنے سے سخت خوفزدہ تھے، لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ یمن میں بھی سعودی عرب نے وہاں کے ڈکٹیٹر علی عبداللہ صالح اور اسکے خاندان کی بھرپور حمایت کی اور اسکی مالی اور فوجی امداد بھی کی۔ سعودی عرب نے اس طرح یمن کے انقلاب کو دوسرے عرب ممالک میں پھیلنے سے روک دیا۔

سعودی عرب نے یمن اور شام میں دوغلی پالیسی اپنا رکھی ہے:

ڈاکٹر علاء ابو طہ نے شام کے حالات اور اس سے متعلق عرب ممالک کی پالیسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عرب ممالک خطے میں اسلامی مزاحمت کو کمزور کرنا چاہتے تھے، اسی وجہ سے سعودی عرب نے یمن اور شام میں دوغلی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سعودی عرب کے مفتی حضرات یمن کے بارے میں یہ فتوا دیتے ہیں کہ ولی امر مسلمین کے خلاف بغاوت جائز نہیں اور اسکی اطاعت سب پر واجب ہے لیکن جب شام کی باری آتی ہے تو وہ بالکل مختلف موقف اپناتے ہیں۔ اس دوغلی پالیسی نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔

 

2011/12/22
دوست یا دشمن ؟ ...  

 

دوست یا دشمن ؟

تحریر:ایس رضا

بدماشی کا اصول ہے کہ ایک دشمن ہو جس کے ماورائی تصور سے لوگوں کو ڈرایا جائے اور اس ماورائی اور جھوٹے خطرے سے بچانے کے بہانے اپنی شرائط پر لوگوں پر تسلط قائم کیا جائے اور انکو اپنا محکوم بنایا جائے، اس کی جغرافیائی حدود معین نہیں، ایسا ایک چھوٹی گلی میں بھی ہو سکتا ہے، ایک محلے، شہر، ملک اور حتٰی کئی ممالک کی حدود پر بھی حکمرانی کی جا سکتی ہے بلکہ اب تو اس کی جگہ ایک نئی اصطلاح بھی متعارف کرائی گئی ہے ''New World Order"۔ بدماشی میں جدت پیدا کرنے کی ایک کوشش!

کہنے کو بدماشی میں بھی کچھ اصول و  قواعد ہوتے ہیں بلکہ ہوا کرتے تھے لیکن جیسے جیسے انسان اپنی قدر کھوتا گیا، اسی طرح بدماشی نے بھی اپنی قدروں کے ساتھ وفا نہ کی، زمانے کی ترقی کے ساتھ ساتھ بدماشی نے بھی اپنے ہاتھ پاوں پھیلانا شروع کر دیئے اور قناعت کا لبادہ اتار پھینکا اور استعمار ایک نئی شکل و صورت کے ساتھ دنیا کی مستعضف اقوام پر مسلط ہو گیا، نہ کوئی اس کے سامنے سر اٹھاتا تھا اور نہ ہی آواز، وہ جس کو چاہتا تھا اپنا دشمن بنا کر تباہ کر ڈالتا تھا اور کسی کو بھی اپنے مفادات کی خاطر اپنا دوست بنا لیتا تھا، اب استعمار چھوٹے چھوٹے بدماش پیدا کرتا، ان کو مسلط کرتا اور جب اسکے مقاصد پورے ہو جاتے تو ان بدماشوں کو دشمن بتا کر ختم کر دیتا۔۔۔۔۔اگر بیسویں صدی پر ایک نگاہ ڈالیں تو ہمیں ایسے لاتعداد کردار نظر آئیں گے جنہیں استعمار کی طرف سے بدماشی کی سند ملی، لیکن ایک مدت کے بعد ان کو انسانیت کا دشمن قرار دیکر ختم کر دیا گیا۔

سویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد استعمار کو ایک ایسے دشمن کی ضرورت تھی کہ جس کو دکھا کر اپنی حکمرانی کو طول دیا جائے اور اپنی سلطنت کو وسعت دی جائے اور قرعہ فال اسلام کے نام نکلا، لیکن اسلام کو اگر اس کی اصل شکل پر باقی رکھا جائے تو اسلام کو عوام دشمن بنا کر پیش نہیں کیا جا سکتا تھا، جس کا حل اس صورت میں نکالا گیا کہ اسلام کو ایک نیا سفاک چہرہ دیا جائے، جس کو دکھا کر اپنی خواہشات کو حاصل کیا جائے۔۔۔۔۔اور اس نئے چہرے کا نام القاعدہ و طالبان رکھا گیا۔

بن لادن خاندان کے امریکی حکمرانوں سے تعلقات کسی سے پوشیدہ نہیں، اسامہ بن لادن دہشتگرد قرار دیئے جانے سے قبل امریکہ میں سابق امریکی صدر ریگن اور بش سینئر کا مہمان ہوا کرتا تھا، افغانستان میں روسی افواج کے مدمقابل ایک ایسے گروہ کو منظم کیا گیا جس کا سرغنہ اسامہ بن لادن تھا جو امریکن سی آئی اے سے تربیت یافتہ امریکی ایجنٹ تھا۔ میں اس تفصیل میں نہیں جائوں گا کیونکہ اس موضوع پر ملکی و غیر ملکی سیاسی تجزیہ نگاروں کے مضامین اور کتابیں موجود ہیں، حتٰی امریکی سیاسی تجزیہ نگاروں کی کتابیں بھی موجود ہیں، جن میں اسامہ کے امریکہ سے قریبی تعلقات کو فاش کیا گیا ہے۔

مختصر یہ کہ روس کی شکست کے بعد افغانستان میں ایک ایسے گروپ کو امریکہ نے مدد فراہم کی، جس نے اسلام کا لبادہ اوڑھا ہوا تھا لیکن امریکیوں کے متعین شدہ راستے پر رواں تھا۔۔۔۔۔غرض طالبان کو افغانستان کی حکومت دی گئی، طالبان کی حکومت علاقے میں قائم کروانے کے بہت سارے مقاصد تھے جس میں سے اہم افغانستان میں ایران کے نفوذ کو روکنا، پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینا اور سب سے بڑھ کر اسلام کی مسخ شدہ تصویر پیش کرنا تھا، جس کو دکھا کر امریکہ نے دنیا پر حکومت کرنے کا خواب دیکھا تھا۔

بہرحال یہ تھے طالبان جو امریکی حکومت کی گود میں پلے اور اسرائیلی دودھ پی کر پروان چڑھے۔۔۔۔۔پہلے سے طے شدہ نائن الیون کا ڈرامہ رچایا گیا اور امریکہ اسی کے انتظار میں تھا اور اس کے بعد امریکہ طالبان کو ختم کرنے کیلئے پہلے سے تباہ شدہ افغانستان کو پتھر کے دور میں بھیجنے کیلئے نکل پڑا۔۔۔۔۔۔نعرہ وہی پرانا تھا۔۔۔۔۔دنیا کو دہشتگردوں سے خطرہ ہے۔۔۔۔۔کونسے دہشتگرد؟؟؟ وہی جن کو تم نے خود دودھ پلا کر پروان چڑھایا تھا؟؟؟ وہی دہشتگرد جو تمہاری آواز پر ایک وفادار کی طرح دم ہلاتے پھرتے تھے؟؟؟  وہ اس وقت تو دہشتگرد قرار نہیں دیئے گئے جب انہوں نے اسلام کے نام پر افغانستان میں ظلم کا بازار گرم کر رکھا تھا؟ وہ اس وقت تو دہشتگرد قرار نہیں دیئے گئے جب انہوں نے بامیان پر لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا؟ وہ اس وقت دہشتگرد کیوں نہیں قرار دیئے گئے جب وہ تمہارے لیے روس سے لڑ رہے تھے؟؟؟؟؟ وہ کل بھی تمہاری ناجائز اولاد تھے اور آج بھی ہیں۔۔۔۔۔وہ کل بھی تمہارے اشاروں پر ناچتے تھے اور آج بھی تم ہی انکے باپ ہو۔

بائیڈن کے بیان نے کم از کم مجھے تو حیران نہیں کیا۔۔۔۔۔امریکی نائب صدر جوبائیڈن کا کہنا ہے کہ طالبان امریکہ کے دشمن نہیں ہیں اور نہ ہی ہم یہ سمجھتے ہیں کہ طالبان سے امریکی مفادات کو کوئی خطرہ لاحق ہے۔ ان کا یہ بیان نائن الیون کے واقعہ کے بعد امریکا کے اس موقف کے بالکل برعکس آیا ہے، جس میں انہوں نے طالبان کو اپنا اہم دشمن قرار دیا تھا۔ جوبائیڈن نے تو یہاں تک کہہ ڈالا کہ امریکی صدر نے کبھی کوئی ایسا بیان نہیں دیا، جس میں طالبان کو امریکا  کا دشمن قرار دیا ہو یا یہ کہ طالبان سے امریکی مفادات کو کوئی خطرہ درپیش ہو۔۔۔۔!!!انہوں نے کہا کہ طالبان کا خاتمہ امریکہ کا مطمع نظر نہیں۔ اب جبکہ القاعدہ کا افغانستان میں زور توڑ دیا گیا ہے تو مفاہمت کی راہ نکالنے کیلئے امریکی صدر نے طالبان کو صلح کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جانب یہ کوشش بھی کی جا رہی ہے کہ طالبان کو سیاسی دھارے یا درست سمت میں موڑنے کیلئے مفاہمتی کوششیں بھی کی جائیں اور یہ سلسلہ بھی جاری ہے!!!

اگر جو بائیڈن کا مقصد اپنے بیان سے افغانستان میں امریکہ کی ناکامیوں پر پردہ ڈال کر امریکہ کو ایک فاتح کا خطاب عطا کرنا تھا تو یہ ایک بہت ہی بھونڈی کوشش تھی، جوبائیڈن شاید یہ بھول گئے کہ امریکہ کے وہ افراد جو نائن الیون کے ڈرامے میں مارے گئے تھے انکے اہل خانہ کے سامنے کئی سالوں سے امریکہ یہی گاتا آیا کہ امریکی حکومت ان دہشتگردوں کو ختم کر کے دم لے گی۔۔۔۔۔کیا امریکی عوام مطمئن ہونگے۔؟۔۔۔۔۔ آج امریکی عوام جو ہمیشہ امریکی میڈیا کے زیر سایہ زندگی گزارتی آئی ہے شاید اپنی آنکھیں کھول کر حقیقت کو جان لیں۔۔۔۔کاش!!!   یقین جانیں امریکہ کو نجات دہندہ سمجھنا سب سے بڑی بیوقوفی ہے، پہلے دن سے جو لوگ یہ سمجھتے آئے کہ امریکہ ایک نجات دہندہ بن کر علاقے میں آیا ہے، انہی جیسے لوگوں نے میڈیا کے ذریعے رائے عامہ امریکی جارحیت کے لئے ہموار کی تھی۔۔۔۔۔۔ وہ غلطی پر تھے اور آج شاید وہ اپنی اس غلطی پر شرمندہ بھی ہوں اور ہونا بھی چاہئے، لیکن وہ یہ بھی جان لیں کہ بامیان میں لاکھوں کا قتل عام ہو یا افغانستان میں عوامی حقوق کی پامالی یا پاکستان میں فرقہ واریت کے نام پر قتل عام یا ایران میں دشمنان انقلاب کی پشت پناہی اور سازشوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔۔۔۔۔۔یہ سب معزز حضرات ان تمام مظالم میں برابر کے شراکت دار ہیں۔

یہ قصے صرف فلموں اور کہانیوں میں اچھے لگتے ہیں کہ ایک ہیرو نے عوام کو ظالم سے نجات دلا دی، سپر مین، اسپائیڈر مین وغیرہ یہی وہ تخیلاتی کردار ہیں جن کی تصویریں عام آدمی کے ذہن میں راسخ کر دی گئیں ہیں اور وہ ان کرداروں پر یقین بھی کرنے لگے ہیں، وہ جو ان کرداروں پر یقین کرتے ہیں ان کو جان لینا چاہئے کہ امریکہ ان کرداروں کا صرف موجد ہے، مصداق نہیں۔۔۔۔۔امریکہ نجات دہندہ نہیں، درندہ ہے، امریکہ جس کا دوست بن جائے یا امریکہ کو کوئی دوست بنا لے، دونوں بیوقوف ہیں اور خیالوں کی دنیا کے باسی ہیں۔۔۔۔۔

امام خمینی (رح)  کے فرمان پر کان نہ دھرنے والو ، آو  دیکھ لو کہ مرد جماران نے کتنے سال پہلے کہہ دیا تھا کہ مسلمانوں کے تمام تر مصائب و مشکلات کا ذمہ دار امریکہ ہے۔۔۔۔۔اس وقت تم نے تعصب کی عینک لگا رکھی تھی۔۔۔۔۔آج تو جاگ جاو۔۔۔۔۔آج تو پہچان لو اپنے دشمن کو۔۔۔۔۔۔نہ ہو باہم دست و گریبان۔۔۔۔۔نہ لوٹو ایک دوسرے کی ناموس۔۔۔۔۔جان لو کہ امریکہ مسلمانوں کا دوست نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔اور امریکہ کا دوست بھی ہمارا دوست نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔ چھین لو ان لوگوں سے اقتدار جن کے سر خدا وند کریم کی بارگاہ کے بجائے امریکہ کے دربار میں جھکے رہتے ہیں۔

 

2011/12/22
صاحبزادہ فضل کریم ...  

پاکستان کو امریکہ اور اس کے ایجنٹ

طالبان دونوں سے خطرہ ہے، عدالتیں

دہشت گردوں کے مقدمات کی روزانہ کی

بنیاد پر سماعت کریں اور دہشت گردوں کو

مینار پاکستان پر پھانسی دی جائے،

پاکستان کے مسائل کی جڑ  امریکی

غلامی ہے ، امریکہ کے غلاموں کو بھگانا

اور نبی (ص) کے غلاموں کو اقتدار میں لانا

ہو گا  ۔ صاحبزادہ فضل کریم

 

سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم نے  حال ہی میں ملک کے مختلف علاقوں میں مختلف عوامی اجتماعات، اخباری کانفرنسوں اور انٹرویوز  میں کہا ہے کہ تبدیلی کی خواہش عوامی لہر میں تبدیل ہو چکی ہے اور خاندانی پارٹیاں بکھرنے والی ہیں کیونکہ قوم بار بار آزمائے ہوئے روایتی سیاست کاروں سے مزید زخم کھانے کے لیے تیار نہیں اور پوری قوم تبدیلی کے لیے یکسو نظر آتی ہے، پارٹی ’’مالکان‘‘ سیاسی پارٹیوں کو ذاتی فیکٹریوں اور جاگیروں کی طرح چلاتے ہیں، پڑھے لکھے نوجوان مافیائی سیاست کا زور توڑنے کے لیے میدان میں آئیں اور شخصی آمریتوں کے بت پاش پاش کر دیں۔ 

صاحبزادہ فضل کریم نے مزید کہا کہ جمہوریت کے نام پر سیاست کا ہول سیل کاروبار کرنے والے موروثیت معرکہ سیاست کاروں کی مفاداتی سیاست کا سورج غروب ہونے والا ہے اور دولت کے ذریعے عوام کی گردنوں پر مسلط متکبر لیڈروں کی گردنوں سے سریے نکلنے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو لوٹنے والے سیاسی فرعون تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکے جائیں گے۔

 انہوں نے کہا کہ اب ملک میں عوامی انقلاب کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔ امریکہ کے غلاموں کو بھگانا اور نبی (ص) کے غلاموں کو اقتدار میں لانا ہو گا تاکہ قیام پاکستان کے مقاصد پورے ہو سکیں اور تحریک پاکستان کے قائدین کا خواب پورا ہو سکے، کنونشن سے ’’جانثار‘‘ کے چیئرمین حافظ زاہد رازی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے انقلابی نوجوان نظام اور امام بدلنے کے لیے میدان میں اتر آئے ہیں، اب انقلاب کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔ انہوں  نے کہا ہے کہ سنی اتحاد کونسل نبی (ص) کے غلاموں کا قافلہ ہے جس میں ’’یا رسول اللہ‘‘ کہنے والے متحد ہیں۔ اتحاد اہلسنّت کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ انقلاب نظام مصطفی (ص) کی منزل قریب ہے

سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین اور رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ فضل کریم نے  کہا ہے کہ دہشت گردوں کے حامی پاکستان کا دفاع نہیں کر سکتے، ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو انتہاپسندی اور دہشتگردی کی آگ میں جھونکنے والے ہرگز محب وطن نہیں ہو سکتے، پاکستان کے دفاع کو امریکہ اور اس کے ایجنٹ پاکستانی طالبان دونوں سے خطرہ ہے، پاکستان کے مسائل کی جڑ امریکی غلامی ہے، عوام دکھوں کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں اور حکمران سیاسی جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔ صاحبزادہ فضل کریم نے مزید کہا کہ غیریقینی صورتحال کا خاتمہ ضروری ہے کیونکہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے سرمایہ داروں نے سٹاک مارکیٹ سے ڈیڑھ کھرب نکال لیے ہیں، یہ وقت اتحاد کا ہے، پوائنٹ سکورنگ کا نہیں۔

صاحبزادہ فضل کریم نے مزید کہا کہ نیٹو سپلائی بحال ہوئی تو عوامی قوت سے روکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صلیبی طاقتوں کی مزاحمت کے لیے ایمان کی حرارت والے متحد ہو جائیں۔

سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ عدالتیں دہشت گردوں کے مقدمات کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت کریں اور دہشت گردوں کو مینار پاکستان پر پھانسی دی جائے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے مزید کہا کہ اب کرپشن اور کمیشن کی سیاست کا خاتمہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اہل حق سنی اتحاد کونسل کے انقلابی پلیٹ فارم پر متحد اور منظم ہو چکے ہیں، ہم انقلاب نظام مصطفی (ص) کے راستے کی ہر دیوار کو گرا دیں گے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جنوری میں وکلاء، تاجروں، مزدوروں اور طلباء کے الگ الگ کنونشن منعقد کیے جائیں گے اور ملک گیر رابطہ عوام مہم چلائی جائے گی۔

2011/12/22
بحرین میں امریکی وسعودی دھونس ...  

بحرین میں امریکی وسعودی دھونس

 جاری

بحرین کےچودہ مارچ اتحاد نے کہاہےکہ امریکہ اورسعودی عرب بحرینی عوام کوکچلنےکےلئے اس ملک کی آمرحکومت کی مدد کررہےہيں۔

چودہ مارچ اتحاد کےترجمان عبدالرؤف الشائب نےالعالم ٹی وی کوانٹرویودیتےہوئےحکومت بحرین کےفیصلوں میں امریکہ اورسعودی عرب کی مداخلت کےبارےميں کہاکہ امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے آل خلیفہ کوبحرینی عوام کودبانےکی ترغیب دی جاتی ہے۔

عبدالرؤف نےکہاکہ آل خلیفہ کی جانب سےمظاہرین کی سرکوبی کےباوجود بحرینی عوام سیاسی سازباز نہيں کريں گےکیونکہ اب مجرموں اورآمروں سےکوئی بات چیت نہيں ہوسکتی ۔

 

2011/12/22
مقبوضہ کشمیر ...  

مقبوضہ کشمیر، 22 برس میں 93 ہزار

 

کشمیری شہید، 10 ہزار سے زائد لاپتہ ہو

 

گئے،  ایک رپورٹ

 

 

بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 22 سالوں کے دوران 93 ہزار 712 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کر دیا ہے۔ ان میں سے 6 ہزار 989 کشمیریوں کو دوران حراست شہید کیا گیا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹ کے مطابق جنوری 1989ء سے اب تک مقبوضہ کشمیر کی بھارتی فوج کی جارحانہ کارروائیاں جاری ہیں۔ اس دوران بھارتی فوج نے نہتے شہریوں کیخلاف طاقت کا استعمال کیا۔ بھارتی فوج کی اس کارروائی کے نتیجہ میں 22762 خواتین بیوہ ہوگئیں جبکہ 1 لاکھ 7 ہزار 434 بچے یتیم ہو گئے۔ 

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بھارتی فوج کی حراست میں 10 ہزار سے زائد شہری لاپتہ ہو گئے ہیں۔ لاپتہ ہونے والے شہریوں کی بیویاں ”نیم بیواوں“ کی زندگیاں گزار رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس دوران قابض بھارتی فوجی اہلکاروں نے 10019 خواتین کی بےحرمتی کی، جبکہ 1 لاکھ 5 ہزار 936 عمارتیں، گھر اور دکانیں تباہ کر دیں۔ گزشتہ تین سال کے دوران مقبوضہ کشمیر میں پولیس نے حریت کانفرنس کے رہنماوں سمیت سینکڑوں افراد کو بدنام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔

 

2011/12/22
تيونس ...  

 

تيونس ؛ «منوبة» يونيورسٹی میں پہلے نماز خانے

كی تعمير

 

«منوبة» يونيورسٹی تيونس كے ادبيات و علوم انسانی كالج كے سربراہ نے اس تعليمی مركز میں ايك مسجد كی تعمير كا اعلان كيا ہے ۔

خبر رساں ايجنسی (ايكنا)  نے اطلاع رساں ويب سایٹ «businessnews»، كے حوالے سے نقل كرتے ہوئے كہا ہے كہ تيونس میں بن علی كی معزولی اور اسلام پسند جماعت «النهضة» كی كاميابی كے بعد ملكی تاريخ میں پہلی مرتبہ يونيورسٹی كے طلبہ نے ادبيات و علوم انسانی كالج كے سامنے نماز جماعت ادا كی اور اس كے بعد يونيورسٹی میں مسجد كی تعمير كی منظوری كے حق میں دھرنا ديا ۔

كالج كے سربراہ حبيب كزداغلی نے تيونسی ذرائع ابلاغ كے ساتھ بات چيت كرتے خيال ظاہر كيا : لڑكوں اور لڑكيوں كے احتجاج كے بعد حكام بالا اس نتيجے پر پہنچے ہیں كہ نماز خانے اور مسجد كا قيام بلا مانع ہے اور اس كے لیے اجازت نامہ صادر كر ديا گيا ہے ۔

 

2011/12/22
نیوزی لینڈ ...  

 

نیوزی لینڈ کی اوکلینڈ یونیورسٹی میں

 

اسلامک سٹڈیزکے سبجیکٹ کا اضافہ

 

نیوزی لینڈ کی اوکلینڈ یونیورسٹی میں ۲۰۱۲ء سے اسلامک سٹڈیزکے سبجیکٹ کا اضافہ کیا جارہا ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ میں حالیہ چند مہینوں کے دوران دین اسلام سے تمایل کی وجہ سے اوکلینڈکی یونیورسٹی کے عہدیداروں نے اس یونیورسٹی میں اسلامک سٹڈیز کے سبجیکٹ کو اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس یونیورسٹی میں اس وقت تک دین شناسی کے سبجیکٹ میں دین عیسائیت کے اعتقادات اوراعمال کے بارے اسٹوڈنٹس کوتعلیم دی جاتی تھی لیکن اس کے بعد طے یہ پایا گیا ہے کہ دین اسلام کا شغف رکھنے والے اسٹوڈنٹس کے سوالات کو جوابات دینے کی غرض سے دین شناسی کے موضوع میں اسلامک سٹڈیزکے سبجیکٹ کواضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اوکلینڈ یونیورسٹی میں اسلامک سٹڈیز کے تحقیقاتی شعبے کے سربراہ زین علی نے اس حوالے سے کہا ہےکہ اسلامی معاشروں اورتہذیبوں کے بارے مطالعہ کوتمام یونیورسٹیزکا ایک اہم حصہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ یونیورسٹیز عالمی تمدن،تاریخی رجحانات اوردنیا کی موجودہ سیاست سے گہراتعلق رکھتی ہیں۔  اس سبجیکٹ میں تاریخ اسلام،اسلامی فلسفہ اورتفسیر قرآن کریم میں تبدیلیاں جیسے موضوعات پربحث وگفتگوکی جائے گی اوراسٹوڈنٹس کومسلمانوں سےمربوط مسائل کی تعلیم دی جائے گی۔

اسلام ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق اسٹوڈنٹس اس بات کی امید کرتے ہیں کہ اس کورس کے انعقاد کے ساتھ وہ اسلام اورجمہوریت کے باہمی تعلق، اسلام میں عورت کا مقام اورتفسیرقرآن کریم کی کیفیت کے بارے سوالات کے جوابات حاصل کریں گے۔

یہ کورس2012 عیسوی سال کواوکلینڈ یونیورسٹی میں شروع کیا جائے گا۔

 

2011/12/22
جہالت و پستي، ...  

 

جہالت و  پستي، انسان کے دو بڑے دشمن

آج انسان نے دنيا ميں جہاں کہيں بھي چوٹ کھائي ہے خواہ وہ سياسي لحاظ سے ہو يا فوجي و اقتصادي لحاظ سے،  اگر آپ اُس کي جڑوں تک پہنچيں تو آپ کو يا جہالت نظر آئے گي يا پستي -يعني اِس انساني معاشرے کے افراد يا آگاہ وواقف نہيں ہيں اوراُنہيں جس چيز کي لازمي معرفت رکھني چاہيے وہ لازمي معرفت و شناخت نہيں رکھتے ہيں يا يہ کہ معرفت کے حامل ہيں ليکن اُس کي اہميت اور قدر وقيمت کے قائل نہيں ہيں، انہوں نے اُسے کوڑيوں کے دام بيچ ديا ہے اور اُس کے بجائے ذلت وپستي کو خريد ليا ہے!

حضرت امير المومنين اور حضرت امام سجاد علیہم السلام سے نقل کيا گيا ہے کہ آپ نے فرمايا کہ ’’لَيسَ لِاَنفُسِکُم ثَمَن اِلَّا الجَنَّۃَ فَلَا تَبِيعُوھَا بِغَيرِھَا‘‘؛’’تمہاري جانوں کي جنت کے علاوہ کوئي اور قيمت نہيں ہے لہٰذا اپني جانوں کو جنت کے علاوہ کسي اور چيز کے عوض نہ بيچو‘‘- يعني اے انسان! اگر يہ طے ہو کہ تمہاري ہستي و ذات اور تشخص و وجود کو فروخت کيا جائے تو اِن کي صرف ايک ہي قيمت ہے اور وہ ہے خدا کي جنت،  اگر تم نے اپنے نفس کو جنت سے کم کسي اور چيز کے عوض بيچا تو جان لو کہ تم کو اِس معاملے ميں غبن ہوا ہے! اگر پوري دنيا کوبھي اِس شرط کے ساتھ تمہيں ديں کہ ذلت وپستي کو قبول کر لو توبھي يہ سودا جائز نہيں ہے-

وہ تمام افراد جو دنيا کے گوشے کناروں ميں زر و  زمين اور صاحبانِ ظلم و ستم کے ظلم کے سامنے تسليم ہوگئے ہيں اوراُنہوں نے اِس ذلت و پستي کو قبول کر ليا ہے،  خواہ عالم ہوں يا سياست دان،  سياسي کارکن ہوں يا اجتماعي امور سے وابستہ افراد يا روشن فکر اشخاص،  تو يہ سب اِس وجہ سے ہے کہ اُنہوں نے اپني قدر و قيمت کو نہيں پہچانا اور خود کو کوڑيوں کے دام فروخت کرديا ہے ؛ ہاں سچ تو يہي ہے کہ دنيا کے بہت سے سياستدانوں نے خود کو بيچ ڈالا ہے- عزت صرف يہ نہيں ہے کہ انسان صرف سلطنت کيلئے بادشاہت يا رياست کي کرسي پر بيٹھے؛ کبھي ايسا بھي ہوتا ہے کہ ايک انسان تخت حکومت پر بيٹھ کر ہزاروں افرادسے غروروتکبر سے پيش آتا ہے اوراُن پر ظلم کرتاہے ليکن اُسي حالت ميں ايک بڑي طاقت اور سياسي مرکز کا اسير و ذليل بھي ہوتا ہے اور خود اُس کي نفساني خواہشات اُسے اپنا قيدي بنائے ہوئے ہوتي ہيں! آج کي دنيا کے سياسي اسير و قيدي کسي نہ کسي بڑي طاقت و قدرت اور دنيا کے بڑے سياسي مراکز کے اسير و قيدي ہيں!

 

2011/12/22
تعلیم کی اہمیت ...  

 

تعلیم کی اہمیت

 

تحریر : خورشید عالم سیف

 

 

رامو ایک دیہاتی شخص تھا۔ شہر کے ایک رئیس کے پاس گھریلو ملازم تھا وہ پڑھا لکھا بالکل بھی نہیں تھا۔ اپنے گاﺅں اور اپنی بیوی بچے سے دور شہر میں رہتے ہوئے اسے عرصہ بیت گیا تھا۔ اس کا ا یک ہی بیٹا تھا بھولا، جب وہ گاﺅں سے رخصت ہوا تھا تو اس وقت اپنی ماں کی گود میں تھا جب بیٹے کی یاد رامو کو ستانے لگی تو اس نے سوچا کیوں نا بھولا کی ماں کو ایک خط لکھ  دے۔

لیکن وہ قلم اور کاغذ لے کر اس پر لکھتا بھی کیا کہ اس نے کبھی اسکول کا منہ تک نہیں دیکھا تھا۔ مجبوراً وہ بڑے مالک کے پاس گیا اور ان سے ایک خط لکھنے کی درخواست کی۔ بڑے مالک خط لکھنے کو تیار ہوگئے۔ اتنے میں ٹیلی فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ فون ان کے دفتر سے تھا، وہ فوراً دفتر چلے گئے اور رامو کا خط ادھورا ہی رہ گیا۔

اس کے بعد رامو چھوٹے مالک کے پاس گیا۔ چھوٹے مالک ورزش کرنے میں مصروف تھے۔ رامو نے اس سے خط لکھنے کی درخواست کی۔ چھوٹے مالک کے پاس اتنی فرصت کہا ں کہ وہ ایک نوکر کا کام کرنے کو تیار ہو جاتے۔ انہوں نے فوراً بہانہ تراشتے ہوئے کہا”تم تو جانتے ہو رامو کاکا کہ مجھے ہندی نہیں آتی، تم کہو تو انگریزی میں لکھ دوں تمہارا خط! رامو مایوس ہو کر چھوٹی مالکن کے پاس گیا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتا، چھوٹی مالکن بول پڑیں” رامو کاکا تم مجھے کوئی کام بتا کر پریشان نہ کرو، ویسے ہی مجھے کالج جانے میں دیر ہوگئی ہے“ بیچارہ رامو خط لکھنے کا ارمان دل میں لیے الٹے پاﺅں لوٹ گیا۔

کچھ دنوں بعد رامو کو ڈاک موصول ہوا۔ اس لفافہ کو لے کر سیدھا بڑی مالکن کے پاس جا پہنچا اور اسے پڑھ کر سنانے کی گزارش کی۔ بڑی مالکن نے لفافہ کھولا اور پڑھ کر سنایا۔رامو دوسرے دن ہی جب اپنے گاﺅں پہنچا تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ گاﺅں والے مایا کے مردہ جسم کو دفن کرچکے تھے۔ اس کا ننھا بیٹا بھولا اس کے قریب آ کر اپنی توتلی زبان میں بڑبڑانے لگتا ہے”باپو....باپو....باپو تم آ گئے؟ مائی تو تب (کب) تی چلی گئی۔ اسے تو داﺅں (گاﺅں) والے تندھا پر اٹھا تر لے دیے ‘’؟ رامو نے، بھولا کو بہلاتے ہوئے کہا۔” تمہاری اماں خدا کے پاس چلی گئی ہے“تون (کون) اللہ میاں “؟ وہ میں سمجھا کہ مائی نانا جی کے گھر چلی گئی ہے ایسا کرونا باپو کہ تم مائی تو(کو) ایت(ایک) چھٹی لکھ  دو تو وہ جلد دھر (گھر) چلی آئے گی“ رامو نے لاچاری ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ”بھولے تو تو جانتا ہے کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔ ایک کام کر تو ہی اپنا اماں کو خط لکھ دے‘’ مگر اماں نے تو ہم کو تبھی (کبھی) اسکول بھیجا ہی نہیں تو ہم........ بھولا کی زبان سے یہ جملہ سنتے ہی رامو کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔ رامو نے اسی وقت تہیہ کرلیا کہ اپنے بیٹے کو اپنے جیسا جاہل نہیں بنانا۔ حالات جو بھی ہوں وہ ہر حال میں اپنے بچے کو پڑھنے کے لیے اسکول ضرور بھیجے گا۔

 

2011/12/22
پاکستان میں غریبوں کی تعداد ...  

پاکستان میں غریبوں کی تعداد 8 کروڑ 88

لاکھ

 

آبادی کے لحاظ سے چھٹے بڑے ملک پاکستان کی کل آبادی 18 کروڑ ہے جب کہ اس کے 8 کروڑ 88 لاکھ افراد غربت کا شکار ہیں جن کی آمدنی 2 امریکی ڈالر یومیہ سے بھی کم ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ڈی پی کے مطابق 8 کروڑ 88 لاکھ سے زائد غریب پاکستانیوں میں سے 33 فیصد سے زائد آبادی کو سینی ٹیشن کی سہولیات میسر نہیں، 30 فیصد بچوں کا غربت کی وجہ سے علاج نہیں ہوپاتا اور وہ ہلاک ہوجاتے ہیں جب کہ غربت کی وجہ سے 34 فیصد بچوں کی تعلیم مکمل نہیں ہوپاتی۔ رپورٹس کے مطابق ملک کی نصف سے زائد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہی ہے اور غربت کی وجہ سے 19 فیصد سے زائد بچوں کا اسکول میں داخلہ نہیں ہوپاتا، کم آمدنی، مہنگائی اور بیروزگاری سے غربت کا شکار ہونے والے افراد میں سے 41 فیصد لوگوں کو کھانے پکانے کے لئے ایندھن کی سہولت دستیاب نہیں جب کہ 26 فیصد لوگ کسی بھی قسم کی جائداد سے محروم بنے ہوئے ہیں۔

ہیومن ڈولپمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گزشتہ برس تک مجموعی معیار زندگی نامناسب ہونے اور صحت و تعلیم کے ابتر پیمانے پر مشتمل غریب آبادی کی تعداد 51 فیصد سے زائد تھی جب کہ سال 2011 میں مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافے سے غریب افراد کی تعداد میں ایک کروڑ 70 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا۔ انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچر ڈولپمنٹ کے مطابق پاکستان میں مہنگائی بڑھنے سے خوراک کی کمی کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد بڑھنے سے ملک میں زندگی گزارنا مزید مشکل ہوگئی ہے، ملک میں 30 فیصد تک مہنگائی بڑھنے اور بیروزگاری کی شرح میں اضافے سے 60 فیصد آبادی کی یومیہ آمدنی 2 ڈالر سے بھی کم ہوگئی ہے۔

پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافے کے باعث رواں برس کے اختتام تک یومیہ سوا ڈالر سے کم آمدنی پر گزارا کرنے والے افراد کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچنے کا اندیشہ ہے جب کہ اس وقت عالمی سطح پر دنیا کا ہر پانچواں شخص یومیہ سوا ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزارنے پر مجبور ہے جس میں سے ہر تیسرا شخص دیہی علاقوں سے تعلق رکھتا ہے۔ رورل پاورٹی 2011 کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ غریب آبادی جنوبی ایشیا میں آباد ہے جہاں 44 فیصد غریب لوگ دیہی علاقوں میں رہتے ہیں جب کہ دنیا کا ہر دوسرا غریب شخص دیہی ایشیائی ہے، دنیا بھر میں غربت کی وجہ سے خوراک کی قلت کے باعث یومیہ 22 ہزار بچے بھوک سے ہلاک ہو رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق خوراک کی کمی کے باعث دنیا میں او سطا ہر 5 سیکنڈ کے اندر ایک بچہ ہلاک ہوجاتا ہے جب کہ دنیا کا ہر ساتواں شخص شدید بھوک اور خوراک کی کمی کا شکار ہے، دنیا بھر میں بھوک کے مارے افراد میں 60 فیصد خواتین شامل ہیں۔ محفوظ خوراک سے محروم دنیا کے 65 ممالک میں 7 سے زائد ممالک جنوبی ایشیائی ہیں جن میں آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک چین، آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک بھارت، جنوبی ایشیا کا اہم ترین ملک پاکستان، بنگلادیش ، انڈونیشیا، کانگو اور ایتھوپیا شامل ہیں۔

2011/12/22
شعبہ ...  

جرمنی کی ٹوبنگن یونیورسٹی میں شعبہ

 

الٰھیات اسلامی کا افتتاح

 

جرمنی کی ٹوبنگن یونیورسٹی میں 16 جنوری کو شعبہ الہیات اسلامی کا افتتاح ہوگا،افتتاح کے موقع پر جرمنی کے وزیر تعلیم اور مسیحیوں کا ایک نمائندہ خطاب کریں گے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق جرمنی کی ٹوبنگن یونیورسٹی میں 16 جنوری 2012 کو شعبہ الہیات اسلامی کا افتتاح ہوگا اس شعبہ کی افتتاحی تقریب میں جرمنی کے وزیر تعلیم اور مسیحیوں کا ایک نمائندہ خطاب کریں گے اس شعبہ میں آئندہ سال ہی الہیات اسلامی کی تعلیم دی جائے گی اور آئندہ سال الہیات اسلامی کی کلاسوں میں 13 طلباء اور 23 طالبات شرکت کریں گی.

یاد رہے کہ اس شعبہ کے انچارج علوم قرآن کے پروفیسر " عمر حمدان" ہوں گے۔

2011/12/22
علامہ ڈاکٹر محمد اقبال در امام حسین ...  

 

علامہ ڈاکٹر محمد اقبال در امام حسین

 علیہ السلام پر

 

شاعرِ اسلام علامہ محمد اقبال نے امام عالی مقام سیدنا امام حسین (ع) کی عظیم شہادت کی تاریخی حقیقت کو انتہائی خوبصورت پیرائے میں بیان کیا ہے۔ ذیل میں انکے فارسی کلام کو اردو ترجمہ کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔

 

چوں خلافت رشتہ از قرآں گسیخت

حّریت را  زہر اندر کام ریخت
جب خلافت نے قرآن پاک سے اپنا رشتہ توڑ لیا تو اس نے حریت کے حلق کے اندر زہر انڈیل دیا

خاست آں سر جلوۂ خیرالامم
چوں صحاب قبلہ باراں در قدم

یہ حالت دیکھ کر بہترین امت کا وہ بہترین جلوہ یوں اٹھا جیسے قبلہ کی جانب سے بارش سے بھرپور بادل

بر زمینِ کربلا بارید و  رفت
لالہ در ویرانہ ہا کارید و  رفت

یہ بادل کربلا کی زمین پر برسا، اس ویرانہ میں گلہائے لالہ اگائے اور آگے بڑھ گیا

تاقیامت قطع استبداد کرد
موج خونِ او چمن ایجاد کرد

اس نے قیامت تک کے لئے استبداد کی جڑ کاٹ دی، اس کی موج سے ایک نیا چمن پیدا ہوا

بہر حق در خاک و خوں غلطیدہ است
پس بنائے لا الہ گرویدہ است

سیدنا امام حسین (ع) حق کی خاطر خاک و خون میں لوٹے، اس لئے وہ لا الہ کی بنیاد بن گئے

مدعا یش سلطنت بودے اگر
خود نکردے باچنیں ساماں سفر

اگر ان کا مقصود سلطنت حاصل کرنا ہوتا تو اتنے تھوڑے ساز و سامان(بچوں اور خواتین) کے ساتھ یہ سفر اختیار نہ کرتے‘‘

ماسوی اللہ را مسلماں بندہ نیست
پیش فرعونے سرش افگندہ نیست

مسلماں غیراللہ کا بندہ نہیں وہ کسی فرعون کے سامنے اپنا سر نہیں جھکاتا

خونِ او تفسیر ایں اسرار کرد
ملت خوابیدہ را  بیدار کرد

سیدنا امام حسین (ع)  کے خون نے اس راز کی تفسیر پیش کر دی اور (اپنے عمل سے) ملت خوابیدہ کو بیدار کر دیا

رمز قرآن از حسین آموختیم
ز آتشِ او شعلہ ہا اندوختیم

ہم نے قرآن پاک کے رموز سیدنا امام حسین (ع)  سے سیکھے ہیں، ان کی روشن کی ہوئی آگ سے ہم نے آزادی کے شعلے اکٹھے کئے ہیں

تارِ ما از زخمہ اش لرزاں ہنوز
تازہ از تکبیرِ او ایماں ہنوز

ہماری زندگی کا تار ابھی تک سیدنا امام حسین (ع) کے زخم سے لرزاں ہے

انہوں نے میدان کربلا میں جو تکبیر بلند کی تھی اس سے ہمارا  ایمان ابھی تک زندہ اور تروتازہ ہے

 

 

 

 

2011/11/28
...  

 

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے

 

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

 

 

2011/11/22
تمام وسائل کو بروی کار لاکر امت مسلمہ کو طاقتور بنائيں ...  

 

تمام وسائل کو بروی کار لاکر امت مسلمہ کو طاقتور بنائيں

(اداریہ)

امت مسلمہ کے مکار دشمن، سامراجیت، تسلط پسندی اور جارحیت کے مراکز چلانے والی قوتیں ہیں جو اسلامی بیداری کو اپنے غیر قانونی مفادات اور عالم اسلام پر اپنے ظالمانہ تسلط کے لئے بہت بڑی اڑچن تصور کرتی ہیں۔ تمام مسلم اقوام اور خاص طور پر ان کے سیاستدانوں، قومی رہنماؤں اور علما و دانشوروں کو چاہئے کہ جارح دشمن کے مقابلے میں مسلمانوں کا مضبوط محاذ قائم کریں۔ تمام وسائل کو بروی کار لاکر امت مسلمہ کو طاقتور بنائيں۔ علم و دانش، تدبیر و تدبر، فرض شناسی و احساس ذمہ داری، اللہ تعالی کے وعدوں پر توکل اور یقین، رضای پروردگار کے پیش نظر بے ارزش دنیاوی خواہشات سے چشم پوشی اور فرائض کی تکمیل امت مسلمہ کی تقویت کے بنیادی عناصر ہیں جن کے ذریعے اسے عزت و وقار، خود مختاری و آزادی اور مادی و معنوی پیشرفت حاصل ہو سکتی ہے اور مسلم ممالک میں دشمن کے تسلط پسندانہ اقدامات کا سد باب کیا جا سکتا ہے۔ 

موجودہ صورت حال کے دو بنیادی پہلو ہیں: ایک تو یہ کہ دنیا میں اسلامی تشخص اور طرز فکر، خاص توقیر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور اسلام کو دنیا کی بڑی اہم اور عظیم حقیقت کے طور پر مرکز توجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسرا اہم پہلو یہ کہ دنیا کی تسلط پسند طاقتیں اسلام سے اپنی دشمنی کا برملا اظہار کر رہی ہیں اور امریکہ نے تو کمیونزم کے خاتمے کےبعد دنیا کے لئے جس جدید نظام کا خاکہ تیار کیا ہے اس میں ایک اہم ترین باب اسلام سے مقابلے اور اسلام کی روز افزوں ترقی و ترویج کو روکنے سے مختص کیا گيا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ گزشتہ ایک دو عشروں میں مسلمانوں نے عالم اسلام کے مشرق و مغرب ہی نہیں بلکہ غیر مسلم ممالک میں بھی بہت اہم وسیع تحریک شروع کی ہے جسے اسلام کے احیاء کی تحریک کا نام دیا جا سکتا ہے۔ علم و دانش کے زیور سے آراستہ آج کی نوجوان نسل سامراجی طاقتوں کی توقعات کے بر خلاف نہ صرف یہ کہ اسلام کو فراموش نہیں کر رہی ہے بلکہ ایمانی جذبے کے ساتھ، جو انسانی علوم کی پیش رفت کے نتیجے میں اور بھی آبدار اور درخشاں ہو گیا ہے، اپنا گمشدہ خزانہ تلاش کر رہی ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد یہ  انقلاب روز بروز قوی تر ہو رہا ہے اور  اسلامی نظام کی تشکیل نوجوان نسل کی اس مضبوط تحریک کا نقطہ کمال ہے اور اسلامی بیداری کو عالمی سطح پر پھیلانے میں اس واقعے کا بڑا کردار رہا ہے۔ اس چیز کو محسوس کرتے ہوئے سامراجی طاقتوں نے جو ہمیشہ اپنے اوپر مذہبی آزادی کی حمایت کا خول چڑھائے رہتی تھیں اسلام کے خلاف اپنے تمام وسائل اور لاو لشکر کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئیں۔ 

سامراجی طاقتیں امت مسلمہ کی بیداری کی مسلسل پھیلتی لہر کو روکنے کے لئے، جسے وہ اپنے ناجائز اہداف کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتی ہیں، جس حربے کا بہت زیادہ استعمال کرتی ہیں وہ نفسیاتی جنگ ہے۔ مایوسی اور نا امیدی پھیلانا، تحقیر اور اپنی طاقت کی حد سے زیادہ نمائش اسی طرح دیگر ہزاروں نفسیاتی حربے آج استعمال ہو رہے ہیں اور آئندہ استعمال کئے جائیں گے تاکہ مسلمانوں کو ان کے تابناک مستقبل سے ناامید کرکے اس مستقبل کی سمت بڑھنے پر مجبور کر دیا جائے جو ان طاقتوں کے شوم مقاصد کے مطابق ہو۔ سامراج کے آغاز سے اب تک نفسیاتی جنگ اور ثقافتی یلغار مسلم ممالک پر سامراج کے غلبے کا سب سے موثر ترین حربہ رہا ہے۔ آج بھی عالمی سطح کی جدید تشہیراتی مہم سامراج کا سب سے موثر حربہ ہے۔ ریڈیو اور ٹی وی کی نشریات اور اخبارات و جرائد جن کی بنیادی سرگرمیاں اسلام دشمنی پر مرکوز ہیں بے شمار ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بکے ہوئے ماہرین گمراہ کن خبریں اور تجزئے تیار کرنے میں مصروف ہیں تاکہ اسلامی تحریک اور عظیم اسلامی ہستیوں کی شبیہ خراب کی جا سکے۔ دوسری جانب اسلامی جمہوریہ ایران ہے جو تحریک انقلاب کے آغاز سے اب تک بلا وقفہ ان معاندانہ تشہیراتی اقدامات کا سامنا کر رہا ہے۔ 

انسانی معاشرے دو طرف سے نشانہ بنتے ہیں۔ ایک تو اندرونی مسائل کی یلغار ان پر ہوتی ہے جو نتیجہ ہوتے ہیں انسانی کمزوریوں، شکوک و شبہات، عقیدے کی خرابی، اغیار کے مقابلے میں احساس کمتری کا، جو نتیجہ ہوتے ہیں خود فراموشی، اللہ تعالی سے غفلت، دنیا پرستوں کے سامنے خود سپردگی، اپنے بھائیوں سے بدگمانی، ان کے بارے میں دشمنوں کی باتوں پر بھروسے اور اطمینان، مسلم امہ کے مستقبل کے سلسلے میں احساس ذمہ داری کے فقدان اور امت مسلمہ کی اجتماعی اہمیت سے عدم واقفیت کا، جو نتیجہ ہوتے ہیں دیگر اسلامی ممالک کے حالات سے بے خبری، اسلام و مسلمین کے خلاف دشمن کی سازشوں سے لا علمی، فرقہ پرستی، انتہا پسندانہ قومی جذبے جس کی ترویج کے لئے عموما گمراہ علما اور بکے ہوئے قلم استعمال کئے جاتے ہیں، اور اسی طرح دیگر مہلک بیماریوں کا جو مسلمانوں کی تقدیر اور سیاسی مستقبل پر نا اہل افراد کا غلبہ ہو جانے کے نتیجے میں مسلمانوں کو نقصان پہنچاتی رہی ہیں۔ یہ بیماریاں گزشتہ صدیوں میں خطے میں اغیار کی موجودگی کے باعث اور دنیا پرست اور بکے ہوئے افراد کے ہاتھوں بڑی بھیانک اور تباہ کن صورت حال اختیار کر چکی ہیں۔ 

دوسری طرف بیرونی دشمنوں کی یلغار ہوتی ہے جو ظلم و استبداد، تسلط پسندی و جارحیت اور دشمنی و عناد کے تحت انسانی زندگی کی فضا کو مکدر اور انسانی معاشروں کے لئے عرصہ حیات تنگ کر دیتے ہیں اور ظلم و ستم، جنگ و جدل اور زور زبردستی کے ذریعے ان کی زندگی اجیرن کر دیتے ہیں۔ اسلامی علاقے کے افراد اور قومیں بھی ہمیشہ انہیں دو خطروں سے دوچار رہی ہیں اور آج یہ خطرات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ مسلم ممالک میں سازش کے تحت بد عنوانیوں کی ترویج، مغربی ثقافت کا پرچار جس میں بعض بے ضمیر حکومتیں بھی مدد کر رہی ہیں اور جس کی زد پر انفرادی زندگی سے لےکر شہر کی ساخت، اخبارات اور اجتماعی طرز زندگی سب ہیں، یہ ایک طرف اور دوسری جانب لبنان، فلسطین، عراق اور افغانستان میں قتل عام فوجی، سیاسی اور اقتصادی دباؤ مسلم امہ کو لاحق ان دونوں خطرات کی واضح مثالیں ہیں۔

تو ایسے حالات میں تمام مسلم اقوام اور خاص طور پر ان کے سیاستدانوں، قومی رہنماؤں اور علما و دانشوروں کو چاہئے کہ جارح دشمن کے مقابلے میں مسلمانوں کا مضبوط محاذ قائم کریں۔ تمام وسائل کو بروی کار لاکر امت مسلمہ کو طاقتور بنائيں۔

2011/11/22
سرمایہ دارانہ نظام ...  

 

سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف بغاوت کی لہر

 

 از:سید علی

 

اس وقت ایک عادلانہ نظام کا خلا ہے۔ سوشلزم اقور اشتراکیت اپنی موت مر چکی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام بھی آخری ہچکی لے رہا ہے۔ اب جو خلا ہوگا اس کو صرف اسلام کا عادلانہ نظام ہی پُر کر سکتا ہے۔

امریکہ کے سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج ایشیا، افریقہ اور پوروپ تک پھیل گیا ہے۔ ہر جگہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان خونریز جھڑپیں ہورہی ہیں اور بڑی تعداد میں مظاہرین کی گرفتاری عمل میں آرہی ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو تحریک کے تحت امریکہ سے شروع ہونے والا مظاہرہ دنیا کے مختلف ملکوں میں پھیل گیا ہے۔
 ان مظاہروں میں شریک افراد میں اکثریت نوجوانوں کی ہے۔ یہ لوگ سرمایہ دارانہ نظام، غربت، عدم مساوات ، نسلی امتیاز ، جوہری توانائی سمیت دیگر خرابیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام اور کارپوریٹ گھرانوں کے خلاف بغاوت کی لہر سڈنی ، میکسیکو، چلی، ارجنٹینا، ایتھنز ، برلن ، ٹوکیو اور ہانگ کانگ تک پھیل گئی ہے۔ کنیڈا میں بھی کارپوریٹس کے خلاف مظاہرہ ہورہا ہے۔ ملائیشیا کے لوگ بھی سرمایہ دارانہ استعماریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔ ہسپانیہ کے شہر میڈرڈ اور پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں بھی مظاہرے ہورہے ہیں ۔ 

مبصرین کے مطابق نیویارک سے شروع ہونے والے مظاہروں میں دن بدن شدت آتی جارہی ہے۔ اس وقت امریکہ کے بشمول ۸۲ ممالک میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں۔ ان تمام مظاہرین کا ایک ہی نعرہ ہے ’’ ہم عالمی تبدیلی چاہتے ہیں۔‘‘ اس وقت مظاہرین کا اصل نشانہ امریکہ ہے جو سرمایہ دارانہ استعماریت کا امام ہے، جس نے اپنی ناپاک پالیسی سے ساری دنیا کے امن و امان اور سلامتی کو زبردست نقصان پہنچایا ہے بلکہ امریکی معیشت کو بھی تباہ کردیا ہے۔ معاشی ناہمواری، عدم مساوات اور جنگ و جدل نے امریکہ کو بربادی کی کگار پر پہنچا دیا ہے اور بھکاریوں کی صف میں لا کھڑا کردیا ہے۔  بینکوں میں لوٹ کھسوٹ ، بے روزگاری، بد عنوانی اور سماجی نا برابری سے عام لوگوں کے صبر کا پیمانہ چھلک اٹھا ہے۔ اس وقت امریکہ اپنی سترکی دہائی کی تاریخ کو دہرا رہا ہے جب امریکی نوجوانوں نے 1968 میں ویت نام جنگ کے خلاف احتجاج کر کے اس وقت کے صدر لنڈن بی جائسن کو دوسری مرتبہ صدارتی انتخابات سے دستبردار ہونے اور ویت نام کی جنگ ختم کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ 
اسی طرح اب ایک بار پھر متوسط اور محنت کش طبقات کے افراد امریکہ کی افغانستان اور عراق کی جنگ کے نتیجے میں زوال پذیر معیشت سے پیدا ہونے والی کساد بازاری اور بے روزگاری پر بلبلا کر سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور اپنے تمام مصائب کا ذمہ دار معیشت پر سود خور یہودی اور صہیونی ساہوکاروں کے تسلط کو ٹھہرا رہے ہیں۔ اوبامہ نے دیوالیہ ہوتے ہوئے یہودی بینک کاروں، بڑی بڑی کمپنیوں بشمول جنرل لوٹرز اور فورڈ کو بچانے کے لئے 787 ارب ڈالر کی امدادی رقم فراہم کر دی لیکن کساد بازاری کے شکار لکھوکھا امریکی شہریوں کو بے سہارا چھوڑ دیا۔ رہن رکھنے والی کمپنیوں نے اپنے قرضداروں کے مکانات جن کی قسط وار خریداری کے لئے انہیں قرض دیا تھا فرق کر اکر انہیں بے دخل کردیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نہ ان کے پیروں تلے زمین رہی نہ سرون پر چھت۔ کہنے کو تو امریکہ میں فلاحی نظام رائج ہے لیکن وہ نہ ان بے گھر افراد کی کفالت کر سکا نہ انہیں آباد کرسکا۔ 

اوبامہ کی فراہم کر دہ رقم سے جنرل لوٹر کمپنی اور دوسرے دیوالیہ بینک ڈوبنے سے تو بچ گئے لیکن ان کا نزلہ ان کے ملازمین کی چھٹنی کی شکل میں گرا۔ امریکی عوام یہ دیکھتے رہے کہ امریکی جنگجو جنرلوں کو افغانستان اور عراق جنگ کے لئے 3 کھرب ڈالر دے دئیے گئے لیکن اس ملک کے متوسط اور محنت کش طبقے کو بے روزگاری سے بچانے کے لئے بس اتنی امداد دی گئی جسے اونٹ کے منہ میں زیرہ کہا جاتا ہے۔ اگر کساد بازاری سے صرف ایک طبقہ متاثر ہوتا تو شاید صورت حال پر کسی نہ کسی طرح قابو پایا جاسکتا تھا لیکن امریکہ کی معاشی شہ رگ وال اسٹریٹ پر قبضہ سے تحریک کی صدائے باز گشت پورے امریکہ بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک تک سنی جاسکتی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام میں سانس لینے والے مظاہرین جب یہ کہتے ہیں کہ محنت کشوں کی تعداد 90 فیصد ہے جو اپنے خون پسینے سے سرمایہ پیدا کرتے ہیں لیکن انہیں بنیادی ضرورت سے محروم کیا جاتا ہے اور اس کے برعکس بد عنوانی کے باعث دیوالیہ ہونے والے بنکوں کو سنبھالا دیا جاتا ہے۔ 
امریکہ میں طبقاتی کشمکش نے اتنی شدت اختیار کر لی ہے کہ اس سے خانہ جنگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ کہاں ہیں امریکہ کے وہ ڈھنڈورچی جو کہتے ہیں کہ اس کی طاقت لازوال ہے، اس کی تہذیب بے مثال ہے، اس کی معیشت نہایت ہی مستحکم ہے۔ کسی نے سچ کہا کہ امریکہ کا سرمایہ دارانہ نظام اب دم توڑ رہا ہے اور پیوندکاری اور رفو گری کے باوجود جگہ جگہ سے پھٹتا جارہا ہے۔ اوبامہ مسلم معاشروں پر پھبتی کستے ہیں کہ وہاں غربت کے باعث انتہا پسندی جنم لے رہی ہے لیکن خود امریکہ کس عذاب میں مبتلا ہے اور وہاں غربت اور بے روزگاری کا کیا حال ہے اوبامہ کی بولتی بند ہوگئی ہے۔ امریکہ نے اپنے معاشرے میں طبقاتی استحصال سے توجہ ہٹانے کے لئے بیسویں صدی کے چار عشروں تک ان کے سامنے سوویت یونین کا ہوا کھڑا کئے رکھا۔سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد اسے نئے دشمن کی تلاش ہوئی۔ اس نے اسلام کو دشمن چن لیا اور اسلامی بنیاد پرستی، انتہا پسندی، عسکریت پسندی اور دہشت گردی کا وظیفہ پڑھنے لگا اور اس کو مغربی تہذیب کے لئے خطرہ قرار دے کر اپنے عوام کو جنون اور خوف میں مبتلا کردیا۔ اسلام اور اسلامی تحریک کے خلاف باقاعدہ جنگ چھیڑنے اور عوام کو ہذیان میں مبتلا کرنے کے لئے امریکہ نے صیہونی نسل پرستی سے مل کر 11/9کا ڈرامہ رچایا۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے انہدام کو بنیاد بنا کر امریکہ کے آدم خور حکمرانوں اور جنرلوں نے افغانستان کے(خود ساختہ) طالبان اور القاعدہ کو 11/9  کا بے ثبوت ملزم ٹھہرا کر اس بہانے سے ملک کے قدرتی وسائل کو لوٹنے کے لئے منصوبہ بند حملہ کر دیا۔ ان قزاقوں اور لٹیروں کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ یہ اقدام سامراجی استعماریت کی موت ثابت ہوگی۔ امریکہ آج جس معاشی بحران کا شکار ہے اس کی ایک بڑی وجہ جنگی اخراجات ہیں۔
 گذشتہ دس برسوں میں اس یکطرفہ جنگ میں 1280 بلین ڈالر خرچ ہوگئے ۔ جس حکومت کے پاس اپنے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لئے وسائل نہیں، جس ملک کا رواں رواں قرض کے بوجھ تلے دبا ہو آخر اس بے جوا زجنگ کا جاری رکھنا سوائے جنگی جنون کے کیا ہے؟ امریکہ انتظامیہ نے یہ جنگ دو محاذوں پر لڑی۔ ایک محاذ پر گولی، گولے، ٹینک، توپ اور میزائل تھے، دوسرے محاذ پر میڈیا اور پروپیگنڈہ ۔ ایک حملہ کا رخ مسلم دنیا کی طرف تھا، دوسرے کا رخ اپنے عوام کی طرف جن کو دھوکہ دیا جارہا تھا۔ اب بعد از خرابیٔ بسیار امریکی عوام کی آنکھیں بھی کھل گئیں اور دنیا کے ان نوجوانوں کی بھی جو امریکہ کے طلسم کے اسیر تھے۔

آج دنیا بھر کے لئے سیاسی آزادی، جمہوریت ، معاشی استحکام، امن و انصاف اور مساوات کا ٹھیکیدار امریکہ اپنے بوئے ہوئے کانٹوں کی کاشت کاٹنے پر مجبور ہے۔ اس نے نہ دنیا کو دھوکہ دیا اور اسلامی ملکوں کو لوٹا بلکہ اپنے شہریوں کے ساتھ غداری کی، ان کو شراب و شباب کا رسیا بنا کر اور عیاشی کا افیون کھلا کر مفلوج بنا دیا اور ان کی روٹی، امن، سکون کو جنگ کے شعلوں میں جلا ڈالا۔ امریکہ نے جو پالیسی اختیار کی ہے اس کا نتیجہ ہے کہ آج ماحولیاتی توازن میں بگاڑ، مشینوں کے مسائل، بیماریوں اور موسم کی حدت کی روز افزونی سے انسان کراہ رہا ہے اور عام شہری بدعنوانی، سماجی نابرابری، بے روزگاری اور جنگی جنون کی تابکاری سے اکتا کر بغاوت پر اتر آئے ہیں۔ سڑکوں پر نعرے لگا رہے ہے شہروں شہروں تبدیلی کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔

 یہ عوامی بغاوت دراصل سرمایہ دارانہ استعماریت کے خلاف ہے جسے عوام مسترد کررہے ہیں۔ نئے نظام کے طلبگار ہیں جو انہیں امن، انصاف، مساوات، روزگار اور وقار دے سکے۔ اگرچہ سرمایہ دارانہ نظام کو بظاہر ایسا فوری خطرہ نہیں ہے کہ اس کی بساط لپیٹ دی جائے اور دوسرا نامعلوم نظام لے آیا جائے لیکن بہر حال سرمایہ دارانہ نظام کے زوال کا آغاز ہوگیا ہے۔ اس کی عمارت بھی کسی وقت اسی طرح دھڑام سے زمین بوس ہوسکتی ہے جس طرح منٹوں میں طلسماتی طور پر امریکہ کا وقار ورلڈ ٹریڈ سینٹر مٹ گیا۔

اس وقت ایک عادلانہ نظام کا خلا ہے۔ سوشلزم اقور اشتراکیت اپنی موت مر چکی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام بھی آخری ہچکی لے رہا ہے۔ اب جو خلا ہوگا اس کو صرف اسلام کا عادلانہ نظام ہی پُر کر سکتا ہے۔

 

2011/11/22
کرنل قذافی کا مختصر تعارف ...  

 

کرنل قذافی کا مختصر تعارف

 

 

لیبیا؛ جغرافیہ اور آبادی

 لیبیا شمالی افریقی ملک ہے جو بحیرہ روم کے جنوبی ساحل پر واقع ہے اور جیوپولیٹیکل حوالے سے مشرق وسطی کو "مغرب عربی" سے متصل کرتا ہے اور یورپ کے لئے افریقہ میں داخلے کا راستہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ملک مشرق میں مصر، مغرب میں تیونس اور الجزائر، جنوب میں سوڈان، چاڈ اور نیجر کا پڑوسی ہے۔ رقبہ سترہ لاکھ پچھتر ہزار کیلومیٹر مربع ہے اور یہ ملک رقبے کے لحاظ سے افریقہ کا چوتھا بڑا ملک مانا جاتا ہے اور بحیرہ روم میں اس کے ساحل کی لمبائی 1800 کیلومیٹر ہے۔ قذافی کی حاکمیت کے بعد اس کا سرکاری نام گریٹ لیبین سوشلسٹ پیپلز  ریپبلکس (الجماهيرية العربية الليبية الشعبية الاشتراكية العظمى = Great Libyan Socialist People's Arab Republics) رکھا گیا۔ اس ملک کی آبادی ساٹھ لاکھ کے لگ بھگ ہے؛ 97٪ لیبیائی مسلمان ہیں اور ملک کا سرکاری مذہب سنی مالکی ہے جبکہ سرکاری زبان عربی ہے۔

قذافی سرت 1946 کو سرت شہر کے قریب جہنم نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان خانہ بدوش تھا چنانچہ وہ آخری دم تک خانہ بدوشی کے رہے اور ان کا خیمہ ہر وقت بپا رہتا تھا اور بیرونی مہمانوں کو بھی اسی خیمے میں بلواتے اور ان سے ملاقات کرتے اور وہیں ان کی پذیرائی کرتے تھے۔

امریکہ  اور یورپ میں فوجی تعلیم حاصل کی اور 1969 کو مصر کے جمال عبدالناصر کی پیروی کرتے ہوئے بادشاہ "ملک ادریس" کا تختہ الٹ دیا اور ملک میں ایک مطلق العنان حکومت قائم کردی اور اس کو وہم تھا کہ عوام اس کی پوجا کررہے ہیں۔ یوں اس نے 42 برس تک حکومت کی اور حال ہی میں20 اکتوبر 2011  کو ایک عوامی انقلاب میں نہ فقط اس کی آمرانہ حکومت کا خاتمہ ہوا بلکہ آخری جھڑپ میں مارا بھی گیا اور لیبیا کے عوام نے اس کی ہلاکت پر جشن منایا اور اسطرح  بیسویں صدی کی ایک طویل ترین آمریت کا زوال تاریخ کے صفحات پر ثبت ہوگیا۔

قذافی کے خلاف پر امن انقلاب شروع ہوا جس کو اس نے فوجی طاقت کا بے تحاشا استعمال کرکے کچلنا چاہا اور یوں فوج میں بھی بغاوت ہوئی اور گذشتہ 42 برسوں کے دوران اس کے ہاتھوں زخم کھانے والے عوام نے بھی مخالف جنگجوؤں کا ساتھ دیا لیکن مغرب نے ان کی مدد نہیں کی لیکن جب انقلابی قوتوں کی ناکامی یقینی ہوگئی تو انھوں نے اپنا ہاتھ نیٹو کے سامنے پھیلادیا اور یوں جنگ مزید وسیع ہوگئی اور کہا جاتا ہے کہ اس جنگ میں چالیس ہزار کے قریب لوگوں کا قتل عام ہوا۔

قذافی نے ابتداء میں القاعدہ کو اپنے خلاف جنگ کا ملزم ٹہرایا تا کہ مغرب کی حمایت حاصل کرسکے لیکن مغرب نے اس کی زبانی کلامی حمایت پر اکتفا کیا اور جب ان کی کمزوری نظر آہی گئی اور مغرب کو یقین ہوگیا کہ اب آمر اس کے مفادات کا تحفظ نہیں کرسکے گا اور ادھر عبوری کونسل نے فرانس، اٹلی اور امریکہ کو ضمانتیں دیں تو مغرب نے بظاہر انقلابیوں کی حمایت کردی اور نیٹو کا حملہ شروع ہوا۔ قذافی کو زوال کے مرحلے تک پہنچانے کے لئے انقلابیوں کو طویل جنگ لڑنی پڑی جو 2011 کے آغاز سے شروع ہوکر 20 اکتوبر تک جاری رہی۔ قذافی ملک کے تمام امور کا مالک تھا اور حتی کہ صنعت و تجارت پر بھی اس کا قبضہ تھا اور اس نے ایک قانون لکھا تھا جو ایک سبز رنگ کی کتاب میں لکھا ہوا تھا۔  قذافی کے دور میں ب‍ظاہر حکومت عوام کے ہاتھ میں تھی اور مقامی انقلابی کونسلیں ملک کے معاملات چلا رہی تھی لیکن عمل میں تمام فیصلے قذافی کے ہاتھ میں تھے اور ملکی مال و دولت اسی کے کنٹرول میں تھی۔

قذافی کے مخالفین اس کی مطلق العنانیت، قبائلیت، لوٹ مار، غربت، تہذیبی پسماندگی، حکومت میں شراکتداری سے عوامی کی محرومیت اور حکام کی بدعنوانی سے نالاں تھے۔ مثال کے طور پر لیبیا کی پوری آبادی ساٹھ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور اس ملک کی گذشتہ سال کی تیل کی آمدنی 32 ارب ڈالر تھی لیکن اس چھوٹی آبادی میں بے روزگاری کی شرح 30 فیصد تھی۔ ملک میں نجی شعبہ مفلوج تھا اور حکومت سب کو روزگار نہیں دے سکتی تھی اور نہیں دے رہی تھی چنانچہ بے روزگاروں کی فوج کو بھی اس نظام حکومت کی بقاء میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

قذافی نے ملک میں جوہری پروگرام شروع کررکھا تھا اور مغرب اس بات پر بھی ناراض تھا اور لاکربی طیارہ دھماکہ کیس میں بھی مغرب کی جانب سے اس کو سخت دباؤ کا سامنا تھا چنانچہ اس کے بیٹے سیف الاسلام نے امریکہ اور یورپ میں اپنے ذاتی تعلقات کی بنا پر اپنے والد اور مغرب کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا اور 2003 میں جبکہ امریکہ نے افغانستان اور عراق پر قبضہ کرلیا تھا قذافی نے اعلان کیا کہ وہ اجتماعی قتل کے ہتھیار بنانے کا پروگرام ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے بعد اس نے جوہری تنصیبات کی تمامتر مشینری بحری جہازوں پر لاد کر امریکہ کے حوالے کردیا اور لاکربی کیس میں ہلاک شدگان کے پسماندگان کو اربوں ڈالر کا معاوضہ ادا کیا اور یوں امریکہ اور یورپ کے ساتھ اس کے تعلقات میں بہتری آئی لیکن 2005 میں عوام نے بنغازی میں اپنے جائز مطالبات کے لئے مظاہرے کئے تو قذافی نے انہیں بری طرح کچل دیا اور یوں عوام کے ساتھ اس کے تعلقات بہت خراب ہوئے اور قذافی مغربی دنیا کا دوست اور اپنے عوام کا دشمن بنا اور ایک طرف سے عوام کی غربت اور محرومیت بڑھی تو دوسری طرف سے تیل کی مغربی کمپنیاں لیبیا میں آباد ہوگئیں۔

یہ ساری صورت حال بہرحال عوامی انقلاب پر منتج ہوئی اور انقلابی تحریک بنغازی سے شروع ہوئی۔

 

انقلابی تحریک کی ڈائری اور اہم واقعات

انقلاب بنغازی سے شروع ہوا وہیں سے جہاں قذافی نے 2005 میں عوام کا قتل عام کیا تھا وہاں کے عوام ابتداء سے قذافی سے بدظن تھے اور قذافی کو بھی اس شہر پر کوئی اعتماد نہیں تھا چنانچہ اس شہر میں سروسز بھی کمزور تھیں اور قذافی اس شہر کی ترقی سے بھی غافل تھا۔

15 فروری 2011: عوامی احتجاج کی لہریں تیونس اور مصر سے لیبیا میں بھی سرایت کرگئیں۔ قذافی کے حامیوں نے بنغازی میں عوام پر حملے کئے اور بے شمار افراد زخمی ہوئے۔ ملک میں خونریز لڑائی کا امکان واضح ہے۔

25 فروری 2011: قذافی کی فورسز کو بنغازی سے پیچھے دھکیل دیا گیا اور یہ شہر مخالفین کا اصلی مرکز بن گیا۔ امریکہ نے لیبیا پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا۔

27 فروری 2011: اپوزیشن نے بنغازی میں "عبوری قومی کونسل" تشکیل دی جبکہ اب تک ہزاروں افراد قذافی کی افواج اور اس کے کرائے کے بیرونی ایجنٹوں کے ہاتھوں قتل ہوچکے ہیں، ہزاروں دیگر زخمی ہیں اور مختلف شہروں میں گھمسان کی لڑائی ہورہی ہے۔

 

2 مارچ 2011: قذافی کے جنگی طیاروں نے لیبیا کے مشرق میں مخالفین کے ٹھکانوں پر بمباری کی اور عبوری قومی کونسل نے عالمی برادری سے درخواست کی کہ وہ لیبیا کو نوفلائی زون قرار دے۔

17 مارچ 2011: اقوام متحدہ نے امریکہ اور یورپ کے کہنے پر لیبیا کی فضاؤں کو نو فلائی زون قرار دینے کی قرارداد منظور کرلی اور قذافی نے دھمکی دی کہ وہ مخالفین کو کچلنے کے لئے پوری طاقت استعمال کرے گا اور خون کا حمام گرم کرے گا۔

18 مارچ 2011: قذافی گویا انقلابیوں کے مقابلے میں کمزور پڑ گیا ہے چنانچہ اس نے جنگ بندی کی تجویز پیش کی لیکن عوام کا کہنا ہے کہ قذافی کا اعلان ایک فریب ہے اور عوام کا قتل عام جاری ہے۔

19 مارچ 2011: نوفلائی زون کو زبردستی نافذ کرنے کی تجویز بھی سلامتی کونسل نے منظور کرلی اور نیٹو کے طیارے بنغازی کی فضاؤں میں دکھائی دینے لگے۔

21 اگست 2011: قذافی نے اپنے حامیوں کو خون کے آخری قطرے تک لڑنے کی دعوت دی؛ طرابلس میں شدید لڑائی جاری ہے اور قذافی کے مخالفین نے گرین اسکوائر پر قذافی کی سرنگونی کا جشن منایا قذافی روپوش ہوگیا۔

24 اگست 2011: دارالحکومت طرابلس اور دوسرے علاقوں میں گھمسان کی لڑائی، عبوری کونسل نے اعلان کیا کہ عام انتخابات قذافی کے زوال کے آٹھ مہینے بعد ہونگے۔

25 اگست 2001: عبوری حکومت کے اولین وزراء طرابلس میں، عوام نے زبردست استقبال کیا۔ برطانوی فوج کا ایک اسپیشل گروپ قذافی اور اس کے بیٹوں کی تلاش میں۔

۲۹ اگست 2011: قذافی کی بیوی صوفیا اور بیٹے هنی بال اور محمد نیز بیٹی عائشہ الجزائر فرار ہوگئے۔

8 ستمبر 2011: کہا گیا تھا کہ قذافی نیجر فرار ہوگیا ہے لیکن اس نے آڈیو پیغام میں اعلان کیا کہ وہ ابھی تک لیبیا میں ہے لیکن اس کے باوجود بعض اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ قذافی حکومت کے سینئر حکام گاڑیوں کے ایک بڑے قافلے میں لیبیا سے خارج ہوگئے ہيں۔

12 ستمبر 2011: قذافی کا بیٹا الساعدی نیجر فرار ہوگیا ہے۔

13 ستمبر 2011: عبوری کونسل کے سربراہ مصطفی عبدالجلیل نے طرابلس میں اس کونسل کے حامیوں کے اجتما‏ع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا میں ایک اعتدال پسند اسلامی حکومت قائم ہونی چاہئے۔ انھوں نے ایسی حکومت کے قیام کے لئے ترکی کی موجودہ حکومت کو نمونے کے طور پر پیش کیا۔

15 ستمبر 2011: فرانسیسی صدر نیکولا سرکوزی اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے پہلے مغربی حکام کے طور پر طرابلس کا دورہ کیا۔ یہ دو افراد لیبیا میں فوجی مداخلت اور نیٹو کے حملوں کے اہم ترین حامی تھے۔

16 ستمبر 2011: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس اسمبلی میں لیبیا کی عبوری کونسل کی رکنیت کی ضمانت فراہم کردی اور اس کے ساتھ ساتھ لیبیائی انقلابیوں نے آمر کے آخری اڈوں پر حملوں کا آغاز کردیا ہے۔

22 ستمبر 2011: عبوری کونسل کی افواج نے تمام راستوں اور وادیوں پر قبضہ کرکے صحراؤں اور وادیوں کے راستے قذافی کے نکل بھاگنے کے تمام راستے بند کردیئے تا کہ وہ کسی صورت میں بھی پڑوسی افریقی ممالک میں داخل نہ ہوسکے۔

28 ستمبر 2011: کہا جاتا ہے کہ قذافی لیبیا، الجزائر اور تیونس کے مشترکہ سرحدی علاقوں میں دکھائی دیا ہے لیکن اس نے شام کے الرأی ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے پیغام میں کہا ہے کہ لیبیا میں رہنے کو ترجیح دیتا ہے اور اپنے ملک میں مرنا چاہتا ہے۔

17 اکتوبر 2011: قومی عبوری کونسل کی فورسز نے بنی ولید شہر پر قبضہ کرلیا اور یوں قذافی کے آبائی شہر "سرت" کا صرف ایک حصہ اس کے وفاداروں کے پاس رہ گیا۔

20 اکتوبر 2011: شدید مسلحانہ جھڑپوں کے بعد قذافی کے کافی سارے وفادار فوجی مزاحمت کو بے فائدہ پا کر بھاگ گئے ہيں اور بعض دوسرے گرفتار ہوچکے ہيں اور معمر قذافی گرفتار ہونے کے بعد ہلاک کیا گیا ہے۔

24 اکتوبر کو مصطفی عبدالجلیل نے اسلامی حکومت کے قیام کے لئے قرآن مجید کی بنیاد پر ملکی آئین کی تیاری کا اعلان کیا جبکہ قذافی اور اس کے بیٹے اور وزیر دفاع کی لاشیں عوام کے تماشے کے لئے مصراتہ رکھی گيیں اور بعد میں نا معلوم مقام پر  دفن کی گئیں۔ اس کی ہلاکت پر مصطفی عبدالجلیل نے کہا کہ وہ قذافی کی ہلاکت کے بارے میں تحقیقات کا حکم بھی دے چکے ہيں کیونکہ وہ اور لیبیا کے عوام قذافی کو قید کرنا چاہتے تھے اور اس کی موت پر وہ خوش نہیں ہیں جبکہ قذافی کے ساتھیوں اور بعض طاقتوں کو قذافی کی زندگی سے خطرہ تھا اور وہ ان کے راز فاش کرسکتا تھا چنانچہ انقلابی قوتیں قذافی کی قاتل نہیں ہیں اور تحقیقات سے ثابت ہوہی جائے گا کہ قذافی کو کس نے کیوں قتل کیا؟

ادھر مغربی بھیڑیئے امریکہ کی سربراہی میں دانت تیز کرکے بیٹھے ہيں اور  اور اس عوامی انقلاب کو اپنے شیطانی مقاصد کی طرف منحرف کرنے کے لئے سرگرم ہوگئے ہیں۔ لیکن یہ عوامی اور انقلابی رہنماوں کی ذمہ داری ہے کہ ان اپنےناپاک مقاصد میں کامیاب نہ ہونے دیں۔

...................

 

2011/11/22
مذہب کے نام پر دہشتگردی ...  

 

مذہب کے نام پر  دہشتگردی

 

 

امیر نواز خان

 

اس وقت دنیا کو سب سے بڑا درپیش چیلنج دہشت گردی ہے اس پر سب متفق ہیں۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اسلام میں دہشت گردی اور خودکش حملوں کی کوئی گنجائش نہیں اور طالبان اور القاعدہ دہشت گرد تنظیمیں ہولناک جرائم کے ذریعہ اسلام کے چہرے کو مسخ کررہی ہیں۔ برصغیرسمیت پُوری دنیا میں اسلام طاقت سے نہیں،بلکہ تبلیغ اور نیک سیرتی سے پھیلاجبکہ دہشت گرد طاقت کے ذریعے اسلام کا چہرہ مسخ کررہے ہیں۔قرآنی آیات، احادیث نبوی اور آئمہ کرام کے استدلال کی روشنی میں یہ بات واضح کی کہ بے گناہ و معصوم شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا اور ملکی و قومی املاک کو نقصان پہنچانا، مسجدون پر حملے کرنا اور نمازیون کو شہید کرنا ، سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، کسی بھی عذر، بہانے یا وجہ سے ایسے عمل کی اسلام ہر گز اجازت نہیں دیتا۔مزیدبرآں مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے۔ اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ طالبان کے اعمال اسلامی تعلیمات کے خلاف ہین اور یہ وہ گروہ ہین جو دائرہ اسلام سے اپنی غیر اسلامی حرکات کی وجہ سے خارج متصور ہونگے۔ طالبان کا یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزان ہو گیا ہے اور طالبان دائین بائین صرف مسلمانوں کو ہی مار رہے ہین۔اسلام خود کشی کو حرام قرار دیتا ہے جو کہ دہشت گردی کی ایک شکل ہے۔ یہ گمراہ گروہ اسلام کے نام پر خود کش حملہ آور کی فوج تیار کر رہا ہے۔اسلام دوسروں کی جان و مال کی حفاظت کا حکم دیتا ہے یہ دوسروں کا مال لوٹنے اور بے گناہوں کی جان سے کھیلنے کو ثواب کا نام دیتے ہیں۔اسلام خواتین کا احترام سکھاتا ہے یہ دہشت گرد ،عورتوں کو بھیڑ بکریوں سے بھی برا سمجھتے ہیں۔بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔کسی بھی انسا ن کی نا حق جان لینا اسلام میں حرام ہے۔ دہشت گردی قابل مذمت ہے، اس میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں یہ بھی مسلم ہے۔ اور نہ ہی کوئی مذہب اس کی اجازت دے سکتا ہے۔

ایک مُسلم معاشرے اور مُلک میں ایک مُسلمان دوسرے مُسلمان کی جان کا دُشمن ۔مُسلمانیت تو درکنار انسا نیت بھی اسکی متحمل نہیں ہو سکتی کہ کسی بھی بے گناہ کا خون کیا جائے۔

اللہ تعالہ فرماتے ہین:

’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘) المائدة، 5 : 32(

کہو، وہ (اللہ) اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کر دے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کر دے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔(سورۃ الانعام ۶۵)

وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہے اور الللہ نے اُسکے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔(سورۃ النساء۔۹۳)۔

 

طالبان اسلامی نظام نافذ کرنے کے داعی ہیں مگر اس مقصد کے حصول کے لئے وہ تمام کام برملا کر رہے ہیں جو قران و حدیث ،سنت نبوی اور اسلامی شرعیہ کے خلاف ہیں، لہذا ان کا اسلامی نظام نافذ کرنے کا دعوی انتہائی مشکوک اور ناقابل اعتبار ہے۔

جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہین۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ “دہشت گردی ہے جہاد نہیں”۔۔۔۔۔ایسا کرنے والاجہنمی ہے اور ان کے اس عمل کو جہاد کا نام نہیں‌دیا جاسکتا وطن عزیز میں کئی برسوں سے جاری واقعات کے تناظر میں یہ بات بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ اس نوع کی وارداتیں پاکستان اسلام کے خلاف گھناؤنی سازشوں کا حصہ ہیں اور ان کے منصوبہ ساز اسلام کا قلعہ کہلانے والے ملک پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے ہر طرح کے حربے استعمال کرنے پر تلے نظر آتے ہیں۔ اسی لئے ان کے ایجنڈے میں اہم مقامات اور تنصیبات کو نقصان پہنچانے، وطن عزیز کی دفاعی قوت پر ضرب لگانے، معیشت کو نقصان پہنچانے، معمولات زندگی کو خوف و دہشت کی نذر کرنے، عوام کو فرقہ وارانہ بنیاد پر لڑانے اور لسانی تعصبات کو ہوا دینے سمیت ہر وہ طریقہ شامل ہے جس سے وطن عزیز کو کمزور کیا جا سکے۔

(بشکریہ روزنامہ آج)

2011/11/22
مباہلہ ...  

 

مباہلہ

 

حضرت عيسى (ع) كے بارے ميں مناظرہ میں پيغمبراکرم (ص) کی جانب سے ٹھوس عقلی اور نقلی دلائل سننے کے باوجود  عیسائی اسلام کی حقانیت ماننے کے لئے تیار نہیں ہوۓ تو خداوند تعالی کی طرف سے مباہلے کے لئے یہ آیت نازل ہوئی:

 

فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ

خداوندعالم نے اپنے پيغمبراکرم (ص) كو حكم ديا ہے كہ ان واضح دلائل كے بعد بھى كوئي شخص تم سے حضرت عيسى (ع) كے بارے ميں گفتگو اور جھگڑا كرے تو اسے'مباھلہ'كى دعوت دو اور كہو كہ وہ اپنے بچوں،عورتوں اور نفسو ںكو لے آئے اور تم بھى اپنے بچوںكو عورتوں اور نفسں كو بلا لو پھر دعا كرو تاكہ خدا جھوٹوں كو رسوا كردے_

بغير كہے يہ بات واضح ہے جب كہ مباہلہ سے مراد يہ نہيں كہ طرفين جمع ہوں ،اور ايك دوسرے پر لعنت اور نفرين كريں اور پھر منتشر ہو جائيں كيونكہ يہ عمل تو نتيجہ خيز نہيں ہے_ بلكہ مراد يہ ہے كہ دعا او رنفرين عملى طور پر اپنا اثر ظاہر كرے اور جو جھوٹا ہو فوراً عذاب ميں گرفتار ہو جائے_

آيات ميں مباہلہ كا نتيجہ تو بيان نہيں كيا گيا ليكن چونكہ يہ طريقہ كار منطق و استدلال كے غير موثر ہونے پر اختيار كيا گيا تھا اس لئے يہ خود اس بات كى دليل ہے كہ مقصود صرف دعا نہ تھى بلكہ اس كا خاجى اثر پيش نظر تھا_

مباہلہ كا مسئلہ عرب ميں كبھى پيش نہيں آيا تھا،اور اس راستہ سے پيغمبر اكرم(ص) كو صدقت و ايمان كو اچھى سرح سمجھا جاسكتا تھا،كيسے ممكن ہے كہ جو شخص كامل ارتباط كے ساتھ خدا پر ايمان نہ ركھتا ہو وہ ايسے ميدان كى طرف آئے اور مخالفين كو دعوت دى كہ آئو اكھٹے درگاہ خدا ميں چليں،اس سے درخواست كريں اور دعا كريسيں كہ وہ جھوٹے كو رسو اكردے اور پھر يہ بھى كہے كہ تم عنقريب اس كا نتيجہ خودديكھ لو گے كہ خدا كس طرح جھوٹوں كو سزا ديتا ہے او رعذاب كرتا ہے_

يہ مسلم ہے كہ ايسے ميدان كا رخ كرنا بہت خطرناك معاملہ ہے كيونكہ اگر دعوت دينے والے كى دعا قبول نہ ہوئي اور مخالفين كو ملنے والى سزا كا اثر واضح نہ ہوا تو نتيجہ دعوت دينے والے كى رسوائي كے علاوہ كچھ نہ ہوگا_

كيسے ممكن ہے كہ ايك عقلمند اورسمجھ دار انسان نتيجے كے متعلق اطمينان كئے بغير اس مرحلے ميں قدم ركھے _ اسى لئے تو كہا جاتا ہے كہ پيغمبراكرم(ص) كى طرف سے دعوت مباھلہ اپنے نتائج سے قطع نظر،آپ (ص) كى دعوت كى صداقت اور ايمان كى دليل بھى ہے_

اسلامى روايات ميں ہے كہ'مباھلہ'كى دعوت دى گئي تو نجران كے عيسائيوں كے نمائندے پيغمبر اكرم(ص) كے پاس آئے اور آپ(ص) سے مہلت چاہى تا كہ اس بارے ميں سوچ بچار كرليں اور اس سلسلے ميں اپنے بزرگوں سے مشورہ كرليں_ مشورہ كى يہ بات ان كى نفسياتى حالت كى چغلى كھاتى ہے_

بہر حال مشورے كا نتيجہ يہ نكلا كہ عيسائيوں كے ما بين يہ طے پاياكہ اگر محمد(ص) شور وغل،مجمع اور دادوفريادكے ساتھ'مباھلہ'كے لئے آئيں تو ڈرا نہ جائے اورمباہلہ كرليا جائے كيونكہ اگر اس طرح آئيں تو پھر حقيقت كچھ بھى نہيں ،جب بھى شوروغل كا سہارا ليا جائے گا اور اگر وہ بہت محدود افراد كے ساتھ آئيں،بہت قريبى خواص اور چھوٹے بچوں كو لے كر وعدہ گاہ ميں پہنچيں تو پھر جان لينا چاہيے كہ وہ خدا كے پيغمبرہيں اور اس صورت ميں اس سے 'مباھلہ'كرنے سے پرہيز كرنا چاہيے كيونكہ اس صورت ميں معاملہ خطرناك ہے_

طے شدہ پروگرام كے مطابق عيسائي ميدان مباہلہ ميں پہنچے تو اچانك ديكھا كہ پيغمبر(ص) اپنے بيٹے حسين(ع) كو گود ميں لئے حسن(ع) كا ہاتھ پكڑے اور على (ع) اور فاطمہ(ع) كو ہمراہ لئے آپہنچے ہيں اور انہيں فرمارہے ہيں كہ جب ميں دعاكروں ،تم آمين كہنا_

عيسائيوں نے يہ كيفيت ديكھى تو انتہائي پريشان ہوئے اور مباہلہ سے رك گئے اور صلح و مصالحت كے لئے تيار ہوگئے اور اہل ذمہ كى حيثيت سے رہنے پر آمادہ ہوگئے _

عظمت اہل بيت كى ايك زندہ سند

شيعہ اورسنى مفسرين اور محدثين نے تصريح كى ہے كہ آيہ مباہلہ اہل بيت رسول عليہم السلام كى شان ميں نازل ہوئي ہے اور رسول اللہ (ص) جن افراد كو اپنے ہمراہ وعدہ گاہ كى طرف لے گئے تھے وہ صرف ان كے بيٹے امام حسن(ع) اور امام حسين(ع) ،ان كى بيٹى فاطمہ زہرا سلام اللہ عليہا اور حضرت على (ع) تھے _ اس بناء پر آيت ميں 'ابنائنا 'سے مراد صرف امام حسن(ع) اور امام حسين(ع) ہيں_'نسائنا'سے مراد جناب فاطمہ سلام اللہ عليہا ہيں اور'انفسنا' سے مراد صرف حضرت على (ع) ہيں_

اس سلسلے ميں بہت سى احاديث نقل ہوئي ہيں_  اگر اہل سنت كى بنيادى كتابوں كى طرف رجوع كيا جائے تو وہ اس حقیقت کی نشاندہى كرتى ہيں

اس حقيقت كو زيادہ واضح كرنے كے لئے اہل سنت كے طريقوں سے كچھ روايات ہم يہاںپيش كريں گے_

قاضى نوراللہ شوسترى اپنى كتاب نفيس 'احقاق الحق'(1)ميں لكھتے ہيں:

'مفسرين اس مسئلے ميں متفق ہيں كہ 'ابنائنا'سے اس آيت ميں امام حسن(ع) او رامام حسين(ع) مراد ہيں،'نسائنا'سے 'حضرت فاطمہ سلام اللہ عليہا'اور'انفسنا'ميں حضرت على عليہ السلام كى طرف اشارہ كيا گيا ہے'_

اس كے بعد كتاب مذكور كے حاشيے پر تقريباً ساٹھ بزرگان اہل سنت كى فہرست دى گئي ہے جنہوں نے تصريح كى ہے كہ آيت مباہلہ اہل بيت رسول عليہم السلام كى شان ميں نازل ہوئي ہے_(۲)  'غاية المرام' ميں صحيح مسلم كے حوالے سے لكھا': 'ايك روز معاويہ نے سعد بن ابى وقاص سے كہا:' تم ابو تراب ( على) كو سب وشتم كيوں نہيں كرتے_وہ كہنے لگا_

جب سے على (ع)  كے بارے ميں پيغمبر(ص) كى كہى ہوئي تين باتيں مجھے ياد آتى ہيں،ميں نے اس كام سے صرف نظركرليا ہے_ان ميں سے ايك يہ تھى كہ جب آيت مباہلہ نازل ہوئي تو پيغمبر(ص)  نے فاطمہ(ع) ،حسن(ع) ،حسين(ع) ،اور على (ع) كو دعوت دي_اس كے بعد فرمايا'اللھم ھو لاء اھلي'(يعنى خدايا يہ ميرے نزديكى اور خواص ہيں۔)

تفسير'كشاف'كے مو لف اہل سنت كے بزرگوں ميں سے ہيں_ وہ اس آيت كے ذيل ميں كہتے ہيں_'يہ آيت اہل كساء كى فضيلت كو ثابت كرنے كے لئے قوى ترين دليل ہے'_

شيعہ مفسرين،محدثين اور مو رخين بھى سب كے سب اس آيت كے 'اھل بيت 'كى شان ميں نازل ہونے پر متفق ہيں چنانچہ'نورالثقلين' ميں اس سلسلے ميں بہت سى روايات نقل كى گئي ہيں_ ان ميں سے ايك كتاب'عيون اخبار الرضا'ہے_ اس ميں ايك مجلس مناظرہ كا حال بيان كيا گيا ہے،جو مامون نے اپنے دربار ميں منعقد كى تھي_

اس ميں ہے كہ امام على بن موسى رضا عليہ السلام نے فرمايا: 'خدا نے اپنے پاك بندوں كو آيت مباہلہ ميں مشخص كرديا ہے اور اپنے پيغمبر(ص) كو حكم ديا ہے: 'فمن حاجك فيہ من بعد ما جاء ك من العلم فقل'

اس آيت كے نزول كے بعد پيغمبر(ص) ،على (ع) ،فاطمہ(ع) ،حسن(ع) ،اور حسين(ع) كو اپنے ساتھ مباھلہ كے لئے لےگئے اور يہ ايسى خصوصيت اور اعزاز ہے كہ جس ميں كوئي شخص اہل بيت عليہم السلام پر سبقت حاصل نہيں كرسكا اور يہ ايسى منزلت ہے جہاں تك كوئي شخص بھى نہيں پہنچ سكا اور يہ ايسا شرف ہے جسے ان سے پہلے كوئي حاصل نہيں كرسكا'_

تفسير'برہان'،'بحارالانوار'اور تفسير'عياشي'ميں بھى اس مضمون كى بہت سى روايات نقل ہوئي ہيں جو تمام اس امر كى حكايت كرتى ہيں كہ مندرجہ بالا آيت'اہل بيت'عليہم السلام كے حق ميں نازل ہوئي ہے_

* * * * *

------------------------------------------------------------------------------------------------

حواشی:

 

 (1) جلد سوم طبع جديد صفحہ46

 (۲)ان كے نام او ران كى كتاب كى خصوصيات صفحہ _46 سے ليكر صفحہ76 تك تفصيل سے بيان كى گئي ہے ان شخصيتوں ميں سے يہ زيادہ مشہور ہيں.

1_مسلم بن حجاج نيشاپوري،مو لف صحيح مسلم جو نامور شخصيت ہيں اور ان كى حديث كى كتاب اہل سنت كى چھ قابل اعتماد صحاح ميں سے ہے ملا حظہ ہو مسلم،ج7ص120طبع مصر زير اہتمام محمد على صبيح.

2_احمد بن حنبل نے اپني'مسند'ميں لكھاہے ملاحظہ ہو ،ج2ص185طبع مصر.

3_طبرى نے اپنى مشہور تفسير ميں اسى آيت كے ضمن ميں لكھا ہے_ ديكھئے ج3ص192طبع ميمنيہ مصر.

4_حاكم نے اپني'مستدرك'ميںلكھا ہے،ديكھئےج3ص15مطبوعہ حيدرآباد دكن.

5_حافظ ابو نعيم اصفہاني،كتاب 'دلائل النبوة'ص297مطبوعہ حيدرآباد دكن.

6_واحدى نيشاپوري،كتاب'اسباب النزول'ص74طبع ہند.

7_فخر رازي، نے اپنى مشہور تفسير كبير ميں لكھاہے،ديكھئےج8ص85طبع بہيہ،مصر.

8_ابن اثير،'جامع الاصول'جلد9ص470طبع سنتہ المحمديہ،مصر.

9_ابن جوزي'تذكرة الخواص' صفحہ17طبع نجف.

10_قاضى بيضاوي،نے اپنى تفسير ميں لكھا ہے،ملاحظہ كريں ج2ص22طبع مصطفى محمد،مصر.

11_آلوسى نے تفسير'روح المعاني'ميں لكھا ہے_ ديكھئے _ج 3ص167طبع منيريہمصر.

12_معروف مفسر طنطاوى نے اپنى تفسير 'الجواھر'ميں لكھا ہے _ج2ص120مطبوعہ مصطفى اليابى ال.حلبي،مصر.

13_زمخشرى نے تفسير'كشاف'ميں لكھا ہے،ديكھئے_ج1ص193،مطبوعہ مصطفى محمد،مصر.

14_حافظ احمد ابن حجر عسقلانى ،'الاصابة'_ج2ص503،مطبوعہ مصطفى محمد،مصر. -->

<-- 15_ابن صباغ،'فصول المہمة'_ص108مطبوعہ نجف.

16_علامہ قرطبي،'الجامع الاحكام القرآن'_ج3ص104مطبوعہ مصر 1936.

2011/11/22
ایران پر ممکنہ امریکی – اسرائیلی حملہ ...  

 

ایران پر ممکنہ امریکی – اسرائیلی حملہ امریکی

سلطنت کو سقوط اور تباہی کے جہنم میں دھکیل دے

گا۔ ایک امریکی مبصر

  

جیمز پتراس   (James Petras)  نے  گلوبل ریسرچ ویب بیس میں "امپریلزم اور جمہوریت: وہائٹ ہاؤس یا میدان آزادی" کے عنوان کے تحت اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملہ ایک ایسی آگ بھڑکا دے گا جو عالمی سطح پر پھیل جائے گی اور ایران جو جوابی کاروائی کرسکتا وہ ایسا ضرور کرے گا۔ اس کے بعد سعودی عرب اور خلیج فارس کے تیل کے کنویں آگ کی نذر ہونگے، جہاز رانی کے حیاتی روٹس بند ہوجائیں گے، تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرے گی اور ایشیائی، یورپی اور امریکی معیشتیں نیست و نابود ہوجائیں گی اور سب دیوالیہ ہوجائیں گے۔

ایران کے سپاہی اپنے حلیف ملک "عراق" کی افواج کے ہمراہ بغداد کی چھاؤنیوں کا محاصرہ کریں گے، افغانستان اور پاکستان غرضیکہ پوری دنیائے اسلام ہتھیار اٹھائے گی اور امریکی افواج یا تو بھاگیں گی یا ہتھیار ڈالیں گی۔ بجٹ کے خسارے اور ادائیگیوں کے بیلنس میں شدید اضافہ ہوگا اور یہ سلسلہ قابو سے باہر ہوگا۔ بے روزگاری میں دو گنا اضافہ ہوجائے گا اور یہ پیہم ممکنہ  واقعات ایک جمہوری تحریک کے شعلوں کو ہوا دیں گے اور ایک نئی وجود میں آنے والی جمہوریت اور ایک بوسیدہ و فرسودہ سلطنت (Empire) کے مقابلے میں اٹھ کھڑی ہوگی اور اس کو خطرے سے دوچار کرکے سقوط اور زوال کے جہنم میں پھینک دے گی۔

 

2011/11/22
تہران عالم اسلام کا دارالحکومت ہے ...  

 

تہران عالم اسلام کا دارالحکومت ہے/ایران کے ہمراہ

اسرائيل سے لڑیں گے- مصر کے صوفی مسلک کے

رہنماء کا اعلان

 

مہرخبررساں ایجنسی نے ایلاف سائٹ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اسرائیل کی طرف سےاسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد مصر کے اسلام پسندوں اورمصری انقلابیوں نے اسرائیل کے خلاف جہاد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو مصری عوام اسرائيل کے خلاف جم کر لڑیں گے۔ مصر کے ایک اسلامی محقق مصطفی زہران نے کہا ہے کہ مصر کےصوفی مسلک کے رہنما شیخ علاء ابو العزائم نے اعلان کیا ہے کہ  اگر اسرائیل نے ایران پرحملہ کیا تو ہم ایران کے ہمراہ اسرائيل کےخلاف جم کر لڑیں گے انھوں نے کہا کہ مصری عوام اور اسلامی جماعتوں کو دشمنوں کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشوں سے آگاہ رہنا چاہیے اور انھیں امریکہ و اسرائیل کے خطرے کے پیش نظر ایران کا بھر پور ساتھ دینا چاہیے۔ شیخ علاءابو العزائم نےکہا کہ تہران  عالم اسلام کا دارالحکومت ہے اور شیعہ و سنی دونوں کو ملکر امریکی سامراج کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے اسرائيل کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی تواسرائيل کو تباہ کردیا جائے گا۔                               

 

2011/11/22
برطانیہ کے شہر اکسٹر میں اسلامی معماری کےاصولوں پرمشتمل پہلی مسجد کی تاسیس ...  

 

برطانیہ کے شہر اکسٹر میں اسلامی معماری کے

اصولوں پرمشتمل پہلی مسجد کی تاسیس

برطانیہ کے شہرڈیون کی شہری کونسل نے اکسٹر مسجد کی تعمیر کے تین سالہ پراجیکٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس شہرمیں مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کی وجہ سے اس مسجد کو ترجیحی بنیادوں پرتعمیر کیا گیا ہے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق اکسٹر شہرکے مسلمانوں کے تعاون سے اس مسجد کو تعمیر کیا گیا ہے۔ اس مسجد کی تعمیر کے عہدیداروں نے امید ظاہرکی ہے کہ اس مسجد کی وجہ سے دین اسلام سے آگاہی کے مواقع فراہم ہوں گے اور اسلام کے بارے معرفت حاصل کرنے کے لیے بہت سے غیرمسلم اس مسجد کودیکھنے آئیں گے۔

اس وقت اکسٹرشہرکے پلیموث اورٹوریی محلوں میں بھی مساجد موجود ہیں تاہم اس شہرکی یہ پہلی مسجد ہے جواسلامی معماری کے تحت بنائی گئی ہے۔

اس مسجد کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے ترجمان نے مزید کہاہےکہ ۲۰۰۰ءمیں اس مسجد کی تعمیرکی اجازت دی گئی تھی اور۲۰۰۸ء میں اس کی تعمیرکا آغاز ہواتھا۔ اس مسجد کے امام جماعت محمد اکبرنے امید ظاہرکی ہے کہ بہت سے مسلمان اس مسجد کو دیکھنے آئیں گے اورہم اس مسجدکی تعمیر سےبہت خوش ہیں۔ بعض ذرائع کی رپورٹ کے مطابق اکسٹرشہرمیں تقریبا تین ہزارمسلمان آباد ہیں۔

 

2011/11/22
لیبیا میں جدید آئین کا سرچشمہ دین اسلام ہو گا ...  

 

لیبیا میں جدید آئین کا سرچشمہ دین اسلام ہو گا

لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اس ملک میں جدید آئین اسلامی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔

خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق لیبیائی مظاہرین نے گذشتہ" التحریر" چوک پر جمع ہوکر پر زور مطالبہ کیا کہ لیبیا کاجدید آئین شریعت اسلام کے مطابق ہونا چاہیے۔ شہر بن غازی کی ایک مسجد کے پیش نماز"احمد المغربی"  نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہمارا ملک مسلمان ملک ہے اور ہمارے ملک کا آئین ہمارے عقائد کے مطابق ہونا چاہیے۔

نیوز چینل العالم کی رپورٹ کے مطابق اس مظاہرے کا اہتمام کرنے والوں میں سے "صبری علی احمد" نامی ایک شخص نے کہا قذافی کے دور حکومت میں ملک میں اسلامی قوانین نافذ نہیں تھے۔یادرہے کہ لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے سربراہ" مصطفی عبدالجلیل" نے بھی قذافی کے قتل کے بعد کہا تھا اس ملک میں جدید آئین کا منبع اور سرچشمہ دین اسلام ہوگا۔

2011/11/22
قاہرہ میں شامی حکومت کے مخالف وفد پر انڈوں کی بارش ...  

قاہرہ میں شامی حکومت کے مخالف وفد

پر انڈوں کی بارش

شام کے صدر بشار اسد کے مخالف وفدپر قاہرہ میں لوگوں نے انڈے برسائے ہیں جس کے بعد اس گروپ نے عرب لیگ کے سکریٹری جنرل سے ملاقات منسوخ کردی۔

مہرخبررساں ایجنسی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ شام کے صدر بشار اسد کے مخالفین کے ایک گروپ پر قاہرہ میں لوگوں نے انڈے برسائے ہیں جس کے بعد اس گروپ نے عرب لیگ کے سکریٹری جنرل نبیل العربی سے ملاقات کا پروگرام منسوخ کردیا۔ ذرائع کے مطابق شامی حکومت کے مخالف 4 رکنی وفد عرب لیگ کے سکریٹری جنرل سے ملاقات کے لئے قاہرہ پہنچا جہاں مصری عوام نے ان پر انڈے برسائے جس کے بعد اس گروپ نے نبیل العربی کے ساتھ ملاقات کا پروگرام منسوخ کردیا ۔ شامی حکومت کے مخالفین کی امریکہ اور اسرائیل بھر پور حمایت کررہے ہیں

 

2011/11/22
چین میں اسلامی طب کے پہلے میوزیم کا افتتاح ...  

 

چین میں اسلامی طب کے پہلے میوزیم کا افتتاح

چین کے علاقے نینگیشا میں اسلامی طب کے پہلے میوزیم کا افتتاح ہوا ہے جس کی افتتاحی تقریب میں چین کے مسلمان عہدیداروں نے شرکت کی ہے۔ خبررساں ایجنسی شبستان کی رپورٹ کے مطابق چین کے علاقے نینگیشا میں موجود میڈیکل کالج نے حال ہی میں اسلامی طب میں دنیا کے پہلے میوزیم کا افتتاح کیا ہے۔

یہ میوزیم ۱۵۰۰مربع میٹر کے رقبے پرواقع ہے جس میں علاج معالجے کے طریقوں اوراسلامی میڈیکل کے نمایاں کارنامے شامل ہیں کہ جنہیں ھوی مسلمان قوم کے ڈاکٹروں کے توسط سے انجام دیا گیا ہے۔اس میوزیم میں مذکورہ موضوعات کے علاوہ قرآن کریم کے تاریخی نسخے بھی رکھے گئے ہیں۔

روزنامہ الشعب الیومیہ کی رپورٹ کے مطابق اس عجائب گھرمیں ھوی قوم کے درمیان اسلامی طب کی ترقی کے تاریخی اورثقافتی دلائل کوبھی پیش کیا گیا ہے۔یادرہے کہ ھوی مسلمان قوم،جمہوریہ چین کے شمال مغربی خودمختارعلاقے نینگیشا میں آباد ہے۔

 

2011/11/22
امریکہ شام کے صدر کو قتل کرنے کی کوشش میں ہے ...  

 

امریکہ شام کے صدر کو قتل کرنے کی

کوشش میں ہے

شام کے ذرائع نے شامی صدر بشار اسدکوقتل کرنے کے امریکی منصوبے کاپردہ فاش کیا ہے۔المنارٹی وی کے مطابق ترکی کی انٹیلیجنس سروس کے سربراہ نے شامی حکام کوآگاہ کیاہے کہ امریکہ شام کے صدرکوقتل کرنے کی کوشش میں ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیرالیوٹ آبرامرنے 24 اکتوبرکو فارن پالیسی میگزين میں اس بات کی طرف اشارہ کیہے کہ شام کے صدرکاقتل شام کے مسئلہ کاایک حل ہوسکتاہے اس نے کہا کہ شام فلسطینی تنظيم حماس،حزب اللہ لبنان اورایران کاحامی ملک ہے اوراسرائیل کامخالف ہے لہذا حماس،حزب اللہ اورایران کوکمزور کرنے کے لئےشام کی موجودہ حکومت کاخاتمہ ضروری ہے،ذرائع کے مطابق شامی عوام نے سڑکوں پرنکل کرامریکہ اورعرب لیگ کے امریکی آلہ کاروں کی گھناؤنی سازش کو ناکام بنادیاہے اور ایران بھی شام کی حکومت کوتنہا نہیں چھوڑےگا-

 

2011/11/22
کلام اقبال (رح) ...  

 

کلام اقبال (رح)

 

تو راز ِ کُن فکاں ہے، اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا

 

خُودی کا رازداں ہو جا، خدا کا ترجُماں ہو جا

 

ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع ِ انساں کو

 

اُخُوّت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا

 

یہ ہندی، وہ خراسانی، یہ افغانی، وہ تورانی

 

تو اے شرمندۂ ساحل! اچھل کر بے کراں ہو جا

 

غبار آلودۂ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے

 

تو اے مرغ حرم! اڑنے سے پہلے پرفشاں ہو جا

 

خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سر زندگانی ہے

 

نکل کر حلقۂ شام و سحر سے جاوداں ہو جا

 

مصاف زندگی میں سیرت فولاد پیدا کر

 

شبستان محبت میں حریر و پرنیاں ہو جا

 

گزر جا بن کے سیل تند رو کوہ و بیاباں سے

 

گلستاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہو جا

 

 

 

 

2011/11/22
آبِ انگور سے وضُو کر لو ...  

 

آبِ انگور سے وضُو کر لو

ساغر صدیقی

آبِ انگور سے وضُو کر لو
دوستو! بیعت سبُو کر لو
گُر بتادیں گے بادشاہی کے
ہم فقیروں سے گفتگو کر لو
اُن سے ملنا کوئی محال نہیں
اُن سے مِلنے کی آرزُو کر لو
دو قدم رائیگاں ہوئے تو کیا
دو قدم اور جستجو کر لو
جشن زارِ حیات میں ساغرؔ
چار دن تم بھی ہاؤ ہُو کر لو